الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 86
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي جِنَازَةٍ فَقَال: مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ثُمَّ قَرَأَ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 6] قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَوْلُهُ «فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ» يُرِيدُ أَنَّهُ مُيَسَّرٌ فِي أَيَّامِ حَيَاتِهِ لِلْعَمَلِ الَّذِي سَبَقَ لَهُ الْقَدَرُ بِهِ قَبْلَ وُجُودِهِ وَكَوْنِهِ، وَأَمَرَ بِالْعَمَلِ الَّذِي هُوَ أَمَارَةٌ لَهُ لِيَكُونَ رَاجِيًا خَائِفًا
ابو الفتح محمد بن احمد بن ابی الفوارس حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے بغداد میں مجھے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن عبداللہالشافعی نے خبر دی کہا ہم سے اسحاق بن حسن نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ سعد بن عبیدہ سے وہ ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم جنت البقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی ہے اس کا ٹھکانہ جہنم سے یا جنت سے لکھا ہوا ہے، صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کریں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کیے جاؤ! پس ہر ایک کے لیے وہی آسان کیا جائے گا جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے پھر حضورا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی، فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی، وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی، وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی، فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْـعُسْرٰی (الیل:5 تا 10) ترجمہ: تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی ،اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے ، اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی کو جھٹلایا تو ہم بہت جلد اسے دشواری مہیا کریں گے۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان:’’ ہر ایک کے لیے آسان کیا جائے گا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں اس کے لیے عمل کرنا آسان ہو جائے گا جس کی طرف اس کے وجود تخلیق سے پہلے تقدیر نے سبقت کی اور عمل کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کی نشانی ہے تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھنے والا بھی ہو اور خوف رکھنے والا بھی۔
مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الجَنَّةِ، ← مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ ← كنا مع رسول الله في بقيع الغرقد في جنازة ← عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 86
