Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 947

947 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْبَرْذَعِيُّ بِمِصْرَ , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ خَلَصَةَ بِمَعْرَةِ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَدَنِيُّ، عَنِ الْمُنْكَدِرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أَخَذَ مَالِي , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِأَبِيكَ , فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ: إِذَا جَاءَكَ الشَّيْخُ , فَسَلْهُ عَنْ شَيْءٍ قَالَهُ فِي نَفْسِهِ مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاهُ" , فَلَمَّا جَاءَ الشَّيْخُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ ابْنِكَ يَشْكُوكَ , أَتُرِيدُ أَنْ تَأْخُذَ مَالَهُ؟» , فَقَالَ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ أَنْفَقْتُهُ إِلَّا عَلَى عَمَّاتِهِ أَوْ خَالَاتِهِ أَوْ عَلَى نَفْسِي" , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِيهِ , دَعْنَا مِنْ هَذَا أَخْبِرْنَا عَنْ شَيْءٍ قُلْتَهُ فِي نَفْسِكَ مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَاكَ» , فَقَالَ الشَّيْخُ: وَاللَّهِ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا يَزَالُ اللَّهُ يَزِيدُنَا بِكَ يَقِينًا , لَقَدْ قُلْتُ فِي نَفْسِي شَيْئًا مَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ , فَقَالَ: «قُلْ , وَأَنَا أَسْمَعُ» قَالَ: قُلْتُ: [البحر الطويل] غَذَوْتُكَ مَوْلُودًا وَمُنْتُكَ يَافِعًا ... تُعَلُّ بِمَا أَجْنِي عَلَيْكَ وَتَنْهَلُ إِذَا لَيْلَةٌ ضَافَتْكَ بِالسُّقْمِ لَمْ أَبِتْ ... لِسُّقْمِكَ إِلَّا سَاهِرًا أَتَمَلْمَلُ كَأَنِّي أَنَا الْمْطَرُوقُ دُونَكَ بِالَّذِي ... طُرِقْتَ بِهِ دُونِي فَعَيْنَايَ تَهْمُلُ تَخَافُ الرَّدَى نَفْسِي عَلَيْكَ وَإِنَّهَا ... لَتَعْلَمُ أَنَّ الْمَوْتَ وَقْتٌ مُؤَجَّلُ فَلَمَّا بَلَغْتَ السِّنَّ وَالْغَايَةَ الَّتِي ... إِلَيْهَا مَدَى مَا فِيكَ كُنْتُ أُؤَمِّلُ جَعَلْتَ جَزَائِي غِلْظَةً وَفَظَاظَةً ... كَأَنَّكَ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُتَفَضِّلُ فَلَيْتَكَ إِذْ لَمْ تَرْعَ حَقَّ أُبُوَّتِي ... فَعَلْتَ كَمَا الْجَارُ الْمُجَاوِرُ يَفْعَلُ تَرَاهُ مُعَدًّا لِلْخِلَافِ كَأَنَّهُ ... بِرَدٍّ عَلَى أَهْلِ الصَّوَابِ مُوَكَّلُ قَالَ: فَحِينَئِذٍ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتَلَابِيبِ ابْنِهِ وَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكُ لِأَبِيكَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ إِلَّا بِهَذَا التَّمَامِ وَالشِّعْرِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ خَلَصَةَ

محمد بن علی بن ولید اسلمی البصری سے مروی حدیث ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ نے میرا مال مجھ سے لے لیا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا اپنے باپ کو میرے پاس لے کر آؤ ،جبریل امین علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے ، جب اس آدمی کا باپ آپ کے پاس آجائے اس سے اس چیز کے بارے میں پوچھنا جو اس نے اپنے دل میں رکھی ہوئی ہے اور ابھی تک وہ زبان پر نہیں لایا جب وہ بزرگ حضور کی بارگاہ میں آیا تو حضور علیہ السلام نے اس سے فرمایا :ٹھیک ہے ٹھیک ہے یہ بات چھوڑو مجھے وہ چیز بتاؤ جو تمہارے دل میں ہے جو ابھی تک تم زبان پر نہیں لائے اس بزرگ نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یقین آپ پر مسلسل بڑھتا جا رہا ہے میں نے اپنے دل میں کوئی بات کہی ہوئی ہے لیکن اسے ابھی تک زبان پر نہیں لایا ہوں ۔ آ پ نے فرمایا تم بولو میں اس کو سنوں گا ، اس شخص نے کہا میں نے یہ کہا ہے ۔تو نومولود تھا میں تجھے غزاد یتا رہا تیرے بالغ ہونے تک کا خرچہ میں برداشت کرتا رہا ، میں محنت مزدوری کر کے جو کچھ بھی لاتا تجھے دو دومرتبہ (کھلا تا ) پلاتا جبکہ میں خود بھوکا پیا سا رہتا ۔ جب کبھی ایسی رات آئی ، جس میں بیمار ی نے اس کی مہمان نوازی کی ، اس رات میں سویا نہیں بلکہ تیری بیماری وجہ سے ساری رات جا گتا رہا کروٹیں بدلتا رہا ۔ اور ا ب یہ حالت ہو گئی ہے گویا کہ میں تجھ سے دور ہوں اور تو مجھ سے دور ہے اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔ میرے دل میں تیرے بارے میں یہ ڈررہتا ہے کہ کہیں تو ہلاک نہ ہو جائے حالانکہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے ۔ جب تو عمر کی اس انتہاء کو پہنچ گیا جس حد تک پہنچنے کی میں آرزو رکھتا تھا ۔ تو نے میری سزا ، سختی اور بداخلاقی کر دی گویا کہ تو احسان کرتے ہوئے نعمت عطا کر نے والا ہے ۔ کاش کہ ایسا ہو کہ جب تو نے میرے باپ ہونے کا لحاظ نہیں کیا ہے تو کم از کم میرے ساتھ وہی سلوک کرلے جو ایک پڑوسی کے ساتھ کرتا ہے ۔ اس کو مخالفت کے لیے ہر وقت تیار دیکھو گے گویا کہ اس کو حق والوں کے ساتھ لڑنے کا وکیل مقرر کیا گیا ہے ۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کا گر یبان پکڑ کر فرمایا تو اور تیر ا مال تیرے باپ کا ہے ۔ اس حدیث کو محمد بن منکدر سے اس تفصیل کے ہمراہ صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور اس کو روایت کرنے میں عبید بن خلصہ منفرد ہے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ← عبد الله بن نافع المدني ← أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ خَلَصَةَ بِمَعَرَّةِ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْبَرْذَعِيُّ بِمِصْرَ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 947

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 948

948 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحَدِيثِ الضَّبِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَحْفَلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَدْ صَادَ ضَبًّا , وَجَعَلَهُ فِي كُمِّهِ يَذْهَبُ بِهِ إِلَى رِحْلَةٍ , فَرَأَى جَمَاعَةً , فَقَالَ: عَلَى مَنْ هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟ فَقَالُوا: عَلَى هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ , فَشَقَّ النَّاسُ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , [ص:154] فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , مَا اشْتَمَلَتِ النِّسَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَكْذَبَ مِنْكَ وَأَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكَ , وَلَوْلَا أَنْ تُسَمِّينِي قَوْمِي عَجُولًا لَعَجِلْتُ عَلَيْكَ , فَقَتَلْتُكَ , فَسَرَرْتُ بِقَتْلِكَ النَّاسَ أَجْمَعِينَ , فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعْنِي أَقْتُلْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْحَلِيمَ كَادَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا» , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى , لَآمَنْتُ بِكَ , وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَعْرَابِيُّ , مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ , وَقُلْتَ غَيْرَ الْحَقِّ , وَلَمْ تُكْرِمْ مَجْلِسِي؟ قَالَ: وَتُكَلِّمُنِي أَيْضًا اسْتِخْفَافًا بِرَسُولِ اللَّهِ، وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَآمَنْتُ بِكَ أَوْ يُؤْمِنُ بِكَ هَذَا الضَّبُّ , فَأَخْرَجَ الضَّبَّ مِنْ كُمِّهِ , وَطَرَحَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ: إِنْ آمَنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ آمَنْتُ بِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «يَا ضَبُّ» , فَتَكَلَّمَ الضَّبُّ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ يَفْهَمُهُ الْقَوْمُ جَمِيعًا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ رَبِّ الْعَالَمِينَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعْبُدُ؟» قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ , وَفِي الْأَرْضِ سُلْطَانُهُ , وَفِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ , وَفِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ , وَفِي النَّارِ عَذَابُهُ، قَالَ: «فَمَنْ أَنَا يَا ضَبُّ؟» قَالَ: أَنْتَ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ , وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَكَ , وَقَدْ خَابَ مَنْ كَذَّبَكَ , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , وَاللَّهِ لَقَدْ أَتَيْتُكَ وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْكَ , وَوَاللَّهِ لَأَنْتَ السَّاعَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمِنْ وَالِدِي , فَقَدْ آمَنَ بِكَ شَعْرِي وَبَشَرِي , وَدَاخِلِي وَخَارِجِي , وَسِرِّي وَعَلَانِيَتِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ [ص:155] إِلَى هَذَا الدِّينِ الَّذِي يَعْلُو وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ , وَلَا يَقْبَلُهُ اللَّهُ إِلَّا بِصَلَاةٍ , وَلَا يَقْبَلُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ» , فَعَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ فِيَ الْبَسِيطِ , وَلَا فِي الرَّجَزِ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا كَلَامُ رَبِّ الْعَالَمِينَ , وَلَيْسَ بِشِعْرٍ , وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مَرَّةً فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ , وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مَرَّتَيْنِ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَيِ الْقُرْآنِ , وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ» , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: نِعْمَ الْإِلَهُ إِلَهُنَا، يَقْبَلُ الْيَسِيرَ وَيُعْطِي الْجَزِيلَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا الْأَعْرَابِيَّ» , فَأَعْطَوْهُ حَتَّى أَبْطَرُوهُ , فَقَامَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَهُ نَاقَةً أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دُونَ الْبَخْتِيِّ وَفَوْقَ الْأَعْرَابِيِّ وَهِيَ عُشَرَاءُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ قَدْ وَصَفْتَ مَا تُعْطِي , وَأَصِفُ لَكَ مَا يُعْطِيكَ اللَّهُ جَزَاءً» قَالَ: نَعَمْ، , قَالَ: «لَكَ نَاقَةٌ مِنْ دُرٍّ جَوْفَاءُ , قَوَائِمُهَا مِنْ زَبَرْجَدِ أَخْضَرَ , وَعُنُقُهَا مِنْ زَبَرْجَدِ أَصْفَرَ , عَلَيْهَا هَوْدَجٌ , وَعَلَى الْهَوْدَجِ السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ , تَمُرُّ بِكَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ» , فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَقِيَهُ أَلْفُ أَعْرَابِيٍّ عَلَى أَلْفِ دَابَّةٍ بِأَلْفِ رُمْحٍ وَأَلْفِ سَيْفٍ , فَقَالَ لَهُمْ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُقَاتِلُ هَذَا الَّذِي يَكْذِبُ , وَيَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , فَقَالُوا لَهُ: صَبَوْتَ؟ فَقَالَ: مَا صَبَوْتُ , وَحَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْحَدِيثِ , فَقَالُوا بِأَجْمَعِهِمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَتَلَقَّاهُمْ فِي رِدَاءٍ , فَنَزَلُوا عَلَى رُكَبِهِمْ يُقَبِّلُونَ مَا وَلَّوْا مِنْهُ , وَهُمْ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ , فَقَالُوا: مُرْنَا بِأَمْرِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ: «تَدْخُلُوا تَحْتَ رَايَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ» قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ آمَنَ مِنْهُمْ أَلْفٌ جَمِيعًا إِلَّا بَنُو سُلَيْمٍ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ بِهَذَا التَّمَامِ إِلَّا كَهْمَسٌ , وَلَا عَنْ كَهْمَسٍ إِلَّا مُعْتَمِرٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گوہ کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک محفل میں موجود تھے کہ بنی سلیم کا یک دیہانی شخص آیا اس نے گوہ شکار کی ہوئی تھی اور اپنی آستین میں اس کو چھپایا ہوا تھا اور اس کو لے کر وہ اپنے خیمے کی جانب گیا اور اس نے ایک جماعت کو دیکھا اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کن لوگوں کی جماعت ہے ؟ اس کے ساتھیوں نے بتایا وہ لوگ اس آدمی کے گرد جمع ہیں جو خود کو نبی سمجھتا ہے وہ دیہاتی لوگوں کو چیرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آگیا اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے زیادہ جھوٹے لہجے والا کوئی شخص ہے جس کے پاس عورتیں جمع ہوتی ہوں اور مجھے تجھ سے زیادہ اور کسی سے بغض نہیں ہے اگر میری قوم نے مجھے جلد باز کا نام نہ دیاہوتا تو میں تیرے بارے میں جلدی کرتا تجھے قتل کردیتا اور تیرے قتل کی خبر سنا کر لوگوں کوخوش کرتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے میں اس کو قتل کر دوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ نبی حلیم اور بردبار ہوتا ہے وہ دیہاتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب متوجہ ہوا اور کہنے لگا لات اور عزیٰ کی قسم میں تم پر ایمان لے آؤں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے دیہاتی پھر تو نے یہ بات مجھے کہیں کہیں ؟ ناحق گفتگو کیوں کی ؟ اور میری مجلس کی عزت کیوں نہ کی ؟ اس نے توہین آمیز لہجے میں کہا ، آپ بھی میرے ساتھ اسی طرح گفتگو کر لیں اور لات اور عزیٰ کی قسم اگر وہ گوہ آپ پر ایمان لے آئے تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا ۔ یہ کہتے ہوے اس نے اپنی آستین سے گوہ کو باہر نکالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھینک دیا اور کہا اگر یہ گوہ آپ پر ایمان لے آئے تو میں بھی ایما ن لے آؤں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گوہ بس آپ کا اتنا فرمانا تھا کہ وہ گوہ قنصیح و بیغ عربی زبان میں بولنے لگی اس کو سب لوگ سمجھ رہے تھے وہ گو کہنے لگی ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں ۔ اے رب العالمین کے رسول میں حاضر ہو ں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا تو کس کی عبادت کرتی ہے ؟ اس نے کہا اللہ کی جس کا عرش آسمانوں میں ہے اور جس کی بادشاہی زمین میں بھی ہیں اور سمند ر میں جس کا راستہ ہے اور جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے آپ نے فرمایا اے گوہ میں کون ہوں ؟ گوہ نے کہا : آپ رب العالمین کے رسول ہیں ۔ آپ خاتم النبین ہیں وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے آپ کی تصدیق کی اور وہ خسارے میں رہا جس نے آپ کو جھٹلایا یہ سن کر اس دیہاتی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوال کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول اللہ ں اللہ کی قسم میں آپ کے پاس جب آیا تھا تو اس روئے زمین پر آپ سے زیادہ نفرد مجھے کسی سے نہ تھی اور اللہ کی قسم اس لمحے میں اپنی ذات اور اپنے والد سے بھی زیادہ آپ سے محنت کرتا ہوں میرا ظاہر ، میرا باطن میرا اعلان میرا پوشیدہ اور میرے بال اور میرا جسم سب آپ پر ایمان لے آیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے تجھے اس دین کی ہدایت عطا فرمائی جو غالب ہوتا ہے لیکن مغلوب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ یہ دین قبول نہیں کرتا مگر نماز کےساتھ اور اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں کرتا مگر قرآن کے ساتھ ۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص سکھائی ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں نے " بسیط" اور رجز میں اس سے زیادہ اچھا کلام کبھی نہیں سنا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رب العالمین کا کلام ہے ۔ یہ شعر نہیں ہے اور جب تم ایک مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ لو گے گویا کہ تم نے قرآن کا ایک تہائی حصہ پڑھ لیا جب تم دو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ لو گے تو گویا کہ تم نے قرآن کا دوتہائی حصہ پڑھ لیا اگر تم تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ لو تو گویا کہ تم نےقرآن پورا ہی پڑھ لیا ۔ اس دیہاتی نے کہا ہمارا معبود کیسا ہی معبود ہے ۔ وہ مختصر عبادات کو قبول کرلیتا ہے اور بڑا بڑا اجر عطا فرماتا ہے پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس دیہاتی کو انعامات عطا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے اتنے انعامات عطا فرمائے حتیٰ کہ ان کو ان کی ہمت سے بھی زیادہ دے دیا ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کو ایک اونٹنی دینا چاہتا ہوں ۔ اللہ کی رضا کی خاطر وہ (بختی ) اونٹ سے کم درجے کی ہوگی لیکن اعرابی اونٹ سے اوپر کے درجے کی ہو گی اور وہ دس ماہ کی حاملہ ہو گی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے جو کچھ اس کو دینا ہے اس کے وصف بیان کر دیئے ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ جو اس کے بدلے میں جزا دے گا میں اس کا وصف بیان کروں ؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا جی ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے ایسی اونٹنی ملے گی جو اندر سے خول والے موتیوں کی ہو گی ، جس کی ٹانگیں سبز رنگ کے زبر حد کی ہوں گی جس کی گردن زرد رنگ کے زبر جدکی ہو گی ۔ اس کے اوپر ایک پالان ہو گا اور اس پالان کے اوپر سندس اور استبرق ( یہ دونوں ریشم کے کپڑے ہوتے ہیں) ہوں گے۔ وہ تمہیں پل صراط پر سے ایسے لے کر گزر جائے گی جس طرح بجلی کی چمک ہوتی ہے ۔ وہ دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے نکالا تو اس کی ملاقات ہزار دیہاتیوں سے ہوئی وہ ہزار سواریوں پر سوار تھے ۔ ان کے پاس ہزار نیزے اور ہزار تلواریں تھیں اس دیہاتی نے ان سے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے کہا اس شخص سے لڑنے جا رہے ہیں جو جھوٹ بولتا ہے اور خود کو نبی سمجھتا ہے ۔ اس دیہاتی نےکہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوال کوئی عباد ت کے لائق نہیں ہے اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں ان لوگوں نے کہا تو اپنے دین سے پھر گیا ہے ۔ دیہاتی نے کہا میں دین سے نہیں پھرا اس کے بعد اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا ۔ان کا بیان کردہ واقعہ سن کر سب لوگ کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چادر اوڑھ کر تشریف لائے ان سے ملاقات کی وہ لوگ اپنی سواریوں سے اتر کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے اور آپ کی چادر مبارک کو بوسہ دیا اورکہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عباد کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ پھر لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لائق کوئی حکم ہے ۔ آپ نے فرمایا خالد بن ولید کے لشکر میں شامل ہو جاؤ راوی کہتے ہیں بنو سلیم کے علاوہ اور کوئی قبیلہ ایسا نہیں ہے ۔جس کے پورے ایک ہزار آدمیوں نے یک بار اسلام قبول کیا ہو ۔ اس حدیث کو داؤد بن ابی ہند سے اس تفصیل کے ساتھ صرف کہمس نے روایت کیا ۔ کہمس سے صرف معتمرنے روایت کیا ہے اور ان سے روای رکنے میں محمد بن اعلیٰ منفرد ہیں۔

أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحَدِيثِ الضَّبِّ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← کهمس بن الحسن ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 948

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 949

949 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ الْأَسَدِيُّ الْبَصْرِيُّ الْمُؤَدِّبُ، نَسِيبُ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوْصِنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهَا جِمَاعُ كُلِّ خَيْرٍ , وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؛ فَإِنَّهَا رَهْبَانِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ , وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ كِتَابِهِ؛ فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ وَذِكْرٌ فِي السَّمَاءِ , وَاخْزُنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ، فَإِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ» لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ

محمد بن علی بن یحییٰ بن زیاد بن عبدالرحمن بن اسید بن محمد بن عبداللہ بن حجش راب الاسدی البصری المؤدب سے مروی حدیث ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کیا یاسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، اس میں سب بھلائیاں جمع ہیں اور اللہ کے رستے میں جہاد کرتے رہو کہ یہ مسلمان کی رہبانیت ہے اور اللہ کا ذکر کرتے رہو کہ یہ مسلمان کی رہبانیت ہے اور اللہ کا ذکر کرتے رہو اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہو کہ یہ تمہارے لیے زمین میں نور ہے اور آسمانوں میں تمہاری یاد ہے اور اپنی زبان سے ہمیشہ بھلائی کا کلمہ نکالو۔ ان معمولات کی بناء پر تم شیطان پر غلبہ پا لو گے ۔ اس حدیث کو ابو سعید سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے ۔ اور ان سے روایت کرنے میں یعقوب التعمی منفرد ہیں ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 949

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 950

950 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَالَةَ الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الْيَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ الْقِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: نَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِعُودٍ الْأَرْضَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , وَقَالَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ , إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ , وَشَقِيَّةٌ أَوْ سَعِيدَةٌ» , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنْدَعُ الْعَمَلَ؟ , فَقَالَ: «لَا , وَلَكِنِ اعْمَلُوا؛ فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ , أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِلسَّعَادَةِ , وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُونَ لِلشَّقَاءِ» , ثُمَّ قَرَأَ: " {فَأَمَّا مِنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى} [الليل: 6] " الْآيَتَيْنِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا إِسْحَاقُ

محمد بن فضالہ الجوہری البصری سے مروی حدیث ، حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے ساتھ زمین پر ایک نقطہ لگایا اور پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا روح کے لیے اس کا ٹھکانہ دوزخ اور جنت لکھ دیا گیا ہے اور یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ بد بخت ہے یا خوش بخت ؟ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم عمل کرنا چھوڑ دیں ؟ فرمایا نہیں عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کو وہ اعمال میسر کر دیے جاتے ہیں جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے جو سعاعت مند ہو تا ہے اس کو اہل سعادت والے اعمال میسر آتے ہیں اور جو بد بخت ہوتا ہے اس کو بد بختوں والے اعمال میسر آتے ہیں ۔ پھر آپ نے یہ دو آیتیں پڑھیں ۔" تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی " (ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ) اس حدیث کو مسعر سے صرف اسحاق القصری نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ الْقِصْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الْيَامِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فَضَالَةَ الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 950

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 951

951 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبِسْتِنْبَانُ السَّرْمَرِيُّ بِهَا , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ، صَاحِبُ السَّابِرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَ الْفَتْحِ , وَكَانَ جَائِعًا , فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَصْهَارًا لِي قَدْ لَجَأُوا إِلَيَّ , وَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ , وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَعْلَمَ بِهِمْ فَيَقْتُلَهُمْ , فَاجْعَلْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أُمِّ هَانِئٍ آمِنًا حَتَّى يَسْمَعُوا كَلَامَ اللَّهِ , فَآمَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ» , فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكِ مِنْ طَعَامٍ نَأْكُلُهُ؟» , فَقَالَتْ: لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ , وَإِنِّي لَأَسْتَحِي أَنْ أُقَدِّمَهَا إِلَيْكَ , فَقَالَ: «هَلُمِّي بِهِنَّ» , فَكَسَّرَهُنَّ فِي مَاءٍ , وَجَاءَتْ بِمِلْحٍ , فَقَالَ: «هَلْ مِنْ إِدَامٍ؟» , فَقَالَتْ: مَا عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ , فَقَالَ: «هَلُمِّيهِ» , فَصَبَّهُ عَلَى طَعَامِهِ , فَأَكَلَ مِنْهُ , ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , ثُمَّ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , يَا أُمَّ هَانِئٍ , لَا يُقْفَرُ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعْدَانَ إِلَّا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ، صَاحِبُ السَّابِرِيِّ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبِسْتِنْبَانُ السَّرْمَرِيُّ بِهَا

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 951

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 952

952 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصُّوفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، بِمِصْرَ سَنَةَ ثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ التُّبَّانُ الْمَدِينِيُّ سَنَةَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا رَضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ , وَلَا يُتْمَ بَعْدَ حُلُمٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبَانَ إِلَّا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , وَلَا عَنْ مُوسَى إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَلَا عَنْ مُحَمَّدٍ إِلَّا عُبَيْدٌ التُّبَّانُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ

محمد بن سلمان سوفی البغدادی سے مروی حدیث ، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دودھ پینے کی مدت گزرنے کے بعد رضا عت ثابت نہیں ہوتی اور بالغ ہونے کے بعد بھی رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور بالغ ہونے کے بعد یتیمی نہیں رہتی ۔ اس حدیث کو ابان بن تغلب سے صرف موسیٰ بن عقبہ نے روایت کیا ہے موسیٰ سے صرف محمد بن ثابت نے روایت کیا ہے اور محمد سے صرف عبید تبان نے راویت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں سلمان منفرد ہیں ۔

عَلِيٍّ کَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ التُّبَّانُ الْمَدِينِيُّ سَنَةَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصُّوفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، بِمِصْرَ سَنَةَ ثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 952

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 953

953 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ الْقَلْزُمِيُّ بِمَدِينَةِ الْقَلْزُمِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ابْنِ بِنْتِ مَطَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ إِلَّا مُعَاوِيَةُ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ بِنْتِ مَطَرٍ

محمد بن ابی حرملہ القلزمی سے مروی حدیث ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورۃ الم تنزیل سجدہ اور سورۃ ملک پڑھا کرتے تھے ۔ اس حدیث کو داؤد ہند سے صرف معاویہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن بنت مطر منفرد ہیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّد بن سليمان ابن بنت مطر ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ الْقَلْزُمِيُّ بِمَدِينَةِ الْقَلْزُمِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 953

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 954

954 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو قِرْصَافَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ نَافِعٍ الْأُرْسُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحٍ إِلَّا مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَلَا عَنْ مُوسَى إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ , وَلَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَّا زَكَرِيَّا بْنُ نَافِعٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قِرْصَافَةَ

محمد بن عبدالواہاب ابو قرصافہ العسقلانی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے والےکو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت نصف ثواب ملتا ہے ۔ اس حدیث کو روح سے صرف موسیٰ بن عبیدہ نے روایت کیا ہے اور موسیٰ سے صرف عبدالعزیز بن حصین نے روایت کیا ہے اور عبدالعزیز سے صرف زکریا بن نافع نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو قرصافہ محمد بن عبدالوہاب منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي يَحْيَى، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← موسى بن عبيدة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ، ← زَكَرِيَّا بْنُ نَافِعٍ الْأُرْسُوفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو قِرْصَافَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 954

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 955

955 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو النُّعْمَانِ بْنُ شِبْلٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمُّ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهُ وَكُتِبَ بَرًّا» . لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ النُّعْمَانِ بْنِ شِبْلٍ

محمد بن احمد ابو نعمان شبل البصری سے مروی حدیث ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہر جمعہ کو اپنی ماں اپنے باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اس کو نیکیوں میں لکھ دیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں نعمان بن شبل منفرد ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ← يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ الْبَجَلِيِّ، ← عَمُّ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو النُّعْمَانِ بْنُ شِبْلٍ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 955

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 956

956 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الصَّبَاحِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عَبْدَوَيْهِ السِّنْدِيُّ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ التَّمِيمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ «عَهِدَ إِلَى عَلِيٍّ سَبْعِينَ عَهْدًا لَمْ يَعْهَدْهَا إِلَى غَيْرِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُطَرِّفٍ إِلَّا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ , وَلَا عَنْ عَمْرٍو إِلَّا سَهْلٍ، تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ , وَاسْمُ التَّمِيمِيِّ: أَرْبَدَةُ

محمد بن ساحل بن صباح الصفار الا صبہانی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپس میں بات کریا کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے 70 عہد لیے اور آپ کے علاوہ کسی سے یہ عہد نہیں لیے۔ اس حدیث کو مطرف سے صرف عمرو بن ابی قیس نے روایت کیا ہے اور عمرو سے صرف سہل بن عبدربہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں احمد بن فرات منفرد ہیں اور تمیمی کا نام " اربدہ" ہے ۔

«كُنَّا نَتَحَدَّثُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← التميمي ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← سَهْلُ بْنُ عَبْدَوَيْهِ السِّنْدِيُّ الرَّازِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الصَّبَاحِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 956

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 957

957 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرَانَ الدِّرْهَمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنْهَا؛ فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ , وَإِنَّ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ إِلَيْهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا أَبَانُ , وَلَا عَنْ أَبَانَ إِلَّا بِشْرٌ تَفَرَّدَ بِهِ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ

محمد بن بشران درہمی البصری سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوا پر لعنت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت مت کرو کیونکہ یہ تو حکم کی پابند ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرتا ہے جو لعنت کی اہل نہیں ہے تو وہ لعنت لوٹ کر خود اس لعنت کرنے والے پر آجاتی ہے ۔ اس حدیث کو قتادہ سے صرف ابان نے روایت کیا ہے ابان سے صرف بشر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایات کرنے میں زید بن اخزام منفرد ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرَانَ الدِّرْهَمِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 957

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 958

958 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَلَاسٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي السَّمَاءِ مَلَكًا يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ , كُلُّ مَلَكٍ عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ إِلَّا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ

محمد بن جعفر بن ملاس الدمشقی سے مروی حدیث ، حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا آسمانوں میں ایک فرشتہ ہے جس کا نام اسماعیل ہے اس کے ماتحت ستر ہزار فرشتے ہیں اور ان ستر ہزار فرشتوں میں سے ایک کے ماتحت ستر ہزار فرشتے ہیں ۔ اس حدیث کو ابن شوذب سے صرف ولید بن مزید نے روایت کیا ہے اور محمد بن کثیر سے صنعائی نے روایت کیا ہے

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَلَاسٍ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 958

chevron_left Previous
1…151617…28
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter