Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1170

1170 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَغِيرٍ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْقَرَظُ، مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ جَدِّي , عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُدْخِلَ يَدَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ إِذَا أَذَّنَ , وَقَالَ: «إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ»

یحییٰ بن محمد ابن ابی صغیر اکحلبی سے یہ حدیث بھی مروی ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ جب اذان دینے لگیں تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر لیا کریں اور آپ نے فرمایا اس کی وجہ سے آواز زیادہ بلند ہو جاتی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1170

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1171

1171 - وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ مَثْنَى مَثْنَى , وَيَتَشَّهَدُ مُضَعَّفًا يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ , فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ , ثُمَّ يُرَجِّعُ , فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ , ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ , فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ , ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ , فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ , ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ , فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَإِقَامَتُهُ مُنْفَرِدَةٌ , قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ مَرَّةً وَاحِدَةً , وَأَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِلْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَارَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ

یحییٰ بن محمد ابن ابی صغیر الحلبی سے مروی حدیث ، اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دو دو مرتبہ کہا کرتے تھے اور شہادتیں دو مرتبہ پڑھتے آپ قبلہ کی طرف منہ کر لیے اور کہتے اشہدان الا الہ الا اللہ اشھدان لاالہ الا اللہ پھر اشھدان محمدا رسول اللہ بھی دو مرتبہ کہتے اس کے بعد لوٹ کر اشھدان لاالہ الا اللہ دو مرتبہ کہتے پھر اشھدان محمد رسول اللہ بھی دو مرتبہ کہتے اس وقت آپ کا رخ قبلہ کی جانب ہی ہوتا پھر آپ اپنی دائیں جانب مڑتے اور حی علی الصلوۃ دو مرتبہ کہتے پھر آپ بائیں جانب مڑتے اور حی علی الفلاح دور مرتبہ کہتے پھر آپ قبلہ کی جانب منہ کر لیتے اور اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے اور لاالہ الا اللہ پڑھتے جبکہ آپ اقامت کے وقت اشھدان لا الہ الااللہ صرف دو مرتبہ کہا کرتے تھے ( اذان کی طرح اس کوڈبل نہیں کیا کرتے تھے ) اور قد قامت الصلوۃ کے دونوں جملے بھی ایک مرتبہ کہتے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ کے دن اس وقت اذان پڑھا کرتے تھے جس وقت سایہ ایک تسمے کے برابر ہو جایا کرتا تھا ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1171

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1172

1172 - وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى طَرِيقٍ , وَرَجَعَ عَلَى أُخْرَى»

یحییٰ بن محمد بن ابی صغیر الحلبی سے یہ حدیث بھی مروی ہے ۔ اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم جب عید کی نماز کے لیے گھر سے نکلتے تو ایک راستے سے گزرتے جب لوٹ کر آتے تو دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1172

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1173

1173 - وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَبْدَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ , ثُمَّ يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى بِسَبْعٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ , وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ , وَكَانَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا , وَيَرْجِعُ مَاشِيًا , وَكَانَ يُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ , وَيَكْثُرُ التَّكْبِيرَ فِي الْعِيدَيْنِ»

یحییٰ بن محمد ابن ابی صغیر الحلبی سے یہ حدیث بھی مروی ہے ،اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نمازوں میں خطبے سے پہلے یہ نماز پڑھادیا کرتے تھے پھر پہلی رکعت میں قرت سے پہلے سات تکبیر یں کہا کرتے تھے ( جن میں ایک تکبیر تحریمہ ہوتی 6 تکبیر یں زائد ہوتیں ) اور دوسری رکعت میں قرات سے پہلے پانچ تکبیریں پڑھا کرتے تھے اور آپ عید کی نماز پڑھانے کے لیے پیدل تشریف لے جاتے اور پیدل ہی واپس آتے اور آپ دو خطبوں کے درمیان تکبیر پڑھا کرتے تھے اور آپ عیدین کے موقع پر تکبیر کثرت سے پڑھا کرتے تھے اور آپ عید کی نماز کی نماز پڑھانے کے لیے پیدل تشریف لے جاتے اور پیدل ہی واپس آتے اور آپ دو خطبوں کے درمیان تکبیر پڑھا کرتے تھے اور آپ عیدین کے موقع پر تکبیر سے پڑھا کر تے تھے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1173

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1174

1174 - وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْعِيدَيْنِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ , وَإِذَا خَطَبَ فِي الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى عَصًا»

یحییٰ بن محمد ابن ابی صغیر الحلبی سے یہ حدیث بھی مروی ہے ۔ اس اسناد کے ہمراہ مروی ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کا خطبہ دیتے تو آپ کمان اپنے ہاتھ میں رکھتے اور جب آپ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تو عصاء کے اوپر اپنا ہاتھ رکھتے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1174

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1175

1175 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو زَكَرِيَّا الْقَسَّامُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِغُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: نَاوِلْنِي نَعْلِي , فَقَالَ الْغُلَامُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , اتْرُكْنِي حَتَّى أَجْعَلْهُمَا أَنَا فِي رِجْلَيْكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ , إِنَّ عَبْدَكَ هَذَا يَتَرَضَاكَ فَارْضَ عَنْهُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو جَابِرٍ

یحییٰ بن محمد سے یہ حدیث بھی مروی ہے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ایک انصاری بچے سے کہا میرا جوتا مجھے پکڑاؤ اس لڑکے نے کہا اے اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں آپ مجھے اجازت دیجئے آپ کے جوتے میں خؤد آپ کے پاؤں میں پہناتا ہوں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یوں دعا دی " اے اللہ تیر ے اس بدنے نے تجھے راضی کر دیا ہے تو بھی اس سے راضی ہو جا "۔ اس حدیث کو ثابت سے صرف حسن بن ابو جعفر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو جعفر منفرد ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو زَكَرِيَّا الْقَسَّامُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1175

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1176

1176 - حَدَّثَنَا أَبُو هِنْدَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيُّ الْكُوفِيُّ , حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: لَمَّا بَلَغَنَا ظُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ وَافِدًا عَنْ قَوْمِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ , فَلَقِيتُ أَصْحَابَهُ قَبْلَ لِقَائِهِ , فَقَالُوا: قَدْ بَشَّرَنَا بِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلَ أَنْ تَقْدَمَ عَلَيْنَا بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ , فَقَالَ: «قَدْ جَاءَكُمْ وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ» , ثُمَّ لَقِيتُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَرَحَّبَ بِي , وَأَدْنَى مَجْلِسِي , وَبَسَطَ لِي رِدَاءَهُ , فَأَجْلَسَنِي عَلَيْهِ , ثُمَّ دَعَا فِي النَّاسِ , فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ , ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ , وَأَطْلَعَنِي مَعَهُ وَأَنَا مِنْ دُونِهِ , ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ , وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ , هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ , أَتَاكُمْ مِنْ بِلَادٍ بَعِيدَةٍ مِنْ بِلَادِ حَضْرَمَوْتَ طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهٍ , بَقِيَّةُ أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ , بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا وَائِلُ , وَفِي وَلَدِكَ» , ثُمَّ نَزَلَ , وَأَنْزَلَنِي مَعَهُ , وَأَنْزَلَنِي مَنْزِلًا شَاسِعًا عَنِ الْمَدِينَةِ , وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ يُبَوِّئَنِي إِيَّاهُ , فَخَرَجْتُ , وَخَرَجَ مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ: يَا وَائِلُ , إِنَّ الرَّمْضَاءَ قَدْ أَصَابَتْ بَاطِنَ قَدَمِي , فَأَرْدِفْنِي خَلْفَكَ , فَقُلْتُ: مَا أَضَنُّ عَلَيْكَ بِهَذِهِ النَّاقَةِ , وَلَكِنْ لَسْتَ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ , وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ بِكَ، قَالَ: فَأَلْقِ إِلَيَّ حِذَاءَكَ أَتَوَقَّى بِهِ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ , قَالَ: مَا أَضَنُّ عَلَيْكَ بِهَاتَيْنِ الْجَلْدَتَيْنِ، وَلَكِنْ لَسْتَ مِمَّنْ يَلْبَسُ لِبَاسَ الْمُلُوكِ , وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ [ص:285] بِكَ , فَلَمَّا أَرَدْتُ الرُّجُوعَ إِلَى قَوْمِي أَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكُتُبٍ ثَلَاثَةٍ؛ مِنْهَا كِتَابٌ لِي خَالِصٌ: فَضَّلَنِي فِيهِ عَلَى قَوْمِي , وَكِتَابٌ لِأَهْلِ بَيْتِي بِأَمْوَالِنَا هُنَاكَ , وَكِتَابٌ لِي وَلِقَوْمِي فِي كِتَابِي الْخَالِصِ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ وَائِلًا يُسْتَسْعَى وَيَتَرَفَّلُ عَلَى الْأَقْوَالِ حَيْثُ كَانُوا فِي (مِنْ) حَضْرَمَوْتَ» , وَفِي كِتَابِي الَّذِي لِي وَلِأَهْلِ بَيْتِي: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ لِأَبْنَاءِ مَعْشَرِ أَبْنَاءِ ضَمْعَاجَ أَقْوَالِ شَنُوءَةَ بِمَا كَانَ لَهُمْ فِيهَا مِنْ مُلْكٍ وَمَوَامِرَ (مَرَامِرَ) وَعِمْرَانَ وَبَحْرٍ وَمِلْحٍ وَمَحْجِرٍ , وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ مَالٍ اتَّرَثُوهُ بَايَعْتُ , وَمَا لَهُمْ فِيهَا مِنْ مَالٍ بِحَضْرَمَوْتَ أَعْلَاهَا وَأَسْفَلَهَا مِنِّي الذِّمَّةُ وَالْجِوَارُ، اللَّهُ لَهُمْ جَارٌ، وَالْمُؤْمِنُونَ عَلَى ذَلِكَ أَنْصَارٌ» , وَفِي الْكِتَابِ الَّذِي لِي وَلِقَوْمِي: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَالْأَقْوَالِ الْعَيَاهِلَةِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ بِإِقْامِ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ مِنَ الصِّرْمَةِ التَّيْمَةِ وَلِصَاحِبِهَا التَّبِعَةُ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ وَلَا وِرَاطَ فِي الْإِسْلَامِ , لِكُلِّ عَشَرَةٍ مِنَ السَّرَايَا مَا تَحْمِلُ الْقِرَابُ مِنَ التَّمْرِ مَنْ أَجْبَا فَقَدْ أَرْبَا , وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» , فَلَمَّا مَلَكَ مُعَاوِيَةُ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ أَبِي أَرْطَاةَ , فَقَالَ لَهُ: قَدْ ضَمَمْتُ إِلَيْكَ النَّاحِيَةَ , فَاخْرُجْ بِجَيْشِكَ فَإِذَا تَخَلَّفْتَ أَفْوَاهَ الشَّامِ فَضَعْ سَيْفَكَ فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي حَتَّى تَصِيرَ إِلَى الْمَدِينَةِ , ثُمَّ ادْخُلِ الْمَدِينَةَ فَاقْتُلْ مَنْ أَبِي بَيْعَتِي , ثُمَّ اخْرُجْ إِلَى حَضْرَمَوْتَ فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي , وَإِنْ أَصَبْتَ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ فَأْتِنِي بِهِ , فَفَعَلَ , وَأَصَابَ وَائِلًا حَيًّا , فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ , فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَتَلَقَّى , وَأَذِنَ لَهُ , فَأُجْلِسَ مَعَهُ عَلَى سَرِيرٍ , [ص:286] فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَسَرِيرِي هَذَا أَفْضَلُ أَمْ ظَهْرِ نَاقَتِكَ؟ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَكُفْرٍ , وَكَانَتْ تِلْكَ سِيرَةَ الْجَاهِلِيَّةِ , وَقَدْ أَتَانَا اللَّهُ اليَوْمَ بِالْإِسْلَامِ , فَبِسِيرَةِ الْإِسْلَامِ مَا فَعَلْتُ , قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ مِنْ نَصْرِنَا , وَقَدِ اتَّخَذَكَ عُثْمَانَ ثِقَةً وَصِهْرًا؟ قُلْتُ: إِنَّكَ قَاتَلْتَ رَجُلًا هُوَ أَحَقُّ بِعُثْمَانَ مِنْكَ قَالَ: وَكَيْفَ يَكُونُ أَحَقَّ بِعُثْمَانَ مِنِّي , وَأَنَا أَقْرَبُ إِلَى عُثْمَانَ فِي النَّسَبِ؟ قُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ آخَى بَيْنَ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ؛ فَالْأَخُّ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْعَمِّ , وَلَسْتُ أُقَاتِلُ الْمُهَاجِرِينَ , قَالَ: أَوَ لَسْنَا مُهَاجِرِينَ؟ قُلْتُ: أَوَ لَسْنَا قَدِ اعْتَزَلْنَاكُمَا جَمِيعًا , وَحُجَّةٌ أُخْرَى: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ , وَقَدْ حَضَرَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ , ثُمَّ رَدَّ إِلَيْهِ بَصَرَهُ , فَقَالَ: «أَتَتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ» , فَشَدَّدَ أَمْرَهَا وَعَجَّلَهُ وَقَبَّحَهُ , فَقُلْتُ لَهُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا الْفِتَنُ؟ فَقَالَ: «يَا وَائِلُ , إِذَا اخْتَلَفَ سَيْفَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَاعْتَزِلْهُمَا» , فَقَالَ: أَصْبَحْتَ شِيعِيًّا؟ قُلْتُ: لَا , وَلَكِنِّي أَصْبَحْتُ نَاصِحًا لِلْمُسْلِمِينَ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْ سَمِعْتَ ذَا وَعَلَّمْتَهُ مَا أَقْدَمْتُكَ، قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ قَدْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عِنْدَ مَقْتَلِ عُثْمَانَ انْتَهَى بِسَيْفِهِ إِلَى صَخْرَةٍ , فَضَرَبَهُ بِهَا حَتَّى انْكَسَرَ , فَقَالَ: أُولَئِكَ قَوْمٌ يَحْمِلُونَ عَلَيْنَا , فَقُلْتُ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي , وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي» قَالَ: اخْتَرْ أَيَّ الْبِلَادِ شِئْتَ , فَإِنَّكَ لَسْتَ بِرَاجِعٍ إِلَى حَضْرَمَوْتَ , فَقُلْتُ: عَشِيرَتِي بِالشَّامِ , وَأَهْلُ بَيْتِي بِالْكُوفَةِ , فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ خَيْرٌ مِنْ عَشَرَةٍ مِنْ عَشِيرَتِكَ , فَقُلْتُ: مَا رَجَعْتُ إِلَى حَضْرَمَوْتَ سُرُورًا بِهَا , وَمَا يَنْبَغِي لِلْمُهَاجِرِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي هَاجَرَ مِنْهُ إِلَّا مِنْ عِلَّةٍ , قَالَ: وَمَا عِلَّتُكَ؟ قُلْتُ: قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ , فَحَيْثُ اخْتَلَفْتُمِ اعْتَزَلْنَاكُمْ , وَحَيْثُ اجْتَمَعْتُمْ جِئْنَاكُمْ , فَهَذِهِ الْعِلَّةُ , فَقَالَ: إِنِّي قَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ فَسِرْ إِلَيْهَا , فَقُلْتُ: مَا إِلَيَّ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَحَدٍ حَاجَةٌ , أَمَا رَأَيْتَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدْ أَرَادَنِي فَأَبَيْتُ , وَأَرَادَنِي عُمَرُ فَأَبَيْتُ , وَأَرَادَنِي عُثْمَانُ فَأَبَيْتُ , وَلَمْ أَدَعْ بَيْعَتَهُمْ , قَدْ جَاءَنِي كِتَابُ أَبِي بَكْرٍ حَيْثُ ارْتَدَّ أَهْلُ نَاحِيَتِنَا , فَقُمْتُ فِيهِمْ حَتَّى رَدَّهُمُ اللَّهُ إِلَى الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ وِلَايَةٍ , فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ , فَقَالَ لَهُ: سِرْ فَقَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ , وَسِرْ بِوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ فَأَكْرِمْهُ وَاقْضِ حَوَائِجَهُ , فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أَسَأْتَ بِيَ الظَّنَّ , تَأْمُرُنِي بِإِكْرَامِ رَجُلٍ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْرَمَهُ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَأَنْتَ؟ فَسُرَّ مُعَاوِيَةُ بِذَلِكَ مِنْهُ , فَقَدِمْتُ مَعَهُ الْكُوفَةَ , فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ: الْوِرَاطُ: الْعَمَارُ , وَالْأَقْوَالُ: الْمُلُوكُ , وَالْعَيَاهِلَةُ: الْعُظَمَاءُ

ابو ہند یحییٰ بن عبداللہ بن حجر بن عبدالجبار بن وہل بن حجر الضرمی سے مروی حدیث ، حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر ہونے کی اطلاع ہم تک پہنچی تو میں اپنی قوم کی جانب سے نمائندہ کے طو ر پر مدینہ منور میں آیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاقات کرنے سے پہلے میری ملاقات آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو بتایا کہ تمہارے آنے سے تین دن پہلے رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم تمہارے آنے کی خوشخبری ہمیں سنا دی تھی ۔ آپ نے فرمادیا تھا کہ تمہارے پاس وائل بن حجر آئے گا پھر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی آپ نے مجھے مرحبا کہا اور مجھے اپنے قریب بٹھایا اپنی چادر میرے یے بچھا دی اور مجھے اپنے قریب کھڑا کر لیا ۔ میں آپ سے کچھ نیچے ہو کر کھڑا ہوا پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور فرمایا اے لوگوں یہ وائل بن حجر ہے تمہارے پاس بہت دور دراز کے علاقے سے حضر موت کے علاقے سے آئے ہیں خوش دلی سے آئے ہیں یہ زبردستی سے نہیں لائے گئے ، یہ بادشاہوں کی اولادوں کی نشانی ہے اے وائل اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا کرے اللہ تعالی تمہاری اولاد میں برکت عطا کر ے اور تمہاری اولاد کی الادوں میں برکت عطا کرے پھر رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لے آئے پھر مجھے بھی اپنے ساتھ اتار ا اور مدینہ سے دور ایک گھر میں مجھے لے گئے ۔ حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کو آپ نے حکم دیا کہ وہ مجھے وہاں پر ٹھہرائیں میں وہاں سے نکلا اور حضرت اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی میرے ہمراہ نکل آئے ابھی ہم راستے میں تھے معاویہ نے کہا اے وائل بہت شدید گرمی ہے اور میرے پاؤں جل رہے ہیں تم مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو میں نے کہا میں اس اونٹنی کے حوالے سے تم پر بخل تو نہیں کرتا لیکن آپ کوئی وزیر تو نہیں ہیں اور مجھے یہ پسند نہیں ہے تمہاری وجہ سے مجھے شرم دلائی جائے ۔ تو انہوں نے کہا تو اپنی چادر مجھے عطا کر دیجیے میں اس کے ساتھ دھوپ کی شدت سے خود کو بچا لوں ، میں نے کہا میں تم پر اس چادر کے معاملے میں کنجوسی نہیں کر رہا لیکن میں وہ شخص نہیں ہوں جو بادشاہوں جیسا لباس پہنا کرتے ہیں اور مجھے یہ بھی پسند نہیں ہے تمہاری وجہ سے مجھے شرم دلائی جائے پھر جب میں نے اپنی قوم کی جانب واپس آنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین خط دیے ۔ ان میں سے ایک خط خاص طور پر میرے لیے تھا اس کے اندر آپ نے مجھے میری قوم پر فضیلت دی تھی اور ایک خط میرے خاندان والوں کے لیے تھا جہاں پر ہمارے بادشاہ موجود تھے اور ایک ہمارے قبیلہ والوں کے لیے تھا جو خط میرے لیے تھا اس کی تحریر کچھ یوں تھی " بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ کی جانب سے مہاجر ابن امیمہ کے نام ، حضر موت کے تمام سرداران اپنے معاملات میں " وائل " کو اپنا بڑا مانیں اور تمام امور میں انہی کی جانب رجوع کیا جائے اور وہ خط جو میرے خاندان والوں کے لیے تھا اس کی تحریر یہ تھی " بسم اللہ الرحمن محمد رسول اللہ کی طرف مہاجرین امیمہ کے نام شنوءۃ کے تمام سرداران اور جن کی حکومت مزاھر ، عمران ، بحر ملح اور عجر پر ہے ان تمام رئیسوں کے نام ان کا جو مال ان کو وراثت میں ملا تھا ۔ وہ ہم نے بیچ دیا ہے اور ان کا چھوٹا بڑا جو بھی مال حضرت موت میں ہے اس کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرنے والا ہے اور مومنین اس کے مددگار ہیں اور وہ خط جو میرے قبیلہ والوں کے لیے تھا وہ یہ تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ کی طرف سے وائل بن حجر اور حضر موت کے ان سرداران کے نام جن کو ان کے عہدوں پر بحال رکھا گیا ہے ان پر لازم ہے کہ نماز قائم کریں بکریوں کی زکوۃ دیں اور مالک نے جو بکری دودھ پینے کے لیے اپنے لیے رکھی ہو وہ اسی کی ہے اس کو زکوۃ کے جانوروں میں شمار نہ کیا جائے البتہ اس کے مالک سے کچھ تاوان لیا جائے گا زکوۃ وصول کرنے والوں کے ساتھ جانور وں کے گلہ سے الگ کسی مقام پر ملاقات کی اجازت نہیں ہے ۔ اور اپنا مال اتنی دور رکھنے کی اجازت نہیں ہے جہاں تک پہنچنے میں زکوۃ وصول کر نے والے اور حاجت مندوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے اور نہ ہی ایسے نکاح کی اجازت ہے جس میں مہر کے طور پر اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح کیا جائے اور نہ ہی اسلام میں اس بات کی اجازت ہے ۔ کہ زکوۃ سے بچنے کے لیے کچھ جانورں کو ایسی پست جگہ پر رکھ لیا جائے جہاں پر زکوۃ وصول کرنے والے کی اس پر نگاہ نہ پڑے ۔ جنگی مہموں کے ہر دس مجاہدین کے لیے اتنی کھجوریں ہوں گی جتنی کھجوریں اس ٹوکری میں سما جائیں جس میں تلواریں اور دیگر اسلحہ وغیرہ محفوظ رکھا جاتا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ پھر جب حضرت معایہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت قائم ہوئی تو انہوں نے ایک قریشی آدمی کو بھیجا اس کا نام بسرین ابوارطاۃ تھا بسر نے ان سے کہا میں نے تیرے ساتھ یہ لشکر روانہ کر دیا ہے ۔ تو اپنے لشکر کے ہمراہ نکل پھر جب تمہیں شام کی افواہیں سنائی دیں تو اپنی تلوار کو رکھ لینا اور جو شخص میری بیعت سے انکار کر ے اس کے ساتھ جہاد کرنا یہاں تک کہ تم مدینے تک پہنچ جاؤ پھر تو مدینے میں داخل ہو جانا اور ہر اس شخص کو مارڈالنا جو میری بیعت سے انکار کرے پھر تو حضرموت کی جانب چلے جانا اور جو شخص میری بیعت سے انکار کرے اس کو قتل کردینا اور اگر تیری ملاقات وائل بن حجر سے ہو تو اس کو میرے پس لے آنا اس نے وائل کو زندہ گرفتار کر لیا اور ان تک لے آیا انہوں نے معاویہ کو حکم دیا کہ وہ ان سے ملاقات کریں وہ اس کو اجازت دیں اور ان کواپنے ہمراہ تخت پر بٹھا ئے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کیا میرا یہ تخت زیادہ اچھا ہے یا تیری اونٹنی کی پشت زیادہ اچھی ہے ؟ میں نے کہا اے امیر المومنین میں زمانہ کفر اور زمانہ جاہلیت میں تھا اور یہ عادتیں زمانہ جاہلیت کی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام عطا کر دیا ہے آپ نے اسلام کی سیرت کے مطابق کیا کیا ہے ؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو پھر کیا وجہ ہے تم نے ہماری مدد کیوں نہیں کی ؟ جبکہ عثمان نے تمہارے ساتھ رشتہ داری قائم کی ہے ۔ میں نے کہا:آپ نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا ہے جو عثمان کا تجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے انہوں نے کہا وہ شخص عثمان کا مجھ سے زیادہ حق کیسے رکھ سکتا ہے حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نسب کے حوالے سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں میں نےکہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا تھا اور بھائی چچازاد سے زیادہ قریب ہوا کرتا ہے اور میں مہاجرین کے ساتھ جہاد نہیں کرتا ہوں انہوں نے کہا کیا ہم مہاجرین نہیں ہیں ؟میں نے کہا کیا ہم نے تم سب کو چھوڑ نہیں دیا ہے اور دوسری دلیل یہ ہے کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگہ میں حاضر تھا ۔ اس نے اپنا سر مشرق کی جانب اٹھایا اس وقت آپ کے پاس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حم غفیر موجود تھا پھر آپ کی نگاہ لوٹ کر واپس آگئی پھر آپ نے فرمایا تمہارے اوپر اندھیری رات کی مانند فتنے برپا ہوں گے اس لیے ان معاملات کو مضبوط کر لو اور جلدی کرو اور اس کی برائی بیان کرو تمام لوگوں میں سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتنے کون سے ہوں گے ؟آپ نے فرمایا اے وائل جب دو مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرا جائیں تو ان سے الگ ہو جانا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم شیعہ ہو چکے ہو ، میں نے کہا نہیں بلکہ میں تو مسلمانوں کے لیے خیر خواہ ہو گیا ہوں ۔ حضرت معاویہ نے کہا اگر یہ باتیں میں پہلے سن لیتا اور مجھے پتہ ہوتا تو میں تجھے اتنی عزت نہ دیتا میں نےکہا کیا آپ نے نہیں دیکھا جو محمد بن مسلمہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت کیا تھا ؟ وہ اپنی تلوار لے کر ایک پتھر کے پاس گئے اور پتھر پر تلوار کو توڑ دیا ۔ حضرت معایہ رضی اللہ عنہ نے کہا وہ لوت تو تم پر حملہ آور ہونے والے ہیں میں نے کہا تم رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا کیا کرو گے " جو انصار سے محبت کرے میری محبت کی بناء پر محبت کریں اور جس نے انصا ر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغص رکھا " حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم پسند کر لو کس شہر میں جانا چاہتے ہو؟ کیونکہ تم حضر موت کی جانب تو لوٹ کر نہیں جاؤ گے میں نے کہا میرا خاندان شام میں ہے اور میرے گھر والے کوفہ میں ہیں انہوں نے کہا تمہارے گھر کا ایک فرد تمہارے خاندان کے دس افراد سے بہتر ہے میں نےسوچا کہ حضرموت کی جانب خیرو عایت کے ساتھ تو لوٹ ہیں سکتا اور مہاجر کے لیے یہ مناسب ہوتا ہے کہ و ہ جہاں سے ہجرت کرکے گیا ہے لوٹ کر وہاں آئے ہاں اگر وہاں آنے میں کچھ وقت ہو تو کسی اور جگہ جانے کی گنجائش ہے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں کس چیز کی دقت ہے ؟ میں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جو فتنوں کے بارے میں ہے اس لیے تم جہاں اختلاف کرو گے ہم تم سے الگ ہو جائیں گے اور جہاں تم اتفاق کروگے ہم تمہارے پاس آجائیں گے بس یہی دقت ہے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں کوفہ کا گرونر بنا دیتا ہوں آپ وہاں پر چلے جائیں میں نے کہا رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میری نگاہ میں کسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے آپ نے دیکھا نہیں ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی ارادہ کیا تھا لیکن میں نے انکار کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی پیش کش کی تھی میں نے انکار کر دیا تھا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے پیشکش کی تھی میں نے ان کو بھی انکار کر دیا لیکن ان کی بیعت کو بھی میں نے توڑا نہیں تھا جب ہمارے علاقہ والے مرتد ہوئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا خط مجھ تک پہنچا تھا میں خؤد ان لوگوں میں کھڑا ہو ا ( اور ان کو بہت سمجھایا ) اللہ تعالیٰ نے ان کو سلام کی جانب دوبارہ لوٹا دیا یہ تمام کام میں نے گرونر بنے بغیر کیے تھے حضر ت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن حکم رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا تم چلے جاؤ میں نے تمہیں کوفہ کا گورنر بنا دیا ہے اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کو اپنے ہمراہ لے جاؤ ان کی عزت اور توقیر کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا انہوں نے کہا اے امیر المومنین آ نے میرے بارے میں بدگمانی کی ے ۔ آپ مجھے اس شخص کی عزت کرنے کا حکم دے رہے ہیں جس کی عزت کرتے ہوئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے اور حضرت عثمان کو دیکھا ہے اور آپ بھی ان کی عزت کر ہے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اس بات سے بہت خوش ہوئے میں ان کے ہمراہ کوفہ میں آگیا اور ان کی وفات تک وہیں ٹھہرا ،محمد بن حجر کہتے ہیں وراط کا مطلب عمار ( عمارتیں بنانے والا ) ہے اور اقوال سےمراد بادشا ہ ہیں اور مباہلہ سے مراد وزاء ہیں ۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أُمِّهِ أُمِّ يَحْيَى، ← أَبِيهِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← ائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيُّ الْكُوفِيُّ ← أَبُو هِنْدَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1176

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1177

1177 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْخَشَّابُ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا مُوسَى , أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَبِيبٍ إِلَّا حَمَّادٌ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا مُؤَمَّلٌ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو أَحْمَدَ

یحییٰ بن عبدالباقی الاذنی سے مروی حدیث ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابو موسیٰ کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر رہنمائی نہ کرو ں؟ میں نے کہا کیوں نہیں یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا " لاحول والا قوۃ الا باللہ" ۔ اس حدیث کو حبیب سے صرف حماد نے روایت کیا ہے اور اس سے مومل نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو احمد منفرد ہیں ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْخَشَّابُ التِّنِّيسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1177

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1178

1178 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَاذٍ الْفَقِيرُ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ بِمَا يُحِبُّ لِيَسُرَّهُ بِذَلِكَ سَرَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا سَعِيدٌ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي بَزَّةَ

یحییٰ بن معاذ الفقیہہ التستری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرنے کے لیے اس کی پسندیدہ چیز کے ہمراہ اس سے ملاقات کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو خوش کرے گا۔ اس حدیث کو قتادہ سے صرف سعید نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف حکم بن عبداللہ نے روایت کیا ہے ۔ اور ان سے روایت کرنے میں ابن ابی بزہ منفرد ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ الْمَكِّيُّ ← يَحْيَى بْنُ مُعَاذٍ الْفَقِيرُ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1178

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1179

1179 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدَوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَبْدٌ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ يُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَبْلَ مَوَالِيهِ , فَيَقُولُ السَّيِّدُ: رَبِّ , هَذَا كَانَ عَبْدِي فِي الدُّنْيَا , فَيَقُولُ: جَازَيْتُهُ بِعَمَلِهِ , وَجَازَيْتُكَ بِعَمَلِكَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ

یحییٰ بن عبداللہ بن عبدویہ الصفار البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا وہ غلام جو اللہ کی بھی اطاعت کرتا ہے اور اپنے آقا کی بھی فرما نبرداری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس کے آقا سے پہلے جنت میں داخل فرمادے گا اس کا آقا کہے گا اے رب یہ تو دنیا میں میرا غلام تھا اللہ تعالی فرماے گا میں نے اس کو اس کے عمل کا بدلہ دیا ہے اور تجھے تیرے عمل کا بدلہ دوں گا ۔ اس حدیث کو یونس سے صرف عبدالوہاب نے روایت کیا ہے اور یحییٰ بن عبداللہ اس حدیث کو اپنے والد روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔

أَبِيهِ ← يُونُسَ إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← جَازَيْتُهُ بِعَمَلِهِ وَجَازَيْتُكَ بِعَمَلِكَ لَمْ يَرْوِهِ ← السَّيِّدُ: ربِّ هَذَا كَانَ عَبْدي في الدُّنيَا, ← عَبْدٌ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ يُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَبْلَ مَوَالِيهِ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدَوَيْهِ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1179

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1180

1180 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ الْقَزَّازُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «رَمَلَ فِي حِجَّتِهِ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ

یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن سالم القزازالکوفی سے مروی حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے دوران حجر (اسود) سے ہجر ( اسود ) تک رمل کیا ۔ اس حدیث کو محمد بن جعفر سے صرف عبداللہ بن محمد بن سالم نے روایت کیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ الْقَزَّازُ الْكُوفِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1180

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْيَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ يَحْيَى · حديث 1181

1181 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُواطِئُ اسْمُهُ اسْمِي , يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا وَقِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ إِلَّا جَعْفَرُ بْنُ عَلِيٍّ تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ

یحییٰ بن اسماعیل بن محمد بن یحییٰ بن محمد بن زیاد بن جریر بن عبداللہ الجلی الکوفی سےمروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسو ل اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا یہ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی بادشاہ نہ بنے اس کا نام میرے نام جیسا ہو گا وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ اس سے پہلے ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی ۔ اس حدیث کو ابو الاحوص سے صرف جعفر بن علی نے روایت کیا ہے او ر ان سے روایت کرنے میں یحییٰ بن اسماعیل منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1181

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter