1022 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ صَاحِبُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْطَيَ أَرْبَعًا أُعْطِيَ أَرْبَعًا , وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ أَعْطَيَ الذِّكْرَ ذَكَرَهُ اللَّهُ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ} [البقرة: 152] , وَمَنْ أَعْطَيَ الدُّعَاءَ أُعْطِيَ الْإِجَابَةَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: 60] , وَمَنْ أَعْطَيَ الشُّكْرَ أُعْطِيَ الزِّيَادَةَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ} [إبراهيم: 7] , وَمَنْ أَعْطَيَ الِاسْتِغْفَارَ أُعْطِيَ الْمَغْفِرَةَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا} [نوح: 10] لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا هُشَيْمٌ تَفَرَّدَ بِهِ مَحْمُودُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: وَقَدِ افْتَتَنَ جَمَاعَةٌ مِمَّنْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِأَنْ يَقُولُوا: نَدْعُو فَلَا يُسْتَجَابُ لَنَا , وَهَذَا رَدٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛ لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَقَوْلُهُ الْحَقُّ {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: 60] , وَقَالَ: { «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ، أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ» } [البقرة: 186] , وَلِهَذَا مَعْنًى لَا يَعْرِفُهُ إِلَّا أَهْلُ الْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَةِ , وَقَدْ فَسَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ فَهُوَ مِنْ دَعْوَتِهِ عَلَى إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجَّلَ لَهُ فِي الدُّنْيَا , وَإِمَّا أَنْ تُدَّخَرَ (يُؤَخَّرَ) فِي الْآخِرَةِ , وَإِمَّا أَنْ يُدْفَعَ عَنْهُ مِنَ الْبَلَاءِ مِثْلُهَا " , فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
محمد بن اسحاق بن موسیٰ المروزی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس کو چار چیزیں مل گئیں اس کو چار اور چیزیں بھی مل گئیں اس بات کی تفصیل قرآن پاک میں موجود ہے جس کو ذکر عطاکیا گیا اللہ اس کو یاد کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے " تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا" اور جس شخص کو دعا مانگنے کی توفیق دی گئی ہے اس کی دعا کو قبول بھی کر لیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا"۔ جس شخص کو شکر کی توفیق دی جاتی ہے اس کی نعمت میں زیادتی بھی کر دی جاتی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نےا رشادفرمایا ہے " اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ضرور تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا ۔ اور جس شخص کو استغفار کی توفیق دی جاتی ہے اس کو مغفرت عطا کر دی جاتی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے " تم اپنے رب سے مغفرت مانگو بے شک وہ بخشنے والا ہے " ۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف ہشیم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمود بن عباس منفرد ہیں ابوالقاسم کہتے ہیں کچھ جاہل لوگوں کی جماعت فتنے میں مبتلا ہو گئی ہے وہ کہتے ہیں ہم دعائیں تو مانگتے ہیں لیکن ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کی خلاف ورزی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا وعدہ برحق ہوتا ہے اس نے ارشاد فرمایا تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا اور اس نے فرمایا ہے " تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا "" اے محبوب جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو ان کو کہہ دو میں قریب ہوں ۔ میں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں ۔ وہ جب بھی دعا مانگے اور اس کے حقیقی معافی کو صرف اہل علم اور اہل معرفت ہی جانتے ہیں اور رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی تفسیر بیان فرمائی ہے جس کو ابو سعید خدری نے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری ایک جماعت نے روایت کیا ہے ۔کوئی مسلمان جو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے اس کی دعا کو قبول کیا جاتا ہے اس کی عا تین قسموں پر ہوتی ہے یا تو اس کی دعا کا اثر دنیا میں ہی دکھا دیا جاتا ہے اور ابو سعید خدری کی جو حدیث ہے وہ ہمیں ابوزرعہ دمشقی نے بیان کی ہے وہ کہتے ہیں مجھے محمد بن بکار بن بلال نے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں مجھے سعید بن بشیر نے بیان کی ہے وہ کہتے ہیں " قتادہ نے ابوالمتوکل الناجی کے واسطے سے ابو سعید خدری کے حوالے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان نقل کیا ہے ۔
ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ صَاحِبُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، بِبَغْدَادَ