948 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحَدِيثِ الضَّبِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَحْفَلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَدْ صَادَ ضَبًّا , وَجَعَلَهُ فِي كُمِّهِ يَذْهَبُ بِهِ إِلَى رِحْلَةٍ , فَرَأَى جَمَاعَةً , فَقَالَ: عَلَى مَنْ هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟ فَقَالُوا: عَلَى هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ , فَشَقَّ النَّاسُ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , [ص:154] فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , مَا اشْتَمَلَتِ النِّسَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَكْذَبَ مِنْكَ وَأَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكَ , وَلَوْلَا أَنْ تُسَمِّينِي قَوْمِي عَجُولًا لَعَجِلْتُ عَلَيْكَ , فَقَتَلْتُكَ , فَسَرَرْتُ بِقَتْلِكَ النَّاسَ أَجْمَعِينَ , فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعْنِي أَقْتُلْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْحَلِيمَ كَادَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا» , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى , لَآمَنْتُ بِكَ , وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَعْرَابِيُّ , مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ , وَقُلْتَ غَيْرَ الْحَقِّ , وَلَمْ تُكْرِمْ مَجْلِسِي؟ قَالَ: وَتُكَلِّمُنِي أَيْضًا اسْتِخْفَافًا بِرَسُولِ اللَّهِ، وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَآمَنْتُ بِكَ أَوْ يُؤْمِنُ بِكَ هَذَا الضَّبُّ , فَأَخْرَجَ الضَّبَّ مِنْ كُمِّهِ , وَطَرَحَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ: إِنْ آمَنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ آمَنْتُ بِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَا ضَبُّ» , فَتَكَلَّمَ الضَّبُّ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ يَفْهَمُهُ الْقَوْمُ جَمِيعًا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ رَبِّ الْعَالَمِينَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعْبُدُ؟» قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ , وَفِي الْأَرْضِ سُلْطَانُهُ , وَفِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ , وَفِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ , وَفِي النَّارِ عَذَابُهُ، قَالَ: «فَمَنْ أَنَا يَا ضَبُّ؟» قَالَ: أَنْتَ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ , وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَكَ , وَقَدْ خَابَ مَنْ كَذَّبَكَ , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , وَاللَّهِ لَقَدْ أَتَيْتُكَ وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْكَ , وَوَاللَّهِ لَأَنْتَ السَّاعَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمِنْ وَالِدِي , فَقَدْ آمَنَ بِكَ شَعْرِي وَبَشَرِي , وَدَاخِلِي وَخَارِجِي , وَسِرِّي وَعَلَانِيَتِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ [ص:155] إِلَى هَذَا الدِّينِ الَّذِي يَعْلُو وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ , وَلَا يَقْبَلُهُ اللَّهُ إِلَّا بِصَلَاةٍ , وَلَا يَقْبَلُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ» , فَعَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ فِيَ الْبَسِيطِ , وَلَا فِي الرَّجَزِ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا كَلَامُ رَبِّ الْعَالَمِينَ , وَلَيْسَ بِشِعْرٍ , وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مَرَّةً فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ , وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مَرَّتَيْنِ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَيِ الْقُرْآنِ , وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ» , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: نِعْمَ الْإِلَهُ إِلَهُنَا، يَقْبَلُ الْيَسِيرَ وَيُعْطِي الْجَزِيلَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا الْأَعْرَابِيَّ» , فَأَعْطَوْهُ حَتَّى أَبْطَرُوهُ , فَقَامَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَهُ نَاقَةً أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دُونَ الْبَخْتِيِّ وَفَوْقَ الْأَعْرَابِيِّ وَهِيَ عُشَرَاءُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ قَدْ وَصَفْتَ مَا تُعْطِي , وَأَصِفُ لَكَ مَا يُعْطِيكَ اللَّهُ جَزَاءً» قَالَ: نَعَمْ، , قَالَ: «لَكَ نَاقَةٌ مِنْ دُرٍّ جَوْفَاءُ , قَوَائِمُهَا مِنْ زَبَرْجَدِ أَخْضَرَ , وَعُنُقُهَا مِنْ زَبَرْجَدِ أَصْفَرَ , عَلَيْهَا هَوْدَجٌ , وَعَلَى الْهَوْدَجِ السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ , تَمُرُّ بِكَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ» , فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَقِيَهُ أَلْفُ أَعْرَابِيٍّ عَلَى أَلْفِ دَابَّةٍ بِأَلْفِ رُمْحٍ وَأَلْفِ سَيْفٍ , فَقَالَ لَهُمْ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُقَاتِلُ هَذَا الَّذِي يَكْذِبُ , وَيَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , فَقَالُوا لَهُ: صَبَوْتَ؟ فَقَالَ: مَا صَبَوْتُ , وَحَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْحَدِيثِ , فَقَالُوا بِأَجْمَعِهِمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَتَلَقَّاهُمْ فِي رِدَاءٍ , فَنَزَلُوا عَلَى رُكَبِهِمْ يُقَبِّلُونَ مَا وَلَّوْا مِنْهُ , وَهُمْ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ , فَقَالُوا: مُرْنَا بِأَمْرِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ: «تَدْخُلُوا تَحْتَ رَايَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ» قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ آمَنَ مِنْهُمْ أَلْفٌ جَمِيعًا إِلَّا بَنُو سُلَيْمٍ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ بِهَذَا التَّمَامِ إِلَّا كَهْمَسٌ , وَلَا عَنْ كَهْمَسٍ إِلَّا مُعْتَمِرٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گوہ کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک محفل میں موجود تھے کہ بنی سلیم کا یک دیہانی شخص آیا اس نے گوہ شکار کی ہوئی تھی اور اپنی آستین میں اس کو چھپایا ہوا تھا اور اس کو لے کر وہ اپنے خیمے کی جانب گیا اور اس نے ایک جماعت کو دیکھا اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کن لوگوں کی جماعت ہے ؟ اس کے ساتھیوں نے بتایا وہ لوگ اس آدمی کے گرد جمع ہیں جو خود کو نبی سمجھتا ہے وہ دیہاتی لوگوں کو چیرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آگیا اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے زیادہ جھوٹے لہجے والا کوئی شخص ہے جس کے پاس عورتیں جمع ہوتی ہوں اور مجھے تجھ سے زیادہ اور کسی سے بغض نہیں ہے اگر میری قوم نے مجھے جلد باز کا نام نہ دیاہوتا تو میں تیرے بارے میں جلدی کرتا تجھے قتل کردیتا اور تیرے قتل کی خبر سنا کر لوگوں کوخوش کرتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے میں اس کو قتل کر دوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ نبی حلیم اور بردبار ہوتا ہے وہ دیہاتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب متوجہ ہوا اور کہنے لگا لات اور عزیٰ کی قسم میں تم پر ایمان لے آؤں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے دیہاتی پھر تو نے یہ بات مجھے کہیں کہیں ؟ ناحق گفتگو کیوں کی ؟ اور میری مجلس کی عزت کیوں نہ کی ؟ اس نے توہین آمیز لہجے میں کہا ، آپ بھی میرے ساتھ اسی طرح گفتگو کر لیں اور لات اور عزیٰ کی قسم اگر وہ گوہ آپ پر ایمان لے آئے تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا ۔ یہ کہتے ہوے اس نے اپنی آستین سے گوہ کو باہر نکالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھینک دیا اور کہا اگر یہ گوہ آپ پر ایمان لے آئے تو میں بھی ایما ن لے آؤں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گوہ بس آپ کا اتنا فرمانا تھا کہ وہ گوہ قنصیح و بیغ عربی زبان میں بولنے لگی اس کو سب لوگ سمجھ رہے تھے وہ گو کہنے لگی ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں ۔ اے رب العالمین کے رسول میں حاضر ہو ں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا تو کس کی عبادت کرتی ہے ؟ اس نے کہا اللہ کی جس کا عرش آسمانوں میں ہے اور جس کی بادشاہی زمین میں بھی ہیں اور سمند ر میں جس کا راستہ ہے اور جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے آپ نے فرمایا اے گوہ میں کون ہوں ؟ گوہ نے کہا : آپ رب العالمین کے رسول ہیں ۔ آپ خاتم النبین ہیں وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے آپ کی تصدیق کی اور وہ خسارے میں رہا جس نے آپ کو جھٹلایا یہ سن کر اس دیہاتی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوال کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول اللہ ں اللہ کی قسم میں آپ کے پاس جب آیا تھا تو اس روئے زمین پر آپ سے زیادہ نفرد مجھے کسی سے نہ تھی اور اللہ کی قسم اس لمحے میں اپنی ذات اور اپنے والد سے بھی زیادہ آپ سے محنت کرتا ہوں میرا ظاہر ، میرا باطن میرا اعلان میرا پوشیدہ اور میرے بال اور میرا جسم سب آپ پر ایمان لے آیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے تجھے اس دین کی ہدایت عطا فرمائی جو غالب ہوتا ہے لیکن مغلوب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ یہ دین قبول نہیں کرتا مگر نماز کےساتھ اور اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں کرتا مگر قرآن کے ساتھ ۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص سکھائی ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں نے " بسیط" اور رجز میں اس سے زیادہ اچھا کلام کبھی نہیں سنا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رب العالمین کا کلام ہے ۔ یہ شعر نہیں ہے اور جب تم ایک مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ لو گے گویا کہ تم نے قرآن کا ایک تہائی حصہ پڑھ لیا جب تم دو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ لو گے تو گویا کہ تم نے قرآن کا دوتہائی حصہ پڑھ لیا اگر تم تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ لو تو گویا کہ تم نےقرآن پورا ہی پڑھ لیا ۔ اس دیہاتی نے کہا ہمارا معبود کیسا ہی معبود ہے ۔ وہ مختصر عبادات کو قبول کرلیتا ہے اور بڑا بڑا اجر عطا فرماتا ہے پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس دیہاتی کو انعامات عطا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے اتنے انعامات عطا فرمائے حتیٰ کہ ان کو ان کی ہمت سے بھی زیادہ دے دیا ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کو ایک اونٹنی دینا چاہتا ہوں ۔ اللہ کی رضا کی خاطر وہ (بختی ) اونٹ سے کم درجے کی ہوگی لیکن اعرابی اونٹ سے اوپر کے درجے کی ہو گی اور وہ دس ماہ کی حاملہ ہو گی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے جو کچھ اس کو دینا ہے اس کے وصف بیان کر دیئے ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ جو اس کے بدلے میں جزا دے گا میں اس کا وصف بیان کروں ؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا جی ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے ایسی اونٹنی ملے گی جو اندر سے خول والے موتیوں کی ہو گی ، جس کی ٹانگیں سبز رنگ کے زبر حد کی ہوں گی جس کی گردن زرد رنگ کے زبر جدکی ہو گی ۔ اس کے اوپر ایک پالان ہو گا اور اس پالان کے اوپر سندس اور استبرق ( یہ دونوں ریشم کے کپڑے ہوتے ہیں) ہوں گے۔ وہ تمہیں پل صراط پر سے ایسے لے کر گزر جائے گی جس طرح بجلی کی چمک ہوتی ہے ۔ وہ دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے نکالا تو اس کی ملاقات ہزار دیہاتیوں سے ہوئی وہ ہزار سواریوں پر سوار تھے ۔ ان کے پاس ہزار نیزے اور ہزار تلواریں تھیں اس دیہاتی نے ان سے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے کہا اس شخص سے لڑنے جا رہے ہیں جو جھوٹ بولتا ہے اور خود کو نبی سمجھتا ہے ۔ اس دیہاتی نےکہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوال کوئی عباد ت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں ان لوگوں نے کہا تو اپنے دین سے پھر گیا ہے ۔ دیہاتی نے کہا میں دین سے نہیں پھرا اس کے بعد اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا ۔ان کا بیان کردہ واقعہ سن کر سب لوگ کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چادر اوڑھ کر تشریف لائے ان سے ملاقات کی وہ لوگ اپنی سواریوں سے اتر کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے اور آپ کی چادر مبارک کو بوسہ دیا اورکہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عباد کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ پھر لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لائق کوئی حکم ہے ۔ آپ نے فرمایا خالد بن ولید کے لشکر میں شامل ہو جاؤ راوی کہتے ہیں بنو سلیم کے علاوہ اور کوئی قبیلہ ایسا نہیں ہے ۔جس کے پورے ایک ہزار آدمیوں نے یک بار اسلام قبول کیا ہو ۔ اس حدیث کو داؤد بن ابی ہند سے اس تفصیل کے ساتھ صرف کہمس نے روایت کیا ۔ کہمس سے صرف معتمرنے روایت کیا ہے اور ان سے روای رکنے میں محمد بن اعلیٰ منفرد ہیں۔
أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحَدِيثِ الضَّبِّ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← کهمس بن الحسن ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَصْرِيُّ،