968 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرْمُطِيُّ مِنْ وَلَدِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتَهَا , فَقَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ , فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلَاثًا , نُصِرْتَ نُصِرْتَ، ثَلَاثًا» , فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي [ص:168] مُتَوَضَّئِكَ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلَاثًا , نُصِرْتَ نُصِرْتَ، ثَلَاثًا» , كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا , فَهَلْ كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنِي , وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» , ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ , وَلَا تُعْلِمْ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ , مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ فَقَالَتْ: وَاللَّهِ , مَا أَدْرِي , فَقَالَ: وَاللَّهِ , مَا هَذَا زَمَانُ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ , فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ , لَا عِلْمَ لِي قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا , ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ , فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يُنْشِدُهُ:
[البحر الرجز]
يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدَا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلَدَا
إِنَّا وَلَدْنَاكَ وَكُنْتَ وَلَدَا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا , وَلَمْ نَنْزَعْ يَدَا
إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَا ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا
وَزَعَمُوا أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدَا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللَّهُ نَصْرًا أَيَّدَا
وَادْعُ عِبَادَ اللَّهِ يَأْتُوا مَدَدَا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ تَجَرَّدَا
إِنْ سِيمَ خَسْفًا وَجْهُهُ تَرَبَّدَا
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلَاثًا , نُصِرْتَ نُصِرْتَ، ثَلَاثًا» , ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصَبٍ , فَقَالَ: «إِنَّ السَّحَابَ هَذَا لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» , فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَنَصْرُ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «تَرِبَ نَحْرُكَ , وَهَلْ عَدِيُّ إِلَّا كَعْبٌ , وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيُّ» , فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ , ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ , [ص:169] اعْمِ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» , ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ بِمَرْوَ , وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ , وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ , وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَشْرَفُوا عَلَى مَرْوَ , فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ , فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ , هَذِهِ نَارُ بَنِي كَعْبٍ أَهْلِكَ , فَقَالَ: جَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ , فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ , وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ , فَسَأَلُوا أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , فَذَهَبُوا بِهِمْ , فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ بِهِمْ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ أَنْ يُؤَمِّنَ لَهُ مَنْ آمَنَ , فَقَالَ: «قَدْ أَمَّنْتُ مَنْ أَمَّنْتَ مَا خَلَا أَبَا سُفْيَانَ» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَا تَحْجُرْ عَلَيَّ , فَقَالَ: «مَنْ أَمَّنْتَ فَهُوَ آمِنٌ» , فَذَهَبَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ , فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ , فَقَالَ: «أَسْفِرُوا» , وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ , وَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وَضُوءَهُ يَنْتَضِحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ , فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ , لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا , فَقَالَ: لَيْسَ بِمُلْكٍ , وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ , وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ جَعْفَرٍ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ , وَلَا يُرْوَى عَنْ مَيْمُونَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن عبداللہ القرمطی سے مروی حدیث ، ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باری کی رات ان کے پاس گزاری آپ رات کے وقت اٹھے نماز کے لیے وضو فرمایا میں نے آپ کو سنا کہ آپ وضو کے دوران تین مرتبہ لبیک لبیک کہا اور تین مرتبہ نصرت نصرت کہا جب آپ وضو کر کے واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کو وضؤ کے درمیان تین مرتبہ لبیک کہتے ہوئے سنا اور تین مرتبہ "نصرت" کہتے ہوئے سنا یوں لگ رہا تھا جیسے آپ کسی کے ساتھ گفتگو فرما رہے ہیں کیا واقعی آپ کے پاس کوئی شخص موجود تھا ؟ آپ نے فرمایا یہ بنی کعب کا رجز پڑھنے والا تھا مجھے چیخ چیخ سنا رہا تھا اور وہ یہ گمان کر رہا تھا کہ قریش نے ان کے خلاف بی بکر کی مدد کر دی ہے ۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ان کی تیاری کروا دیں لیکن کسی کو بتانا نہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور پوچھا اے بیٹی کس چیز کی تیاری کر رہی ہو ؟ انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم یہ بنی اصغر کے ساتھ جنگ کرنے کا وقت تو نہیں ہے تو اللہ کے رسول کہاں کا ارادہ فرما رہے ہیں ؟ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم مجھے کوئی علم نہیں ہے آپ فرماتی ہیں ہم تین دن وہاں ٹھہرے پھر ایک دن آپ نے فجر کی نماز پڑھائی پھر میں نے ایک شعر پڑھنے والے کو پڑھتے ہوئے سنا۔ اے رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور اپنے باپ کے درمیان ہونے والے عہد کو یاددلاتا ہوں جو ہمیں وراثت میں ملا ہے ۔ ہم نے تجھے پیدا کیا اور تو پیدا ہوا پھر ہم اسلام لائے اور ہم نے اپنا ہاتھ پیچھے نہیں کھینچا ۔ قریش نے آپ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کے ساتھ کیے ہوئے پکے وعدوں کو توڑا ہے ۔ اور وہ گمان کرتے ہیں کہ تو کسی کو نہیں بلائے گا تو مدد کر اللہ تعالیٰ تیری مضبوط مد د کرے ۔ اور تم اللہ کے بندوں کو بلاؤ سب اس علاقے میں مدد کو آئیں گے جس میں اللہ کا رسول تنہا موجود ہے ۔ اگر آپ کو پریشان کیا گیا تو عہد توڑ کر آپ کو پریشان کرنے والے کے چہرے کا رنگ بدل جائےگا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ لبیک لبیک کہا پھر تین مرتبہ " نصرت ، نصرت " کہا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوگئے ۔ جب آپ مقام روحاء میں پہنچے تو بادل چھایا ہوا تھا آپ نے فرمایا یہ بادل بنی کعب کی مدد کےلیے چھایا ہے بنی عدی بن عمرو میں سے ایک آدمی اٹھ کر کھڑا ہوا جو کہ بنی کعب بن عمرو کا بھائی تھا ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عدی کی مدد کا کیا بنے گا ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تیر ا سینہ خاک آلود ہو اور عدی ، کعب ہے اور کعب عدی ہے وہ آدی اسی سفر میں شہید ہو گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ ہماری خبر ان پر پوشیہ رکھنا حتیٰ کہ ہم ان پر اچانک حملہ کریں آپ پھر روانہ ہوئے اور مقام مرو میں قیام کیا اسی رات ابو سفیان بن حرب حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقہ بھی گھر سے نکلے اور وہ بھی مقام مرد میں پہنچ چکے تھے ابو سفیان نے جلتی ہوئی آگ کی جانب دیکھا اور کہنے لگا اے بدیل یہ آگ بنی کعب میں جل رہی ہے بدیل نے کہا ان کے ذمے چوکیداری تھی تیری جانب کوئی لشکر آرہا تھا لیکن مزینہ کے لوگوں نے ان کو راستے میں روک لیا ہے ۔ جن لوگوں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالمطلب تک پہنچا دیا جائے مزینہ کے لوگوں نے ان کو عباس بن عبدالملک تک پہنچا دیا ابو سفیان نے عباس بن عبدالمطلب سے گزارش کی کہ وہ ان کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے امان مانگیں عباس بن عبدالمطلب کے ہمراہ روانہ ہوئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور گزارش کی کہ ان میں سے جو شخص امان چاہتا ہے آپ اس کو امان عطا فرما دیجئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو آپ نے امان دی اس کو میں نے امان دے دی ۔ سوائے ابو سفیان کے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات میرے اوپر مت چھوڑیں آپ نے فرمایا جس کو آپ امان دے دیں وہ امن والا ہے چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آگئے پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان کو ساتھ لے کر چل دیے ابو سفیان نے کہا ہم ابھی جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا صبح ہونے دو رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم ان کوساتھ لے کر چل دیے ابو سفیان نے کہا ہم ابھی جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا صبح ہونے دو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے لیے اٹھے تو مسلمان بھاگ کر آئے آپ کے وضو کے استعمال شدہ پانی اپنے چہروں پر ملنے لگے ابو سفیان نے کہا اے ابو فضل تیرے بھتیجے کی مملکت تو بہت عظیم ہو چکی ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یہ مملکت نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے اور اسی سلسلے میں یہ لوگ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ا س حدیث کو جعفر بن محمد سے محمد بن نضلہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں یحییٰ بن سلمان منفرد ہیں اور اس حدیث کو میمونہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے ۔
أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عمِّي محمدُ بنُ نضلةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرْمُطِيُّ مِنْ وَلَدِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ بِبَغْدَادَ