500 - حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلِ بْنِ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: حَمَلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي حَمَلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي , فَأَعِنِّي فِيهَا , فَقَالَ: «بَلْ نَحْتَمِلُهَا عَنْكَ يَا قَبِيصَةُ , هِيَ لَكَ فِي الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ» ثُمَّ قَالَ: " يَا قَبِيصَةُ , إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِهِ أَرَادَ بِهَا الْإِصْلَاحَ , فَسَأَلَ فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرِبَ أَمْسَكَ , وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ , فَاجْتَاحَتْ , فَأَجَاحَتْ مَالَهُ , فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشِ , وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ , فَمَشَى مَعَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ , فَيَقُولُونَ: إِنَّ فُلَانًا قَدْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ , فَيَسْأَلُ , فَإِذَا أَصَابَ قِوَامًا أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَمْسَكَ , فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيِّ الْقَاضِي إِلَّا أَبُو هَمَّامٍ تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلٍ , عَنْ أَبِيهِ
حضرت قبیصہ بن مخارق الہلالی فرماتے ہیں ، میں نے اپنی قوم کو دیت دینا تھی ، میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کی : میری قوم کی جانب سے میرے ذمے دیت دینا ہے ، آپ کو اس سلسلے میں میری مدد فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے قبیصہ ( مدد کو رہنے دیجیے ) آپ کی طرف سے آپ کی دیت ہم ادا کر دیتے ہیں ، جب صدقات کا مال آئے گا تو اس میں سے تجھے مل جائیں گے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے قبیصہ صرف تین مواقع پر سوال کرنا جائز ہے ۔ 1۔ ایک آدمی جو اصلاح کے ارادے سے اپنی قوم کا کوئی تاوان اپنے ذمے لیتا ہے تو وہ اس کو پورا کرنے کے لئے سوال کرتا ہے ، جب مال پورا ہو جائے یا پورا ہونے کے قریب ہو جائے تو سوال کرنے سے رک جائے ۔ 2۔ ایسا شخص جس پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اس کو محتاج کر دے ، وہ سوال کرے اور اپنی گزر اوقات کے مطابق مال جمع کر لے ۔ 3۔ ایسا آدمی جو فاقہ کشی میں مبتلا ہو ، اس کے ساتھ اس کی قوم کے تین با شعور لوگ موجود ہوں اور وہ کہیں فلاں آدمی فاقہ کشی میں مبتلا ہے اور وہ اس کے لئے سوال کریں ، جب اس کی ضرورت روزی جمع ہو جائے اور بسر اوقات کے مطابق مال جمع ہو جائے تو سوال کرنے سے رک جائے ۔ ان تین لوگوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور جو اس طرح( کہ اس کے پاس تین میں سے کوئی بھی عذر نہ ہو ) سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھاتا ہے ۔ اس حدیث کو عبید اللہ بن الحسن العنبری القاضی سے صرف ابو ہمام نے روایت کیا ہے اور اس کو صالح بن مقاتل اپنے والد سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔
قَوْمِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: ← حَمَلْتُ حَمَالَةً ← قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، ← کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← أَبِي ← صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلِ بْنِ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ،