Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 206

وَرُوِّينَا فِي، حَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ عَذَابِ الْقبْرِ قَالَ: فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِعَادَةُ الرُّوحِ فِي جُزْءٍ وَاحِدٍ، وَسُؤَالُ جُزْءٍ وَاحِدٍ وَتعْذِيبُ جُزْءٍ وَاحِدٍ مِمَّا يَجُوزُ فِي الْعَقْلِ وَلَيْسَ فِي تَفَرُّقِ الْأَجْزَاءِ اسْتِحَالَةُ مَا وَرَدَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، وَهُوَ كَمَا شَاءَ اللَّهُ وَلِمَنْ شَاءَ اللَّهُ، وَإِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَالْأَخْبَارُ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ كَثِيرَةٌ، وَقَدْ أَفْرَدْنَا لَهَا كِتَابًا مُشْتَمِلًا عَلَى مَا وَرَدَ فِيهَا مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَالْآثَارِ، وَقَدِ اسْتَعَاذَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ أُمَّتَهُ بِالِاسْتِعَاذَةِ مِنْهُ

اور ہم نے عذاب قبر کے قصے کے متعلق حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث روایت کی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے تو اسکے پاس فرشتے آتے ہیں ‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک جز ء میں روح کا لوٹانا اور ایک جز ء میں سوال ہونا اور ایک جزء میں عذاب دینا یہ ان چیزوں میں سے ہے جو عقلاً ممکن ہے اور مختلف اشیاء کے پہچاننے میں کوئی استحالہ نہیں ہے جس کے ساتھ عذاب قبر کے بارے میں اخبار آئی ہیں اور وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے چاہا اور جس کے لیے چاہا اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں اس کے عذاب سے۔ عذاب قبر کے متعلق بہت زیادہ اخبار ہیں اور ہم نے اس کے لیے ایک الگ کتاب تیار کی جو عذاب قبر سے متعلق کتاب وسنت اور آثار میں وارد ہونے والے دلائل پر مشتمل ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذاب قبر سے پناہ مانگی اور اپنی امت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔

فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ ← النَّبِيِّ فِي قِصَّةِ عَذَابِ الْقبْرِ ← وَرُوِّينَا فِي، حَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 206

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 207

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ يَهُودِيَّةً، دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ لَهَا عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ» ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا سَمِعْتُهُ يُصلِّي صَلَاةً بَعْدُ إِلَّا تَعَوَّذَ فِيهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

عذاب قبرحق ہے: ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا ہاشم بن القاسم نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی وہ اشعث بن سلیم سے وہ اپنے باپ سے وہ مسروق سے وہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودیہ حضرت عائشہ کے پاس آئی تو اس نے آپ کے لیے عذاب قبر کا ذکر کیا اور کہا میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں عذاب قبر سے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق دریافت کیا تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” عذاب قبرحق ہے‘‘۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں اس کے بعد میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا مگر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔

عَائِشَةُ فَمَا ← النَّبِيُّ «عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ» ← عَذَابُ الْقَبْرِ. ← عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ← عَائِشَةَ، أَنَّ يَهُودِيَّةً، دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ لَهَا عَذَابَ الْقَبْرِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 207

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 208

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ جَمِيعًا، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَدْعُ بِأَرْبَعٍ، ثُمَّ لِيَدْعُ بِمَا شَاءَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا، وَالْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

نماز کے بعد کی چار دعائیں: ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو علی اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا ابراہیم بن ہانی نیشا پوری نے ہم سے بیان کیا کہا ابو المغیر ہ اور محمد بن کثیر دونوں نے ہم سے بیان کیا وہ اوزاعی سے وہ حسان بن عطیہ سے وہ محمد بن ابو عائشہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو تو اسے چار دعائیں مانگنی چاہیے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا کرے(وہ یہ چار دعائیں مانگے) اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں عذاب جہنم سے اور عذاب قبر سے اور زندگی وموت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَائِشَةَ، ← حَسَّانَ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أبو المغيره ومحمد بن كثير جميعا ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ النَّيْسَابُورِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 208

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 209

وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ". قَالَ الشَّيْخُ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ الْفَقِيهِ أَبِي مَنْصُورٍ الْحَمْشَاذِيِّ فِيمَا ذَكَرَ سَمَاعَهُ مِنْ أَبِي الْحَسَنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مُوسَى عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى الْمُجَاشِعِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّ مَشِيئَةَ الْعِبَادِ هِيَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، وَلَا يَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَإِنَّ أَعْمَالَ النَّاسِ خَلْقٌ [ص:226] مِنَ اللَّهِ فِعْلٌ لِلْعِبَادِ، وَإِنَّ الْقَدَرَ خَيْرَهُ وَشَرَّهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ وَمُسَاءَلَةَ أَهْلِ الْقُبُورِ حَقٌّ وَالْبَعْثَ وَالْحِسَابَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا جَاءَتْ بِهِ السُّنَنُ وَظَهَرَتْ عَلَى أَلْسِنَةِ الْعُلَمَاءِ وَأَتْبَاعِهِمْ مِنْ بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ حَقٌّ

محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا روح نے ہمیں خبر دی کہا مالک نے ہم سے بیان کیا وہ ابو الزبیر سے وہ طاؤس سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے جس طرح قرآن انہیں سکھاتے تھے فرماتے : ’’کہو! اے اللہ ! میں عذاب جہنم سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی وموت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فقیہ ابو منصور حمشادی کی کتاب میں ، میں نے پڑھا ان امور میں جن میں ان کا سماع ابو الحسن محمد بن اسحاق سے مذکور ہے کہ وہ ابو موسیٰ المجاشعی سے راوی ہیں کہا ابو نعیم نے کہا کہ ہم سے ربیع نے بیان کیا کہا امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بندوں کی چاہت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے وہ کچھ نہیں چاہتے مگر اللہ رب العالمین جو چاہے اور بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی تحقیق ہیں اور بندوں کے افعال میں اور اچھی بری تقدیر اللہ تعالیٰ عزوجل کی طرف سے ہے اور عذاب قبرحق ہے اور اہل قبور سے سوال حق ہے اور مرنے کے بعد اٹھنا ،حساب ، جنت ، دوزخ اور ان کے علاوہ تمام امورحق ہیں جن کے متعلق سنن آئی ہیں اور بلاد مسلمین کے علماءاور ان کے متبعین کی زبانوں پر ظاہر ہوئی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 209

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 210

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ، مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ يَقُولُ: الْحِكْمَةُ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَاهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَوْلُهُ {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ} [النساء: 59] قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي إِنِ اخْتَلَفْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ يَعْنِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ: إِلَى مَا قَالَ اللَّهُ وَالرَّسُولُ وَرُوِّينَا عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: الرَّدُّ إِلَى اللَّهِ [ص:228] الرَّدُّ إِلَى كِتَابِهِ وَالرَّدُّ إِلَى الرَّسُولِ إِذَا قُبِضَ إِلَى سُنَّتِهِ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی نے خبر دی کہا: میں نے اپنی زمین کے بعض قرآن کا علم رکھنے والوں کو فرماتے ہوئے سنا: حکمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ امام بیہقی رحمت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے اسے حضرت حسن بصری، قتادہ اور یحییٰ بن ابو کثیر سے روایت کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’فَاِنْ تَنٰزَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ‘‘ کے متعلق امام شافعی رحمتہ اللہ نے فرمایا: یعنی اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے’’فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ‘‘ یعنی واللہ اعلم! تم اس کی طرف لوٹو جو اللہ تعالیٰ اور سول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت میمون بن مہران سے ہم نے روایت کی آپ نے اس آیت کے بارےمیں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کا مطلب یہ ہے اس کی کتاب کی طرف لوٹنا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹنے سے مراد آپ کی سنت کی طرف لوٹنا ہے۔

الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَوْلُهُ ← الشَّيْخُ قَدْ رُوِّينَاهُ ← الْحِكْمَةُ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ ← بَعْضَ، مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 210

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 211

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ وَلَكِنَّهُ رَضِيَ أَنْ يُطَاعَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِمَّا تَحَاقَرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَاحْذَرُوا يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ، إِنَّ كُلَّ مُسْلِمٍ أَخُو الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمُونَ إِخَوَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا أَعْطَاهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ، وَلَا تَظْلِمُوا وَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا عباس بن فضل اسفاطی نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے اور کہا الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد بن فضل الشعرانی نے مجھے خبر دی کہا مجھ سے میرے دادا نے بیان کیا کہا ابن ابو اولیس نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا وہ ثور بن زید الدیلی سے وہ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے خطبے میں فرمایا:” شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری زمین(عرب) پر اس کی عبادت کی جائے لیکن وہ اس بات پر اضی ہو گیا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کے علاوہ ان امور میں جن کو تم اپنے اعمال میں حقیر سمجھتے ہو پس تم ڈرو! اے لوگو! میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑ کے جار ہا ہوں اگر تم نے انہیں مضبوطی سے پکڑے رکھا تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ، ہر مسلمان مسلمان کا بھائی ہے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال لے مگر وہ جو خود خوش دلی سے اسے دے تم ظلم نہ کرنا اور میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ← أَبِي ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 211

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 212

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ سَالْمٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: مَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ "

منکرین حدیث کارد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا بشر بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی کہا حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو النضر سالم مولی عمر بن عبیداللہ بن معمر نے بیان کیا وہ عبیداللہ بن ابو رافع سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں ہرگز تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنی چار پائی پر ٹیک لگائے ہوئے ہومیرے امور میں سے کوئی امرا سکے پاس آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہو وہ کہے : میں(اس کے بارے میں) نہیں جانتا جو ہم نے اللہ کی کتاب میں پایا ہے اسی کی ہم پیروی کریں گے‘‘۔

أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبُو النَّضْرِ سَالْمٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 212

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 213

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , نا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ»

ابو علی روذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا وہ اپنے باپ سعد بن ابراہیم سے وہ قاسم بن محمد سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جس کی اصل اس میں نہ ہو تو وہ مردود ہے‘‘ ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 213

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 214

وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ , وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ " أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ، فَذَكَرَهُ

اور ہم نے ثابت کی حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے اور اس کی ثناء جس کا وہ اہل ہے پھر فرماتے :” جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت ہے اور برے امور نئے ایجاد کردہ امور ہیں اور ہر نیا ایجاد کردہ کام بدعت ہے اور ہر(بری) بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے‘‘۔علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا سلیمان بن احمد الطبرانی نے ہمیں خبر دی کہا جعفر بن محمد فریابی نے ہم سے بیان کیا کہا حیان بن موسی نے ہم سے بیان کیا کہا ابن المبارک نے ہم سے بیان کیا وہ سفیان سے وہ جعفر بن محمدسے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں پھر آپ نے یہ حدیث ذکر کی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 214

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 215

أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو , عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَد‍ِّعٍ فَأَوْصِنَا، قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا [ص:230] بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

خلفا راشدین کی سنت پکڑنا لازم ہے: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا عباس بن محمد دوری نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا کہا ثور بن یزید نے ہم سے بیان کیا وہ خالد بن معدان سے وہ عبدالرحمٰن بن عمر سے وہ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا :ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں ایسا عظیم وعظ فرمایا جس سے ہمارے دل ڈر گئے اور ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! گویا کہ یہ الوداعی وعظ ہے لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اطاعت وفرمانبرداری کرنے کی اگرچہ تم پر غلام امیر بنا دیا جائے کیونکہ جو تم میں زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے جبڑوں سے اسے مضبوطی سے پکڑ لو! اور نئے امور سے بچو کیونکہ ہر(بری) بدعت گمراہی ہے‘‘۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← عَبْد الرَّحْمَن بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 215

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 216

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ , أَخْبرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا

نیکی کی دعوت دینے کا اجر : ابو علی حسین بن محمد الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ایوب نے ہم سے بیان کیا کہا اسماعیل بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہا مجھے علاء بن عبدالرحمٰن نے خبردی وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ہدایت کی طرف بلایا جو اس کی پیروی کرے گا اسکے اجروں کی مثل اس(بلانے والے) کو اجر ملے گا اور ان(پیروی کرنے والوں) کے اجر میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا جو اس کی پیروی کرے گا اسکے گناہوں کی مثل اس(گمراہی کی طرف بلانے والے) پر گناہ ہو گا اور ان(پیروی کرنے والوں) کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 216

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 217

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَلَهُ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ

نیک کام ایجاد کرنے کی فضیلت : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب نے ہمیں خبر دی کہا سعید بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہا نضر بن شمیل نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ بن الحجاج نے ہمیں خبر دی کہا عون بن ابو جحیفہ نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے منذر بن جریر بن عبداللہ سے سنا وہ اپنے باپ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کا اسے اجر ملے گا اور جو اس پر عمل کرے گا اس کا بھی اجرا سے ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے اجروں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اسکے گناہ کا بوجھ اسی پر ہے اور جو اس پر عمل کرے گا اس کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر ہے بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں کے بوجھوں میں کچھ بھی کمی کی جائے‘‘۔

أَبِيهِ ← الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 217

chevron_left Previous
1…161718…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him