المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1008
1008 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ بِمِصْرَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ مُعَلَّى الْكِنْدِيِّ , عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ , فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ وَأَحْزَمُ النَّاسِ؟ فَقَالَ: «أَكْثَرَهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ , وَأَشَدُّهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ , أُولَئِكَ هُمُ الْأَكْيَاسُ ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا وَكَرَامَةِ الْآخِرَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلِ إِلَّا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَلَا رَوَاهُ عَنْ مُعَلَّى الْكِنْدِيِّ إِلَّا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ
محمد بن علی بن شیبہ المصری سے مروی حدیث، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۔ اس وقت 9 آدمی پہلے موجود تھے اور دسواں میں تھا ایک انصاری آدمی اٹھ کر کھڑا ہوا ور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سمجھ دار اور عقلمند شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرتا ہے اور موت آنے سے پہلے جو سب سے زیادہ موت کی تیار ی کرکے رکھتا ہے یہی لوگ زیادہ سمجھدار ہیں جو دنیا کا شرف بھی لے جاتے ہیں اور آخرت کی عزت بھی حاصل کرتے ہیں ۔ اس حدیث کو مالک بن مغول سے صرف یحییٰ بن سعید نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو معلیٰ الکندی سے صرف مالک بن مغول نے ہی روایت کیا ہے ۔
ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← مُعَلَّى الْكِنْدِيِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1008
