Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 983

983 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَبْدُوسٍ، بِالْبَصْرَةِ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقَوِيِّ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقَوِيِّ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ , وَإِنَّمَا لُقِّبَ بِالْقَوِيِّ لِقُوَّتِهِ عَلَى الْعِبَادَةِ؛ صَامَ حَتَّى خَوَى , وَبَكَى حَتَّى عَمِيَ , وَطَافَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أُقْعِدَ

محمد بن عبداللہ بن اسماعیل بن جعفر بن علی بن سلمان بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب ابو عبداللہ بن عبدوس سے مروی حدیث ، حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ اس حدیث کو ابو یونس قوی سے صرف سعید ب سالم نے روایت کیا ہے ان کو قوی کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ ان میں عبادت کی بہت قوت تھی وہ روزے رکھ کر بھوکے رہنے لگ گئے تھے اور اتنا روئے کہ ان کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اور بیت اللہ کا طواف کرتے رہے حتی کہ آپ چلنے سے عاجز آگئے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِي يُونُسَ الْقَوِيِّ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 983

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 984

984 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ أَبُو عَامِرٍ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ زَيْدٍ (مَزْيَدٍ) ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ أَصَابَهُ أَرَقٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ نِمْتَ؟ قُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ , وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ , وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ , كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ جَمِيعًا؛ أَنْ يُفْرِطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَطْغَى , عَزَّ جَارُكَ , وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ

محمد بن ابراہیم نحوی ابو عامر الصوری سے مروی حدیث ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ ان کو بے خوابی کی شکایت ہوگئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جب تم ان کو پڑھ لو گے تو نیند آجائے گی؟ پھر آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو ۔ "اے ساتو ں آسمان اور جن چیزوں کو وہ ڈھاپنے ہوئے ہیں ان کے رب اور ساتوں زمینوں کے رب اور جو کچھ ان میں موجود ہے ان کے رب اور شیطان کے رب اور جن کو شیطان نے گمراہ کیا ان کے رب تو اپنی تمام مخلوق کے شر سے میری حفاظت فرما کہ ان میں سے کوئی بھی نقصان نہ پہنچا سکے اور میرے ساتھ زیادتی نہ کر سکے تیری پناہ عزت والی ہیں اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے "اس حدیث کو مسعر سے صرف شعیب بن اسحاق نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن بنت شرجیل منفرد ہیں ۔

مِسْعَرٍ إِلَّا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ ← خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ أَصَابَهُ أَرَقٌ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَلْقَمَةَ بْنِ زَيْدٍ (مَزْيَدٍ) ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← سليمان بن عبد الرحمن ابن بنت شرحبيل الدمشقي، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ أَبُو عَامِرٍ الصُّورِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 984

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 985

985 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَزَرِ الطَّبَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَعَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ , وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ إِلَّا يَحْيَى بْنُ عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ وَحَدِيثُ الْأَعْمَشِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ مَشْهُورٌ

محمد بن الخزر الطبرانی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد کچھ کام ایسے وقوع پذیر ہوں گے جن کو تم جانتے نہیں ہو گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوشخص ان امور کو پائے ان کے بارے میں آپ کاکیا حکم ہے ؟ آ پ نے فرمایا جو تمہارے ذمے میں ہو وہ تم ادا کر لینا اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگنا ۔ اس حدیث کو اعمش کے واسطے سے ابو حازم سے صرف یحییٰ بن عیسیٰ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں احمد بن عبدالعزیز واسطی منفرد ہیں اور اعمش کی حدیث جو کہ زید بن وہب کے واسطے سے مروی ہے وہ مشہور ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ الْأَعْمَشِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْخَزَرِ الطَّبَرَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 985

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 986

986 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ يُوسُفَ الْأُمَوِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا دُحَيْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ يُدِيمُ ذَلِكَ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ إِلَّا ثَوْرٌ , وَلَا عَنْ ثَوْرٍ إِلَّا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ تَفَرَّدَ بِهِ دُحَيْمٌ , وَلَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ

محمد بن بشر بن یوسف الا موی الدمشقی سے مروی حدیث، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کے نماز میں سورہ الم تنزیل السجدہ پڑھا کرتے تھے اور سورۃ الانسان پڑھا کر تے تھے اور آپ کو یہ مستقل طریقہ کار تھا ۔ اس حدیث کو عمرو بن قیس سے صرف ثور نے روایت کیا ہے اور ثور سے صرف ولید بن مسلم نے روایت کیا ہے اور اس کو روایت کرنے میں دحیم منفرد ہیں اور ہم نے یہ حدیث محمد بن بشر کے حوالے سے لکھی ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دحيم بن عبد الرحمن بن إبراهيم ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ يُوسُفَ الْأُمَوِيُّ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 986

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 987

987 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْأَعْجَمِ الصَّنْعَانِيُّ، بِصَنْعَاءَ , حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ شَعْرَةً مِنْ جَسَدِهِ لَمْ يَغْسِلْهَا فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فِي النَّارِ» قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي , وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَّا ابْنُهُ تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ مُسْلِمٍ , وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ

محمد بن الا عجم الصنعانی سے مروی حدیث ،حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے غسل جنابت میں جلدی بازی کی اور جسم کا کوئی حصہ ایک بال دھونے سے چھوڑ دیا وہ دوزخ میں جائے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وجہ سے میں اپنے بال چھوٹے رکھتا ہوں راوی فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے بال بہت چھوٹے رکھا کرتے تھے ۔ ا س حدیث کو عبدالعزیز سے صرف ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں جریر بن سلیم منفرد ہیں جبکہ مشہور حدیث وہ ہے جو عمار بن سلمہ نے عطاء بن سائب کے واسطے سے روایت کی ہے ۔

زَاذَانَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← جَرِيرُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْأَعْجَمِ الصَّنْعَانِيُّ، بِصَنْعَاءَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 987

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 988

988 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ بِلَالٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا ابْنُ نُمَيْرٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي , وَلَا يُرْوَى عَنْ بِلَالٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن علی بن خلف الدمشقی سے مروی حدیث ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنے کندھوں کو برابر رکھا کرتے تھے اس حدیث کو اعمش سے صرف ابن نمیر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں احمد بن الحواری منفرد ہیں اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 988

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 989

989 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَبُو حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا: «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا هُشَيْمٌ , وَأَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ هُشَيْمٍ , وَتَفَرَّدَ بِهِ بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي , حَدَّثَنَاهُ بِشْرِ بْنِ مُوسَى , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ

محمد بن اسماعیل بن محمد ابو حفص الدمشقی سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔ اس حدیث کو یحییٰ سے پھر ہاشم سے یوسف قاضی نے روایت کیا ہے اور ہاشم سے روایت کرنے میں اسماعیل بن محمد منفرد ہیں اور اس حدیث کو ابو یوسف قاضی سے روایت کرنے میں بشر بن ولید منفرد ہیں یہ حدیث ہمیں بشر بن موسیٰ نے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں یہ حدیث بشر بن ولید نے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں یہ حدیث ابو یوسف نے روایت کی ہے ۔

أَبُو يُوسُفَ، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي، ← هُشَيْمٍ وَتَفَرَّدَ بِهِ بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا هُشَيْمٌ ← أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، كُلُّهُمْ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← هُشَيْمٌ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَبُو حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 989

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 990

990 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، قَالَ: كَانَ مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيِ الْوِتْرِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُطْعِمٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، تَفَرَّدَ بِهِ هِشَامٌ

محمد بن یزید بن عبدالصمد الدمشقی سے مروی حدیث ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرا کرتے تھے ۔(بلکہ سلام پھیرے بغیر وتر کی تیری رکعت کے لیے کھڑے ہو جاتے ) اس حدیث کو مطعم سے صرف محمد بن شعیب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ہشام منفرد ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 990

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 991

991 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَسْرِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ نِسَاءَ بَنِي مَخْزُومٍ قَدْ أَقْمْنَ مَأْتَمَهُنَّ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , فَأَذِنَ لَهَا , فَقَالَتْ وَهِيَ تَبْكِيهِ: [البحر الكامل] أَبْكِي الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ... أَبْكِي الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخَا الْعَشِيرَةِ تَفَرَّدَ بِهِ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَلَا يُرْوَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد ابن ابی زرعہ الدمشقی عبدالرحمن بن عمرو سے مروی حدیث ، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو مخزوم کی عورتیں ولید بن مغیرہ کے مرنے پر ماتم کر رہی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین کو ( کچھ کہنے کی ) اجازت عطا فرمائی ام المومنین نے روتے ہوئے کہا " میں ولید بن ولید بن مغیرہ پر رو رہی ہوں میں عشیرہ کے بھائی ولید پر رو رہی ہوں ۔' اس حدیث کو ابو جعفر محمد بن علی سے صرف ابو حمزہ نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف خالد بن یزید نے رویت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ہشام بن عمار منفرد ہے اور ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا ← أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين ← ثَابِتٌ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَسْرِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 991

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 992

992 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَسْلَمَ الصَّدَفِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ الْفِهْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى الْعَرْشِ , فَقَالَ: أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ إِلَّا غَفَرْتَ لِي , فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ , «وَمَا مُحَمَّدٌ وَمَنْ مُحَمَّدٌ؟» فَقَالَ: تَبَارَكَ اسْمُكَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى عَرْشِكَ، فَإِذَا فِيهِ مَكْتُوبٌ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَكَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِكَ , فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: «يَا آدَمُ , إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ , وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ , وَلَوْلَاهُ يَا آدَمُ مَا خَلَقْتُكَ» لَا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ

محمد بن داؤد بن اسلم الصدفی المصری سے مروی حدیث ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق خطاء سرزد ہو گئی ( اس کے بعد جب توبہ کا موقع قریب آیا ) تو آدم علیہ السلام نے اپنا سر عرش کی جانب اٹھایا اور عرض کیا اے اللہ ! میں تجھ سے محمد کے واسطے سے سوال کرتا ہوں تو میری مغفرت فرما دے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلا کی جانب وحی نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا اے آدم ! کون محمد ؟ اور آپ ان کو کیسے جانتے ہیں ؟ آدم علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب تیرا نام برکت والا ہے جب تو نے مجھے پیدا کیامیں نے اپنا سر تیرے عرش کی جانب اٹھایا تیرے عرش پر کھا ہوا تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں اس سے جان گیا کہ جس ذات کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا کر رکھا ہوا ہے تیرے نزدیک اس سے زیادہ عظیم کوئی ہستی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اے آدم وہ تیری اولاد میں سب سے افضل اور آخری نبی ہے اور اس کی امت تیری اولاد میں سب سے آخری امت ہے اے آدم اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا نہ کرتا ۔ اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں احمد بن سعید فہری منفرد ہیں ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ الْفِهْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَسْلَمَ الصَّدَفِيُّ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 992

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 993

993 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الطَّائِيُّ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ النَّصْرِيِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْهَبُ هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَخْرُجَ فِيهَا (مِنْهَا) ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ إِلَّا سُوَيْدٌ تَفَرَّدَ بِهِ خَالِدُ بْنُ حَلِيٍّ

محمد بن عبداللہ بن محمد الطائی الحمصی سے مروی حدیث ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ امت ختم ہو گی یہاں تک کہ اس میں 30 جھوٹے دجال پیدا ہوں گے ہر ایک یہ سمجھ رہا ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔ اس حدیث کو محمد بن یزید سے صرف سوید نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں خالد بن حلی منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ النَّصْرِيِّ، ← أَبِي سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الطَّائِيُّ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 993

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 994

994 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: «اهْجُ الْمُشْرِكِينَ؛ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُؤَيِّدُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ السَّرِيِّ إِلَّا أَيُّوبُ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ

محمد بن عبید بن آدم ابن ابی ایاس العسقلانی سے مروی حدیث ،حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا مشرکوں کی مذمت بیان کرو اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا ۔ اس حدیث کو سری سے صر ایوب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو عمیر عیسیٰ بن محمد منفرد ہیں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← أبو عمير بن النحاس الرملي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 994

chevron_left Previous
1…181920…28
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter