Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 86

أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي جِنَازَةٍ فَقَال: مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ثُمَّ قَرَأَ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 6] قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَوْلُهُ «فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ» يُرِيدُ أَنَّهُ مُيَسَّرٌ فِي أَيَّامِ حَيَاتِهِ لِلْعَمَلِ الَّذِي سَبَقَ لَهُ الْقَدَرُ بِهِ قَبْلَ وُجُودِهِ وَكَوْنِهِ، وَأَمَرَ بِالْعَمَلِ الَّذِي هُوَ أَمَارَةٌ لَهُ لِيَكُونَ رَاجِيًا خَائِفًا

ابو الفتح محمد بن احمد بن ابی الفوارس حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے بغداد میں مجھے خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن عبداللہالشافعی نے خبر دی کہا ہم سے اسحاق بن حسن نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ سعد بن عبیدہ سے وہ ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم جنت البقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی ہے اس کا ٹھکانہ جہنم سے یا جنت سے لکھا ہوا ہے، صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کریں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کیے جاؤ! پس ہر ایک کے لیے وہی آسان کیا جائے گا جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے پھر حضورا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی، فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی، وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی، وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی، فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْـعُسْرٰی (الیل:5 تا 10) ترجمہ: تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی ،اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے ، اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی کو جھٹلایا تو ہم بہت جلد اسے دشواری مہیا کریں گے۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان:’’ ہر ایک کے لیے آسان کیا جائے گا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں اس کے لیے عمل کرنا آسان ہو جائے گا جس کی طرف اس کے وجود تخلیق سے پہلے تقدیر نے سبقت کی اور عمل کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کی نشانی ہے تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھنے والا بھی ہو اور خوف رکھنے والا بھی۔

مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الجَنَّةِ، ← مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ ← كنا مع رسول الله في بقيع الغرقد في جنازة ← عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 86

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 87

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثنا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ [ص:138] فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ: اكْتُبْ رِزْقَهُ، وَعَمَلَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌ هُوَ أَمْ سَعِيدٌ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا

علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نے خبر دی کہا ہم سے سعدان بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا وہ زید بن وہب سے وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صادق ومصدوق ہیں :” تم میں سے ہر ایک کی خلقت کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع کیا جاتا ہے پھر وہ جما ہوا خون ہوتا ہے اسی کی مثل(دنوں میں) پھر وہ لوتھڑا ہوتا ہے اسی کی مثل(دنوں میں) پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے تو وہ اس میں روح پھونکتا ہے پھر اسے چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا رزق، اس کا عمل ، اس کی موت یہ بد بخت ہو گا یا سعادت مند لکھ! اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کوئی جہنمیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جہنم کے مابین ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پس اس پر لکھا ہوا غالب آتا ہے تو اس کا خاتمہ جنتیوں والے عمل کیساتھ ہوتا ہے پس وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جنت کے مابین ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غلبہ کرتا ہے تو اس کا خاتمہ جہنمیوں کے عمل کیساتھ ہوتا ہے تو وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 87

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 88

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي، قَالَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو محمد عبد اللہ بن یوسف اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد البصری نے خبر دی کہا ہم سے حسن بن محمد زعفرانی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیاوہ عمرو سے وہ طاؤس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہا السلام کا مناظرہ ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے باپ ہیں ، آپ نے ہمیں نامراد کر دیا اور آپ نے ہمیں جنت سے نکال دیا تو آپ کو حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ !اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے کلام کے ساتھ چن لیا اور تیرے لیے تو رات لکھی کیا تو مجھے ایسے امر پر ملامت کرتا ہے جسے میری تخلیق سے پہلے مجھ پر مقدر کر دیا گیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس حضرت آدم، حضرت موسیٰ(علیہ السلام) پر غالب آگئے۔ امام بیہقی رحمہ للہ تعالیٰ نے فرمایا : اس کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← طَاوْسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 88

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 89

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ إِملَاءً، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ [ص:139]، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو السَّرِيِّ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ طُبِعَ كَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا

ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف مصری نے ہمیں مکہ میں خبر دی کہا ہم سے بیان کیا ابو بکر احمد بن محمد بن ابی الموت نے املا کرواتے ہوئے کہا ہم سے بیان کیا علی بن عبدالعزیز نے کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے چنانچہ فرمایا: اور ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن احمد صفار نے بیان کیا کہا ہم سے ابو السری موسیٰ بن حسن نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ رقبہ بن مسقلہ سے وہ ابو اسحاق سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس سے وہ حضرت ابی بن کعب(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وولڑکا جسے حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ کافر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین پر سرکشی و کفر کیساتھ غلبہ پالیتا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو السَّرِيِّ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ، ← الْقَعْنَبِيُّ [ص:139]، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ إِمْلَاءً، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 89

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 90

أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيلُ الْمُحَمَّدَابَاذِيُّ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ: وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ

سعادت مند کون؟ ابو الخیر جامع بن احمد الوکیل المحمد آبادی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے خبر دی کہا ہم سے عثمان بن سعید الدارمی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا وہ ہشام بن حسان سے وہ ابن سیرین سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعادت مند وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں سعادت مند ہوا۔ بد بخت کون؟ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اسے یحییٰ بن عبداللہ التمیمی نے اپنے باپ سے روایت کیا وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ : بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوا۔

النَّبِيِّ وَزَادَ فِيهِ: وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، ← السَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ← أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيلُ الْمُحَمَّدَابَاذِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 90

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 91

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَكَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، وَهَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا غُلَّامُ أَوْ يَا [ص:140] بُنَيَّ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: «احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَقْضِهِ اللَّهُ لَكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَقْضِهِ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَاعْمَلْ لِلَّهِ بِالشُّكْرِ فِي الْيَقِينِ، وَاعْلمْ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرٌ كَثِيرٌ، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» قَالَ الْأُسْتَاذُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ «جَفَّتِ الصُّحُفُ ورُفِعَتِ الْأَقْلَامُ» وَلهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَحَدِيثُ «السَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ لَا» يُخَالِفُ الْأَحَادِيثَ الْوَارِدَةَ فِي الْمَقَادِيرِ، وَجَرَيَانِ الْقَلَمِ بِمَا يَكُونُ فَإِنَّهُ إِنَّمَا يَسْعَدُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ مَنْ جَرَى الْقَلَمُ بِسَعَادَتِهِ وَإِنَّمَا جَرَى الْقَلَمُ بِسَعَادَةِ مَنْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ وَفِي تَقْدِيرِهِ سَعَادَتُهُ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاص کلمات سکھائے : ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار السکری نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا ہمیں اسماعیل بن محمد صفار نے خبر دی کہا ہم سے عباس بن عبد اللہ الترقفی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقریٔ نے بیان کیا کہا ہم سے نافع بن یزید، ابن لہیعہ، کہمس بن حسن اور حجاج بن یحییٰ نے بیان کیا وہ قیس بن حجاج سے وہ حنش سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا(یعنی سواری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے لڑ کے ! یا فرمایا: اے بیٹے ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰٰ تجھے نفع دے ؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں(ضرور سکھائیے!) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ تواللہ کو یادرکھ وہ تجھے یادر کھے گا تو اللہ کو یا در کھ! تو تو اسے اپنے سامنے پائے گا ،خوشحالی میں تو اسے پہچان وہ سختی میں تجھے پہچانے گا جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کرنا، اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ سے مدد طلب کرنا ، بلاشبہ جو کچھ ہونے والا ہے اس کیساتھ قلم خشک ہو گیا پس اگر ساری کی ساری مخلوق تجھے کسی چیز کا نفع پہنچانے کا ارادہ کر لیں جس کا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے فیصلہ نہیں کیا تو وہ اس پر قادر نہ ہوں گے اور اگر وہ کسی چیز کیساتھ تجھے ضرر پہنچانے کا ارادہ کریں جس کا اللہ تعالیٰ نے تیرے او پر فیصلہ نہیں کیا تو وہ اس پر قادر نہ ہوں گے پس تو اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کر شکر کیساتھ یقین میں اور جان لے کہ اس چیز پر صبر کرنا جسے تم ناپسند کرتے ہو یہ بہت بڑی بھلائی ہے اور مدد صبر کیساتھ اور کشادگی سختی کے ساتھ ہے اور تنگی کیساتھ آسانی ہے‘‘۔قَالَ الْاُسْتَاذُ رَحِمَہُ اللہُ: وَرَوَاہُ اللیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ جَفَّتِ الصُّحُفُ ورُفِعَتِ الْاَقْلَامُاستاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسے لیث بن سعد نے قیس بن حجاج سے روایت کیا اور اپنی حدیث میں فرمایا: ”قلمیں اٹھالیں گئیں اور صحیفے خشک ہو گئے‘‘۔ اور اس حدیث کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کئی شواہد ہیں۔ اور یہ حدیث’’ سعادت مند وہ ہے جو اپنے ماں کے پیٹ میں سعادت مند ہوا‘‘ تقدیر کے متعلق اور ہر ہونے والے امر کے متعلق قلم کے جاری ہونے والی احادیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ ماں کے پیٹ میں سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کی سعادت مندی کیساتھ قلم جاری ہو چکا ہے اور اس شخص کی سعادت مندی کا قلم جاری ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ کے علم وتقدیر میں جس کیلئے سعادت مندی ہے۔

كنت رديف رسول الله ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حنش ← قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← کهمس بن الحسن ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 91

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 92

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلِمَ قبْلَ أَنْ يَكْتُبَ وَكَتَبَ [ص:141] قبْلَ أَنْ يَخْلُقَ فَمَضَى الْخَلْقُ عَلَى عِلْمِهِ وَكِتَابِهِ

ابو عبداللہ حافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن اسحق نے خبر دی کہا ہمیں حسن بن علی بن زیاد نے خبر دی کہ ہمیں سعید بن سلیمان نے خبر دی کہا ہمیں سعید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہا میں نے ابو حازم کو کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل لکھنے سے پہلے جانتا ہے اور تخلیق سے پہلے اس نے لکھا پس تخلیق اس کے علم و کتابت پر ہوئی۔

إن الله عز وجل علم قبل أن يكتب ← أَبَا حَازِمٍ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 92

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 93

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا خُزَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَتُقًى نَتَّقِيهِ هَلْ يَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالَّذِي يَشْهَدُ لِهَذَا الْحَدِيثِ بِالصِّحَّةِ قوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» فَهُوَ إِذَا تَدَاوَى أَوِ اسْتَرْقَى أَوِ اتَّقَى فَبِتَقْدِيرِ اللَّهِ وَتَيْسِيرِهِ أَمْكَنَهُ ذَلِكَ، وَلَوْ لَمْ يُقَدِّرْهُ لَمْ يَتَيَسَّرْ مِنْهُ فِعْلُ ذَلِكَ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے بحر بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا کہا مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی وہ ابن شہاب سے راوی کہ ابوخز امہ نے ان سے بیان کیا کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا خیال ہے اس دواء کے بارے میں جو ہم دوائی لیتے ہیں اور اس دم کے بارے میں جو ہم دم کرواتے ہیں اور اس پرہیز کے بارے میں جو ہم کرتے ہیں کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو بدل دیتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ امام شیخ بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس حدیث کی صحت کی گواہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان دیتا ہے ’’ہر ایک کے لیے وہی آسان کر دیا جائے گا جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے‘‘ کیونکہ جب اس نے دوائی لی یا دم کروا یا یا پرہیز کیا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے اور اس کے آسان کرنے سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس پر قدرت دی اور اگر اس نے اس کے مقدر نہ کیا ہوتا تو اس فعل کا ہونا اسے میسر نہ آتا۔ وباللہ التوفیق۔

أَنَّهُ ← أَنَّ أَبَاهُ ← ابن شهاب أن أبا خزامة ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 93

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 94

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ {قَالَ أَتعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ} [الصافات: 95] قَالَ: الْأَصْنَامُ {وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا [ص:143] تَعْمَلُونَ} [الصافات: 96] قَالَ: خَلَقَكُمْ وَخَلَقَ مَا تَعْمَلُونَ بِأَيْدِيكُمْ قُلْنَا: وَلِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: {وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الأنعام: 101] فَامْتَدَحَ بِالْقَوْلَيْنِ جَمِيعًا، فَكَمَا لَا يَخْرُجُ شَيْءٌ مِنْ عِلْمِهِ لَا يَخْرُجُ شَيْءٌ غَيْرُهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَلِأَنَّهُ قَالَ: {وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ} [الملك: 14] فَأَخْبَرَ أَنَّ قَوْلَهُمْ وَسِرَّهُمْ وَجَهْرَهُمْ خَلَقَهُ وَهُوَ بِجَمِيعِ ذَلِكَ عَلِيمٌ. وَقَالَ: {وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى} [النجم: 43] كَمَا قَالَ: {وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا} [النجم: 44] فَكَمَا كَانَ مُمِيتًا مُحْيِيًا بِأَنْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ كَانَ مُضْحِكًا مُبْكِيًا بِأَنْ خَلَقَ الضَّحِكَ وَالْبُكَاءَ، وَقَدْ يَضْحَكُ الْكَافِرُ سُرُورًا بِقَتْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مِنْهُ كُفْرٌ، وَقَدْ يَبْكِي حُزْنًا بِظُهُورِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مِنْهُ كُفْرٌ، فَثَبَتَ أَنَّ الْأَفْعَالَ كُلَّهَا خَيْرَهَا وَشَرَّهَا صَادِرَةٌ عَنْ خَلْقِهِ وَإِحْدَاثِهِ إِيَّاهَا؛ وَلِأَنَّهُ قَالَ: {فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17] وَقَالَ: {أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: 64] فَسَلَبَ عَنْهُمْ فِعْلَ الْقَتْلِ وَالرَّمْيِ وَالزَّرْعِ مَعَ مُبَاشَرَتِهِمْ إِيَّاهُ، وَأَثْبَتَ فِعْلَهَا لِنَفْسِهِ لِيَدُلَّ بِذَلِكَ عَلَى أَنَّ الْمَعْنَى الْمُؤَثِّرَ فِي وُجُودِهَا بَعْدَ عَدَمِهَا هُوَ إِيجَادُهُ وَخَلْقُهُ، وَإِنَّمَا وُجِدَتْ مِنْ عِبَادِهِ مُبَاشَرَةُ تِلْكَ الْأَفْعَالِ بِقُدْرَةٍ حَادِثَةٍ أَحْدَثَهَا خَالِقُنَا عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَرَادَ فَهِيَ مِنَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ خَلْقٌ عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ هُوَ الَّذِي اخْتَرَعَهَا بِقُدْرَتِهِ الْقَدِيمَةِ وَهِيَ مِنْ عِبَادِهِ [ص:144] كَسْبٌ عَلَى مَعْنَى تَعَلُّقِ قُدْرَةٍ حَادِثَةٍ بِمُبَاشَرَتِهِمُ الَّتِي هِيَ أَكْسَابُهُمْ وَوُقُوعُ هَذِهِ الْأَفْعَالِ أَوْ بَعْضِهَا عَلَى وُجُوهٍ تُخَالِفُ قَصْدَ مُكْتَسِبِهَا يَدُلُّ عَلَى مُوقِعٍ أَوْقَعَهَا عَلَى مَا أَرَادَ غَيْرِ مُكْتَسِبِهَا وَهُوَ اللَّهُ ربُّنَا خَلَقَنَا، وَخَلَقَ أَفْعَالَنَا لَا شَرِيكَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ. وَكَانَ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ يُعَبِّرُ عَنْ هَذَا بِعِبَارَةٍ حَسَنَةٍ، فَيَقُولُ فِعْلُ الْقَادِرِ الْقَدِيمِ خَلْقٌ وَفِعْلُ الْقَادِرِ الْمُحْدَثِ كَسْبٌ فَتَعَالَى الْقَدِيمُ عَنِ الْكَسْبِ وَجَلَّ وَصَغُرَ الْمُحْدَثُ عَنِ الْخَلْقِ وَذَلَّ، وَقَدْ أَثْبَتَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ كَسْبَ الْعِبَادِ وَخَلْقَهُ كَسْبَهُمْ بِمَا ذَكَرْنَا مِنَ الْآيَاتِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ، وَفِي كِتَابِ الْقَدَرِ مِمَّا لَمْ نَذْكُرْهُ هَاهُنَا، وَبِمِثْلِ ذَلِكَ جَاءَتِ السُّنَّةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبیداللہ بن منادی نے بیان کیا کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا وہ قتادہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ (الصافات: 95) ترجمہ: کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو۔ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے کہا : اس سے مراد بت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ کے بارے میں فرمایا: اس یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اور جو تم اپنے ہاتھوں سے عمل کرتے ہواسے پیدا فرمایا۔ ہم نے کہا ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (انعام:101) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں(یعنی تخلیق وعلم) کی اکٹھے مدح فرمائی لہٰذا جیسے اس کے علم سے کوئی چیز خارج نہیں ایسے ہی اس کے علاوہ کوئی چیز اس کی تخلیق سے خارج نہیں۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے وہ تو دلوں کو جانتا ہے کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا۔ (الملک:14،13) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ لوگوں کی گفتگو اور ان کا پوشیدہ اور ظاہر اس(اللہ عزوجل) نے اسے پیدا فرمایا ہے وہ ان تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا۔ (النجم:43) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور زندہ کیا۔ (النجم:44) جیسا وہ موت و زندگی دینے والا ہے کہ اس نے موت وحیات کو پیدا فرمایا ایسے ہی وہ ہنسانے اور رلانے والا ہے کہ ہنسنا اور رونا اس نے پیدا کیا اور کبھی وہ مسلمانوں کے قتل کے ذریعے کافر کوخوش کر کے ہنساتا ہے اور حالانکہ وہ اس سے کافر اور کبھی مسلمانوں کے غلبہ کے ذریعے انہیں غمگین کر کے رلاتا ہے اور وہ اس سے کافر ہوا، لہٰذا ثابت ہو گیا کہ تمام کے تمام افعال خیرو شر جوصادر ہونے والے ہیں وہ اسی کی تخلیق وایجاد سے ہیں۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے یہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ (الانفال:17) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: کیا تم اس کھیتی کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔ (الواقعۃ :64) پس اللہ تعالیٰ نے ان سے فعل قتل ، رمی اور زرع کو اپنی طرف منسوب کیا باوجود یکہ یہ کام کر نے والے لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا فعل اپنے لیے ثابت فرمایا تاکہ یہ اس بات پر دلیل ہو جائے کہ ان کے عدم کے بعد وجود میں معنی مؤثر وہ اللہ تعالیٰ کی ایجاد و تخلیق ہے اور یہ فعل بندوں کی طرف سے پایا گیا کیونکہ وہ ان افعال کے مباشر(سرانجام دینے والے) ہیں ایسی قدرت کیساتھ جو پیدا ہوئی تھی جیسے ہمارے خالق اللہ تعالیٰ عزوجل نے پیدا کیا اس کے مطابق جس کا بندے نے ارادہ کیا پس یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے تخلیق ہے اس معنی پر کہ اسی نے اپنی قدرت قدیمہ کیساتھ اسے پیدا فرمایا اور یہ بندوں کی طرف سے کسب ہے اس معنی کے اعتبار سے کہ اس کا تعلق ہے ایسی قدرت کیساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے فعل سر انجام دیتے وقت پیدا کیا تھا ان کا یہ فعل سر انجام دینا ہی ان کا کسب ہے۔ ان افعال کا واقع ہونا یا بعض کا کسب کرنے والے کے ارادے کے مخالف صورتوں میں واقع ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں کسب کر نے والے کے علاوہ کے ارادے کے مطابق واقع کیا گیا ہے وہ اللہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے افعال کو پیدا کیا مخلوق میں کوئی بھی چیز اس کی شریک نہیں(اس نے اپنے ارادے کے مطابق یہ فعل سرانجام دیا) اللہ تمام جہانوں کا پروردگار برکت والا ہے۔ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان اسی بات کو ایک حسین عبارت میں تعبیر کرتے ہوئے کہتے تھے : قادر قدیم(اللہ تعالیٰ) کافعل خلق(تخلیق) ہے اور حادث قادر کا فعل کسب ہے پس قدیم ،کسب سے بہت بلند و بالا ہے اور حادث خلق سے بہت چھوٹا اور ذلیل ہے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بندوں کے کسب کو ثابت کیا اور ان کے کسب کو پیدا کیا ان آیات میں جو ہم نے اس مقام پر ذکر کی ہیں اور کتاب القدر میں ذکر کیں ان میں سے کچھ کو ہم نے یہاں ذکرنہیں کیا اسی کی مثل کیساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنت مروی ہیں۔

قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 94

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 95

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِميُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ اللَّهَ يَصْنَعُ كُلَّ صَانِعٍ وَصَنْعَتُهُ»

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو النضر الفقیہ نے خبر دی کہا ہم سے عثمان بن سعید الدارمی نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن المدینی نے بیان کیا کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو ما لک اشجعی نے بیان کیا وہ ربعی بن خراش سے وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ہر صانع اور اس کی صنعت کا پیدا کرنے والا ہے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 95

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 96

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، ح وأنا أَبُو عَبْدُ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْرُ وَالشَّرُّ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيَعِدُ أَهْلَهُ الْخَيْرَ وَيُمَنِّيهِ، وَأَمَّا الْمُنْكَرُ [ص:145] فَيَقُولُ إِلَيْكُمْ، وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا»

خیر وشر اللہ تعالیٰ کی دو مخلوق ہیں: ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن جعفر اصبہانی نے خبر دی کہا ہم سے یونس بن حبیب نے بیان کیا کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے چنانچہ کہا: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن اسحاق نے خبر دی کہا ہمیں محمد بن عیسیٰ بن السکن الواسطی نے خبر دی کہا ہم سے قواریری نے بیان کیا کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا وہ قتادہ سے وہ حسن سے وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”خیر وشر دونوں پیدا کی گئی ہیں قیامت کے دن ان دونوں کولوگوں کے لیے کھڑا کیا جائے گا‘‘۔ امام ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ بھلائی اور برائی یہ دونوں پیدا کی گئی ہیں قیامت کے دن لوگوں کے لیے ان دونوں کے لیے کھڑا کیا جائے پس نیکی اپنے ساتھی کے لیے خیر(جنت) تیار ومقدر کرے گی اور برائی کہے گی: تم مجھ سے دور رہو اور وہ اس کیساتھ چمٹی رہے گی‘‘۔

الْخَيْرُ وَالشَّرُّ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ ← أبي موسى أن نبي الله ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 96

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي خَلْقِ الْأَفْعَالِ · حديث 97

أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الدَّامَغَانِيُّ نَزِيلُ بَيْهَقَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ الْجُرْجَانِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا خَلَقْتُ الْخَيْرَ وَقَدَّرْتُهُ فَطُوبَى لِمَنْ خَلَقْتُهُ لِلخَيْرِ وَخَلَقْتُ الْخَيْرَ لَهُ وَأَجْرَيْتُ الْخَيْرَ عَلَى يَدَيْهِ أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا خَلَقْتُ الشَّرَّ وَقَدَّرْتُهُ فَوَيْلٌ لِمَنْ خَلَقْتُ الشَّرَّ لَهُ وَخَلَقْتُهُ لِلشَّرِّ وَأَجْرَيْتُ الشَّرَّ عَلَى يَدَيْهِ " وَأَمَّا مَا رُوِيَ فِي حَدِيثِ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ: الْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ «فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ الْإِرْشَادُ إِلَى اسْتِعْمَالِ الْأَدَبِ فِي الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَدْحِ لَهُ بِأَنْ يُضَافَ إِلَيْهِ مَحَاسِنُ الْأُمُورِ دُونَ مَسَاوِيهَا، وَلَمْ يَقْصِدْ بِهِ إِدْخَالَ شَيْءٍ فِي قُدْرَتِهِ وَنَفْيِ ضِدِّهِ عَنْهُ، فَقَدْ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ» وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ «وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ» وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ " وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ يَهْدِي قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ وَيَعْصِمَ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ آخَرِينَ وَمَنْ لَمْ يَهْدِهِ وَلَمْ يَعْصِمْهُ فَقَدْ خَذَلَهُ وَمَنْ خَذَلَهُ لَمْ يُرِدْ بِهِ خَيْرًا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ} [المائدة: 41] وَكَانَ النَّضْرُ بْنُ

ابو منصور احمد بن محمد بن منصور الدامغانی ساکن بیہق نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو بکر اسماعیلی جرجانی نے بیان کیا کہا مجھے حسن بن سفیان نے خبر دی کہا ہم سے ابو عمار نے بیان کیا کہا ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا وہ ابو فروہ رہاوی سے وہ ابو یحییٰ کلاعی سے وہ حضرت ابو امامہ الباہلی سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے : میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے خیر کو پیدا کیا اور اسے مقدر کیا اس کے لیے خوشخبری ہو جس کو میں نے خیر کے لیے پیدا کیا اور جس کے لیے میں نے خیر پیدا کی اور میں نے خیر کو اس کے ہاتھوں پر جاری کر دیا ، میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے شر کو پیدا کیا اور میں نے اسے مقدر کیا پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کے لیے میں نے شر پیدا کی اور میں نے جسے شر کے لیے پیدا کیا اور میں نے جس کے ہاتھوں پر شر جاری کیا۔ خیر وشر کی نسبت کس کی طرف کی جائے : رہا معاملہ اس حدیث کا جو دعاء استفتاح کی حدیث میں روایت کی گئی ہے :”خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے‘‘ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعریف میں ادب استعمال کرنے کی راہنمائی کرنا اور مدح سرائی کرنا کہ اچھے امور کی نسبت اس کی طرف کی جائے نہ کہ ان کے ذلیل وحقیر امور اور اس سے اس کی قدرت میں کسی چیز کا داخل کرنا یا اس کے مخالف کی اس سے نفی کرنا مقصود نہیں ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا: ’’ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت دے‘‘ اور دوسری حدیث میں فرمایا: ’’معصوم وہ ہے جسے اللہ نے معصوم بنایا‘‘ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک قوم کو ہدایت دیتا ہے نہ کہ دوسری قوم کو اور وہ جسے ہدایت نہ دے اور محفوظ نہ رکھے تو بلاشبہ اس نے اسے رسوا کر دیا اس کیساتھ بھلائی کا ارادہ نہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْیُرِدِ اللہُ اَنْ یُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْ(المائدہ:41) ترجمہ: وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا(انہیں دنیا میں رسوائی ہے اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب)۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أبي يحيى الكلاعي ← أبي فروة الرهاوي ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ الْجُرْجَانِيُّ، ← أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الدَّامَغَانِيُّ نَزِيلُ بَيْهَقَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on saying in the creation of verbs · Hadith 97

chevron_left Previous
1…678…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him