Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 779

779 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي النُّعْمَانِ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَمْزَحُ وَلَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُبَارَكٍ إِلَّا الْهَيْثَمُ , وَلَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن ابو نعمان الا نطار کی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میں مزاج کرتا ہوں لیکن اس میں بھی سچ کے سواکچھ بھی نہیں بولتا۔ اس حدیث کو مبارک سے صرف ہشیم نے روایت کیا ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صر ف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي النُّعْمَانِ الْأَنْطَاكِيُّ،

Hadith 779

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 780

780 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَعِّرْ لَنَا , فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ , وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي عَرَضٍ وَلَا مَالٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى

محمد بن یزید بن عبدالوارث سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تنگدستی بہت بڑھ گئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ خود اشیاء کے نرخ مقرر فرمائیں آپ نے فرمایا دام بڑھانے والا تنگی اور کشادگی دینے والا تو اللہ ہی ہے اور میں یہ خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ وہاں پر مجھے سے عزت اور مال کے حوالے سے کوئی شخص مجھ سے حق مانگنے والا نہ ہو ۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف عیسیٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں یحیٰٰ بن صالح منفرد ہیں ۔

غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Hadith 780

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 781

781 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الدُّولَابِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا الْوَلِيدُ تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادٌ

محمد بن احمد بن حماد الدولابی سے مروی حدیث ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا یے ایڑیوں کے لیے دوزخ کی ہلاکت ہے کونچوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ( اگر یہ وضو کے دوران دھونے سے رہ جائیں ) اس حدیث کو اعمش سے صرف ولید نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں احمد بن حماد منفرد ہیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الدُّولَابِيُّ

Hadith 781

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 782

782 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو بِشْرٍ الدُّولَابِيُّ، بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ عَطَّافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَإِقَامُ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ , وَحَجُّ الْبَيْتِ , وَصَوْمُ رَمَضَانَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ إِلَّا أَشْعَثُ وَسَوْرَةُ بْنُ الْحَكَمِ الْقَاضِي

محمد بن احمد بن حماد ابو بشر الدولابی سے مروی حدیث ، حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزیں ہیں ۔ 1۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کے کوئی عباد ت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔2۔ نماز قائم کرنا۔3۔زکوۃ دینا۔4۔بیت اللہ کا حج کرنا ۔5۔ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔ اس حدیث کو عبداللہ بن حبیب سے صرف اشعث اور سورۃ بن حکم قاضی نے روایت کیا ہے ۔

جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عطاف ← أَشْعَثَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو بِشْرٍ الدُّولَابِيُّ،

Hadith 782

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 783

783 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ الصُّورِيُّ بِمَدِينَةِ صُورَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا , لِيَخْلَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنِ الزُّبَيْدِيِّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا الْبَابْلُتِّيُّ , وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانٍيُّ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

محمد بن احمد بن راشد الصوری سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ (رر )فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی نماز پڑھنے کےلیے اپنے جوتے اتارے تو ان جوتوں کے ساتھ کسی کو تکلیف نہ دے ۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے جوتے دونوں پاؤں کے درمیان اتارے ۔ اس حدیث کو اوزاعی سے پھر زبیدی سے پھر زہری سے یحییٰ بن عبداللہ نے روایت کیا ہے اور اس حدٰیث کو محمد بن کثیر الصنعانی نے اوزاعی سے پھر محمد بن عجلان سے پھر سعید مقری سے پھر حضرت ابو ہرہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ الصُّورِيُّ بِمَدِينَةِ صُورَ

Hadith 783

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 784

784 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْحَلَبِيُّ الْمِصِّيصِيُّ، بِالْمَصِّيصَةِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ , فَاسْتَيْقَظْنَا وَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: نَطْلُبُهُ , فَإِنَّا عَلَى ذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتًا هَدِيرًا كَهَدِيرِ الرَّحَا , فَأَتَيْنَا الصَّوْتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَقُومُ مِنْ فِرَاشِكِ وَنَحْنُ حَوْلَكَ وَلَا تُوقِظُ أَحَدًا مِنَّا وَنَحْنُ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ فَقَالَ: «إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرْنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ أَوِ الشَّفَاعَةِ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» , فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ الشَّفَاعَةِ , فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْ أَهْلِهَا» , ثُمَّ قَالَ آخَرُ , فَقَالَ آخَرُ , ثُمَّ قَالَ آخَرُ , فَلَمَّا كَثُرُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «شَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ إِلَّا سَهْلٌ

محمد بن احمد بن ہارون الحلبی المصیصی سے مروی حدیث، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے ہم بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر موجود پایا ہم نے آپ کو ڈھونڈنے کا ارادہ کیا اسی دوران ہمیں چکی کے چلنے کی سی آواز سنائی دی ہم اس آواز کے قریب آئے تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے بستر سے اٹھ کر تشریف لے آئے ہم آپ کے قریب موجود تھے آپ نے ہم میں سے کسی کو بھی بیدار نہیں کیا جب کہ ہم دشمن کے علاقے میں ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ سے فرمایا میرے رب کی جانب سے کوئی آنے والا میرے پاس آیا اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ میں اپنی امت کو جنت میں لے جاؤں یا حق شفاعت لے لوں ۔ میں نے حق شفاعت لے لیا ۔ ابو موسیٰ فرماتے ہیں میں نےعر ض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے شفاعت والوں میں سے کر دے آپ نے دعا مانگی اے اللہ اس کو اہل شفاعت میں سے کر دے پھر دوسرے صحابی نے بھی یہی گزارش کی پھر تیسرے نے کی پھر چھوتھے نے بھی یہی درخواست کی جب یہ گزارشات بہت زیادہ ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والا ہے ۔ اس حدیث کو یونس بن عبید سے صرف سہل بن اسلم نے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سهل بن أسلم العدوي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْحَلَبِيُّ الْمِصِّيصِيُّ،

Hadith 784

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 785

785 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَكِيعٌ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى عَنِ القَاسِمِ إِلَّا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ تَفَرَّدَ بِهِ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ

محمد بن خلف وکیع القاضی سے مروی حدیث ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جب تین آدمی موجود ہوں تو دو آدمی الگ ہو کر راز داری سے گفتگو نہ کریں۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید سے پھر قاسم سے انس بن عیاض نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں زبیر بکار منفرد ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَكِيعٌ الْقَاضِي،

Hadith 785

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 786

786 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اغْدُ عَالِمًا , أَوْ مُتَعَلِّمًا , أَوْ مُسْتَمِعًا , أَوْ مُحِبًّا , وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلَكَ» قَالَ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ: فَقَالَ لِي مِسْعَرٌ: زِدْتَنَا خَامِسَةً لَمْ تَكُنْ عِنْدَنَا , وَقَالَ: وَالْخَامِسَةُ أَنْ تَبْغُضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خَالِدٍ إِلَّا عَطَاءٌ , وَلَمْ يَرْوِهِ أَيْضًا عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا عَطَاءٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ عَبَّادٍ

محمد بن حسین الا نماطبی ابو العباس البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے صبح کرو عالم ہونے کی حالت میں یا طالب علم ہونے کی حالت میں یا ان کی بات کو غور سے سننے والوں کی حالت میں یا ان سے محبت کرنے والے کی حالت میں اور پانچویں حالت میں نہ ہونا کہ تو ہلاک ہو جائے گا۔ عطاء بن مسلم کہتے ہیں مجھے مسعر نے کہا آپ نے پانچویں کا اضافہ کیا ہے جبکہ ہمارے پاس جو روایات محفوظ ہیں ان میں یہ پانچویں کا ذکر نہیں ہے ( اس کی وجہ کیا ہے ؟) انہوں نے فرمایا پانچواں یہ ہے کہ علم اور اہل علم سے بغض رکھے ۔ اس حدیث کو خالد سے صرف عطا الخداء نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مسعر سے صرف عطا بن مسلم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبید بن عباد منفرد ہیں ۔

مِسْعَرٍ إِلَّا عَطَاءٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ عَبَّادٍ ← خَالِدٍ إِلَّا عَطَاءٌ وَلَمْ يَرْوِهِ أَيْضًا ← وَالْخَامِسَةُ أَنْ تَبْغُضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ لَمْ يَرْوِهِ ← لِي مِسْعَرٌ: زِدْتَنَا خَامِسَةً لَمْ تَكُنْ عِنْدَنَا ← عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ← «اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلِكَ» ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← مِسْعَرٍ، ← عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ الْبَغْدَادِيُّ،

Hadith 786

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 787

787 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ أَبُو جَعْفَرٍ التِّرْمِذِيُّ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ رَمَضَانَ قَضَاهُ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَسْوَدِ إِلَّا قَيْسٌ , وَلَا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن احمد بن نصر ابو جعفر مذی الفقیہہ سے مروی حدیث ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ رمضان کے اگر کچھ روزے رہ جاتے تو آپ ذی الحجہ کے دس دنوں میں ان کی قضا کرتے ۔ اس حدیث کو اسود بن قیس سے صرف قیس نے روایت کیا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

Hadith 787

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 788

788 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ التِّرْمِذِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ أَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ قَالَ: «أَمْهِلْ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطُ الشَّعِثَةُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ إِلَّا هُشَيْمٌ تَفَرَّدَ بِهِ الْقَوَارِيرِيُّ

محمد بن احمد بن سفیان الترمذی سے مروی حدیث ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا واپسی پر جب ہم مدینہ منورہ کے قریب آئے ، تو میں جلدی گھر جانا چاہا آپ نے فرمایا کچھ دیر کو تاکہ عورتیں زیر ناف بال صاف کر لیں اور پرا گندہ بالوں میں کنگھی کر لیں ۔ اس حدیث کو اسماعیل بن سالم سے صرف ہشیم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں قواریری منفرد ہیں

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← هُشَيْمٌ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ التِّرْمِذِيُّ

Hadith 788

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 789

789 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ خَمْسًا , فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا ابْنُ بِشْرٍ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ

محمد بن عبدوس بن کامل السراج سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز کی پانچ رکعتیں پڑھائیں اور آخر میں سجدہ سہو کیا ۔ اس حدیث کو معمر سے صرف محمد بن بشر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو بکر منفرد ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Hadith 789

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 790

790 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ نَفَّذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا , فَجَبُنَ , فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ , وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ , فَبَكَى مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ , وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ؛ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلُونَ بِهِ مِنْهُمْ , فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ , فَقُولُوا: اللَّهُمَّ , أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ , وَنَوَاصِينَا بِيَدِكَ , وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ , ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا , فَإِذَا غَشُوكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا " , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَأَبْعَثَنَّ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبَّانِهِ , لَا يُوَلِّي الدُّبُرَ» , فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ بَعَثَ عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ شَدِيدُ الرَّمَدِ , فَقَالَ: «سِرْ» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أُبْصِرُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ , «فَتَفَلَ فِي عَيْنِهِ , وَعَقَدَ لَهُ اللِّوَاءَ , وَدَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ» , فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَى مَا أُقَاتِلهم يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «عَلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ , فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ حَقَنُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرٍو إِلَّا الْخَلِيلُ , وَلَا عَنِ الْخَلِيلِ إِلَّا جَعْفَرٌ تَفَرَّدَ بِهِ فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ

محمد بن فضل بن جعفر الثقفی البغدادی سے مرو ی حدیث ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو جنگ کے لیے بھیجا لیکن وہ بزدل ہو گیا پھر محمد بن مسلمہ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آج کی جنگ کی مثل کبھی کوئی نہیں جنگ نہیں دیکھی یہ کہتے ہوئے محمد بن مسلمہ رو پڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن کی تمنا مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ لڑائی میں تم کس چیز میں مبتلا کیے جاؤ گے لیکن تمہاری ان سے لڑائی ہو تو یو ں دعا مانگو۔ " اے اللہ ہمارا اور ان کا رب تو ہی ہے اور ہماری پیشانی اور ان کی پیشانیاں تیرے ہی ہاتھ میں سے ہیں اور بے شک ان کو توہی قتل کرے گا"پھر زمین پر بیٹھے رہو ، جب وہ تمہارے قریب آجائیں تو اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کل ایسے شخص کو جنگ کے لیے بھیجوں گا جو اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے او ر اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے گا جب اگلا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا اس وقت آپ کی آنکھوں میں شدید درد تھا ۔ آپ نے فرمایا جاؤ حضرت علی نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو اپنے قدم بھی دکھائی نہیں دے رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن مبارک لگایا اور جنگ کا علم آپ کے سپرد فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا میں ک بنیاد پر ان سے جہاد کروں ؟آپ نے فرمایا اس بات پر کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عباد ت کے لائق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس بات پر آمادہ ہو جائیں تو انہوں نے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کر لیا سوائے اس کے کہ جس کاحق بنتا ہو گا اور ان کا حساب اللہ کے سپر دہے ۔ اس حدیث کو عمر سے صرف خلیل بن دینار نے روایت کیا ہے اور خلیل سے صرف جعفر بن سلیمان نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں فضیل بن عبدالوہاب منفرد ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← الخليل بن مرة ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ

Hadith 790

chevron_left Previous
1234…28
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter