1097 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى مُزَيْنَةَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِطَلَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يَجِدْهُ , فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ , فَلَمْ يَجِدْهُ , فَأَتْبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ , فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا , فَبَصُرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ قَالَ مُعَاذٌ: فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ , فَهَبَطْتُ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ , وَهُوَ سَاجِدٌ , فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ , فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَ , فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ أَسَأْتُ بِكَ الظَّنَّ , وَظَنَنْتُ أَنَّكَ قَدْ قُبِضْتَ , فَقَالَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ , فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ , فَذَهَبَ , ثُمَّ جَاءَنِي , فَقَالَ إِنَّهُ يَقُولُ: لَا أَسُوءُكَ فِي أُمَّتِكَ , فَسَجَدْتُ؛ فَأَفْضَلُ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ السُّجُودُ " لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ
مسعدہ بن سعد العطار المکی سے مروی حدیث ، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈتے ہوئے نکلے لیکن آپ کو نہ پایا پھر انہوں نے آپ کو آپ کے حجروں میں ڈھونڈا لیکن آپ کو نہ پایا پھر وہ آپ کو گلیوں میں ڈھونڈتے رہے حتیٰ کہ کسی نے بتایا کہ آپ ثواب نامی پہاڑ میں گئے ہوئے ہیں ۔ حضرت ابو قتادہ بھی اس پہاڑ پر آئے اور اوپر چڑھ گئے اوپر چڑھ کر انہوں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں دکھائی دیئے جس کو لوگ مسجد فتح کی جانب جانے کے لیے راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے میں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اتر آیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک بد ستور سجدے میں تھے ۔ اس قدر طویل سجدے کو دیکھ کر مجھے وسوسے آنے لگے اور میں یہ سمجھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے جب آپ نے اپنا سر سجدے سے اٹھا یا میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو آپ کے بارے میں وسوسے آنے لگے تھے اور میں تو یہ سمجھا تھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے آپ نے فرمایا میرے پاس اس جگہ پر جبرائیل امین تشریف لائے تھے میں نے کہا اللہ بہتر جاتا ہے پھر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام گئے اور واپس تشریف لائے تھے اور میں تو یہ سمجھا تھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے آپ نے فرمایا میرے پاس اس جگہ پر جبرائیل امین تشریف لائے تھے انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے آپ کیا پسند کرتے ہیں ؟ میں آپ کی امت کے معاملے میں پریشان نہیں ہونے دوں گا ۔ اس لیے میں سجدے میں گر پڑا اور سب سے بہترین چیز جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے وہ سجدہ ہے ۔ اس حدیث کو ابوقتادہ کے واسطے سے حضرت معاز رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں ابراہیم بن منذر منفرد ہیں ۔