603 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ أَبُو الدَّرْدَاءِ بِمَدِينَةِ الْطَرَسُوسِ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةٍ , عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً , فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِمِنًى , فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلَانِ خَلْفَ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ , فَقَالَ: «عَلَيَّ بِالرَّجُلَيْنِ» , فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا , فَقَالَ: «أَمَا صَلَّيْتُمَا مَعَنَا؟» , فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا وَظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الصَّلَاةَ قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا , ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً» , فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ: «اللَّهُمَّ , اغْفِرْ لَهُ» , فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَقْوَاهُمْ , فَزَاحَمْتُ النَّاسَ حَتَّى أَخَذْتُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهَا عَلَى صَدْرِي , فَلَمْ أَرَ شَيْئًا كَانَ أَبْرَدَ وَلَا أَطْيَبَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ غَيْلَانَ إِلَّا ابْنُ ذِي حِمَايَةَ
ابو درداء عبدا للہ بن محمد بن اشعت الطرطوس سے مروی حدیث ، حضرت جابر بن یزید بن اسود سوائی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجتۃ الوداع میں شرکت کی میں نے آپ کے ہمراہ منیٰ کے اندر نماز فجر ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے دیکھا دو آدمی لوگوں سے پیچھے ہٹ کر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے لوگوں کے ہمراہ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی آپ نے فرمایا ان دونوں لوگوں کو میرے پاس لے کر آؤ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا ۔ ان پر بہت شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی آپ نے فرمایا تم نے ہمار ےساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا ہم اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ چکے ہیں ہمیں یہ خدشہ تھا ہم جماعت کو نہیں پا سکیں گے آپ نے فرمایا اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو پھر تمہیں جماعت مل جائے تو جماعت کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو یہ نماز تمہارے لیے نفل بن جائے گی ان میں سے ایک نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے بخشش کی دعا فرمائیں رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی اے اللہ اس کی بخشش فرما ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگوں کا رش لگ گیا ۔ میں ان دنوں بہت طاقتور اور مضبوط آدمی تھا میں ہمت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو تھاما آپ کا دست مبارک اپنے سینے سے لگایا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ پر سکون اور ٹھنڈک والی چیز کبھی نہیں دیکھی ۔ اس حدیث کو غیلان سے صرف ابن ذی حمایہ نے روایت کیا ہے ۔
أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةَ، ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ أَبُو الدَّرْدَاءِ بِمَدِينَةِ الْطَرَسُوسِ