Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 85

85 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ , حَدَّثَنَا الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ؛ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا , وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ إِلَّا جَرِيرٌ تَفَرَّدَ بِهِ فَيْضٌ

ابو جعفر احمد بن یحییٰ الحلوانی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی یہودیوں پر لعنت کرے ان پر چربی حرام کی گئی گی انہوں نے اس کا حیلہ یوں کیا کہ) اس کو بیچ کر اس کی رقم استعمال کرنا شروع کر دی ۔اس حدیث کو ’’ابن ابی عمرہ ‘‘سے ’’جریر ُ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا کیا اور ان سے روایت کرنے میں فیض منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 85

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 86

86 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ أَيُّوبَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ صَاحِبُ الْبَصَرِ , حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَ بْنَ سِنْبَاذَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قِوَامُ أُمَّتِي بِشِرَارِهَا» لَا يُرْوَى عَنْ مَيْمُونٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ

احمد بن بشیر بن ایوب الطیالسی سے مروی حدیث : حضرت میمون بن سنباز رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (ایک وقت آئے گا کہ ) میری امت کی کلیدی حیثیت کے حامل لوگ شریرہوں گے ۔ یہ حدیث اس اسناد کے ہمراہ صرف ’’میمون ‘‘ سے ہی مروی ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’ہارون بن دینار بصری ‘‘منفرد ہیں۔

مَيْمُونٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ ← «قِوَامُ أُمَّتِي بِشِرَارِهَا» لَا يُرْوَى ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← ميمون بن سنباذ ← أَبِيهِ ← هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ صَاحِبُ الْبَصَرِ ← أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ أَيُّوبَ الطَّيَالِسِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 86

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 87

87 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ السِّمَّرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّجِسْتَانِيُّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي الْحَوَاجِبِ الْكُوفِيُّ قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ الْأَعْمَشِ , فَقَالَ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ عَلَى يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ثَلَاثِينَ مَرَّةً كُلَّ ذَلِكَ أَقْرَأُ: {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: 5] , وَكَذَلِكَ قَرَأَ يَحْيَى عَلَى عَلْقَمَةَ , وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا ابْنُ أَبِي الْحَوَاجِبِ الْكُوفِيُّ نَزِيلُ الْبَصْرَةِ

یحییٰ بن زکریا ابن ابی الحواجب الکوفی فرماتے ہیں : میں حضرت اعمش رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا ، انہوں نے فرمایا : میں نے یحیٰی بن و ثاب کو تیس مرتبہ قرآن پاک سنایا ، ہر بار میں نے سورہ المدثر کی آیت نمبر۵ یوں پڑ ھی ۔ ’’یحییٰ‘‘ نے ’’علقمہ ‘‘ کو بھی اسی طرح سنایا یا اور ’’علقمہ‘‘نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی طرح پڑا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پڑھا ۔

يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي الْحَوَاجِبِ الْكُوفِيُّ، ← أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّجِسْتَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ السِّمَّرِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 87

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 88

88 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمِّهِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى حَرْفٍ , فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ , فَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: السَّبْعَةُ الْأَحْرُفُ إِنَّمَا هِيَ الْأَمْرُ إِذَا كَانَ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِيهِ حَلَالٌ وَحَرَامٌ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ إِلَّا الدَّرَاوَرْدِيُّ

احمد بن علی بن اسماعیل القطان البغدادی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل امین علیہ السلام نے ایک قراءت کے مطابق مجھے قرآن سنایا ، میں نے اور قرائتوں کی فرمائش کی تو انہوں نے مزید قرائتوں میں سنایا ، میری فرمائش بڑھتی گئیں اور وہ قرائتیں بدل بدل کر قرآن کریم پڑھتے رہے ، حتی کے سات قرائتوں تک پہنچ گئے ۔زہری کہتے ہیں : سات قراءتوں کا مطلب یہ ہے کہ صرف پڑھنے کے انداز مختلف ہے تاہم اس میں جو چیز حلال ہے وہ ہر قرائت میں حلال ہے اور جو چیز حرام ہے وہ ہر قرائت میں حرام ہی ہے اس حدیث کو ’’ ابن اخی زہری سے صرف ’’دراوردی ‘‘ ہی نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عمِّه الزهريِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 88

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 89

89 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ شَاهِينَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ أَهْلُ الْجَنَّةِ كُلُّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ سَهْلٍ قَرِيبٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ عَنْهُ

احمد بن سعید بن شاہین البغدادی سے مروی حدیث : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں جنتیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟جنتی نرم دل ، نرم خو، نرم مزاج اور لوگوں کے قریب رہنے والے ہوتے ہیں ۔اس حدیث کو ’’ہشام ‘‘سے صرف ’’عبداللہ ‘‘نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں انکا بیٹا منفرد ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ شَاهِينَ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 89

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 90

90 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمُقْرِئُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى الْقَارِئُ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً , أَلَا وَإِنِّي أَوَّلُكُمْ وَفَاةً , وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا , أَيَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُفَضَّلٍ إِلَّا الْقَارِئُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ

احمد بن یعقوب المقری البغدادی سے مروی حدیث : حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ سمجھتے ہو کہ میں تم سب سے آخر میں وفات پا وں گا ، سن لو !میں تم سب سے پہلے وفات پاؤں گا اور تم میرے بعد فرقوں میں بٹ جاؤ گے اور کیا تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے ؟ اس حدیث کو ’’مفصل ‘‘سے ’’قاری ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن ابان ‘‘منفرد ہیں ۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ ← مُوسَى بْنُ عِيسَى الْقَارِئُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمُقْرِئُ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 90

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 91

91 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ , وَنُهِيتُ أَنْ أَكُفَّ شَعَرًا أَوْ ثَوْبًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عِيسَى بْنِ مَاهَانَ أَبِي جَعْفَرٍ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ

احمد بن الحسن بن مکرم البغدادی سے مروی حدیث :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کرو ں۔ اور مجھے (نماز کے دوران )بال یا کپڑے لپیٹنے سے منع کیا گیا ہے ۔اس حدیث کو عیسی بن ماہان ابو جعفر ‘‘سے ’’علی بن الجعد ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أبو جعفر الرازي ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 91

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 92

92 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمُقْرِئُ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بِلَالٌ الْأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ دَاءً إِلَّا وَقَدْ خَلَقَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا السَّامَ , وَهُوَ الْمَوْتُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا شَبِيبٌ

احمد بن حمید المقری ابو جعفر البغدادی سے مروی حدیث : حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے ، اس کی دوا بھی پیدا کی ہے سوائے سام کے اور سام ’’موت ‘‘کو کہتے ہیں ۔اس حدیث کو ’’عطا ‘‘کے واسطے سے ’’ابوسعید ‘‘سے صرف ’’شیب‘‘ نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ السَّعْدِيُّ، ← أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمُقْرِئُ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 92

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 93

93 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقُرْدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَاهُ ابْنُ عَمِّهِ , فَسَأَلَهُ مِنْ فَضْلِهِ , فَمَنَعَهُ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَأِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا جَرِيرٌ , وَلَا عَنْ جَرِيرٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ , وَلَا رَوَى عَنِ الْأَعْمَشِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَلَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ

احمد بن عبید اللہ بن جریر بن جبلہ سے مروی حدیث :عمرو بن شعیب والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے پاس اس کا چچا زاد بھائی آیا اور اس سے کچھ مانگا ، اس نے اگر منع کر دیا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو اپنے فضل سے محروم رکھے گا ، اور جو شخص اپنا اضافی پانی اس کے لئے روک کر رکھے گا کہ اس سے اضافی گھاس نہ اگے ، اللہ تعالی قیامت کے دن اپنا فضل اس سے روک لے گا ۔اس حدیث کو ’’اعمش‘‘ سے ’’جریر ‘‘ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ’’جریر ‘‘سے ’’محمد بن الحسن ‘‘کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور ان سے روایت کرنے میں ’’عبید اللہ بن جریر ‘‘منفرد ہیں۔اور ’’اعمش ‘‘کے واسطے سے ’’عمرو بن شعیب ‘‘سے اس حدیث کے سوا کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور ہم نے اس کو ’’احمد بن عبید اللہ ‘‘کے حوالے سے ہی نقل کیا ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقُرْدُوسِيُّ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 93

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 94

94 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمُرِّيُّ الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ الْحَسَنِ الطَّحَّانُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الحَسَنِ الْأَشْقَرُ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبَايَةَ يَعْنِي ابْنَ رِبْعِيٍّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ: «نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ وَهُوَ أَبُوكِ , وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ حَمْزَةُ , وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ يَشَاءُ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ جَعْفَرٌ , وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَهُمَا ابْنَاكِ , وَمِنَّا الْمَهْدِيُّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا قَيْسٌ تَفَرَّدَ بِهِ حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ

احمد بن محمد بن العباس المری القنطری سے مروی حدیث : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشادفرمایا : ہمارا نبی سب نبیوں سے بہتر ہے ، اور وہ تیرا والد ہے ۔ہمارا شہید سب شہیدوں سے افضل ہے , اور وہ تیرے والد کا چچا حمزہ ہے , اور ہم میں کوئی ایسا بھی ہے جس کو جنت میں دو پر ملیں گے اوہ جہاں چاہے گا ان پرو ں کی مدد سے جنت میں جہاں چاہے اڑ کر جاسکے گا ، وہ میرے والد کا چچا جعفر ہے ،ہم میں اس امت کے دونواسے حسن اور حسین بھی ہیں اور وہ دونوں آپ ہی کے بیٹے ہیں ۔اور ہم میں مہدی بھی ہوں گے ۔اس حدیث کو ’’اعمش‘‘ سے صرف ’’قیس‘‘ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’حسین الا شقر‘‘ منفرد ہیں ۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَبَايَةَ يَعْنِي ابْنَ رِبْعِيٍّ، ← الْاَعْمَشِ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ ← حَرْبُ بْنُ الْحَسَنِ الطَّحَّانُ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمُرِّيُّ الْقَنْطَرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 94

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمرِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَتَحَرَّ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ , ثُمَّ لِيُتِمَّ عَلَى مَا فِي نَفْسِهِ , ثُمَّ لِيَسْجُدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَّا أَبُو يُوسُفَ

احمد بن القاسم الطائی البغدادی سے مروی حدیث : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی کو نماز کی رکعتوں میں شک پڑے ، اس کو سمجھ نہ آ رہی ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہے تو خوب سوچ بچار کرے ، جس طرف ظن غالب جائے اس پر عمل کرے کرے اور ظن غالب کے مطابق جتنی رکعتیں رہتی ہو ں وہ پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کر دے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 95

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَيْشُونَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ مِنْهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ

احمد بن محمد الصید لانی البغدادی سے مروی حدیث : حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں وہ زمانہ سب سے بہتر ہے جس میں مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا ، اس کے بعد وہ لوگ جن کا زمانہ ان کے بعد ہوگا ، پھر وہ لوگ جن کا زمانہ ان کے بعد ہوگا ۔ اس حدیث کو ’’قتادہ ‘‘سے صرف ’’سلام بن ابی مطیع‘‘ نے روایت کیا ۔ہے اور ان سے روایت کرنے میں ’’محمد بن سلیمان بن ابی داؤدحرانی ‘‘منفرد ہیں ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَيْشُونَ الْحَرَّانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 96

chevron_left Previous
1…789…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter