536 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَقْرٍ السُّكَّرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: ذَكَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ إِذَا جَنَّهُمُ اللَّيْلُ آوَوْا إِلَى مَعْلَمٍ بِالْمَدِينَةِ , فَيَبِيتُونَ يَدْرِسُونَ الْقُرْآنَ , فَإِذَا أَصْبَحُوا فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ قُوَّةٌ أَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ , وَاسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَاءِ , وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ سَعَةٌ أَصَابُوا الشَّاةَ , فَأَصْلَحُوا , فَكَانَتْ تُصْبِحُ مُعَلَّقَةً بِحِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيهِمْ خَالِي حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ , فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ , فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِيرِهِمْ: أَلَا أُخْبِرُ هَؤُلَاءِ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ فَيُخَلُّوا وُجُوهَنَا؟ قَالُوا: نَعَمْ , فَأَتَاهُمْ؟ , فَقَالَ لَهُمْ ذَلِكَ , فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ بِرُمْحٍ , فَأَنْفَذَهُ بِهِ , فَلَمَّا وَجَدَ حَرَامٌ مَسَّ الرُّمْحِ فِي جَوْفِهِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ , فَانْطَوَوْا عَلَيْهِمْ , فَمَا بَقِيَ مِنْهُمْ مُخْبِرٌ , فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا صَلَّى الْغَدَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ , فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى أَبُو طَلْحَةَ يَقُولُ: هَلْ لَكَ فِي قَاتَلِ حَرَامٍ؟ فَقُلْتُ: مَا بَالُهُ؟ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: لَا تَفْعَلْ؛ فَقَدْ أَسْلَمَ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُلَيْمَانَ إِلَّا عَفَّانُ
حضرت ثابت انسانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے 70 انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تذکرہ کیا ہے ۔ ان کی عادت تھی کہ جب رات ہوتی ، تو یہ لوگ مدینہ منورہ میں درس گاہ میں آ جاتے ، یہاں پر قرآن پاک کی درس و تدریس میں تات گزارتے ، جب صبح ہوتی تو جس کسی کے پاس کوئی کھجوریں وغیرہ ہوتیں ، اس کو پانی میں بھگو کر کھا لیتا اور جس کے پاس بکری ذبح کرنے کی گنجائش ہوتی وہ بکری ذبح کر لیتا اور یہ لوگ دن کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجرے کے پاس رہتے ۔ جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو وہاں بھیجا، اس جماعت میں میرے ماموں حرام بن ملحان بھی موجود تھے ۔ یہ لوگ بنی سلیم کے ایک قبیلے کے پاس پہنچے حرام نے اپنے امیر سے کہا: ہم ان لوگوں کو بتا نہ دیں کہ ہم ان کا ارادہ کر کے نہیں آئے تاکہ وہ ہمارا راستہ چھڑ دیں ؟ حرام نے کہا: ٹھیک ہے ۔ چنانچہ حرام ان کے پاس آئے اور آ کر ان کو یہ بات کہی ۔ اسی دوران اس قبیلے کا ایک آدمی اپنا نیزہ لے کر آگے بڑھا اور ان کے سینے میں اتار دیا ، جب حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ میں نیزے کی چبھن کو محسوس کیا تو کہا اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا پھر قبیلے کے لوگ بھی ان پر جھپٹ پڑے ( اور ان تمام لوگوں کو شہید کر دیا گیا ) چنانچہ ان میں کوئی آدمی ایسا نہیں بچا تھا جو آ کر ان لوگوں کو ان کی خبر دیتا ( حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی جنگی مہم پر اتنا غم زدہ نہیں دیکھا جتنا ان لوگوں کی شہادت پر آپ غم زدہ ہوئے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ جب بھی فجر کی نماز پڑھاتے اپنے ہاتھ اٹھا کر ان کے لئے بدعا فرماتے ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ابو طلحہ آئے ۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ حرام کے قاتل کی کوئی خبر سننا چاہتے ہیں ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اس کو کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے انجام تک پہنچا دیا ؟ ابو طلحہ نے کہا: ایسا مت بولو ، وہ اسلام لے آیا ہے ۔ اس حدیث کو سلیمان بن مغیرہ سے صرف عفان نے روایت کیا ہے ۔
ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ صَقْرٍ السُّكَّرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،