Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 26

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْمَوَّالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأَمْرِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ لَنَا: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ؛ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ وَتُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ الَّذِي تُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي مِثْلَ الْأَوَّلِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "، أَوْ قَالَ: «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» . قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ إِثْبَاتُ صِفَةِ الْعِلْمِ وَصِفَةِ الْقُدْرَةِ وَاسْتِخَارَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا، وَقَدْ ذَكَرْنَا شَوَاهِدَهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استخارہ کی تعلیم میں اہتمام فرمانا اور استخارہ کی دعا: ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید الصفار نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا وہ عبدالرحمٰن بن ابو الموال سے وہ محمد بن منکد ر سے وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر معاملے میں ہمیں استخارے کی اس طرح تعلیم دیا کرتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ کی تعلیم دیا کرتے تھے، آپ ہم سے فرماتے : ’’جب تم میں سے کوئی کسی امر کا ارادہ کرے تو وہ دو رکعات پڑھے فرض کے علاوہ پھر وہ کہے : اے اللہ میں تیرے علم سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں ،تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو قادر ہے میں قادر نہیں ہوں، تو تمام غیوب کا جاننے والا ہے ،اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر۔ یہاں پر اس معاملے کا نام لے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہو۔ میرے دین ،معاش ،لوٹنے اور میرے انجام کار میں بہتر ہو تو اسے میرے مقدر فرما دے اور اسے میرے لیے آسان فرمادے اور اس میں مجھے برکت دے اور اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ میرے دین ،معاش ،لوٹنے اور میرے انجام کار میں میرے لیے برا ہے پہلے کی طرح یہاں بھی وہی الفاظ دہرائے۔تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور خیر میرے مقدر میں فرما جہاں بھی ہو پھر مجھے اس پر راضی رکھ !‘‘ راوی کا شک ہے کہ یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا : ’’یا میرے معاملے کی جلدی یا دیری میں‘‘۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث صحیح میں صفت علم صفت قدرت اور ان دونوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استخارہ کرنے کا اثبات ہے اس کے شواہد ہم نے اپنی کتاب ”الاسماء والصفات‘‘ میں ہم نے ذکر کیئے ہیں۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 26

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 27

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ [ص:84]، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، وَارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، وَارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ؛ إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، لَا مُكْرِهَ لَهُ " قَالَ الْأُسْتَاذُ: وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ الْمَشِيئَةِ لَهُ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ وَلَهُ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ

دعا میں کیا نہیں کہنا چاہیے:ابو طاہر محمد بن حمد الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر القطان نے ہم سے بیان کیا کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا کہا ہم سے معمر نے بیان کیا وہ ہمام بن منبہ سے راوی آپ نے کہا یہ وہ روایت ہے جسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم سے بیان کیا ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی | اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے مجھے بخش دے ،اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما، اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما، وہ اپنے سوال میں پختہ رہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔ استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس میں اللہ تعالیٰ کے مشیت کا اثبات ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس کے بہت سے شواہد ہیں۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أبو طاهر محمد بن محمد الفقيه

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 27

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 28

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: يَنْتَهِي الْقُرْآنُ كُلُّهُ إِلَى: {إِنَّ ربَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ} [هود: 107] وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ أَوْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ إِثْبَاتُ الْإِرَادَةِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّ مَا أَوْعَدَ عَلَيْهِ عِبَادَهُ فِيمَا دُونَ الشِّرْكِ إِلَى مَشِيئَتِهِ كَمَا قَالَ: {وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48]

سارے قرآن کا منتہیٰ : ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ الحرفی نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہم سے احمد بن سلیمان النجاد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبداللہ بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے عباس النرسی نے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن سلیمان نے بیان کیا وہ جریری سے وہ ابو نضرہ سے راویت کرتے ہیں : سارا قرآن اس بات کی طرف جاتا ہے۔ بے شک تیرا رب جو چاہے کرنے والا ہے۔ اور سلیمان تیمی نے ابو نضرہ سے روایت کی وہ حضرت جابر ، حضرت ابو سعید یا بعض دیگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے اسی معنی میں روایت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ارادہ اور جو اس نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے شرک کے علاوہ وہ اسکی مشیت پر موقوف ہے اس بات کا اثباب ان احادیث مذکورہ میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔ (النساء:48)

أَبِي نَضْرَةَ ← يَنْتَهِي الْقُرْآنُ كُلُّهُ إِلَى: وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبَّاسُ النَّرْسِيُّ، ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 28

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 29

وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتِ، لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ تَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ سَمِعُ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: 1] ، وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ السَّمْعِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

ابو محمد عبداللہ بن احمد اصبہانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو سعید الاعرابی نے خبر دی کہا ہم سے سعدان بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ تمیم بن سلمہ سے وہ عروہ سے وہ حضرت اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں : تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی سماعت تمام آوازوں کو وسیع ہے۔ یقینی بات ہے کہ ایک جھگڑا کرنے والی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر آئی اور میں گھر کے ایک کونے میں تھے (اس نے اتنی آہستہ آواز میں گفتگو کی کہ) میں نے اس کی گفتگو نہیں سنی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ترجمہ: بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے۔(المجادلة:1) اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے صفت سمع کا اثبات ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 29

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 30

وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ الْإِيمَانِ قَالَ، يَعْنِي السَّائِلَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ؛ فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ الرُّؤْيَةِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالرُّؤْيَةُ وَالْبَصَرُ بِمَعْنًى وَاحِدٍ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمٌ حَارٌّ أَلْقَى اللَّهُ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَشَدَّ حَرَّ هَذَا الْيَوْمِ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجَهَنَّمَ: إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي اسْتَجَارَ بِي مِنْكِ [ص:86]، وَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنِّي قَدْ أَجَرْتُهُ "، وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ مَعْنَاهُ

احسان کیا ہے؟ ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے محمد بن عبیداللہ بن المنادی نے بیان کیا کہا یونس بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہا معتمر بن سلیمان نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ یحییٰ بن یعمر سے وہ حضرت ابن عمر سے وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :حدیث ایمان میں سائل نے کہا: اے محمد!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) احسان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اسے دیکھتا ہے پس اگر تو اسے نہ دیکھے تو بلاشبہ وہ دیکھتا ہے‘‘۔امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے مفت رؤیت کا اثبات ہے۔ رؤیت اور بصیر ایک ہی معنی ہے۔ بندے کا جہنم کی گرمی سے پناہ مانگنا اور اللہ تعالیٰ کا کرم فرمانا : اور ہم نے گرمی وٹھنڈک کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جب گرم دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی سمع و بصر اہل زمین کی طرف متوجہ فرماتا ہے ، پھر جب بندہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں آج کتنی گرمی ہے؟ اے اللہ ! مجھے جہنم کی گرمی سے پناہ دے !تو اللہ عزوجل جہنم سے فرماتا ہے:میرے بندوں میں سے ایک بندے نے میری پناہ طلب کی ہے تجھ سے اور میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے پناہ دے دی ہے‘‘۔ اور ٹھنڈک کے دن بھی اس کی مثل کہتا ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 30

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 31

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَأَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، حَدَّثَاهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ؛ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ " وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى: «بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ» . وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ صِفَةِ الْكَلَامِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّمَا قَالَ بِكَلِمَاتٍ عَلَى طَرِيقِ التَّعْظِيمِ. وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ تَكْلِيمًا» [ص:87]. وَفِي حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سيُكَلِّمُهُ ربُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَاجِبٌ وَلَا تَرْجُمَانٌ» أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرهُ

جب کسی جگہ قیام کرے تو یہ دعا پڑھے: محمد بن عبداللہ الحافظ اور یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا: ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے بحر بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہا مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی وہ یزید بن ابی حبیب سے اور اپنے باپ حارث بن یعقوب سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے یعقوب بن عبداللہ بن الاشج سے بیان کیا وہ بشر بن سعید سے راوی وہ حضرت سعد بن ابو وقاص سے وہ حضرت خولہ بنت حکیم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فر ماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی کسی مقام میں اترے تو کہے: میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو پیدا کی گئی ہے ، پس اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچائے گی جب تک کہ وہ وہاں سے کوچ نہ کر جائے۔ اور یحییٰ کی روایت میں ’’بکلمات اللہ التامات‘‘ کے لفظ ہیں۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے صفت کلام کا اثبات ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ کلمات تعظیم کے لیے بولا۔ ترجمہ:اور ہم نے حدیث شفاعت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کیا جس میں یہ ہے کہ : ”لیکن تم حضرت موسٰی کے پاس جاؤ وہ ایسا بندہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تو رات عطا کی ہے اور ان سے کلام کیا ہے‘‘۔ بندے قیامت میں اللہ تعالیٰ سے کلام کریں گے: اور حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی حدیث میں ہم نے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک کیساتھ اس کا رب کلام فرمائے گا اس کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی پردہ ہو گا نہ کوئی ترجمان۔ ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر الرزاز نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے عبداللہ بن محمد بن شاکر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا وہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن سے وہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر حضرت عدی نے اس پچھلی بات کو ذکر کیا۔

خَوْلَةَ بِنْتِ حَکِيمٍ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones · Hadith 31

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي إِثْبَاتِ صِفَةِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ وَالْعَيْنِ · حديث 32

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ} [الأنعام: 65] قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، {أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} [الأنعام: 65] قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} [الأنعام: 65] قَالَ: هَاتَانِ أَيْسَرُ وَأَهْوَنُ

عذاب کی آیات کے نزول پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طرز اعمل: ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو سعید بن اعرابی نے بیان کیا کہا ہم سے سعدان بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ عمرو بن دینار سے راوی آپ نے حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی:قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم(ترجمہ: تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے) آپ نے فرمایا: ”میں تیرے وجہ(ذات) کی پناہ چاہتا ہوں‘‘(پھر آیت کا یہ حصہ پڑھا) ’’اَوْ مِنْ تَحْبِ اَرْجُلِکُم‘‘(ترجمہ: یا تمہارے پاؤں کے تلے سے) تو کہا میں تیرے وجہ(ذات) کی پناہ چاہتا ہوں‘‘ پھر آیت کا یہ حصہ پڑھا) ’’او یلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض‘‘(ترجمہ: یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کر کے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ دونوں ان سے زیادہ آسان و ہلکے ہیں‘‘۔

هَاتَانِ أَيْسَرُ وَأَهْوَنُ ← «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ»، ← «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ»، ← لَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye · Hadith 32

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي إِثْبَاتِ صِفَةِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ وَالْعَيْنِ · حديث 33

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُجْمَعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ الْمَلَائِكَةَ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ

قیامت میں تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس شفاعت کے لیے جائیں گے: ابو محمد اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو سعید بن اعرابی نے بیان کیا کہا ہم سے حسن بن محمد بن صباح زعفرانی نے بیان کیا کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام بن ابی عبداللہ نے بیان کیا وہ قتادہ سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " مؤمن قیامت کے دن جمع ہوں گے قیامت کی اس ہولنا کی سے چھٹکارا پانا چاہیں گے وہ کہیں گے : کاش ہمارے رب سے کوئی ہمارے شفاعت کرے تاکہ ہمیں اس جگہ سے راحت حاصل ہو پھر وہ حضرت آدم(علیہ السلام) کے پاس آئیں گے کہیں گے : اے آدم! آپ تمام لوگوں کے باپ ہیں ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ید سے پیدا فرمایا ، اور آپ کے لیے فرشتوں نے سجدہ کیا اور آپ کو ہر شے کے اسماء سکھلائے ، آپ ہمارے رب سے ہماری شفاعت کریں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے راحت دے‘‘ اور مکمل حدیث ذکر کی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو محمد الأصبهاني،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye · Hadith 33

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي إِثْبَاتِ صِفَةِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ وَالْعَيْنِ · حديث 34

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بُعِثَ نَبِيُّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ [ص:90] الدَّجَّالَ، أَلَا وَإِنَّهُ أَعْورُ، وَإِنَّ ربَّكُمْ لَيْسَ بأَعْورَ» . قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَفِي هَذَا نَفْيُ نَقْصِ الْعَوَرِ عَنِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ , وَإِثْبَاتُ الْعَيْنِ لَهُ صِفَةً، وَعَرَفْنَا بِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ} [الشورى: 11] وَبِدَلَائِلِ الْعَقْلِ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِحَدَقَةٍ، وَأَنَّ الْيَدَيْنِ لَيْسَتَا بِجَارِحَتَيْنِ، وَأَنَّ الْوَجْهَ لَيْسَ بِصُورَةٍ؛ وَأَنَّهَا صِفَاتُ ذَاتٍ أَثْبَتْنَاهَا بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بِلَا تَشْبِيهٍ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

ہر نبی نے دجال سے اپنی امت کو ڈرایا ہے: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر احمد بن سلمان النجاد نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے جعفر بن ابی عثمان الطیالسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عمر الحوضی نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ قتادہ سے وہ حضرت انس سے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی نبی مبعوث ہوا اس نے دجال سے ڈرایا ، سن لو! وہ ایک آنکھ سے کانا ہو گا اور بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے کانا(نہ دیکھنے) کے نقص کی نفی کی گئی ہے اور اس کے لیے صفت عین کا اثبات کا کیا گیا۔ ہے اور ہم نے اللہ تعالیٰ عزوجل کے فرمان : ترجمہ : اس جیسا کوئی نہیں۔ (الشوری:11) اور دلائل عقلیہ سے پہچان لیا ہے عین سے پہلی والی عین(آنکھ) مراد نہیں ہے اور یدین سے مراد اعضاء نہیں ہیں۔ اور وجہ سے مراد صورت(چہرہ) نہیں ہے کیونکہ یہ ذات کی صفات ہیں انہیں ہم نے بغیر کسی تشبیہ کے کتاب وسنت سے ثابت کیا ہے۔ اور توفیق تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَّادُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye · Hadith 34

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ فِي ذِكْرِ صِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 35

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ [ص:92] هَذَا الْأَمْرِ كَيْفَ كَانَ؟ قَالَ: «كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ كَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: قوْلُهُ: «كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ» يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ، لَا الْمَاءُ وَلَا الْعَرْشُ وَلَا غَيْرُهُمَا، وَكُلُّ ذَلِكَ أَغْيَارٌ، وَقَوْلُهُ: «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» يَعْنِي بِهِ: ثُمَّ خَلَقَ الْمَاءَ وَخَلَقَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ. وَبَيَانُ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ: «ثُمَّ خَلَقَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ»

ابو الحسین بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ہمیں خبر دی کہا، یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے میرے باپ نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا کہا ہم سے جامع بن شداد نے بیان کیا۔امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ یہاں سے دوسری سند کی طرف پلٹے اور فرمایا: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا مجھ سے ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے بیان کیا کہا ہمیں بشر بن موسیٰ نے خبر دی کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسحاق الفزاری نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ جامع بن شداد سے وہ صفوان بن محرز سے وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کے پاس یمن سے ایک جماعت آئی انہوں نے کہا: یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم آپ کے پاس دین کی سمجھ حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں اور آپ سے اس امر (کائنات) کے آغاز کے بارے میں سوال کریں کہ یہ کیسے ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا پھر لوح محفوظ میں ہر شے لکھوائی پھر آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا‘‘۔ ا استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان: ’’اللہ عزوجل تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا‘‘یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی چیز بھی نہ پانی اور نہ عرش اور نہ ان کے علاوہ کچھ اور اور یہ سب اس کے علاوہ ہیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان:’’اور اس کا عرش پانی پر تھا اس سے مراد یہ ہے(وہ تھا) پھر اس نے پانی کو پیدا فرمایا اور عرش کو پانی پر پیدا فرمایا۔ اس کا بیان حضرت ابو رزین عقیلی کی حدیث میں ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر عرش کو پانی پر پیدا فرمایا۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَجَاءَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالُوا: ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْاَعْمَشِ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on stating the form of the verb · Hadith 35

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ فِي ذِكْرِ صِفَةِ الْفِعْلِ · حديث 36

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلهُ فَقَالَ: مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: مِنَ الْمَاءِ وَالنُّورِ وَالظُّلْمَةِ وَالرِّيحِ وَالتُّرَابِ، قَالَ الرَّجُلُ: مِمَّ خُلِقَ هَؤُلَاءِ؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ} [الجاثية: 13] [ص:93] قَالَ: فَأَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَاءَ وَالنُّورَ وَالظُّلْمَةَ وَالرِّيحَ وَالتُّرَابَ مِمَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ. وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ مَصْدرَ الْجَمِيعِ مِنْهُ، أَيْ مِنْ خَلْقِهِ وَإِبْدَاعِهِ وَاخْتِرَاعِهِ، فَهُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، خَلَقَ الْمَاءَ أَوَّلًا، أَوِ الْمَاءَ وَمَا شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ لَا عَنْ أَصْلٍ وَلَا عَلَى مِثَالٍ سَبَقَ، ثُمَّ جَعَلَهُ أَصْلًا لِمَا خَلَقَ بَعْدَهُ، فَهُوَ الْمُبْدِعُ وَهُوَ الْبَارِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، وَلَا خَالِقَ سِوَاهُ

مخلوق کی تخلیق کس سے کی گئی؟: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو زکریا العنبر ی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے محمد بن عبد السلام نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا وہ عمر بن حبیب مکی سے وہ حبیب بن قیس اعرج سے وہ حضرت طاؤس سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور آپ سے سوال کیا کہ مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی؟ آپ نے فرمایا: پانی ،نور ، ظلمت(اندھیرا) ، ہوا اور مٹی سے ، پھر اس آدمی نے سوال کیا : یہ چیزیں کس سے پیدا کی گئی ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی:وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ(الجاثیہ:13) ترجمہ: اور تمہارے لئے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں۔امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ہمیں خبر دی کہ پانی ،نور، ظلمت ، ہوااور مٹی ان چیزوں میں سے ہیں جو آسمان اور زمین میں ہیں اور اللہ تعالیٰ عزوجل نے خبر دی کہ ان سب کا مصدر وہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیق و ایجاد سے ہے پس اللہ تعالیٰ ہر شے کا خالق ہے اس نے پہلے پانی پیدا فرمایا یا پانی اور جو کچھ چاہا اپنی مخلوق میں سے پیدا فرمایا بغیر کسی اصل اور بغیر کسی سابقہ مثال کے پھر بعد والی چیزوں کیلئے اسی کو اصل بنایا پس اللہ تعالیٰ ہی مبدع ہے اور وہی باری ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی خالق ہے۔

الرَّجُلُ: مِمَّ خُلِقَ هَؤُلَاءِ؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ← مِنَ الْمَاءِ وَالنُّورِ وَالظُّلْمَةِ وَالرِّيحِ وَالتُّرَابِ، ← مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلهُ ← طَاوْسٍ ← حُمَيْدَ بْنَ قَيْسٍ الْأَعْرَجَ، ← عمر بن حبيب المكي ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on stating the form of the verb · Hadith 36

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 37

وَبَيْنَ الْإِنْسَانِ الَّذِي هُوَ خَلْقُهُ وَمَصْنُوعُهُ، خَصَّ الْقُرْآنَ بِالتَّعْلِيمِ، وَالْإِنْسَانَ بِالتخْلِيقِ، فَلوْ كَانَ الْقُرْآنُ مَخْلُوقًا كَالْإِنْسَانِ لَقَالَ: خَلَقَ الْقُرْآنَ وَالْإِنْسَانَ. وَقَالَ: {أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ} [الأعراف: 54] ، فَفَرَّقَ بَيْنَ خَلْقِهِ وَأَمْرِهِ بِالْوَاوِ الَّذِي هُوَ حَرْفُ الْفَصْلِ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ الْمُتَغَايِرَيْنِ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ غَيْرُ خَلْقِهِ، وَقَالَ: {لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ} [الروم: 4] ، يَعْنِي مِنْ قَبْلِ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ وَمنْ بَعْدِ ذَلِكَ. وَهَذَا يُوجِبُ أَنَّ الْأَمْرَ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَقَالَ: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ} [الصافات: 171] ، وَقَالَ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ} [الأنفال: 68] ، وَالسَّبْقُ عَلَى الْإِطْلَاقِ يَقْتَضِي سَبْقَ كُلِّ شَيْءٍ سِوَاهُ، وَقَالَ: {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا} [النساء: 164] ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ كَلَامُ الْمُتَكَلِّمِ قَائِمًا بِغَيْرِهِ ثُمَّ يَكُونَ هُوَ بِهِ مُتَكَلِّمًا مُكَلَّمًا دُونَ ذَلِكَ الْغَيْرِ، كَمَا لَا يَجُوزُ ذَلِكَ فِي الْعِلْمِ وَالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ، وَقَالَ: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِي بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ} [الشورى: 51] ، فَلَوْ كَانَ كَلَامُ اللَّهِ لَا يُوجَدُ إِلَّا مَخْلُوقًا فِي شَيْءٍ مَخْلُوقٍ لَمْ يَكُنْ لِاشْتِرَاطِ هَذِهِ الْوُجُوهِ مَعْنًى لِاسْتِوَاءِ جَمِيعِ الْخَلْقِ فِي سَمَاعِهِ مِنْ غَيْرِ اللَّهِ وَوُجُودِهِمْ ذَلِكَ عِنْدَ الْجَهْمِيَّةِ مَخْلُوقًا فِي غَيْرِ اللَّهِ، وَهَذَا يُوجِبُ إِسقَاطَ مَرْتَبَةِ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَيَجِبُ عَلَيْهِمْ إِذَا زَعَمُوا أَنَّ كَلَامَ اللَّهِ لِمُوسَى خَلَقَهُ فِي شَجَرَةٍ، أَنْ يَكُونَ مَنْ سَمِعَ كَلَامَ اللَّهِ مِنْ مَلَكٍ أَوْ مِنْ نَبِيٍّ أَتَاهُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ أَفْضَلَ مَرْتَبَةً فِي سَمَاعِ الْكَلَامِ مِنْ مُوسَى؛ لِأَنَّهُمْ سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ اللَّهِ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ شَجَرَةٍ، وَأَنْ يَزْعُمُوا أَنَّ الْيَهُودَ إِذْ سَمِعَتْ كَلَامَ اللَّهِ مِنْ مُوسَى نَبِيِّ اللَّهِ أَفْضَلُ مَرْتَبَةً فِي هَذَا الْمَعْنَى مِنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى نَبِيِّنَا وَسَلَّمَ؛ لِأَنَّ الْيَهُودَ سَمِعَتْهُ مِنْ نَبِيٍّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَمُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى نَبِيِّنَا وَسَلَّمَ سَمِعَهُ مَخْلُوقًا فِي شَجَرَةٍ وَلَوْ كَانَ مَخْلُوقًا فِي شَجَرَةٍ لَمْ يَكُنِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُكَلِّمًا لِمُوسَى مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ؛ وَلِأَنَّ كَلَامَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَوْ كَانَ مَخْلُوقًا فِي شَجَرَةٍ كَمَا زَعَمُوا لَزِمَهُمْ أَنْ تَكُونَ الشَّجَرَةُ بِذَلِكَ الْكَلَامِ مُتَكَلِّمَةً، وَوَجَبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ مَخْلُوقًا مِنَ الْمَخْلُوقِينَ كَلَّمَ مُوسَى وَقَالَ لَهُ: {إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي} [طه: 14] ، وَهَذَا ظَاهِرُ الْفَسَادِ، وَقَدِ احْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِهَذِهِ الْفُصُولِ وَاحْتَجَّ بِهَا غَيْرُهُ مِنْ سَلَفِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ

قرآن اللہ تعالیٰ عزوجل کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی صفات ذاتیہ میں سے ایک صفت ہے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کی صفات ذاتیہ میں سے کوئی صفت مخلوق ہو اور نہ ہی محدث اور نہ ہی حادث ہونا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارافرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہو جا وہ فوراً ہو جاتی ہے۔ (النحل:40)پس اگر قرآن مخلوق ہوتا تو اللہ بحانہ وتعالیٰ اسے بھی’’ کن‘‘ کہتا اور قرآن اس کا قول ہے اور یہ بات محال ہے کہ اس کا قول اسکا مقول ہے کیونکہ(اگر یہ بات درست مان لی جائے تو) یہ دوسرے قول کو ثابت کرنے والا ہو جائے گا اور قول دوسرے قول میں ہو جائے گا اور اس کا تیسرے قول کیساتھ تعلق پہلے قول کی طرح ہو جائے گا اور یہ لامتناہی سلسلہ ہو جائے گا اور یہ فاسد ہے جب یہ بات فاسد ہو گئی کہ اس کا قرآن مخلوق ہو اور ثابت ہو گیا کہ اس کا قول امر ازلی ہے جو مکون(کائنات بنانے والا) کیساتھ تعلق ہے اور وہ ہمیشہ رہے گا جیسا کہ اس کا امر صبح کی نماز کے متعلق حالانکہ اس وقت صبح نہیں تھی اور اس کا امر اس شخص کے متعلق جو قیامت تک کے مکلفین میں سے جو پیدا ہو گا مگر اس کا ان کیساتھ معلق کرنا اس شرط پر ہے جو بعد میں موجود ہوں گی ، ایسے ہی اس کا قول تکوین کے بارے میں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کاعلم ازلی ہے جو تمام معلومات کے حدوث کے وقت کیساتھ متعلق ہے اور اس کا سننا بھی ازلی ہے جو مسموعات کے ظہور کے وقت ان کے ادارک کیساتھ متعلق ہے اور اس کا دیکھنا بھی ازلی ہے جو دکھائی دینے والی اشیاء کے وجود کے وقت ان کے ادارک سے متعلق ہے، اس میں بغیر کسی معنی کے پیدا ہونے کے، اللہ تعالیٰ اس سے بلند و بالا ہے کہ وہ حوادث کا محل ہو اور اس سے بھی بلند ہے کہ اس کی صفات ذاتیہ میں سے کوئی صفت حادث ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ترجمہ:رحمٰن نے قرآن سکھایا انسان کو پیدا کیا۔ (الرحمن:3،2،1)پس جب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن ۔جو اس کا کلام وصفت ہے اور انسان جو اس کی تخلیق و کاریگری ہے۔کو جمع کیا اور قرآن کو تعلیم کیساتھ اور انسان کو تخلیق کیساتھ خاص کیا پس اگر قرآن انسان کی طرح مخلوق ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: خلق القرآن والانسان۔ یعنی اس نے قرآن اور انسان کو پیدا کیا۔(جب اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا تو معلوم ہو گیا کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔) اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ :سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دیا۔ (الاعراف:54) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تخلیق اور امر کے درمیان فرق کیا واؤ کے ذریعے جو دو مختلف چیزوں کے درمیان حرف فاصلہ ہے پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا قول اسکی مخلوق نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے۔ (الروم:4)یعنی اس کا ام مخلوق پیدا کرنے سے پہلے اور اسکے بعد ہے۔ یہ آیت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اسکا امر مخلوق نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لئے۔ (الصافات:171) اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا تو اے مسلمانو تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا۔ (انفال:68) سبق(پہلے) کا مطلق رکھنا یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر شے سے سبق(پہلے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔ (النساء:164) یہ ممکن نہیں کہ متکلم کا کلام اس کے غیر کیساتھ قائم ہو پھر وہی متکلم اسی کلام کیساتھ کلام کرے اس غیر کے علاوہ جیسا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم، سمع اور بصر میں ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشافر مایا: ترجمہ: اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پردہ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کے کلام کا وجود پیدا کی ہوئی چیز میں بطور مخلوق پایا جاتا تو پھر ان وجوہ کی شرط لگانے کا کوئی معنی نہیں ہو گا کیونکہ پھر تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ تمام مخلوق اس کے سننے میں برابر ہو گی۔ جہمیہ کا کلام خداوندی کے متعلق عقیدہ: اور جہمیہ کے نزدیک کلام اللہ کا وجود مخلوق کی حیثیت سے غیراللہ میں پایا جانا تمام انبیاء کرام صلوات اللہ علیہم اجمعین کے مرتبے کو ساقط کر دیتا ہے۔ نعوذ باللہ تعالیٰ۔ جب انہوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے درخت میں پیدا کیا تو ان پر لازم آتا ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام فرشتے سے یا کسی نبی سے۔ جو اللہ کے پاس سے لے کر آیا ہو سنا اسکا مرتبہ کلام الہٰی سننے میں موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہو کیونکہ ان لوگوں نے ایک نبی سے کلام الہی سنا اور(ان کے قول کے مطابق) موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے نہیں سنا بلکہ حضرت موسیٰ نے تو صرف درخت سے سنا۔(تو ان کے اعتقاد کے مطابق یہ لازم آیا کہ یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوئے معاذ اللہ تعالیٰ۔) اور جہمیہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے جب کلام اللہ، اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سنا تو اس معنی میں ان کا مرتبہ حضرت موسیٰ بن عمران صلی اللہ علیہ وعلیٰ نبینا وسلم سے افضل ہے کیونکہ یہودیوں نے نبیوں میں سے ایک نبی سے سنا اور موسیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ نبینا وسلم نے اس کا کلام سنا جو درخت میں پیدا کیا گیا تھا اور اگر کلام اللہ درخت میں پیدا کیا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام سے پردے کے پیچھے سے کلام کرنے والا نہ ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا موسیٰ علیہ السلام است کلام فرمانا اگر درخت میں پیدا کیا ہوا ہوتا جیسا کہ ان جہمیوں نے گمان کیا تو لازم آئے گا کہ وہ درخت ہی اس کلام کیساتھ کلام کرنے والا ہے تو اس سے ان پر یہ لازم آیا کہ مخلوقات میں سے ایک مخلوق نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ترجمہ: بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر۔ اور اس کا فاسد ہونا ظاہر ہے۔ حضرت علی بن اسماعیل(امام ابو الحسن اشعری) رحمہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فصول سے دلیل پکڑی اور ان کے علاوہ دیگر ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ نے یہی دلیل پکڑی۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the Qur’an · Hadith 37

chevron_left Previous
1234…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him