33 - حَدَّثَنَا أَبُو الدَّحْدَاحِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلُ الْعُذْرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ بِدِمَشْقَ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ قَالَ: جِيءَ بِرُءُوسِ الْخَوَارِجِ , فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ , فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا , وَخَرَجْتُ أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا , فَجَاءَ أَبُو أُمَامَةَ عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ سُنْبُلَانِيُّ , فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ: «مَا صَنَعَ الشَّيْطَانُ بِهَذِهِ الْأُمَّةِ؟ يَقُولُهَا ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ هَؤُلَاءِ , خَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مَنْ قَتَلَهُ هَؤُلَاءِ ,» هَؤُلَاءِ كِلَابُ النَّارِ " يَقُولُهَا ثَلَاثًا ثُمَّ بَكَى , ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ أَبُو غَالِبٍ: فَاتَّبَعْتُهُ , فَقُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ قَوْلًا قَبْلُ , فَأَنْتَ قُلْتَهُ؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ , بَلْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا , فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُكَ بَكَيْتَ , فَقَالَ: رَحْمَةً لَهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ مَرَّةً , ثُمَّ قَالَ لِي: أَمَا تَقْرَأُ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَاقْرَأْ مِنْ آلِ عِمْرَانَ , فَقَرَأْتُ , فَقَالَ: أَمَا تَسْمَعُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ} [آل عمران: 7] كَانَ فِي قُلُوبِ هَؤُلَاءِ زَيْغٌ , فَزِيغَ بِهِمُ , اقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِ الْمِائَةِ , فَقَرَأْتُ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: {يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ} [آل عمران: 106] , فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ , أَهُمْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: نَعَمْ هُمْ هَؤُلَاءِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ إِلَّا ابْنُ الْوَلِيدِ
ابوالدحداح احمد بن محمد بن اسماعیل العذری الدمشقی سے مروی حدیث : ابو غالب بیان کرتے ہیں کہ خوارج کے سر لائے گئے اور ان کو جامع مسجد دمشق کی سیڑھیوں پر رکھ دیا گیا لوگ ان کو دیکھنے لگے ، میں بھی ان کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا ، حضرت ابو امامہ سنبلا نی قمیض پہنے ہوئے گدھے پر سوار ہوکر وہاں آئے اور خوارجیوں کے سر دیکھے اور فرمایا : شیطان نے اس ا مت کا کیا حشر کر دیا ،یہ بات تین مرتبہ کہی، نیلی چھت کے نیچے سب سے برے مقتول یہی ہیں، اور آسمان کی چھت کے نیچے سب سے اچھے قاتل وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کو قتل کیا ہے ، یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں ، یہ بات بھی تین مرتبہ کہی اور رو دیئے، اور پھر آپ واپس آگئے ۔ ابوغالب کہتے ہیں : میں ان کے پیچھے پیچھے گیا ، میں نے ان سے کہا : میں نے کچھ دیر پہلے کوئی بات سنی ہے ، کیا وہ آپ نے بولی تھی ؟ غالب نے کہا : اگر وہ بات میں نے (اپنی طرف سے )کہی ہو تو میں نے بہت بڑی جرات کی ہے ، میں نے یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی بار سنی ہے ۔ میں نے کہا : پھر آپ روئے کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : ان کے اوپر ترس کھاتے ہوئے کیونکہ کسی وقت وہ مسلمانوں میں سے تھے ۔ پھر انہوں نے مجھے فرمایا : کیا تم قرآن پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا : آل عمران پڑھو ، میں نے سورۃ آل عمران پڑھنا شروع کی ، آپ نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ ارشاد نہیں سن رکھا ۔’’ فاماالزین فی قلو بھم زیع فی قلو بہم زیغ فیتبعون ما تشا بہ منہ ‘‘ ( آل عمران:۷)۔۔۔’’وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑے ہیں ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا ) ان لوگوں کے دلوں میں بھی ’’ زیغ‘‘ ( ٹیڑھا پن) تھا، جس کی وجہ سے ان کے دل ہی اوندھے کر دیئے گئے ، آپ نے فرمایا : سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۰ پڑھو، میں نے پڑھنا شروع کی اور پڑھتے پڑھتے میں ( ترجمہ) ’’ جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے کیا تم ایمان لا کر کافر ہوئے تو اب عذاب چکھو اپنے کفرکا بدلہ ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) تک پہنچ گیا ۔ میں نے کہا اے ابو امامہ ! کیا یہ وہیلوگ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں یہ وہی لوگ ہیں ۔ اس حدیث کو ’’خلید بن وعلج ‘‘سے صرف ’’ابن الولید ‘‘ ہی نے روایت کیا ہے۔
أبو غالب ← خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُوسَى بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَامِرٍ، ← أَبُو الدَّحْدَاحِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلُ الْعُذْرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ