المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 559
559 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدُوسَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ , فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ فِي كَذَا؟ هَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَرَضَ امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا فَذَاكَ الَّذِي حَرَجَ وَهَلَكَ» ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَتَدَاوَى مِنْ كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ: الْهَرَمُ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ فَقَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكٍ إِلَّا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھا ۔ آپ کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے اور آپ سے دائیں بائیں کے سوالات کرنا شروع کئے ۔ کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فلاں کام میں ہم پر کوئی حرج ہے ؟ کیا ہم پر فلاں کام میں حرج ہے ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حرج معاف کر دیا ہے ۔ سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان سے ظلماً قرضہ لیتا ہے یہ وہ حرج ہے جو باعث ہلاکت ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم فلاں بیماری کی دوا لے لیا کریں ؟ فلاں بیماری کی دوا لے لیا کریں ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے بندو ، دوا لیا کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری بنائی ہے اس کے لئے شفا بھی رکھی ہے ۔ سوائے ایک بیماری کے اور وہ ہے بڑھاپا۔ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انسان کو جو کچھ عطا کیا جاتا ہے اس میں سب سے افضل چیز کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا حسن اخلاق ۔ اس حدیث کو مالک سے صرف نعمان بن عبدالسلام نے روایت کیا ہے ۔
أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ← أَبِي ← إبراهيم بن عامر بن إبراهيم ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدُوسَ الْأَصْبَهَانِيُّ،
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 559
