الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 146
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ قَالَ: نا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، قَالَ: نا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيَّ، وَسَعِيدَ بْنَ يَعْقُوبَ، قَالَا: نا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: سَمِعْتُ الثَّوْرِيَّ، يَقُولُ: قَدْ خَالَفْنَا الْمُرْجِئَةَ فِي ثَلَاثٍ، نَحْنُ نَقُولُ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ وَهُمْ يَقُولُونَ قَوْلٌ بِلَا عَمَلٍ، وَنَحْنُ نَقُولُ: يَزِيدُ وَيَنْقُصُ وَهُمْ يَقُولُونَ لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ، وَنَحْنُ نَقُولُ: أَهْلُ الْقِبْلَةِ عِنْدَنَا مُؤْمِنُونَ أَمَّا عِنْدَ اللَّهِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَهُمْ يَقُولُونَ نَحْنُ عِنْدَ اللَّهِ مُؤْمِنُونَ فَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَخْبَرَ عَنْ أَهْلِ السُّنَّةِ أَنَّهُمْ لَا يَقْطَعُونَ بِكَوْنِهِمْ مُؤْمِنِينَ عِنْدَ اللَّهِ يَعْنِي فِي ثَانِي الْحَالِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَهُوَ عَالِمٌ بِمَا يَصِيرُ إِلَيْهِ حَالُ الْعَبْدِ ثُمَّ يَمُوتُ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُهُ فَنَكِلُ الْأَمْرَ فِيمَا لَا نَعْلَمُهُ إِلَى عَالِمِهِ خَوْفًا مِنْ سُوءِ الْعَاقِبَةِ، وَنَسْتَثْنِي عَلَى هَذَا الْمَعْنَى وَنَرْجُو مِنَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُثَبِّتْنَا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ. وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي جَرَيَانِ الْقَلَمِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ وَرُجُوعُ كُلِّ [ص:184] إِنسَانٍ إِلَى مَا كُتِبَ لَهُ مِنَ الشَّقَاوَةِ وَالسَّعَادَةِ فَمَوْتُهُ عَلَيْهِ مَانِعَةٌ مِنْ قَطْعِ الْقَوْلِ بِمَا يَكُونُ فِي الْعَاقِبَةِ حَامِلَةٌ عَلَى الِاسْتِثْنَاءِ وَعَلَى الْخَوْفِ مِنْ تَبَدُّلِ الْحَالَةِ، وَاللَّهُ يَعْصِمُنَا مِنْ ذَلِكَ بِفَضْلِهِ وَسَعَةِ رَحْمَتِهِ
کچھ فرقہ مرجئہ کے متعلق حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی : ہمیں ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین السلمی نے خبر دی کہا ہمیں بشر بن احمد المہرجانی نے خبر دی کہا داؤد بن حسین بیہقی نے خبر دی کہا میں نے محمد بن مقاتل مروزی اور سعید بن یعقوب سے سنا ان دونوں نے کہا ہمیں مؤمل بن اسماعیل نے خبر دی کہا میں نے سفیان ثوری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے مرجئہ کی تین باتوں میں مخالفت کی ، ہم کہتے ہیں: ایمان قول وعمل کا نام ہے وہ کہتے ہیں قول کا نام ہے بغیر عمل کے، ہم کہتے ہیں اس میں اضافہ کمی ہوتی ہے وہ کہتے ہیں اس میں اضافہ وکمی نہیں ہوتی ہم کہتے ہیں کہ اہل قبلہ ہمارے نزدیک مؤمن ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کا حکم اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جانتا ہے وہ کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک مؤمن ہیں۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اہل سنت کے عقیدے کے متعلق خبر دی کہ وہ قطعی طور پر اللہ کے نزدیک مومن ہونے کا قول نہیں کرتے یعنی دوسری حالت میں کیونکہ اللہ تعالیٰ غیب جانتا ہے وہ جانتا ہے کہ بندے کی حالت کس کی طرف پھر جائے گی پھر وہ اسی حالت میں مر جائے گا اور ہمیں اسکا علم نہیں چنانچہ جن امور کا ہمیں علم نہیں ہم ان کو اسکے جاننے والے یعنی اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں بری عاقبت سے خوف رکھتے ہوئے اس معنی پر ہم استثناء کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیاوی واخروی زندگی میں قول ثابت(کلمہ توحید) پر ثابت قدم رکھے گا۔ اور وہ احادیث جو ہر اس چیز کے متعلق جو کچھ ہونے والا ہے قلم کے جاری ہونے کے متعلق وارد ہوئی ہیں اور ہر انسان کی اسی کی طرف لوٹنے جو اس کے لیے سعادت و شقاوت لکھ دی گئی ہے پھر اسی حالت پر ان کی موت آنے کے متعلق(احادیث) آئی ہیں یہ اس بات سے روکتی ہیں کہ عاقبت میں جو کچھ ہو گا اس کے بارے میں کوئی حتمی بات کی جائے اور یہ احادیث استثناء پر ابھارتی ہیں اور تبدیل حالت سے خوف پر ابھارتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل اور وسعت رحمت سے محفوظ فرمائے۔
الثَّوْرِيُّ ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدَ بْنَ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيَّ، وَسَعِيدَ بْنَ يَعْقُوبَ، ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← بشر بن أحمد المهرجاني، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 146
