المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1032
1032 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ النَّاقِطِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِلَابٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ , «فَنَهَاهُ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نُطْرِقُ فَنُكْرَمُ , «فَرَخَّصَ لَهُ فِي الْكَرَامَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , وَلَا عَنْ هِشَامٍ إِلَّا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ آدَمَ , وَتَفْسِيرُ إِطْرَاقِ الْفَحْلِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ الْفَرَسُ الْأُنْثَى , وَيَسْأَلُ الرَّجُلَ أَنْ يُعِيرَهُ فَرَسَهُ الذَّكَرَ , فَيَطْلُبُ مِنْهُ الْعَسْبَ وَهُوَ الْأُجْرَةَ , فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؛ فَإِنْ أَعَارَهُ فَرَسَهُ , فَأَنْزَاهُ عَنْ فَرَسِهِ , فَأَهْدَى إِلَيْهِ هَدِيَّةً مِنْ غَيْرِ شَرْطٍ، فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ
محمد بن عمران الناقط البصری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی کلاب کا ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے نر جانور کی اجرت لینے کے بارے میں مسئلہ پوچھا ۔ آپ نے اس کو منع فرمایا اس نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنا نر جانور مادہ کے ساتھ جفتی کےلیے چھوڑ دیتے ہیں اس کے بدلے میں حوسلہ افزائی کے طور پر ہمیں کچھ دیا جاتا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حوصلہ افزائی کے طور پر لینے کی اجازت عطا فرمائی ۔ اس ھدیث کو محمد بن ابراہیم سے صرف ہشام بن عروہ نے روایت کیا ہے او ہشام نے صرف ابراہیم بن حمید نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں یحییٰ بن آدم منفر دہیں ۔ نر جاندار کو چھوڑنے کی تفسیریوں ہے کہ کوئی آدمی اپنی گھوڑی کے لیے دوسرے آدمی سے اس کا گھوڑا عاریت پر لے لیکن گھوڑے والا اس سے اس عمل کی اجرت مانگے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمادیا لیکن اگر اس کی صورت یوں ہو کہ گھوڑی والا دوسرے آدمی سے اس کا گھوڑ عاریت پر لے اور اس سے اپنی گھوڑی کے ساتھ جفتی کرائے پھر گھوڑے والے کو بغیر شرط کے کوئی چیز تحفے میں دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ النَّاقِطِ الْبَصْرِيُّ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1032
