Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعُودٌ · حديث 1092

1092 - حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ أَبُو الْجَارُودِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْتُبُ لِلْمَرِيضِ أَقْصَى مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي صِحَّةٍ مَا دَامَ فِي وَثَاقِهِ , وَلِلْمُسَافِرِ أَحْسَنَ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي حَضَرِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ إِلَّا رَوَّادٌ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ

مسعود بن محمد الرملی ابوالجارود سے مروی حدیث ، حضرت سعید بن ابی ابو بردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا ابو موسیٰ سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ مریض کے لیے وہ تمام نیکیاں لکھتا رہتا ہے جو وہ اپنی صحت کے زمانے میں کیا کرتا تھا اور مسافر کے لیے وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی رہتی ہیں جو ہ اپنی اقامت کے زمانے میں کیا کرتا تھا ۔ اس حدیث کو مسعر کے واسطے سے ابو سعید ابن ابی بردہ کے واسطے سے رواد نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں ابن ابی سری منفرد ہیں ۔

جَدِّهِ أَبِي مُوسَى، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← مِسْعَرٍ، ← رَوَّاد بْنِ الَجَرَّاح ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ أَبُو الْجَارُودِ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1092

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُطَّلِبٌ · حديث 1093

1093 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتَقَ صَفِيَّةَ , وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ

مطلب بن شعیب الازوی سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ۔ اس ھدیث کو شعبہ سے صرف ابن مبارک نے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1093

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْمِقْدَامُ · حديث 1094

1094 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ , وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ إِلَّا أَبُو مُعَاوِيَةُ تَفَرَّدَ بِهِ أَسَدُ بْنُ مُوسَى

مقدام بن داؤد المصری سے مروی حدیث ، حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مرد دوسرے مرد کے ہمراہ برہنہ نہ سوئے اور کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ برہنہ نہ لیٹنے ۔ اس حدیث کو شیبانی سے صرف ابو معاویہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں اسد بن موسیٰ منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1094

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْلَمَةٌ · حديث 1095

1095 - حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ جَابِرٍ اللَّخْمِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ، قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَصَادَقُونَ مِنْ أَجْلِي , وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي , وَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٌ يُقَدِّمُ اللَّهُ لَهُ ثَلَاثَةَ أَوْلَادٍ مِنْ صُلْبِهِ , لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْوَضِينِ إِلَّا مُنَبِّهٌ

مسلمہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میری محبت کے حقدار ہوجاتے ہیں وہ لوگ جو میری وجہ سے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ سچ بولتے ہیں اور میری محبت کے حقدار ہو جاتے ہیں وہ لوگ جوآپس میں ایک دوسرے کی مدد میری وجہ سے کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ماں باپ کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ اس حدیث کو وضین سے صرف منبہ نے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ← مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مسلمة بن جابر اللخمي الدمشقي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1095

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْلَمَةٌ · حديث 1096

1096 - حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُرَيْبٍ الْأَصْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَيْبٍ أَبِي الْأَصْمَعِيِّ إِلَّا ابْنُهُ وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ

مسلمہ بن الہیثم الا صبہانی سے مروی حدیث ، حضر ت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خوارج دوزخ کے کتے ہیں ۔ اس حدیث کو قریب ابو ا صمعی سے صرف ان کے بیٹے اور عمرو بن عاصم نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي غَالِبٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1096

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسْعَدَةُ · حديث 1097

1097 - حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى مُزَيْنَةَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِطَلَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يَجِدْهُ , فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ , فَلَمْ يَجِدْهُ , فَأَتْبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ , فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا , فَبَصُرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ قَالَ مُعَاذٌ: فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ , فَهَبَطْتُ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ , وَهُوَ سَاجِدٌ , فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ , فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَ , فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ أَسَأْتُ بِكَ الظَّنَّ , وَظَنَنْتُ أَنَّكَ قَدْ قُبِضْتَ , فَقَالَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ , فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ , فَذَهَبَ , ثُمَّ جَاءَنِي , فَقَالَ إِنَّهُ يَقُولُ: لَا أَسُوءُكَ فِي أُمَّتِكَ , فَسَجَدْتُ؛ فَأَفْضَلُ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ السُّجُودُ " لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ

مسعدہ بن سعد العطار المکی سے مروی حدیث ، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈتے ہوئے نکلے لیکن آپ کو نہ پایا پھر انہوں نے آپ کو آپ کے حجروں میں ڈھونڈا لیکن آپ کو نہ پایا پھر وہ آپ کو گلیوں میں ڈھونڈتے رہے حتیٰ کہ کسی نے بتایا کہ آپ ثواب نامی پہاڑ میں گئے ہوئے ہیں ۔ حضرت ابو قتادہ بھی اس پہاڑ پر آئے اور اوپر چڑھ گئے اوپر چڑھ کر انہوں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں دکھائی دیئے جس کو لوگ مسجد فتح کی جانب جانے کے لیے راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے میں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اتر آیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک بد ستور سجدے میں تھے ۔ اس قدر طویل سجدے کو دیکھ کر مجھے وسوسے آنے لگے اور میں یہ سمجھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے جب آپ نے اپنا سر سجدے سے اٹھا یا میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو آپ کے بارے میں وسوسے آنے لگے تھے اور میں تو یہ سمجھا تھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے آپ نے فرمایا میرے پاس اس جگہ پر جبرائیل امین تشریف لائے تھے میں نے کہا اللہ بہتر جاتا ہے پھر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام گئے اور واپس تشریف لائے تھے اور میں تو یہ سمجھا تھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے آپ نے فرمایا میرے پاس اس جگہ پر جبرائیل امین تشریف لائے تھے انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے آپ کیا پسند کرتے ہیں ؟ میں آپ کی امت کے معاملے میں پریشان نہیں ہونے دوں گا ۔ اس لیے میں سجدے میں گر پڑا اور سب سے بہترین چیز جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے وہ سجدہ ہے ۔ اس حدیث کو ابوقتادہ کے واسطے سے حضرت معاز رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں ابراہیم بن منذر منفرد ہیں ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1097

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُسْلِمٌ · حديث 1098

1098 - أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَوْجَرِيُّ الصَّنْعَانِيُّ فِي كِتَابِهِ إِلَيْنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «رَدَّ نِكَاحَ بِكْرٍ وَثَيِّبٍ أَنْكَحَهُمَا أَبَوَاهُمَا وَهُمَا كَارِهَتَانِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا الذِّمَارِيُّ

مسلم بن محمد العوجری الصنعانی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنواری اور شادی شدہ لڑکی کا نکاح کالعدم قرار دیا جو نکاح ان کے ماں باپ نے انکی رضا مندی کے بغیر کیا تھا ۔ اس حدیث کوثور ی سے صرف ذماری نے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَوْجَرِيُّ الصَّنْعَانِيُّ فِي كِتَابِهِ إِلَيْنَا

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1098

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُخَوَّلٌ · حديث 1099

1099 - حَدَّثَنَا مُخَوَّلٌ الْمُسْتَمْلِي الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ , فَغَسَلَ يَدَيْهِ كُفِّرَ بِهِ مَا عَمِلَتْهُ يَدَاهُ , فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كُفِّرَ عَنْهُ مَا نَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ , فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ كُفِّرَ عَنْهُ مَا سَمِعَتْ أُذُنَاهُ , فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ كُفِّرَ عَنْهُ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ قَدَمَاهُ , ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ , فَهِيَ فَضِيلَةٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَّا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

مخول المستملی البغدادی سے مروی ھدیث ، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جب مسلمان وضو کرتا ہے اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ساتھ کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے پھر جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو چہرے کے کیے ہوئے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کر تا ہے تو ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے جو اس کے کانوں نے سنے ہیں اور جب وہ پاؤں کو دھوتا ہے تو ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے جن کی جانب وہ قدموں کے ذریعے چل کر گیا تھا پھر جب وہ نماز کے لیے آٹھ کر کھڑا ہوتا ہے تو یہ اس کے لیے باعث فضیلت ہوتی ہے ۔ اس حدیث کو زکریا بن میسرہ سے صرف یونس بن محمد نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي غَالِبٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ مَيْسَرَةَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← مُخَوَّلٌ الْمُسْتَمْلِي الْبَغْدَادِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1099

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُصْعَبٌ · حديث 1100

1100 - حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بِمَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَنَةَ 283 ثَلَاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَحْشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ مَا دَرَيْتُ شَيْئًا قَطُّ وَافَقَهُ , وَلَا شَيْئًا قَطُّ خَالَفَهُ رِضَاءً مِنَ اللَّهِ تَعَالَى بِمَا كَانَ , وَإِنْ كَانَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ لَتَقُولُ: لَوْ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا مَا لَكَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ يَقُولُ: «دَعُوهُ؛ فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ إِلَّا مَا أَرَادَ اللَّهُ» , وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ لِلَّهِ حُرْمَةٌ، فَإِذَا انْتُهِكَتْ للَّهِ تَعَالَى حُرْمَةٌ , كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ غَضَبًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ فِيهِ سَخَطٌ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ فِيهِ سَخَطٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ إِلَّا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَحْشِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ الْأَسَدِيِّ نَسِيبِ زَيْنَبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

مصعب بن ابراہیم بن حمزہ بن محمد بن حمزہ بن مصعب بن زبیر بن عوام سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے دس سال رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارے ہیں میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی معاملے میں موافقت یا مخالفت اللہ کی رضا کے بغیر کی ہو ۔ اگرچہ آپ کی بعض ازواج آپ کو کہا کرتی تھیں اگر آپ ایسا کام کریں تو کتنا ہی اچھا ہو ( اور بعض اوقات یوں کہا کرتی تھیں ) آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ فلاں فلاں کام کیوں نہیں کرتے ؟ آپ فرماتے اس کو چھوڑ دو اس لیے کہ ہو گا وہی جو اللہ چاہے گا اور میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا انتظام لیا ہو ، سوائے اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ کے محارم کی برحرمتی کی گئی ہو اور جب اللہ کی حدود کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے بہت زیادہ غضبناک ہوتے اور آپ پر جب بھی کوئی دوکام پیش کیے جاتے تو آپ ان میں سے ہمیشہ آسان کو پسند کرتے ، جب تک اس کہ اندر اللہ کی کوئی ناراضگی نہ ہو اور اگر اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی کوئی ناراضگی ہوتی تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور ہو جاتے ہیں ۔ اس حدیث کو ابن عجلان سے صرف عمر بن محمد جحشی نے روایت کیا ہے اور اس ھدیث کو روایت کرنے میں عبیداللہ بن محمد منفرد ہیں اور یہ عبیدا للہ بن محمد عبداللہ بن حجش بن رباب الاسدی کی اولاد میں سے ہے جو کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے قریبی رشتہ دار ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← عَمِّي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَحْشِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1100

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُوَرِّعٌ · حديث 1101

1101 - حَدَّثَنَا مُوَرِّعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو ذُهْلٍ الْمِصِّيصِيُّ، بِالْمِصِّيصَةِ سَنَةَ 278 ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى الْحَرْبِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَبُو رَجَاءٍ الْكَلِينِيُّ , عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا جُعِلَتِ الشَّفَاعَةُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَّا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى

مورع بن عبداللہ ابو ذبل المصیصی سے مروی ھدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۔ اس حدیث کو یزید رشک کے واسطے سے انس بن مالک سے صرف بن مسیب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں حسن بن عیسیٰ منفرد ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَبُو رَجَاءٍ الْكَلِينِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى الْحَرْبِيُّ ← مُوَرِّعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو ذُهْلٍ الْمِصِّيصِيُّ، بِالْمِصِّيصَةِ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1101

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُفَضَّلٌ · حديث 1102

1102 - حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ وَقَفَ بَيْنَ الْجَمْرَتَيْنِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ , وَذَلِكَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَعْقُوبَ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ

مفضل بن محمد الجندی ابو سعید سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج کے دوران قربانی کے دن دو جمروں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشادفرمایا یہ حج اکبر کا دن ہے ۔ اس حدیث کو یعقوب سے صرف زمعہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو قرہ منفرد ہیں ۔

يَعْقُوبَ إِلَّا زَمْعَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قُرَّةَ ← «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» لَمْ يَرْوِهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← مُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1102

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُؤَمَّلٌ · حديث 1103

1103 - حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَيَّارٍ الشِّيرَازِيُّ، بِشِيرَازَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُثَنَّى الْبَاهِلِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ إِلَّا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ

مومل بن محمد سیار الشیرازی سے مروی حدیث ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ( پردے کا خیال رکھتے ہوئے ) ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتی تھیں ۔ اس حدیث کو عمر بن عامر سے صرف سالم بن نوح نے روایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُثَنَّى الْبَاهِلِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← مؤمل بن محمد بن سيار الشيرازي

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1103

chevron_left Previous
1…25262728
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter