856 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ الْبَصْرِيُّ ابْنُ أَخِي الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيِّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ [ص:101] الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ , فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَيْهِ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ رِجَالَ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءَهُمْ قَدْ أَتْحَفُوكَ غَيْرِي , وَلَمْ أَجِدْ مَا أُتْحِفُكَ إِلَّا ابْنِي هَذَا , فَاقْبَلْ مِنِّي يَخْدُمْكَ مَا بَدَا لَكَ قَالَ: فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ , فَلَمْ يَضْرِبْنِي ضَرْبَةً قَطُّ , وَلَمْ يَسُبَّنِي , وَلَمْ يَعْبِسْ فِي وَجْهِي , وَكَانَ أَوَّلُ مَا أَوْصَانِي بِهِ أَنْ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا» , فَمَا أَخْبَرْتُ بِسِرِّهِ أَحَدًا , وَإِنْ كَانَتْ أُمِّي , وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلْنَنِي أَنْ أُخْبِرَهُنَّ بِسِرِّهِ فَلَا أُخْبِرُهُنَّ وَلَا أُخْبِرُ بِسِرِّهِ أَحَدًا أَبَدًا , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يُزَدْ فِي عُمْرِكَ وَيُحِبَّكَ حَافِظَاكَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَبِيتَ إِلَّا عَلَى وُضُوءٍ فَافْعَلْ , فَإِنَّهُ مَنْ أَتَاهُ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ أُعْطِيَ الشَّهَادَةَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ تُصَلِّي فَافْعَلْ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَزَالُ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي» , ثُمَّ قَالَ «يَا بُنَيَّ , إِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ , فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ , فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَفِي التَّطَوُّعِ لَا فِي الْفَرِيضَةِ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ , وَافْرُجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ , وَارْفَعْ يَدَيْكَ عَلَى جَنْبَيْكَ , فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَكُنْ لِكُلِّ عُضْو [ص:102] مَوْضِعَهُ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ» , ثُمَّ قَالَ: " يَا بُنَيَّ , إِذَا سَجَدْتَ فَلَا تَنْقُرْ كَمَا يَنْقُرُ الدِّيكُ , وَلَا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ , وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ افْتِرَاشَ السَّبْعِ , وَافْرِشْ ظَهْرَ قَدَمَيْكَ الْأَرْضَ , وَضَعْ إِلْيَتَيْكَ عَلَى عَقِبَيْكَ فَإِنَّ ذَلِكَ أَيْسَرُ عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حِسَابِكَ , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ بَالِغْ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ تَخْرُجْ مِنْ مُغْتَسَلِكَ لَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ» قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي , مَا الْمُبَالَغَةُ؟ قَالَ: «تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ , وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِنْ (إِذَا) قَدَرْتَ أَنْ تَجْعَلَ مِنْ صَلَوَاتِكَ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا فَافْعَلْ فَإِنَّهُ يُكْثِرُ خَيْرَ بَيْتِكَ» ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُنْ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ تَرْجِعُ وَقَدْ زِيدَ فِي حَسَنَاتِكَ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ , إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُمسِيَ وَتُصْبِحَ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِذَا خَرَجْتَ مِنْ أَهْلِكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا ظَنَنْتَ أَنَّ لَهُ الْفَضْلَ عَلَيْكَ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ , إِنْ حَفِظْتَ وَصِيَّتِي فَلَا يَكُونَنَّ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ» , ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا بُنَيَّ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ» لَا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا التَّمَامِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ مُسْلِمٌ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ ثِقَةً
محمد بن صالح بن ولید النر سی البصری سے مروی حدیث ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت میری عمر آٹھ سال تھی میری والدہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر گئی اور عرض کی یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم میرے سوا تمام انصاری مرد اور خواتین نے آپ کی بارگاہ میں تحائف پیش کیے ہیں میرے پاس اس بیٹے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے جو آپ کی بارگاہ میں نظر کر سکوں آپ میرے بیٹے کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیجیے یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ نے مجھے کبھی بھی مارا نہیں کبھی بھی برا بھلا نہیں کہا اور نہ ہی کبھی میرے ساتھ تر شروئی سے پیش آئے آپ نے مجھے جو ابتدائی وصیتیں فرمائیں ان میں سے یہ بھی تھی ۔ اے میرے بیٹے میرے راز کو چھپا کر رکھنا تو مومن رہے گا چنانچہ میں نے آپ کا راز کبھی کسی پر ظاہر نہیں کیا اگرچہ میری والدہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مجھے کہا کرتی تھیں کہ میں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز بتاؤں لیکن میں ان کو نہ بتاتا اور میں کبھی بھی آپ کا راز کسی پر ظہر نہیں کروں گا۔ اے میرے بیٹے وضو اچھے طریقے سے کیا کرو تیری عمر میں اضافہ ہو گا اور تیرے محافظ فرشتے تجھ سے محبت کریں گے۔ اے بیٹے اگر تو باوضو حالت میں رات گزار سکے تو ایسا ضرور کرنا کیونکہ جس کو وضو کی حالت میں موت آجائے اس کو مقام شہادت مل جاتا ہے ۔ اے بیٹے اگر ہو سکے تو مسلسل مجھ پر دردو پڑھتا رہ کیونکہ جب تک تم مجھ پر درود پڑھتے رہو گے فرشتے تم پر رحمتیں نازل کرتے رہیں گے ۔ اے بیٹے نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے سے بچو کیونکہ نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت ہے اور اگر نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے کی بہت ضرورت ہو تو نفل میں اسکی اجازت ہے فرضوں میں نہیں۔اے بیٹے جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ دے اور اپنی انگلیوں کو کھلا ہوا رکھ اور اپنے ہاتھوں کے اپنے پہلوؤں سے کھلا ہوا رکھ اور جب تو رکوع سے سر اٹھائے تو اپنے تمام اعضاء کو ان کے مقام پر قرار پکڑنے دو کیونکہ جس شخص کی پشت اس کےرکوع اور سجدے میں سیدھی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جانب نگاہ رحمت نہیں فرمائے گا۔ اے بیٹے جب سجد ہ کرے تو مرغے کی طرح ٹھونگا مت ماراور کتے کی طرح بازو بچھا کر مت بیٹھو اور اپنی کلائیاں زمین کے ساتھ اس طرح مت بچھاؤ جس طرح درند بچھا کر بیٹھتا ہے اپنے قدموں کی پشت زمین کے ساتھ ملا دو اور اپنی سرین اپنی ایڑیوں پررکھو اس کی بناء پر قیامت کے دن تیرے حساب میں آسانی ہو گی ۔اے بیٹے جنابت کا غسل کرنے میں مبالغہ کراس اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ تو غسل خانے سے نکلے گا تو تیری ذمے نہ کوئی گناہ ہو اور نہ کوئی خطا ہو گی میں نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں مبالغہ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اپنے بالو ں کی جڑوں کو اچھی طرح تر کر لو اور پانی جلد کو اچھی دھولو ۔ اے بیٹے اگر اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر میں پڑھ سکو تو ایسا ضرور کرنا کیونکہ اس سے تیرے گھر میں خیر و برکت بڑھتے کی اے بیٹے جب اپنے گھر آؤ تو گھروالوں کو سلام کرو ۔ اس سے تجھے اور تیرے گھر والوں کو برکت ملے گی ۔ اے بیٹے جب تو اپنے گھر سے نکلے تو اہل قبلہ میں جس پر بھی تیری نگاہ پڑے اس کو سلام کر جب تک گھر کو لوٹ کر آئے گا تو تیری نیکیوں میں اضافہ ہو گا ۔ اے بیٹے اگر ایسا ہو سکے تو ایسا ضرور کرنا کہ تو صبح کر ے یا تو شام کرے تو تیرے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ نہ ہو ۔ اے بیٹے جب تو اپنے گھر سے نکلے تو اہل قبلہ میں جس پر بھی تیری نگاہ پڑے تو اس کے بارے میں یہی سمجھ کہ وہ تجھ پر فضیلت رکھتا ہے ۔ اے بیٹے اگر تو نے میری وصیت کو یاد رکھا اور اس کی حفاظت کی تو تجھے موت سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہ ہو گی ۔ اے میرے بیٹے یہ میر ی سنت ہے جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ہمراہ ہو گا۔ اس حدیث کو اس تفصیل کے ہمراہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں مسلم الانصاری منفرد ہیں اور وہ فقہ ہیں ۔