Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الصغیر للطبرانی

Al Muajam Al Sagheer Tibrani

by Tibrani

1,197 Hadith186 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 595

595 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْقِرَبِيُّ الْبَصْرِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْإِمَامُ ضَامِنٌ , وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ , اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ , وَاغْفِرْ لِلْمُؤْذِّنِينَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحٍ إِلَّا يَزِيدُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امام نمازوں کا ذمہ دار ہے اور مؤذن نمازوں کا اہتمام کرنے والا ہے ۔ اے اللہ ائمہ کو ہدایت عطا فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما ۔ اس حدیث کو روح سے صرف یزید بن زریع نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْقِرَبِيُّ الْبَصْرِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 595

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 596

596 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قِرْمٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ , وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ وَاسْمُهُ زَاذَانُ إِلَّا سُلَيْمَانُ بْنُ قِرْمٍ تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو ہے ۔ اس حدیث کو ابو یحییٰ قتادہ سے صرف سلیمان قرم نے روایت کیا ہے اور ان سے رو ایت کرنے میں حسین بن محمد منفرد ہیں ۔ ( ابو یحییٰ قتات کا نام زاذان ہے )

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 596

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 597

597 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لِلْآخَرِ: يَا شَاهَان شَاهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ مَلِكُ الْمُلُوكِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَاصِمٍ إِلَّا عَبْدُ الْمَلِكِ تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ دوسرے کو اے شہنشاہ کہہ رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ شہنشاہ ہے ۔ اس حدیث کو عاصم سے عبدالملک نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں آدم منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 597

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 598

598 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخُو عَبْدِ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «حَتَّى مَتَى تَزَعُونَ عَنْ ذِكْرِ الْفَاجِرِ , اهْتِكُوهُ حَتَّى يَحْذَرَهُ النَّاسُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَعْمَرٍ إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ

حضرت بہز بن حکیم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو خطبہ دیا اور فرمایا : کہ تم فاجر کا ذکر کرنے سے کب تک رکے رہو گے ؟ اس کو ذلیل کرو تاکہ لوگ اس سے بچ کر رہیں ۔ اس حدیث کو معمر سے صرف عبدالوہاب نے روایت کیا ہے ۔

مَعْمَرٍ إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ ← الْفَاجِرِ اهْتِكُوهُ حَتَّى يَحْذَرَهُ النَّاسُ» لَمْ يَرْوِهِ ← خَطَبَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «حَتَّى مَتَى تَزَعُونَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ هَمَّامٍ، أَخُو عَبْدِ الرَّزَّاقِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 598

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 599

599 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «زَيِّنُوا أَعْيَادَكُمْ بِالتَّكْبِيرِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ إِلَّا عُمَرُ , وَلَا عَنْ عُمَرَ إِلَّا بَقِيَّةُ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنی عیدوں کو تکبیروں کے ساتھ سنوارو۔ اس حدیث کو ابو کثیر سے صرف عمرو بن راشد نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف بقیہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن ابی سری منفرد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو كَثِيرٍ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ الْيَمَامِيِّ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 599

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 600

600 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْفِرْيَابِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ يُونُسَ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: نَشَدَ اللَّهُ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِهِ أَكْثَرَ لَهُمَا مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ , فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا: «أَيْ فُلَانُ» , فَقَالَ: لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: «أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟» قَالَ: بَلَى أَيْ رَبِّ، قَالَ: «فَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟» قَالَ: تَرَكْتُهُ لِوَلَدِي مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ عَلَيْهِمْ قَالَ: «أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمَ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتَ كَثِيرًا , أَمَا إِنَّ الَّذِي تَخَوَّفْتَ عَلَيْهِمْ قَدْ أَنْزَلْتُهُ بِهِمْ» , وَيَقُولُ لِلْآخَرِ: «أَيْ فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ» , فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ أَيْ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: «أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟» قَالَ: بَلَى أَيْ رَبِّ، قَالَ: «فَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟» قَالَ: أَنْفَقْتُهُ فِي طَاعَتِكَ , وَوَثَّقْتُ لِوَلَدِي مِنْ بَعْدِي بِحُسْنِ عَدْلِكَ , فَقَالَ: «أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمَ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ كَثِيرًا وَلَبَكَيْتَ قَلِيلًا , أَمَا إِنَّ الَّذِي وَثَّقْتَ لَهُمْ قَدْ أَنْزَلْتُهُ بِهِمْ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا الْمُفَضَّلُ , وَلَا عَنِ الْمُفَضَّلِ إِلَّا الْأَوْزَاعِيُّ , وَلَا عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا يُوسُفُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدٌ

۶۰۰-حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے ایسے دو بندوں کو کھڑا کیا جن کو کثیر مال اور اولاد سے نوازا تھا ، ان میں سے ایک سے فرمایا : اے فلاں بن فلاں اس نے کہا: اے اللہ میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہیں کثیر مال اور اولاد سے نہیں نوازا تھا ؟ اس نے کہا: اے میرے رب کیوں نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کچھ میں نے تجھے عطا کیا تو نے اس کا کیا ؟ اس نے کہا میں نے اس کو اپنی اولاد کے لئے چھوڑا ہے ، اس ڈر سے کہ کہیں وہ تنگ دست نہ ہو جائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تو حقیقی علم کو جان لیتا تو تھوڑا ہنستا اور زیادہ روتا۔ بہرحال جس چیز کا تجھے خدشہ تھا میں نے ان پر وہ چیز مسلط کر دی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے سے فرمایا : اے فلاں بن فلاں اس نے کہا: اے اللہ میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تجھے کثیر مال اور اولاد سے نہیں نواز تھا ، اس نے کہا اے میرے رب کیوں نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا تو نے اس کا کیا کیا؟ اس نے کہا : یا اللہ میں نے اس کو تیری فرمانبرداری میں خرچ کر دیا ہے اور اپنی اولاد سے میں نے یہ عہد لیا کہ میرے بعد وہ اچھے اعمال اپنائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تو حقیقی علم جان لیتا تو تھوڑا ہنستا اور زیادہ روتا بہرحال تو نے اپنی اولاد سے جس چیز کا وعدہ لیا تھا میں نے ان کو وہ چیز عطا کر دی ہے ۔ اس حدیث کو اعمش سے صرف مفضل نے روایت کیا ہے اور مفضل سے صرف اوزاعی نے روایت کیا ہے اور ان سے صرف یوسف بن سفر نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن وزیر منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ يُونُسَ الْكِنَانِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْفِرْيَابِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 600

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 601

601 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ , حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ , أَوْ مَأْمُورٌ , أَوْ مُرَاءٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا حَمَّادٌ تَفَرَّدَ بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ

۶۰۱-عبداللہ بن عباس بن ولید بن یزید البرونی سے مروی حدیث ، حضرت عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد بن یزید منفرد ہیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْخَوْلَانِيُّ ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 601

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 602

602 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُزَيْزٍ الْمَوْصِلِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ , وَكَانَتْ بَيْنَهُمَا عَدَاوَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ ذَلِكَ , فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ , فَبَيْنَمَا هُمْ قُعُودٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ إِذْ تَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَوْسِ بِبَيْتِ شِعْرٍ فِيهِ هِجَاءٌ لِلْخَزْرَجِ وَتَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ بِبَيْتِ شِعْرٍ فِيهِ هِجَاءٌ لِلْأَوْسِ فَلَمْ يَزَالُوا هَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ وَهَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ حَتَّى وَثَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , وَأَخَذُوا أَسْلِحَتَهُمْ , وَانْطَلَقُوا لِلْقِتَالِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْي , فَجَاءَ مُسْرِعًا قَدْ حَسَرَ عَنْ سَاقَيْهِ , فَلَمَّا رَآهُمْ نَادَاهُمْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَاتِ , فَوَحَّشُوا بِأَسْلِحَتِهِمْ , فَرَمَوْا بِهَا , وَاعْتَنَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَبْكُونَ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ إِلَّا يُوسُفُ بْنُ عَبْدَةَ تَفَرَّدَ بِهِ غَسَّانُ

عبداللہ بن محمد بن عزیز الموصلی سے مروی حدیث ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ۔ اوس اور خزرج انصاری کے دو قبیلے ہیں ان دونوں کے درمیان زمانہ جاہلیت میں دشمنی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں محبتیں ڈال دی تھیں ایک دفعہ کا ذکر ہے یہ لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ اوس سے تعلق رکھنے والے ایک آدمی نے ایک شعر کہا جس کے اندر خزرج کی توہین کی گئی تھی پھر خزرج سے تعلق رکھنے والے ایک آدمی نے ایک شعر کہا جس کے اندر اوس کی مذمت بیان کی گئی تھی ۔ کچھ دیر اسی طرح ان دونوں کے درمیان ہتک آمیز اشعار کا تبادلہ جاری ہر حتیٰ کہ نوبت یہاں تک کہ پہنچی کہ یہ ایک دوسرے کے اوپر جھپٹ پڑے اور انہوں نے اپنا اپنا اسلحہ سنبھال لیا اور بات لڑائی تک پہنچ گئی اس بات کیااطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی گئی اور آپ پر وحی نازل ہوئی آپ اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھائے جلدی جلدی تشریف لائے جب آپ نے ان لوگوں کو دیکھا تو یوں آوازدی ۔ اےایمان والوں اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان ( ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنتے ہی انہوں نے اسلحہ پھینک دیا اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے گئے ۔ اس حدیث کو ثابت اور حمید سے صرف یوسف بن عبدہ البصری نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عضان منفرد ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ عَبْدَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 602

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 603

603 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ أَبُو الدَّرْدَاءِ بِمَدِينَةِ الْطَرَسُوسِ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةٍ , عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً , فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِمِنًى , فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلَانِ خَلْفَ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ , فَقَالَ: «عَلَيَّ بِالرَّجُلَيْنِ» , فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا , فَقَالَ: «أَمَا صَلَّيْتُمَا مَعَنَا؟» , فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا وَظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الصَّلَاةَ قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا , ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً» , فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ: «اللَّهُمَّ , اغْفِرْ لَهُ» , فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَقْوَاهُمْ , فَزَاحَمْتُ النَّاسَ حَتَّى أَخَذْتُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهَا عَلَى صَدْرِي , فَلَمْ أَرَ شَيْئًا كَانَ أَبْرَدَ وَلَا أَطْيَبَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ غَيْلَانَ إِلَّا ابْنُ ذِي حِمَايَةَ

ابو درداء عبدا للہ بن محمد بن اشعت الطرطوس سے مروی حدیث ، حضرت جابر بن یزید بن اسود سوائی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجتۃ الوداع میں شرکت کی میں نے آپ کے ہمراہ منیٰ کے اندر نماز فجر ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے دیکھا دو آدمی لوگوں سے پیچھے ہٹ کر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے لوگوں کے ہمراہ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی آپ نے فرمایا ان دونوں لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا ۔ ان پر بہت شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی آپ نے فرمایا تم نے ہمار ےساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا ہم اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ چکے ہیں ہمیں یہ خدشہ تھا ہم جماعت کو نہیں پا سکیں گے آپ نے فرمایا اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو پھر تمہیں جماعت مل جائے تو جماعت کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو یہ نماز تمہارے لیے نفل بن جائے گی ان میں سے ایک نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے بخشش کی دعا فرمائیں رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی اے اللہ اس کی بخشش فرما ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگوں کا رش لگ گیا ۔ میں ان دنوں بہت طاقتور اور مضبوط آدمی تھا میں ہمت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو تھاما آپ کا دست مبارک اپنے سینے سے لگایا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ پر سکون اور ٹھنڈک والی چیز کبھی نہیں دیکھی ۔ اس حدیث کو غیلان سے صرف ابن ذی حمایہ نے روایت کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةَ، ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ أَبُو الدَّرْدَاءِ بِمَدِينَةِ الْطَرَسُوسِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 603

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 604

604 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ , فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا , وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ نَافِلَةً» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ يُونُسَ إِلَّا الزُّبَيْرِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ حَجَّاجٌ

عبداللہ بن عباس الطیاسی البغدادی سے مروی حدیث ۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم پر کچھ ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز کو لیٹ کر کے پڑھیں گے تم اپنی نما زوقت پر پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ جب نماز پڑھو تو نفل کی نیت کر لیا کرنا ۔ اس حدیث کو سفیان کے واسطے سے یونس سے صرف ابو احمد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں حجاج بن شاعر منفرد ہیں ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّيَالِسِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 604

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 605

605 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْقَلْزُمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحَاسِنُهُمْ أَخْلَاقًا , الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا , الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ , وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُيَيْنَةَ أَخِي سُفْيَانَ إِلَّا يَعْقُوبُ

عبداللہ بن ابی داؤد الجستانی سے مروی حدیث۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا سب سے کامل وہ ہوتے ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوتے ہیں جو مہمان نواز ہو تے ہیں اور جو خود سے محبت کرتے ہیں اور دوسروں سے اپنے لیے محبتیں وصول بھی کرتے ہیں اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو نہ دوسروں سے محبت کرتا ہے اور نہ دوسروں سے محبت وصول کرتا ہے ۔ اس حدیث کو سفیان کے بھائی محمد بن عیینہ سے صرف یعقوب ابن ابی عباد نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْقَلْزُمِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 605

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 606

606 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيُّ خَطِيبُ الْبَصْرَةِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيَّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ بَعْدَمَا صَلَّى فَقَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ» لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

عبداللہ بن جعفر الہاشمی سے مروی حدیث ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ جماعت ہو جانے کے بعد مسجد میں تنہا نما زپڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا کیا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اس کے ساتھ تعاون کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے ؟ اس حدیث کو ابو سعید سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيُّ خَطِيبُ الْبَصْرَةِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 606

chevron_left Previous
1…789…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter
2. Book
    15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter
3. Book
    24. Chapter
4. Book
    25. Chapter
5. Book
    26. Chapter27. Chapter28. Chapter
6. Book
    29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter
7. Book
    48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter
8. Book
    54. Chapter55. Chapter56. Chapter
9. Book
    57. Chapter
10. Book
    58. Chapter59. Chapter
11. Book
    60. Chapter61. Chapter62. Chapter
12. Book
    63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter