المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدَانُ · حديث 655
655 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، بِمَكَّةَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا سَحْبَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَيَّ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ , فَلَزَمَنِي , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ , فَاسْتَنْظَرْتُهُ إِلَى أَنْ أَقْدَمَ , فَقُلْتُ: لَعَلَّنَا أَنْ نَغْنَمَ شَيْئًا , فَجَاءَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهِ حَقَّهُ مَرَّتَيْنِ» , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ , وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنَا بِهَا غَنَائِمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهِ حَقَّهُ» , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ الشَّيْءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَمْ يُرَاجِعْ , وَعَلَيَّ إِزَارِي , وَعَلَى رَأْسِي عِصَابَةٌ , فَلَمَّا خَرَجْتُ قُلْتُ: اشْتَرِ مِنِّي هَذَا الْإِزَارَ , فَاشْتَرَاهُ بِالدَّرَاهِمِ الَّتِي لَهُ عَلَيَّ , فَاتَّزَرْتُ بِالْعِصَابَةِ الَّتِي عَلَى رَأْسِي , فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ عَلَيْهَا شَمْلَةٌ , فَأَلْبَسَتْنِي إِيَّاهَا لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَدْرَدَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ
عبدان بن محمد المروزی سے مروی حدیث ، ابو حدرد اسلمی بیان کرتے ہیں میں نے ایک یہودی کو 4 درہم دینے تھے ، وہ میرے پیچھے ہی پڑ ا ہوا تھا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے جانب روانگی کی تیاری کر رہے تھے میں نے اس سے واپسی تک کی مہلت مانگی میرا خیال تھا کہ وہاں سے کچھ مال غنیمت ہمیں مل جائے گا ۔ وہ شخص مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا ۔ اور شکایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اس کا حق ادا کر دو ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ خیبر کی جانب روانگی کا ارادہ رکھتے ہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ ہمیں وہاں سے کچھ غنیمتیں عطا فرما دے رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اس کا حق ادا کر دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی حکم تین مرتبہ ارشاد فرما دیں پھر اس میں انکار کی گنجائش نہیں ہوتی تھی میں نے تہبند باندھا ہوا تھا اور میرے سر پر عمامہ تھا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں نکلا تو میں نے اس یہودی سے کہا تو مجھ سے یہ تہبند خرید لے اس نے وہ تہبند مجھے اتنے درہموں کے بدلے خرید لیا جتنے درہم میں نے اس کے دینے تھے میں نے وہ تہبند اس یہودی کے سپر دکر دیا اور خود پنے سر والا امامہ تہبند کے طور پر باندھ لیا ۔ اس کے بعد ایک عورت کا وہاں سے گزر ہوا اس نے چادر اوڑھ رکھی تھی اس نے وہ چادر مجھے پہننے کے لیے دے دی۔اس حدیث کو ابو حدرد سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں قتیبہ منفرد ہیں ۔
Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 655
