Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 38

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، إِجَازَةً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِمَكَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْجَارُودِيَّ، يَقُولُ: ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ ابْنَ عُلَيَّةَ فَقَالَ: أَنَا مُخَالِفٌ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، وَفِي قَوْلِهِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَسْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُ، أَنَا أَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الَّذِي كَلَّمَ مُوسَى مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَذَاكَ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ كَلَامًا أَسْمَعَهُ مُوسَى مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ قُلْنَا: وَلِأَنَّ اللَّهَ قَالَ مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ قَالُوا: {إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ} [المدثر: 25] ، يَعْنُونَ الْقُرْآنَ، فَمَنْ زَعَمَ أَنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ فَقَدْ جَعَلَهُ قَوْلًا لِلْبَشَرِ، وَهَذَا مِمَّا أَنْكَرَهُ اللَّهُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛ وَلِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: {قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا} [الكهف: 109] ، فَلَوْ كَانَتِ الْبِحَارُ مِدَادًا يُكْتَبُ بِهِ لِنَفِدَتِ الْبِحَارُ وَتَكَسَّرَتِ الْأَقْلَامُ وَلَمْ يَلْحَقِ الْفَنَاءُ كَلِمَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا لَا يَلْحَقُ الْفَنَاءُ عِلْمَ اللَّهِ؛ لِأَنَّ مَنْ فَنِيَ كَلَامُهُ لَحِقَتْهُ الْآفَاتُ وَجَرَى عَلَيْهِ السُّكُوتُ، فَلَمَّا لَمْ يَجْرِ ذَلِكَ عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ صَحَّ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ مُتَكَلِّمًا وَلَا يَزَالُ مُتَكَلِّمًا، وَقَدْ نَفَى النَّفَادَ عَنْ كَلَامِهِ كَمَا نَفَى الْهَلَاكَ عَنْ وَجْهِهِ. وَأَمَّا قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ} [التكوير: 19] ، مَعْنَاهُ: قَوْلٌ تَلَقَّاهُ عَنْ رَسُولٍ كَرِيمٍ أَوْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولٍ كَرِيمٍ، أَوْ نَزَلَ بِهِ رَسُولٌ كَرِيمٌ. فَقَدْ قَالَ: {فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ} [التوبة: 6] ، فَأَثْبَتَ أَنَّ الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَكُونُ شَيْءٌ وَاحِدٌ كَلَامًا لِلرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكلَامًا لِلَّهِ، دَلَّ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْأَوَّلِ مَا قُلْنَا، وَقَوْلُهُ: {إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا} [الزخرف: 3] مَعْنَاهُ: سَمَّيْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَأَنْزَلْنَاهُ مَعَ الْمَلَكِ الَّذِي أَسْمَعْنَاهُ إِيَّاهُ حَتَّى نَزَلَ بِهِ بِلِسَانِ الْعَرَبِ لِيَعْقِلُوا مَعْنَاهُ، وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ} [النحل: 62] ، يَعْنِي: يَصِفُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَلَمْ يُرِدْ بِهِ الْخَلْقَ. وَقَوْلُهُ: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ} [الأنبياء: 2] يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ ذِكْرًا غَيْرَ الْقُرْآنِ، وَهُوَ كَلَامُ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَعْظِهِ إِيَّاهُمْ بِقَوْلِهِ {وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ} [الذاريات: 55] ؛ وَلِأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: لَا يَأْتِيهِمْ ذِكْرٌ إِلَّا كَانَ مُحْدَثًا، وَإِنَّمَا قَالَ: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٌ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ} [الأنبياء: 2] ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ ذِكْرًا غَيْرَ مُحْدَثٍ ثُمَّ إِنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ ذِكْرَ الْقُرْآنِ لَهُمْ وَتِلَاوتَهُ عَلَيْهِمْ وَعِلْمَهُمْ بِهِ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُحْدَثٌ، وَالْمَذْكُورُ الْمَتْلُوُّ الْمَعْلُومُ غَيْرُ مُحْدَثٍ، كَمَا أَنَّ ذِكْرَ الْعَبْدِ لِلَّهِ وَعِلْمَهُ بِهِ وَعِبَادَتَهُ لَهُ مُحْدَثٌ، وَالْمَذْكُورُ الْمَعْلُومُ الْمَعْبُودُ غَيْرُ مُحْدَثٍ، وَحِينَ احْتُجَّ بِهِ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ تَنْزِيلُهُ إِلَيْنَا هُوَ الْمُحْدَثُ لَا الذِّكْرُ نَفْسُهُ مُحْدَثٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَذَا الَّذِي أَجَابَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ ظَاهِرٌ فِي الْآيَةِ، وَإِتْيَانُهُ تَنْزِيلُهُ عَلَى لِسَانِ الْمَلَكِ الَّذِي أَتَى بِهِ، وَالتَّنْزيلُ مُحْدَثٌ، وَقَدْ أَجَابَ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالْجَوَابِ الْأَوَّلِ. وَأَمَّا تَسْمِيَةُ عِيسَى بِكَلِمَةِ اللَّهِ فَعَلَى مَعْنَى أَنَّهُ صَارَ مُكَوَّنًا بِكَلِمَةِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَبٍ كَمَا صَارَ آدَمُ مُكَوَّنًا بِكَلِمَةِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَبٍ وَلَا أُمٍّ، وَقَدْ بَيَّنَهُ بِقَوْلِهِ: {إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ} [آل عمران: 59] . وَقَدْ رُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ» ، وَالْقُرْآنُ فِيمَا كُتِبَ فِي الذِّكْرِ لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ} [البروج: 22] . وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى قِدَمِ الْقُرْآنِ وَوُجُودِهِ قَبْلَ وُقُوعِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ الْحَدِيثُ الصَّحِيحُ الَّذِي

ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں حسن بن رشیق نے اجازۃ خبر دی کہا ہم سے محمد بن سفیان بن سعد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن اسماعیل اصبہانی نے مکہ میں بیان کیا کہا میں نے جارودی کو کہتے ہوئے سنا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں ہر چیز میں اسکا مخالف ہو اور لا الہ الا اللہ کے بارے میں فرمایا: میں ایسے نہیں کہتا جیسے وہ کہتا ہے : میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا پردے کے پیچھے سے ، اور وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنا کلام پیدا کیا اور اسے حضرت موسیٰ کوسنا یا پردے کے پیچھے سے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ہم کہتے ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ مشرکین نے کہا: ترجمہ: یہ نہیں مگر آدمی کا کلام۔ (المدثر :25) اس سے ٍوہ قرآن مراد لیتے ہیں پس جس نے گمان کیا کہ قرآن مخلوق ہے تو اس نے اسے بشر کا کلام ٹھہرا دیا یہ انہی باتوں میں سے ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر انکار کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: تم فرما دو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہو جائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں۔ پس اگر سمند روشنائی بن جائیں جس سے لکھا جائے تو سمندر ختم ہو جائیں گے اور قلمیں ٹوٹ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ عزوجل کے کلمات کو فناء لاحق نہیں ہو سکتی جیسے اللہ تعالیٰ کے علم کو فناء لاحق نہیں ہوتی کیونکہ جس کا کلام فانی ہو جائے اسے آفات لاحق ہو جاتی ہیں اور اس پر سکوت جاری ہو جاتا ہے تو جب آفات وسکوت ہمارے رب عزوجل پر جاری نہیں ہوتا تو ثابت ہو گیا کہ وہ ہمیشہ سے متکلم ہے اور ہمیشہ متکلم رہے گا اور اس نے خود اپنے کلام کے ختم ہونے کی نفی کی جیسا کہ اپنی ذات کی ہلاکت کی اس نے نفی کی۔ رہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ترجمہ: بے شک یہ عزت والے رسول کا پڑھنا ہے۔ (التکویر: 19) اس کا معنی یہ ہے : یہ وہ قول ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول کریم(جبریل) سے ملا ہے یا جسے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے رسول کریم سے سنا ہے یا جسے لیکر رسول کریم اترا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔ (التوبة:6)چنانچہ اس نے ثابت کر دیا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور رسول کا کلام اور اللہ تعالیٰ کا کلام ایک ہی چیز نہیں ہے یہ اس بات کی دلیل ہے پہلی آیت سے مراد وہی ہے جو ہم نے بیان کی۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ترجمہ: ہم نے اسے عربی قرآن اتارا۔(الزخرف:3) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کا نام قرآن عربی رکھا اور اسے اس فرشتے کیساتھ اتارا جسے ہم نے سنایا تاکہ وہ عربی زبان میں اتارے جس کی وجہ سے اہل عرب اسکا معنی سمجھیں یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرمایا : ترجمہ: اور اللہ کے لئے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لئے نا گوار ہے۔ (النحل:62) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ بیان کرتے ہیں جو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور اس سے مخلوق مراد نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ترجمہ: جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے۔ ذکر سے مراد احتمال یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے : ذکر سے مراد قرآن کے علاوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کو وعظ ونصیحت فرمانا ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کے ساتھ فرمایا: ترجمہ: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔ (الذاريات:55) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ترجمہ: جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ذکر (قرآنی نصیحت یعنی قرآن) حادث نہیں ہے اور جس کا ذکر کیا گیا ہے، جو پڑھا گیا ہے وہ حادث نہیں ہے جیسا کہ بندے کا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کا اللہ تعالیٰ کو جاننا اور اس کی عبادت کرنا حادث ہے اور جس کا ذکر کیا گیا، جسے جانا گیا، جس کی عبادت کی گئی وہ حادث نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کا قرآن کے متعلق قول فیصل : جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ پر اسی آیت سے(قرآن کے مخلوق ہونے پر) دلیل پکڑی گئی تو امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اس میں یہ احتمال ہے کہ اس کا ہماری طرف اتارتا حادث ہو نہ کہ قرآن خود حادث ہو۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو جواب دیا وہ اس آیت میں ظاہر ہے اور اس کے آنے سے مراد اس فرشتے کی زبان پر نازل کرنا ہے جو اسے لے کر آیا اور اتارنا حادث ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے پہلا جواب دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام’’کلمۃ اللہ‘‘ کی وجہ تسمیہ : ا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’کلمۃ اللہ‘‘ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا وجود بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے کلمے سے ہوا ہے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا وجود بغیر ماں اور باپ کے اللہ تعالیٰ کے کلمے سے ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کیساتھ اس بات کو بیان فرمایا : ترجمہ:عیسیٰ کی کہاوت اللہ کی نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا وہ فوراً ہو جاتا ہے۔ (آل عمران:59)لوح محفوظ میں ہر شے لکھی گئی ہے: ہم نے صحیح حدیث میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذکر(لوح محفوظ) میں ہر شے لکھی گئی۔ اور قرآن بھی ان چیزوں میں سے ہے جو لوح محفوظ میں لکھی گئی ہیں کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : ترجمہ: بلکہ وہ کمال شرف والا قرآن ہے ،لوح محفوظ میں۔(بروج:22)اس حدیث میں قرآن کے قدیم ہونے کی دلیل ہے اور اسکا وجود حاجت پیش آنے سے پہلے ہے۔اس کے دلائل میں سے ایک وہ حدیث صحیح ہے۔

الجارودي ← محمد بن إسماعيل الأصبهاني ← مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← الحسن بن رشيق ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 38

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 39

أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ [ص:99] إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَاريُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فَيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَكَلَامِهِ، وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَقَرَّبَكَ اللَّهُ نَجِيًّا، فَبِكَمْ وُجِدَتِ التَّوْرَاةُ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ مُوسَى: بِأَرْبَعِينَ عَامًا، قَالَ آدَمُ: وَجَدْتَ فِيهَا {وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى} [طه: 121] ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَتَلُومُنِي أَنْ أَعْمَلَ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَعْمَلُهُ بِعِلْمِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً "، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى» قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا التَّارِيخُ يَرْجِعُ إِلَى إِظْهَارِهِ ذَلِكَ لِمَنْ شَاءَ مِنْ مَلَائِكَتِهِ، وَفِي ذَلِكَ مَعَ الْآيَةِ دِلَالَةٌ عَلَى وُجُودِهِ قَبْلَ وُقُوعِ الْخَطِيئَةِ مِنْ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ [ص:100]. وَكلَامُ اللَّهِ تَعَالَى مَوْجُودٌ فِيمَا لَمْ يَزَلْ، مَوْجُودٌ فِيمَا لَا يَزَالُ، وَبإِسْمَاعِهِ كَلَامَهُ مَنْ شَاءَ مِنْ مَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَعِبَادِهِ مَتَى شَاءَ، صَارَ كَلَامُهُ مَسْمُوعًا لَهُ بِلَا كَيْفٍ، وَالْمَسْمُوعُ كَلَامُهُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ وَلَا يَزَالُ مَوْصُوفًا بِهِ، وَكَلَامُهُ لَا يُشْبِهُ كَلَامَ الْمَخْلُوقِينَ، كَمَا لَا يُشْبِهُ سَائِرُ أَوْصَافِهِ أَوْصَافَ الْمَخْلُوقِينَ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا مناظرہ: ہمیں جس کی خبر دی محمد بن عبداللہ الحافظ نے کہا ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن یعقوب اور ابو الفضل بن ابراہیم نے دونوں نے کہا: ہم سے بیان کیا احمد بن سلمہ نے کہا ہم سے بیان کیا اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا ہم سے بیان کیا انس بن عیاض نے کہا ہم سے بیان کیا حارث بن ابی ذباب نے وہ یزید بن ہرمز اور عبدالرحمٰن اعرج سے دونوں نے کہا: ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام نے اپنے رب کے پاس مناظرہ کیا تو حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ، چنانچہ حضرت موسیٰ نے کہا: آپ وہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور آپ کے لیے اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو زمین کی طرف اتار دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: آپ وہ موسیٰ ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کیساتھ منتخب فرمایا اور آپ کو(تورات کی تختیاں دیں جن میں ہر شے کا واضح بیان ہے اور آپ کو راز داری کے لیے اللہ تعالیٰ نے قریب کیا تو آپ نے(میرے متعلق یہ بات) تورات میں میرے تخلیق سے کتنا عرصہ پہلے پائی ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: چالیس سال حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: کیا تو نے اس میں پایا۔ وَعَصَٰی اٰدَمُ رَبَّہُ فَغَوٰی(طہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :121) ترجمہ: اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔حضرت موسیٰ نے کہا: ہاں ،تو حضرت آدم نے کہا: آپ مجھے میرے ایسے عمل پر ملامت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جس کا کرنا مجھ پر میرے پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: پس حضرت آدم، حضرت موسیٰ پر غالب آ گئے‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں میں سے جن کے لیے چاہا ان کے سامنے اس بات کے اظہار کرنے کی طرف یہ تاریخ لوٹتی ہے اور اس میں آیت کیساتھ اس کے کلام کے وجود کی دلیل ہے حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش واقع ہونے سے پہلے۔ اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا اور وہ جب چاہتا ہے اپنے فرشتوں ، رسولوں اور بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے انہیں اپنا کلام سناتا ہے، اسکا کلام بغیر کسی کیفیت کے سنا جاتا ہے اور سنا جانے والا اسی کا کلام ہوتا ہے جو ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اس صفت کیساتھ موصوف ہے اور اسکا کلام مخلوق کے کلام کے مشابہ نہیں ہے جیسا کہ اس کے تمام اوصاف مخلوقات کے اوصاف سے مشابہ نہیں ہیں۔ باللہ التوفیق۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ← الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ [ص:99] إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 39

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 40

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ، أنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنا إِسْرَائِيلُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالْمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَمَّا أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَلِّغَ الرِّسَالَةَ جَعَلَ يَقُولُ: يَا قَوْمِ، لِمَ تُؤْذُونَنِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي "، يَعْنِي الْقُرْآنَ

ابو علی حسن بن ابراہیم بن احمد بن شان نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہمیں حمزہ بن محمد بن عباس نے خبر دی کہا ہم سے عباس بن محمد الدوری نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن کثیر العبدی نے بیان کیا کہا ہمیں اسرائیل نے خبر دی کہا ہم سے عثمان بن مغیرہ نے نے بیان کیا وہ سالم ابن جعد سے وہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام رسالت پہنچانے کا حکم دیا گیا تو آپ فرمانے لگے: ’’اے قوم !تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو کہ میں اپنے رب کا کلام تم تک پہنچاتا ہوں‘‘ یعنی قرآن پہنچاتا ہوں۔

يَا قَوْمِ، لِمَ تُؤْذُونَنِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي يَعْنِي الْقُرْآنَ ← لَمَّا أُمِرَ النَّبِيُّ أَنْ يُبَلِّغَ الرِّسَالَةَ جَعَلَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 40

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 41

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ثنا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، وَأَبِي، مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعَهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» [ص:101] قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: فَاسْتعَاذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ وَغَيْرِهِ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ كَمَا اسْتَعَاذَ بِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، فَكَمَا أَنَّ وَجْهَهُ الَّذِي اسْتَعَاذَ بِهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ فَكَذَلِكَ كَلِمَاتُهُ الَّتِي اسْتَعَاذَ بِهَا غَيْرُ مَخْلُوقَةٍ، وَكلَامُ اللَّهِ وَاحِدٌ لَمْ يَزَلْ وَلَا يَزَالُ، وَإِنَّمَا جَاءَ بِلَفْظِ الْجَمْعِ عَلَى مَعْنَى التَّعْظِيمِ كَقَوْلِهِ: {إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ} [الحجر: 9] ، وَإِنَّمَا سَمَّاهَا تَامَّةً؛ لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ فِي كَلَامِهِ عَيْبٌ أَوْ نَقْصٌ كَمَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي كَلَامِ الْآدَمِيِّينَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوتے وقت کی دعا: حسین بن محمد بن محمد بن علی المروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا عباس بن عبدالعظیم نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے احوص بن جواب نے بیان کیا کہا ہم سے عمار بن رزیق نے بیان کیا وہ ابو اسحاق سے وہ حارث اور ابو میسرہ سے وہ حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹتے وقت کہتے :”اے اللہ ! میں تیرے وجہ کریم کی پناہ مانگتا ہوں ، اور تیرے مکمل کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی کو تو پکڑنے والا ہے ،اے اللہ ! تو ہی قرض ادا کرواتا اور گناہ معاف فرماتا ہے ،اے اللہ ! تیرے لشکر کو شکست نہیں ہو گی اور نہ تیرے وعدے میں وعدہ خلافی ہو گئی اور تیرے سامنے کسی طاقت والے کی طاقت نفع نہیں دیتی تو ہر عیب سے پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں‘‘۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث اور اس کے علاوہ دیگر احادیث میں اللہ تعالیٰ کے کلمات کی پناہ طلب کی جیسا کہ آپ نے اسکے وجہ کریم کی پناہ طلب کی پس جیسے اسکا وہ وجہ کریم جس کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ طلب کی وہ مخلوق نہیں ہے اور ایسے ہی اس کے وہ کلمات جن کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ طلب کی وہ بھی مخلوق نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام ایک ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور لفظ جمع کیساتھ تو صرف تعظیم کے لیے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا خود فرمان ہے : ترجمہ: بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ (الحجر:9)اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلمات خداوندی کو ’’تامۃ‘‘فرمایا کیونکہ اس کے کلام میں کوئی عیب یا نقص ہونا ممکن نہیں جیسا کہ لوگوں کے کلاموں میں عیب ونقص ہوتا ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ، وَأَبِي مَيْسَرَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِىٍّ الرُّوذْبَارِىُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 41

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 42

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْجَرَّاحَ الْكِنْدِيَّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَذَاكَ الَّذِي أَجْلَسَنِي هَذَا الْمَجْلِسَ، وَكَانَ يُقْرِئُ الْقُرْآنَ، قَالَ: وَفَضْلُ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ الرَّبِّ عَلَى خَلْقِهِ، وَذَلِكَ بِأَنَّهُ مِنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ: وَذَلِكَ بِأَنَّهُ مِنْهُ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّهُ مِنْ صِفَاتِهِ

بہترین لوگ کون؟ ابو طاہر فقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے خبر دی کہا ہم سے حامد بن محمود نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن سلیمان الرازی نے بیان کیا کہا میں نے جراح کندی سے سنا وہ علقمہ بن مرثد سے وہ ابو عبدالرحمٰن السلمی سے وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ ابو عبدالرحمٰن نے کہا : یہی وہ بات ہے جس نے مجھے اس جگہ بٹھایا ہے اور وہ قرآن پڑھتے تھے۔ فرمایا: قرآن کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہے جیسے رب تعالیٰ کی فضیلت اس کی تمام مخلوق پر ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن اسی سے ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کا یہ کہنا: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن اسی سے ہے‘‘۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ کلام اس کی صفات میں سے ہے۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← الجراح الكندي ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 42

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 43

وَأنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، ثنا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ شَغَلَهُ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ عَنْ مَسْأَلَتِي [ص:102] أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِيَ السَّائِلِينَ، وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ " قَالَ الْأُسْتَاذُ رَحِمَهُ اللَّهُ: قَالَ أَصْحَابُنَا: لَمَّا كَانَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ أَنَّهُ قَدِيمٌ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، كَانَ مِنْ فَضْلِ كَلَامِهِ عَلَى كَلَامِ خَلْقِهِ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ غَيْرُ مَخْلُوقٍ "

قرآن پاک کی فضیلت: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ الکلبی نے بیان کیا کہا ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن حسن بن ابو یزید نے بیان کیا وہ عمرو بن قیس سے وہ عطیہ سے وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے : جس کو تلاوت قرآن نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول کر دیا تو جو میں مانگنے والوں کو عطا کرتا ہوں اس شخص کو اس سے افضل عطا کروں گا اور کلام اللہ کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی فضیلت اسکی مخلوق پر‘‘۔استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہمارے اصحاب نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کی فضیلت اس کی مخلوق پر اس بات میں ہے کہ وہ قدیم ہے مخلوق نہیں ہے اور اس کے کلام کی فضیلت اس کی مخلوق کے کلام پر ہے تو وہ کلام بھی ہمیشہ سے ہے اور غیر مخلوق ہوا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← محمد بن الحسن بن أبي يزيد ← شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ← أَبُو أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وأنا أبو عبد الله الحافظ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 43

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 44

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ سُرَيْجِ بْنِ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نِيَارِ بْنِ مُكْرَمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرَأَ عَلَيْهِمْ قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الم غُلِبَتِ الرُّومُ} [الروم: 2] ، فَقَالُوا: كَلَامُكَ هَذَا، أَمْ كَلَامُ صَاحِبِكَ؟ قَالَ: لَيْسَ بِكلَامِي وَلَا كَلَامِ صَاحِبِي، وَلَكِنَّهُ كَلَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید الصفار نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو معمر الھندی نے بیان کیا وہ شریح بن نعمان سے راوی کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ عروہ بن زبیر سے وہ نیار بن مکرم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا فرمان پڑھا:الَمّ غُلِبَتِ الرُّوْمُ(الروم : 1) ترجمہ: روی مغلوب ہوئے۔ تو لوگوں نے کہا : یہ آپ کا کلام ہے یا آپ کے صاحب(سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ؟ تو آپ نے فرمایا: یہ میرا کلام ہے نہ میرے صاحب کا لیکن اللہ تعالیٰ عزوجل کا کلام ہے۔

كَلَامُكَ هَذَا، أَمْ كَلَامُ صَاحِبِكَ؟ ← نِيَارِ بْنِ مُكْرَمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، قَرَأَ عَلَيْهِمْ قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ: ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← أبو معمر الهذلي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 44

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 45

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَقَرَأَ ابْنٌ لَهُ آيَةً مِنَ الْإِنْجِيلِ، فَضَحِكْتُ، فَقَالَ: أَتَضْحَكُ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "

ابو علی حسین بن محمد روذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن داسہ نے خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی زائدہ نے بیان کیا وہ مجالد سے وہ عامر شعبی سے وہ عامر بن شہر سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا : میں شاہ نجاشی کے پاس تھا تو اس کے بیٹے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی تو میں ہنس پڑا تو شاہ نجاشی نے کہا: کیا تو اللہ عزوجل کے کلام سے ہنستا ہے۔

أَتَضْحَكُ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ ← کُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَقَرَأَ ابْنٌ لَهُ آيَةً مِنْ الْإِنْجِيلِ فَضَحِکْتُ ← عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ ← عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ← مجالد ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 45

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 46

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نوْفلٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَارًا لِخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، فَخَرَجْنَا مَرَّةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: يَا هَنَاهُ، تَقَرَّبْ [ص:104] إِلَى اللَّهِ بِمَا اسْتَطَعْتَ، وَإِنَّكَ لَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَلَامِهِ

قرب خداوندی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو زکریا العنبری نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبد السلام نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہمیں جریر نے خبر دی وہ منصور سے وہ ہلال بن یساف سے وہ فروہ بن نوفل اشجعی سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: میں حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پڑوسی تھا ایک مرتبہ ہم مسجد سے نکلے تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا :’’اوئے ! اپنی طاقت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر ! اور تو ہرگز کسی ایسی چیز سے تو اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جو اسے اس کے کلام سے زیادہ محبوب ہو‘‘(یعنی سب سے زیادہ محبوب چیز اللہ تعالیٰ کو اسکا کلام ہے)۔

كُنْتُ جَارًا لِخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، فَخَرَجْنَا مَرَّةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِيَدِي ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 46

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 47

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، حَدَّثَنِي أُنَاسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كَلَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

سب سے سچا کلام : ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے حسن بن علی بن عفان نے بیان کیا کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا وہ عبدالرحمٰن بن عابس سے راوی کہا مجھ سے ایاس بیان کیا وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے:’’ سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کا کلام ہے‘‘۔

فِي خُطْبَتِهِ: إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كَلَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ ← أُنَاسٌ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 47

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 48

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ» وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ہمیں خبر دی کہا ابو عمر واحمد بن محمد بن عیسیٰ الصفار نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا کہا ہم سے عثمان بن خرزاد نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن خداش نے بیان کیا کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا کہا ہمیں یونس بن یزید نے خبر دی وہ زہری سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’ قرآن اللہ کا کلام ہے‘‘۔ اور ابو زعراء سے بھی ایسی روایت کی گئی وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

عُمَرَ، ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← عُمَرُ «الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ» وَرُوِيَ أَيْضًا ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الصَّفَّارُ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 48

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 49

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْ أَنَّ قُلُوبَنَا طَهُرَتْ مَا شَبِعْنَا مِنْ كَلَامِ ربِّنَا، وَإِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَيَّ يَوْمٌ لَا أَنْظُرُ فِي الْمُصْحَفِ قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَا حَكَّمْتُ مَخْلُوقًا، مَا حَكَّمْتُ إِلَّا الْقُرْآنَ "

قرآن کے متعلق حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمان: ابو بکر بن حارث الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو محمد بن حیان نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن عباس بن ایوب نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عمر بن ایوب الصریفینی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا ہم سے اسرائیل ابو موسیٰ نے بیان کیا کہا میں حسن سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر ہمارے دل پاک ہو جائیں تو ہمارے رب کے کلام سے سیر نہ ہوں اور میں یہ بات ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی دن ایسا آئے جس میں ، میں مصحف(قرآن) نہ دیکھوں۔ حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قرآن کے متعلق فرمان : استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم انے اپنی کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا: میں نے کسی مخلوق کو حاکم نہیں بنایا میں تو صرف قرآن کو حاکم بنایا ہے۔

أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ لَوْ ← الْحَسَنِ، ← إِسْرَائِيلَ بْنِ مُوسَى ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو عُمَرَ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 49

chevron_left Previous
1234…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him