المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْقَافِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْقَاسِمُ · حديث 751
751 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُهَنِيُّ الْحَذَّاءُ الْمَوْصِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى السُّكَّرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قُرَيْشًا دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يُعْطُوهُ مَالًا فَيَكُونُ أَغْنَى رَجُلٍ بِمَكَّةَ وَيُزَوِّجُونَهُ مَا أَرَادَ مِنَ النِّسَاءِ وَيَطَأُونَ عَقِبَهُ , فَقَالُوا: هَذَا لَكَ عِنْدَنَا يَا مُحَمَّدُ , وَكُفَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا , وَلَا تَذْكُرْهَا بِشَرٍّ؛ فَإِنْ بَغَضْتَ فَإِنَّا نَعْرِضُ عَلَيْكَ خَصْلَةً وَاحِدَةً , وَلَكَ فِيهَا صَلَاحٌ قَالَ: «وَمَا هِيَ؟» قَالَ: تَعْبُدُ إِلَهَنَا سَنَةً اللَّاتَ وَالْعُزَّى , وَنَعْبُدُ إِلَهِكَ سَنَةً قَالَ: «حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَأْتِينِي مِنْ رَبِّي» , فَجَاءَ الْوَحْي مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ السُّورَةَ , وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونُ} [الزمر: 64] , {بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} [الزمر: 66] لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ هِنْدَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قریش نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پیشکش کی کہ وہ ان کو اتنا مال دیں گے کہ مکے میں سب سے زیادہ دولت مند کردیں گے اور آپ جس عورت سے چاہیں اس کے ساتھ آپ کا نکاح کر دیں گے اور ان کے لیے آسانیاں کر دیں گے قریش نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف سے آپ کے لیے یہ پیشکش ہے ۔ آپ ہمارے خداؤں کو برابھلا کہنا چھوڑ دیں اور ان کی مذمت کر نا چھوڑ دیں اور اگر آپ رضا مند ہوں ، تو ہم آپ کو اپنے جھگڑے کا حل پیش کرتے ہیں اس کے اندر آپ کے لیے بھی بھلائی ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپ لازت اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے آپ نے فرمایا مجھ کچھ موقع دو میں یہ دیکھ لوں کہ میرے رب کی طر ف سے کیا حکم ملتا ہے چنانچہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں لوح محفوظ سے یہ وحی نازل کی گئی ۔ (ترجمہ) ۔" تم فرماؤ اے کافرو نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین ( ترجمہ کنز الایمان امام احمد رضا ) اور یہ آیات بھی نازل ہوئیں ۔" تم فرماؤ تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہواے جاہلو اور بے شک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکروالوں سے ہو ( ترجمہ کنزالا ایمان امام احمد رضا ) اس حدیث کو دادؤ ابی ابن ہند سے صرف عبداللہ بن عیسیٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن موسیٰ منفرد ہیں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى السُّكَّرِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ حَمَّادٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجُهَنِيُّ الْحَذَّاءُ الْمَوْصِلِيُّ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 751
