بیعت رضوان والے جنتی ہیں: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا جحاج بن محمد نے بیان کیا کہا ابن جریج نے کہا مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ آپ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے ام مبشر نے خبر دی کہ آپ نے حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر اللہ تعالیٰٰ نے چاہا تو وہ اصحاب جنہوں نے درخت کی نیچے بیعت کی وہ جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوں گے‘‘۔ کہتی ہیں : کیوں نہیں یا رسول اللہ !(ایسا ہی ہو گا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو جھڑکا توحضرت حفصہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان :وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا (سيده مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا: 71) ترجمہ: اور تم میں کوئی ایسانہیں جس کا گز ردوزخ پر نہ ہو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا: ثُمَّ تُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا (سیده مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا:72) ترجمہ: پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گریں گے۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 302
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 303
تمام لوگوں میں صحابہ کرام چنیدہ ہیں: ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں عبداللہ بن جعفر نے خبر دی کہا یونس بن حبیب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے مسعودی نے بیان کیا وہ عاصم سے وہ ابو وائل سے وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر فرمائی تو تمام لوگوں میں سے افضل دل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تو اس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومنتخب فرمایا تو آپ کو رسالت کیساتھ مبعوث فرمایا اور اپنے علم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں کے دلوں کی طرف نظر فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو منتخب فرمایا تو انہیں اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وزیر بنایا تو جس کومسلمان اچھا جانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہوتا ہے اور جسے مسلمان قبیچ جانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی قبیح ہوتا ہے‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 303
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 304
کیا اللہ تعالیٰ راضی ہونے کے بعد کسی صحابی سے ناراض ہوا؟ حضرت ابن عباس کا فر مان : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق نے ہمیں خبر دی کہاز یاد بن خلیل التستری نے ہمیں خبر دی کہا ابو مالک کثیر بن یحییٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عوانہ بن ابو بلج نے ہم سے بیان کیا وہ عمرو بن میمون سے راوی کہا ہم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ اصحاب شجرہ سے راضی ہو چکا ہے تو وہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے تو کیا ہمیں بتاؤ کہ اس کے بعد وہ ان سے ناراض ہوا ہے؟
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 304
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 305
للہ تعالیٰ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لیے استغفار کا حکم دیا: الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہا سفیان نے ہم سے بیان کیا وہ جو یبر سے وہ ضحاک بن مزاحم سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا ہے وہ جانتا تھا کہ عنقریب وہ کیا ایجاد کریں گے۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 305
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 306
صحابی کی زندگی کی ایک گھڑی کا مقام : السید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن ازہر بن منیع نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا وہ سفیان سے وہ نسیر بن دعلوق سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو گالی نہ دو کیونکہ ان کی ایک گھڑی کا مقام تمہاری زندگی کے عمل سے افضل ہے۔
ابْنِ عُمَرَ ← نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ مَنِيعٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 306
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 307
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت قرآن اور اہل بیت کے متعلق اور اہل بیت کون ہیں؟ ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح القاضی نے کوفہ میں ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے بیان کیا کہا ابراہیم بن اسحاق زہری نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر ابن عون اور یعلی نے ہم سے بیان کیا وہ ابو حیان التمیمی سے وہ یزید ابن حیان سے راوی کہا میں نے حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے پس اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا: ’’حمد وصلوٰۃ کے بعد : اے لوگو! میں ایک انسان ہوں عنقریب اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا(حضرت عزرائیل) میرے پاس آئے گا میں اسے قبول کرلوں گا(خبردار!) میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان میں پہلی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے لہٰذاتم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور اسے پکڑے رکھو‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتاب اللہ پر لوگوں کو ابھارا اور اس کی طرف رغبت دلائی پھر فرمایا:(دوسری بھاری چیز) میری اہل بیت ہے میں تمہیں اپنی اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یاد لاتا ہوں۔ یہ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت حصین نے کہا: اے زید ! اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں اور لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صدقہ(زکوٰۃ) حرام ہے۔عرض کی وہ کون ہیں؟ فرمایا: آل علی ،آل جعفر ، آل عباس اور آل عقیل(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) عرض کیا : کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ استاذ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں اور اہل بیت کا نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے لیے تحقیقی طور پر ثابت ہے اور یہ آل کو بھی شامل ہے اور آل کا نام ہر اس کو شامل ہے جن پر صدقہ لینا حرام ہے وہ اولاد ہاشم اور اولادمطلب سے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ’’صدقہ(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور آل(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لیے حلال نہیں‘‘۔اور صدقہ کے عوض بنو ہاشم اور بنو مطلب کو خمس دیا جائے گا اور فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کو بھی آل کا نام دیا جاتا ہے نسب میں مشابہت کے معنی میں لہٰذا احضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان میں اہل بیت میں سے صرف آل کی تخصیص کا ارادہ فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ اہل بیت پر درود بھیجنے کی فضیلت : اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے متعلق وصیت کا لفظ عام ہے جو آل وازواج دونوں کو شامل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب پر درود بھیجنے کا ہمیں حکم دیا۔
زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ وَيَعْلَى، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 307
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 308
ابو علی روذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے حبان بن یسار الکلابی نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو مطرف عبداللہ بن طلحہ بیان کیا وہ عبیداللہ بن کریز سے راوی کہا محمد بن علی الہاشمی نے مجھ سے بیان کیا وہ حسن سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو چاہتا ہے کہ اس کے اعمال مکمل اور ان سے ماپے جائیں(اسے زیادہ سے زیادہ ثواب ملے) جب ہمارے اہل بیت پر درود بھیجے تو یوں کہے : اے اللہ محمد نبی آپ کی ازواج جو مؤمنوں کی مائیں ہیں ، آپ کی اولاداور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر درود بھیج جس طرح تو نے حضرت ابراہیم(علیہ السلام) پر درود بھیجا توتعریف کیا گیا بزرگی والا ہے‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج وذریت پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا منجملہ اہل بیت میں سے ازواج مطہرات کا علیحدہ ذکر کر نے میں احتمال یہ ہے کہ یہ تاکیداً کیا جیسے اولاد کا علیحدہ ذکر تاکید کے طور پر کیا پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں تعمیم کی طرف لوٹے تاکہ ازواج و ذریت کے علاوہ آل جن پر اہل بیت کا نام آتا ہے وہ بھی داخل ہو جائیں۔ واللہ اعلم !
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 308
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 309
پنچ تن پاک:الحافظ ابو عبداللہ اور ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین السلمی نے اصل کتاب سے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا الحسن بن مکرم نے ہم سے بیان کیا کہا عثمان بن مکرم نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا وہ شریک بن ابو نمر سے وہ عطاء بن یسار سے وہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راویت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں: میرے گھر میں یہ آیت نازل ہوئی :اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہُ لِیُذْھِبُ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَ کُمْ تَطْھِیْرًا (الاحزاب:33) ترجمہ:اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔ سیدہ اُم سلمہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدہ فاطمہ ،حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بلانے کے لیے بھیجا(جب یہ آ گئے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ میری اہل ہے‘‘ حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ فرمایا ’’کیوں نہیں اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا‘‘۔ ابو عبداللہ نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ حدیث اس بات کو پختہ کرتی ہے جس کو ہم نے پیچھے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل اور ازواج داخل ہیں اور ہم پر ان سب کی محبت ومولات دین میں لازم ہے۔
فَقُلْتُ: ← هَؤُلَاءِ أَهْلِي، ← فأرسل رسول الله إلى فاطمة وعلي والحسن والحسين ← في بيتي أنزلت ← أُمِّ سَلَمَةَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 309
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 310
اہل بیت کرام علیہم الرضوان سے محبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ہے: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو النضر محمد بن محمد بن یوسف الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا عثمان بن سعید الداری نے ہمیں خبر دی کہا علی بن بحر بن بری نے ہم سے بیان کیا کہا ہشام بن یوسف الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن سلیمان النوفلی نے بیان کیا وہ محمد بن علی بن عباس سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ اپنی نعمتوں میں سے تمہیں غذا دیتا ہے اور تم مجھ سے محبت کرو اللہ کی وجہ سے اور میری اہل بیت سے میری محبت کی وجہ سے محبت کرو “۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← عبد الله بن سليمان النوفلي ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ [ص:328] يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 310
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَأَزْوَاجِهِ · حديث 311
حضورمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ داری کبھی نہیں ٹوٹے گی: ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ہم سے بیان کیا ، کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن حارث البغدادی نے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو بکیر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا وہ عبداللہ بن محمد بن عقیل سے وہ حمزہ بن ابو سعید خدری سے وہ اپنے باپ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ” ان لوگوں کا کیا حال ہے جو کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ داری اپنے قوم کو قیامت کے دن کوئی نفع نہیں دے گی؟ کیوں نہیں اللہ کی قسم میری رشتہ داری دنیا و آخرت میں جڑی ہوئی ہے اور اے لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے اہل بیت کرام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے فضائل میں اپنی کتاب ’’الفضائل‘‘میں روایات ذکر کی ہیں جو ان کے فضائل میں مرویات ہیں۔ ان حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت: انہیں میں یہ روایت بھی ہے کہ سیدہ عائشہ،سیدہ فاطمہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےسیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا : ’’اَلَا تَرْضَیْنَ اَنْ تَکُونِی سَیِّدَۃَ نِسَاءِ ھَذِہِ الْاُمَّۃِ اَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ ‘‘ کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو اس امت کی عورتوں کی سردار ہو یا فرمایا مؤمنین کی عورتوں کی سردار ہو۔ انہیں میں سے حضرت حذیفہ ، حضرت ابو سعید اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راویت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَاءِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ‘‘ سیدہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے۔ ’’اِلَّا مَاکَانَ مِنْ مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِیَۃَ بِنْتِ مُزَاحِمٍ ‘‘ ان میں سے ایک صحابی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا:’’ سوائے سیدہ مریم بنت عمران اور سیدہ آسیہ بنت مزاحم کے‘‘۔ حضرت سیدہ خدیجہ،سیدہ فاطمہ،سیدہ آسیہ اور سیدہ مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی فضیلت : اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں ہے : ’’جنتی عورتوں میں سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد ، سیدہ فاطمہ بنت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیده مریم بنت عمران اور سیدہ آسیہ بنت مزاحم ہیں‘‘۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت : حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثُرید کی فضلیت تمام کھانوں پر‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نصیحت : اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟‘‘ سیدہ نے کہا: کیوں نہیں فرمایا : ’’میں اس یعنی حضرت عائشہ سے محبت کرتا ہوں‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا و آخرت میں زوجہ: اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں اس شخص سے فرمایا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں برا کہا: خاموش ہو جا! سب سے برے اور بکواس کرنے والے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوبہ کو تکلیف دیتا ہے۔ حضرت عمار نے فرمایا: یہ دنیاو آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ جناب حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں: حضرت ابو سعید وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیث میں ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت حسن ، حضرت حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں‘‘۔ ان کے علاوہ دیگر فضائل کتاب الفضائل میں اپنی اسناد کیساتھ مذکور ہیں۔ جس نے ان فضائل کی واقفیت کی ارادہ کے وہ اس کی طرف لوٹے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives · Hadith 311
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْعشَرَةِ الَّذِينَ شَهِدَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ بِالْجَنَّةِ · حديث 312
ابو الحسین علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر محمد بن عمر الرزاز نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا وہ صدقہ بن مثنی سے راوی کہا مجھ سے میرے دادار باح ابن الحرث نے بیان کیا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑی مسجد میں تھے اور آپ کے پاس اہل کوفہ بھی تھے تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات پر گواہ ہوں جو میں نے اپنے کانوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور جسے میرے دل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محفوظ رکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی جھوٹ روایت نہیں کیا وہ مجھ سے پوچھتے اس کے متعلق پوچھتے جب میں ان سے ملتا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ابو بکر جنت میں ہو گا ، عمر جنت میں ہو گا ، عثمان جنت میں ہو گا، علی جنت میں ہو گا ،طلحہ جنت میں ہو گا ، زبیر جنت میں ہو گا ،عبدالرحمٰن بن عوف جنت میں ہو گا اور سعد بن مالک جنت میں ہو گا‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور مسلمانوں میں سے نویں آدمی کا نام لینا چاہوں تو لے سکتا ہوں۔ راوی نے کہا: اہل مسجد انہیں قسمیں دینے لگے کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی نواں آدمی کون ہے؟ فرمایا : تم نے مجھے اللہ کی قسم دی اور اللہ بڑا ہے مسلمانوں میں سے نواں آدمی میں ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسویں ہیں پھر وہ دائیں جانب چلے گئے اور فرمایا: وہ ایک غزوہ جس میں کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ شریک ہوا وہ تمہارے عمل سے افضل ہے اگرچہ حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ہائے۔
جَدِّي رِيَاحَ بْنَ الْحَارِثِ ← صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven · Hadith 312
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْعشَرَةِ الَّذِينَ شَهِدَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ بِالْجَنَّةِ · حديث 313
ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابوحامد احمد ابن علی بن حسین المقرئ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عیسیٰ الترمذی نے ہم سے بیان کیا کہا صالح بن مسمار نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے ابن ابو فدیک نے بیان کیا وہ موسی بن یعقوب سے وہ عمر بن سعید سے وہ عبدالرحمٰن بن حمید سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے ایک جماعت میں بیان فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اس آدمی جنتی ہیں حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ،حضرت ابو عبیدہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص‘‘۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ راوی نے کہا: یہ نو آدمی گنوائے اور دسویں سے خاموشی اختیار فرمائی لوگوں نے کہا: ہم اللہ کی قسم دیتے ہیں آپ کو اے ابو الاعور! کیا دو سویں آپ ہیں ؟ آپ نے فرمایا: تم نے مجھے اللہ کی قسم دی اللہ کی قسم ! ابوالاعور حنتی ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے علاوہ ایک جماعت کے جنتی ہونے کی گواہی دی اور ہم نے اس سے پہلے باب میں راویت کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اس شخص کے بارے میں جو جنگ بدر میں حاضر ہوا اور اس کے بارے میں جس نے درخت کے نیچے بیعت کی۔
فِي نَفَرٍ، ← أَبِيهِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ ← أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: ← أبو حامد أحمد بن علي بن الحسن المقري ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven · Hadith 313