المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 97
97 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَعْبٍ الْوَاسِطِيُّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 178] قَالَ «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا قُتِلَ فِيهِمُ الْقَتِيلُ عَمْدًا لَمْ يَحِلَّ لَهُمْ إِلَّا الْقَوَدُ , وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الدِّيَةُ , فَأُمِرَ هَذَا أَنْ يَتِّبِعَ بِالْمَعْرُوفِ وَأُمِرَ هَذَا أَنْ يُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ , فَذَلِكُمْ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبَانَ إِلَّا شَرِيكٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ
احمد بن کعب الواسطی الحافظ سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ،سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۷۸۔﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [البقرة: 178] ’’اے ایمان والو تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لوآزادکے بدلے آزاد اورغلام کے بدلے غلام اور عورت خط عورت کے بدلے عورت تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو ہو تو بھلائی سے تقاضہ ہو اور اچھی طرح ادا ۔یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت ۔تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا )کے بارے میں فرماتے ہیں : بنی اسرائیل میں قتل عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے )کی سزا صرف قصاص تھا (یعنی بدلے میں قاتل کو قتل کیا جاتا تھا ) اور تمہارے لئے دیت بھی جائز کر دی گئی ، مقتول کے ورثاء کو کہا گیا کہ وہ نرمی کا برتاؤ کریں اور قاتل کے وارثوں کو اچھے انداز میں ادائیگی کا حکم دیا گیا ۔یہ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے لیے آسانی ہے ۔اس حدیث کو ’’ابان‘‘ سے صرف ’’شریک ‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن ابی نعیم ‘‘منفرد ہیں ۔؎
ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ كَعْبٍ الْوَاسِطِيُّ الْحَافِظُ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 97
