802 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّبَاحِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، وَسُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَهَبَ ذَوُو الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ؛ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي , وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ , وَيَحُجُّونَ كَمَا نَحُجُّ , وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا , وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ , فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ , وَلَمْ يَلْحَقْكُمْ مِنْ خَلْفِكُمْ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتُمْ بِهِ؟ تُسَبِّحُونَ اللَّهَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وتحَمَدُونَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَتُكَبِّرُونَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» , فَبَلَغَ ذَلِكَ الْأَغْنِيَاءَ , فَقَالُوا مِثْلَ مَا قَالُوا , فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرُوهُ , فَقَالَ: «ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَجَاءٍ إِلَّا ابْنُ عَجْلَانَ
محمد بن علی بن صباح البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں فقراء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دولت مند لوگ بلند درجے لے گئے وہ ہماری طرح نمازیں بھی پرھتے ہیں ہماری طرح روزے بھی رکھتے ہیں اور ہماری طرح حج بھی کرتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی مال موجود ہے جس کے ساتھ وہ صدقہ کرتے ہیں ہمارے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کرسکیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اس کو کر لو گے تو تم ان کو پالو گے جو تم سے آگے نکل گئے اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم تک نہیں پہنچ سکیں گے سوائے اس شخص کے جو تمہاری طرح یہ عمل کرے گا۔ تم ہر نماز کے بعد 33مرتبہ سبحا ن اللہ ،33مرتبہ الحمد اللہ اور 34مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔ اس بات کی اطلاع مالدار لوگوں تک بھی پہنچ گئی تو انہوں نے یہ تسبیحات پڑھنا شروع کر دیں ۔ فقراء مسلمین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس معاملے کی خبر دی آپ نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے وہ جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے ۔ اس حدیث کو رجاء سے صرف محمد بن عجلان نے روایت کیا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ ← سَمَّيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ