Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 330

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحِمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ وَأَنَا أَسْمعُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ بِالسُّنْحِ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُقَطِعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: بأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلَكَ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ [ص:347] اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ وَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتونَ} [الزمر: 30] وَقَالَ: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ} [آل عمران: 144] الْآيَةُ كُلُّهَا، فَنَشَجَ النَّاسُ يبْكونَ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَقَالُوا: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَذَهَبَ إِلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَذَهَبَ عُمَرُ يَتَكَلَّمُ فَأَسْكَتَهُ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ هَيَأْتُ كَلَامًا أَعْجَبَنِي فَخَشِيتُ أَنْ لَا يُبَلِّغَهُ أَبُو بَكْرٍ فَتَكَلَّمَ وَأَبْلَغَ، وَقَالَ فِي كَلَامِهِ: نَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، قَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعلُ أَبَدًا مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا وَلَكِنَّا الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ - يَعْنِي الْمُهَاجِرِينَ هُمْ أَوْسطُ الْعَرَبِ دَارًا وَأَعَزُّهُمْ أَحْسَابًا - فَبَايِعُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ نبَايِعُكَ أَنْتَ خَيْرُنَا وَسيِّدُنَا وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ، فَقَالَ قَائِلٌ: قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَتَلَهُ اللَّهُ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي قِصَّةِ السِّقِيفَةِ بِمَعْنَى مَا رَوَتْهُ عَائِشَةُ وَفيهُ مِنَ الزِّيَادَةِ عَنْ عُمَرَ قَالَ: فَلَمْ أَكْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا، كَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقْدِمَ فَتُضْربَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ إِلَى إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ [ص:348] أُؤَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَزَادَ أَيْضًا قَالَ عُمَرُ: فَكَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتَّى أَشْفَقْتُ الِاخْتِلَافَ فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَبَسَطَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ بِالتَّمَامِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی استقامت: ابو الحسن علی بن احمد بن عمر بن حفص المقرئ بن الحمامی نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا احمد بن سلیمان النجاد نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن ہیثم پر پڑھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ ہم سے اسماعیل بن ابو اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا وہ ہشام بن عروہ سے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب وصال فرمایا تو حضرت ابو بکر مقام سخ میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے فرمایا: اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرے نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم میرے دل میں صرف یہی بات واقع ہوئی کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوضرور بالضرور اٹھائے گا تو وہ ضرور بالضرور لوگوں کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹیں گے اتنے میں حضرت ابو بکر تشریف لائے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے کپڑا ہٹا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور کہا: میرا باپ اور میری ماں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہو جائیں آپ کی زندگی وموت پاکیزہ ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ عزوجل آپ کو کبھی بھی دو موتیں نہیں چکھائے گا پھر آپ باہر نکلے اورفرمایا : اے حلف اٹھانے والے اپنی جگہ ٹھہرے رہو! پھر جب حضرت ابو بکر نے کلام(شروع کیا) تو حضرت عمر بیٹھ گئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا ء پڑھی پھر فرمایا : جو شخص حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کرتا ہے وہ سن لے کہ حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے وہ سن لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے کبھی مرے گانہیں اور آپ نے یہ آیت پڑھی :اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (الزمر:30) ترجمہ: بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ اور یہ آیت بھی پڑھی :وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقٰبِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اٰللہُ الشّٰکِرِیْنِ (آل عمران:144) ترجمہ: اورمحمدتو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جوالٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا۔ پس لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور تمام انصار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہو گئے انہوں نے کہا: ایک امیر ہم انصار میں سے ہو گا اور ایک امیر تم مہاجرین میں سے ہو گا۔ پھر حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کی طرف گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کلام کرنے لگے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں چپ کرادیا اور حضرت عمر بعد میں کہا کرتے تھے کہ اس کلام کرنے سے میرا ارادہ صرف یہی تھا کہ میں نے ایسا کلام تیار کیا تھا جس نے مجھے تعجب میں ڈالا تو مجھے خوف ہوا کہ حضرت ابو بکر اس تک نہیں پہنچیں گے تو آپ یعنی حضرت ابو بکر نے کلام کیا اور اس تک پہنچ گئے اور آپ نے اپنی گفتگو میں فرمایا: ہم امیر ہوں گے تم وزیر ہو گے تو حضرت حباب بن منذر نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم ہم ایسا نہیں کریں گے ، ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے تو حضرت ابو بکر نے کہا نہیں ، ہم امراء ہوں گے تم وزراء، مہاجرین اہل عرب میں گھر کے اعتبار سے افضل ہیں اور حسب کے اعتبار سے زیادہ معزز ہیں تو آپ نے حضرت عمر بن خطاب یا حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی بیعت کرنا چاہی تو حضرت عمر نے کہا: بلکہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں آپ ہم سے افضل ، ہمارے سردار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم زیادہ محبوب ہیں پھر حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا اور آپ کی بیعت کی اور لوگوں نے بھی آپ کی بیعت کی۔ کہنے والے نے کہا: تم نے حضرت سعد بن عبادہ کوقتل کر دیا تو حضرت عمر نے کہا: اللہ نے انہیں قتل کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی اسے حضرت عمر بن خطاب سے سقیفہ بنو ساعدہ کا قصہ حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت کے ہم معنی روایت کیا۔ اس میں حضرت عمر سے یہ اضافہ ہے کہ آپ نے کہا: مجھے ان باتوں میں سے ناپسند کوئی نہیں لگی جو ان کے علاوہ نے کہی کہ اللہ کی قسم مجھے آگے کیا جائے جس سے میری گردن ماری جائے وہ مجھے کسی گناہ کے قریب نہ کرے یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس قوم میں امیر بنایا جاؤں جس میں حضرت ابو بکر موجود ہوں۔ اور یہ بھی اضافہ کیا:حضرت عمر نے کہا: پھر شورو غل بہت زیادہ ہو گیا اور آوازیں بلند ہو گئیں حتٰی کہ میں نے اختلاف ختم کیا تو میں نے کہا: اے ابو بکر ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ حضرت ابو بکر نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے آپ کی بیعت کر لی تو تمام مہاجرین وانصار نے بھی آپ کی بیعت کی۔ ہم نے کتاب الفضائل میں اس مکمل واقعہ کو ذکر کیا ہے۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← أسمع ← قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر بن حفص المقري بن الحمامي

Hadith 330

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 331

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ , ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ خُطْبَةَ عُمَرَ الْآخِرَةَ حِينَ جَلَسَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ الْغَدُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَتَشَهَّدَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ صَامِتٌ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ بِالْأَمْسِ مَقَالَةً وَإِنهَا لَمْ تَكُنْ كَمَا قُلْتُ، وَإِنِي وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ الْمَقَالَةَ الَّتِي قُلْتُ لَكُمْ فِي كِتَابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا عَهْدٍ عَهِدَهُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ رَجَوْتُ أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْبِرَنَا - يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَكُونَ آخِرَهُمْ - فَقَالَ عُمَرُ: وَإِنْ يَكُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ جَعَلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نُورًا تَهْتَدُونَ بِهِ، بِهِ هَدَى اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَصِموا بِهِ تَهْتَدوا لِمَا هَدَى اللَّهُ لَهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ عُمَرُ أَبَا بَكْرٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَانِيَ اثْنَيْنِ وَإِنَّهُ أَحَقُّ الْمُسْلِمِينَ بأَمْرِهِمْ فَقُومُوا فَبَايِعُوهُ وَقَدْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَايَعُوهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَكَانَتْ بَيْعَتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ بَيْعَةَ الْعَامَّةِ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن خالد بن خلی نے ہم سے بیان کیا کہا بشر بن شعیب بن ابو حمزہ نے ہم سے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ زہری سے راوی آپ نے کہا مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی آپ نے حضرت عمر کا آخری خطبہ سناجب حضرت ابو بکر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر تشریف فرما ہو گئے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد والی صبح تھی۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ حضرت عمر نے گھواہی دی اور حضرت ابو بکر خاموش تھے پھر حضرت ابو بکر صدیق کہا: امام بعد ! میں نے گذشتہ کل بھی تم سے یہ بات کہی تھی کہ ایسا نہیں ہو گا جیسا تم نے کہا ہے اللہ کی قسم! میں نے تمہاری ذکر کر دہ بات اس کتاب میں نہیں پائی جسے اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نازل کیا اور نہ کسی ایسے عہد میں پائی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے لیا ہے لیکن میں امید کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہیں گے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں پیچھے کر دیں۔ اس سے آپ کی مرادان کے آخر میں ہوتا ہے، تو حضرت عمر نے کہا: حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمہارے درمیان نور بنایا تھا جس سے تم ہدایت لیتے تھے ،اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت دی تو تم نے اسے مضبوطی سے پکڑا تو تم ہدایت یافتہ رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت دی تھی۔ حضرت انس کہتے ہیں: پھر حضرت عمر نے ذکر کیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ہیں،ثانی اثنین(دو میں سے دوسرے) ہیں اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ حقدار ہیں ان کے امور کے لہٰذاتم کھڑے ہو جاؤ اور ان کی بیعت کرو!۔ان میں سے ایک گروہ اس سے پہلے سقیفہ بنو ساعدہ میں بیعت کر چکا تھا اور منبر پر آپ کی بیعت عام بیعت تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 331

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 332

أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ , عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ [ص:349] عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ زِرٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلستُمْ تعْلمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالُوا: نعوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ

اللہ کی پناہ کہ ہم حضرت ابو بکر سے آگے بڑھیں : الفقیہ ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی الروذ باری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب الاصم نے ہم سے بیان کیا کہا ابو جعفر احمد بن عبدالحمید الحارثی الکوفی نے ہم سے بیان کیا کہ حسین بن علی جعفی نے ہم سے بیان کیا وہ زائدہ سے وہ عاصم بن ابو النجود سے وہ زر سے وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تو انصار نے کہا ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے۔ کہا: پھر ان کے پاس حضرت عمر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : اے گروہ انصار! کیا تم جانتے نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا: توتم میں سے کس کا جی چاہتا ہے کہ وہ حضرت ابو بکر سے آگے بڑھے تو انہوں نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو بکر سے آگے بڑھیں۔

فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ ← الأَنْصَارُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ← لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← [ص:349] عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ الْكُوفِيُّ، ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم، ← الفقيه أبو علي الحسين بن محمد بن محمد بن علي الروذباري،

Hadith 332

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 333

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ , أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ حُمَيْرَوَيْهُ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ , ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ , عنَ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ , عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ أَبَا بَكْرٍ بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ ثُمَّ فِي وَفَاتِهِ ثُمَّ فِي رُجوعِ النَّاسِ إِلَى أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ فِي وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ ثُمَّ دَفْنِهِ ثُمَّ فِي مَوْضِعِ دَفْنِهِ ثُمَّ فِي أَمْرِهِ بَنِي عَمِّهِ بَغْسِلِهِ ثُمَّ خُرُوجِ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَخَذَ بيَدِ أَبِي بَكْرٍ مِنْ لَهُ مِثْلُ هَذِهِ الثَّلَاثَةِ الَّتِي لِأَبِي بَكْرٍ قَالَ اللَّهُ {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ} [التوبة: 40] مِنْ هُمَا؟ {إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ} [التوبة: 40] مِنْ صَاحِبُهُ {لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] مَنْ كَانَ اللَّهُ مَعَهُمَا، ثُمَّ بَسَطَ يَدَ أَبِي بَكْرٍ وَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ بَيْعَةً حَسَنَةً جَمِيلَةً

ابو نصر بن قتادہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو الفضل بن حمیرویہ نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن نجدہ نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن زیاد نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن داؤد نے ہم سے بیان کیا وہ سلمہ بن نبیط سے وہ نعیم بن ابو ہند سے وہ نبیط بن شریک سے وہ سالم بن عبید سے راوی کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہو گئے۔۔۔ پھر وہ حدیث ذکر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا تذکرہ کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے معاملے میں لوگوں کا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے امر کی طرف رجوع کرنے کا ذکر کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنازہ پڑھنے ، پھر آپ کے دفن مبارک پھر آپ کے دفن کی جگہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کے بیٹوں کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ذکر کیا پھر مہاجرین کا انصار کی طرف نکلنے کا ذکر کیا کہ انصار میں سے کہنے والے نے کہا: ایک امیر ہم سے اور ایک تم سے ہو گا تو حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ان تین فضائل میں حضرت ابو بکر کی مثل کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ ترجمہ :صرف دو جان جب وہ دونوں غار میں تھے۔ وہ دونوں کون تھے؟ اِذْ یَقُوْلُ لِصٰحِبِہٖ (جب اپنے صاحب(یار) سے فرماتے تھے وہ صاحب کون تھے؟ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا (التوبہ:40) ترجمہ: غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ کن دونوں کیساتھ اللہ تھا؟ پھر خود ہی حضرت ابو بکر کا ہاتھ پھیلا کر آپ کی بیعت کی اورلوگوں نے بھی آپ سے اچھے طریقے سے بیعت کی۔

فَاتِهِ ثُمَّ فِي رُجوعِ النَّاسِ إِلَى أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ فِي ← الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ أَبَا بَكْرٍ بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ ثُمَّ فِي ← مَرِضَ النَّبِيُّ ← سالم بن عبيد ← نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 333

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 334

وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ قَالِا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ , ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , ثنا وُهَيْبٌ , ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ , ثنا أَبُو نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطبَاءُ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلَّا مِنْكُمْ قَرَنَ مَعَهُ رَجُلًا مِنَّا [ص:350]، فنَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنْكُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطبَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى ذَلِكَ فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَكُونُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: جزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ ثُمَّ قَالَ: أَمَا لَوْ فَعَلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ لَمَا صَافَحْنَاكُمْ ثُمَّ أَخَذَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا صَاحِبُكُمْ فَبَايِعُوهُ ثُمَّ انْطَلَقوا فَلَمَّا قَعَدَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَامَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوْا بِهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُهُ أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعهُ ثُمَّ لَمْ يَرَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فَسَأَلَ عَنْهُ حَتَّى جَاءُوا بِهِ قَالَ: ابْنُ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوَارِيُّهُ أَرَدْتَ أَنْ تَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ: لَا تَثْرِيبَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعهُ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّقَّا الْإِسْفَرَايِينِيُّ، نا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالِا: حَدَّثَنَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: صَدَقَ قَائِلُكُمْ أَمَا لَوْ قلتُمْ غَيْرَ هَذَا لَمْ نُتَابِعْكُمْ وَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا صَاحِبُكُمْ فَبَايِعُوهُ وَبَايَعَهُ عُمَرُ وَبَايَعَهُ الْمهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ

حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی: الحافظ ابو عبداللہ اور ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابو حامد المقری نے ہم سے بیان کیا دراں حالیکہ کہ ان پر پڑھا گیا دونوں نے کہا: ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر ابن محمد بن شاکر نے ہم سے بیان کیا کہا عفان بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہا وہیب نے ہم سے بیان کیا کہا داؤد بن ابو ہند نے ہم سے بیان کیا کہا ابو نضرہ نے ہم سے بیان کیا وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تو انصار کے خطیب کھڑے ہو گئے تو ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا : اے گروہ مہاجرین ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تم میں سے کسی کو عامل بناتے تو اس کیساتھ ہمارا آدمی بھی ملاتے تو ہماری رائے یہ ہے کہ یہ امر خلافت بھی دو آدمیوں کو سونپا جائے ایک تم میں سے ہو دوسرا ہم میں سے ہو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : پھر انصار کے خطیب پے درپے یہی بات کہنے لگے تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین میں سے ہو گا اور ہم اس کے معاون و مددگار ہوں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم معاون و مددگار تھے۔ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا : اے گروہ انصار اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے اور تمہارے قائل کو ثابت رکھے پھر فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کرو تو ہم تم سے مصافحہ نہیں کریں گے پھر حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابو بکر صدیق کا ہاتھ پکڑا اور کہا یہ تمہارے صاحب ہیں ان کی بیعت کرو پھر لوگ بیعت کرنے لگے پھر جب حضرت ابو بکر صدیق منبر پر بیٹھے تو لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا تو ان میں حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھا تو آپ نے حضرت علی کے متعلق پوچھا تو انصار میں کچھ لوگ اٹھے وہ حضرت علی کو لے آئے تو حضرت ابو بکر نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد! کیا آپ نے مسلمانوں کی لاٹھی کو توڑنے کا ارادہ کیا ہے؟ تو آپ نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کوئی حرج نہیں پھر حضرت علی نے آپ سے بیعت کی پھر آپ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھا تو آپ نے ان کے بارے میں پوچھا لوگ انہیں بھی لے آئے جب حضرت زبیر آ گئے تو آپ نے فرمایا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے اور حواری کیا آپ نے مسلمانوں کے عصا کو پچھاڑنے کا ارادہ کیا ہے؟ تو حضرت زبیر نے بھی حضرت علی جیسا جواب دیا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کوئی حرج نہیں پھر آپ نے بھی بیعت کر لی۔ ابو الحسن علی بن محمد بن علی بن السقا اسفرائینی نے ہمیں خبر دی کہا ابو علی حسن بن علی الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ اور ابراہیم بن ابو طالب نے ہم سے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے بندار بن بشار نے بیان کیا کہا ہم نے ابو ہشام المخزومی نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، پھر آپ نے اسی سند کیساتھ اسی کے ہم معنی ذکر کیا علاوہ ازیں آپ نے کہا : حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے آپ نے کہا: تمہارے قائل نے سچ کہا اگر اس کے علاوہ تم کہو تو ہم تمہاری پیروی نہیں کریں گے اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق کا ہاتھ پکڑا اور کہا اپنے اس صاحب کی بیعت کرو اور حضرت عمر نے آپ کی بیعت کی اور مہاجرین وانصار نے بھی آپ کی بیعت کی۔

Hadith 334

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 335

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ , ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ , ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ [ص:351] عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ - يَعْنِي إِلَى عَلِيٍّ وَالزُّبَيْرِ وَمَنْ تَخَلَّفَ - وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ حرِيصًا عَلَى الْإِمَارَةِ يَوْمًا وَليلَةً قَطُّ وَلَا كُنْتُ فِيهَا رَاغِبًا وَلَا سَأَلْتُهَا اللَّهَ فِي سِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ وَلَكِنِّي أَشْفَقْتُ مِنَ الْفِتْنَةِ وَمَا لِي فِي الْإِمَارَةِ مِنْ رَاحَةٍ وَلَكِنْ قُلِّدْتُ أَمْرًا عَظِيمًا مَا لِي بِهِ طَاقَةٌ وَلَا يَدَانِ إِلَّا بِتَقْويَةِ اللَّهِ وَلوَدِدْتُ أَنَّ أَقْوَى النَّاسِ مَكَانِي عَلَيْهَا الْيَوْمَ فَقَبِلَ الْمهَاجِرُونَ مِنْهُ مَا قَالَ وَمَا اعْتَذَرَ بِهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ: مَا غَضِبْنَا إِلَّا أَنَّا أُخِّرْنَا عَنِ الْمُشَاوَرَةِ وَإِنَّا نَرَى أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَحَقُّ النَّاسِ بِهَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَصَاحِبُ الْغَارِ وَثَانِيَ اثْنَيْنِ وَإِنَّا لِنَعْرِفُ شَرَفَهُ وَكِبَرَهُ وَلقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ وَهُوَ حَيٌّ وَكذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَكذَلِكَ ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي الْمَغَازِي وَقَالَ فِي اعْتِذَارِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ مِمِّنْ تَخَلَّفَ عَنْ بَيْعتِهِ: أَمَا وَاللَّهِ مَا حَمَلْنَا عَلَى إِبْرَامِ ذَلِكَ دُونَ مِنْ غَابَ عَنْهُ إِلَّا مَخَافَةَ الْفِتْنَةِ وَتَفَاقُمَ الْحِدْثَانِ وَإِنْ كُنْتُ لَهَا لَكَارهًا لَوْلَا ذَلِكَ مَا شَهِدَهَا أَحَدٌ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَشْهدَهَا منكَ إِلَّا مِنْ هُوَ بِمِثْلِ مَنْزِلتِكَ ثُمَّ أَشْرفَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَلَا بَيعَةَ لِي فِي عُنُقِهِ وَهُوَ بِالْخِيَارِ مِنْ أَمْرِهِ أَلَا وَأَنْتُمْ بِالْخِيَارِ جَمِيعًا فِي بيْعَتِكُمْ إِيَّايَ، فَإِنْ رَأَيْتُمْ لَهَا غَيْرِي فَأَنَا أَوَّلُ مِنْ يُبَايِعُهُ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَلِيٌّ مِنْ قَوْلِهِ تَحَلَّلَ عَنْهُ مَا كَانَ قَدْ دَخَلَهُ فَقَالَ: لَا حِلَّ لَا نَرَى لَهَا غَيْرَكَ فَمَدَّ يَدَهُ فَبَايَعَهُ هُوَ وَالنَّفَرُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ وَقَالَ جَمِيعُ النَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ لِأَنَّهُ اسْتَقْدَمَهُ عَلَى الصَّلَاةِ بَعْدَهُ فَكَانُوا يُسمُّونَهُ [ص:352] خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى هَلَكَ

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خطبہ: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن صالح بن ہانی نے بیان کیا کہا ہم سے فضل بن محمد البیہقی نے بیان کیا کہا ابراہیم بن منذر حزامی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا وہ موسیٰ بن عقبہ سے وہ سعد بن ابراہیم سے راوی کہا مجھ سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا اس قصے میں آپ نے فرمایا: پھر حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور حضرت علی ،حضرت زبیر اور دیگر پیچھے رہ جانے والوں سے معذرت کی اور کہا اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ایک دن اور ایک رات خلافت پر حریص نہ ہوا اور نہ ہی میں نے اس میں رغبت رکھی اور نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کا پوشیدہ یا اعلانیہ سوال کیا لیکن مجھے فتنے کے اصلاح کی فکر لاحق ہوئی ہے اور خلافت میں میری کوئی راحت نہیں ہے لیکن مجھے ایک امرعظیم کا والی بنایا گیا مجھے اس کی طاقت ہے نہ مہارت مگر اللہ تعالیٰ کی تقویت سے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ لوگوں میں سے جوسب سے قومی ہے وہ میری اس جگہ آ جائے جس جگہ میں ہوں۔ جب آپ نے یہ بیان فرمایا تو مہاجرین نے آپ کی معذرت قبول کر لی۔ حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا ہم صرف اس بات پر ناراض تھے کہ ہمیں مشاورت سے پیچھے کیوں رکھا گیا حالانکہ ہماری رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی تمام لوگوں سے زیادہ اس امر خلافت کے حقدار ہیں آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غار کے ساتھی اور وہاں دو میں سے دوسرے میں بلاشبہ ہم آپ کے شرف و بڑائی کو پہچانتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھانے کا آپ کو حکم دیا جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت زندہ تھے۔ ایسے ہی اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے اسے اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے روایت کیا اور ایسے ہی محمد بن اسحاق بن بہرحال نے مغازی میں ذکر کیا اور حضرت علی وغیرہ جو بیعت سے پیچھے رہ گئے تھے ان کی معذرت کے بارے میں حضرت ابو بکر نے کہا بہرحال اللہ کی قسم ان لوگوں کو چھوڑ کر جو اس سے پیچھے تھے ہمیں اس امر پر صرف خوف فتنہ اور مصیبتوں کے سخت و وسیع ہونے نے ابھارا ہے اگرچہ آپ بھی اس کو یقیناً نا پسند کرتے ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کوئی موجود نہیں ہے(اس کا خیال رکھنا ضروری ہے تو) یہ بات مجھے زیادہ پسند تھی کہ وہ آپ کو حاضر کریں یا اسے جو آپ کے مقام جیسا ہے پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے لوگو یہ حضرت علی بن ابو طالب ہیں ان کی گردن میں میری بیعت نہیں ہے اور انہیں اس امر کا اختیار ہے خبردار تم سب نے جو میری بیعت کی ہے اس میں تم سب کو اختیار ہے اگر تم اس کے لیے میرے علاوہ کسی کو (بہتر) جانتے ہو تو میں سب سے پہلے اسکی بیعت کرتا ہوں۔ جب آپ کی یہ بات حضرت علی نے سنی تو اس امر سے باہر نکل آئے جس میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے کہا: جائز نہیں ، ہم آپ کے علاوہ کسی کو بہتر نہیں دیکھتے تو حضرت علی نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ کھینچا چنانچہ آپ اور دیگر لوگ جو آپ کیساتھ تھے سب نے حضرت ابو بکر کی بیعت کی اور تمام لوگوں نے اسی کی مثل آپ سے کہا تو سب نے امر خلافت حضرت ابو بکر کو سونپ دیا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ ہوئے یہ اس وجہ سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد آپ کو نماز کے لیے آگے کیا تھا تو لوگ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ کہتے تھے یہاں تک کہ آپ نے وصال فرمایا۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← الفضل بن محمد البيهقي ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 335

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 336

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ , ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ السَّقِيفَةِ ثُمَّ ذَكَرَ بَيْعَةَ الْعَامَّةِ مِنْ بَعْدِ يَوْمِ السَّقِيفَةِ ثُمَّ ذَكَرَ مَا نَقَلْنَاهُ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَهَبَ فِيمَا خَيَّرَهُمْ فِيهِ مِنْ مُبَايَعَتِهِ مَذْهَبَ التَّوَاضُعِ وَلِيَسْتبرِئَ قُلُوبَهُمْ فِي استخْلَافِهِ حَتَّى إِذَا عَرَفَ مِنْهُمُ الصِّدْقَ سَكَنَ إِلَى اجْتمَاعِهِمْ عَلَى ذَلِكَ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَقَدْ صَحَّ بِمَا ذَكَرْنَا اجْتِمَاعُهُمْ عَلَى مُبَايَعَتِهِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَلَا يَجُوزُ لِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ: كَانَ بَاطِنُ عَلِيٍّ أَوْ غَيْرِهِ بِخِلَافِ ظَاهِرِهِ فَكَانَ عَلِيٌّ أَكْبَرَ مَحَلًّا وَأَجَلَّ قَدْرًا مِنْ أَنْ يُقْدِمَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الْعَظِيمِ بِغَيْرِ حَقٍّ أَوْ يُظْهِرَ لِلنَّاسِ خِلَافَ مَا فِي ضَمِيرِهِ وَلَوْ جَازَ هَذَا فِي اجْتِمَاعِهِمْ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرِ لَمْ يَصِحَّ اجمَاعٌ قَطُّ، وَالِاجْمَاعُ أَحَدُ حُجَجِ الشَّرِيعَةِ، وَلَا يَجُوزُ تَعْطِيلُهُ بِالتَّوَهُمْ، وَالَّذِي رَوَى أَنَّ عَلِيًّا لَمْ يُبَايِعْ أَبَا بَكْرٍ سِتَّةَ أَشْهُرٍ لَيْسَ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ إِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ فَأَدْرَجَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي الْحَدِيثِ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَحَفِظَهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ فَرَوَاهُ مُفَصَّلًا وَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ مُنْقَطِعًا مِنَ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الْموْصولِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَمَنْ تَابَعَهُ مِنْ أَهْلِ الْمَغَازِي أَنَّ عَلِيًّا بَايَعهُ فِي بَيْعَةِ الْعَامَّةِ الَّتِي جَرَتْ فِي السَّقِيفَةِ، وَيَحْتَمِلُ أَنَّ عَلِيًّا بَايَعَهُ بيْعَةَ الْعَامَّةِ، كَمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَغَيْرِهِ ثُمَّ شَجَرَ بَيْنَ فَاطِمَةَ وَأَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ بِسبَبِ الْمِيرَاثِ إِذْ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا احمد بن عبدالجبار نے ہم ہے بیان کیا کہا یونس بن بکیر نے ہم سے بیان کیا وہ محمد بن اسحاق سے راوی آپ نے بھی قصہ سقیفہ ذکر کیا پھر یوم سقیفہ کے بعد عام بیعت کا ذکر کیا پھر وہ ذکر کیا جس کو ہم نے نقل کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت کے معاملے میں جس کی طرف گئے وہ ان سے بہتر تھا آپ تواضع کے راہے پر چلے تاکہ آپ ان کے دلوں کو طلب خلافت سے بری کر دیں یہاں تک کہ جب انہوں نے سچائی دیکھی تو سب اکٹھے ہو کر پوشیدہ واعلانیہ طور پر آپ کے امر خلافت پر ٹھہر گئے اور وہ صحیح ہے جسے ہم نے ذکر کیا کہ سب لوگ بشمول حضرت علی بن ابو طالب آپ کی بیعت پر جمع ہوئے لہٰذا اب کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ حضرت علی یا آپ کے علاوہ کسی اور کا باطن ظاہر کے خلاف تھا حضرت علی مقام کے اعتبار سے بڑے اور مرتبے کے اعتبار سے اس بات سے بہت بلند تھے کہ اس امر عظیم میں ناحق کسی کو آگے کر دیں یا لوگوں کے لیے اپنے باطن کے خلاف ظاہر کریں اگر حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کو ان سب کے جمع ہونے میں یہ بات ممکن ہوتی تو کبھی بھی اجماع صحیح نہ ہوتا حالانکہ اجماع شرعی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے لہٰذا اسے وہم سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ کیا سیدناعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے چھ مہینے تک سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت نہیں کی: اور وہ جو روایت کی گئی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چھ مہینے تک بیعت نہیں کی یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول نہیں ہے بلکہ زہری کا قول ہے جسے بعض راویوں نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قصہ میں حدیث میں داخل کر دیا اور معمر بن راشد نے اسے یاد رکھا آپ نے اسے مفصلاً روایت کیا اور قول زہری کوحدیث سے جدا کر دیا۔ ہم نے اس حدیث میں روایت کیا جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتی ہے اور اہل مغازی نے اس کی متابعت کی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی اس عام بیعت میں بیعت کی جو سقیفہ میں جاری ہوئی تھی اور یہ احتمال بھی ہے کہ عام بیت میں آپ نے حضرت ابو بکر کی بیعت کی(جوسقیفہ کے اگلے دن ہوئی تھی) جیسا کہ ہم نے حضرت ابو سعید خدری وغیرہ کی حدیث میں روایت کیا پھر حضرت سیدہ فاطمہ اور حضرت ابو بکر صدیق کے درمیان وراثت کے سبب اختلاف ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت سیدہ فاطمہ نے وراثت کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ نہیں سنا تھا جو حضرت ابو بکر اور دیگر نے سنا تھالہٰذا وہ اپنے مطالبے میں معذور تھیں اور حضرت ابو بکر بھی منع کر دینے میں معذور تھے پس حضرت علی حضرت ابو بکر کے پاس حاضر ہونے سے پیچھے رہے یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال فرمایا پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی تجدید بیعت کی اور ان کے واجبات کو قائم کیا جیسا کہ زہری نے کہا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی گھر میں حضرت ابو بکر کی خلافت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے بیٹھے ہوں زہری کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس کے بعد بیعت کی اور حضرت ابو بکر کے حق کو بڑا جاتا اگر معاملہ ہمارے بیان کے خلاف ہوتا تو آپ کی یہ دوسری بیعت خطا ہوتی اور جس نے یہ گمان کیا کہ حضرت مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم نے ظاہراً بیعت کی اور باطناً مخالفت کی تو اس نے حضرت علی کی بہت بری تعریف کی اور آپ کے بارے میں بہت ہی قبیح قول کیا۔

قِصَّةَ السَّقِيفَةِ ثُمَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 336

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 337

لَمْ تَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ الْمِيرَاثِ مَا سَمِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَغَيْرُهُ فَكَانَتْ مَعْذُورَةً فِيمَا طَلَبَتْهُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ مَعْذورًا فِيمَا مَنَعَ فَتَخَلَّفَ عَلِيٌّ عَنْ حُضُورِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تُوُفِّيتْ ثُمَّ كَانَ مِنْهُ تَجْديدُ الْبَيْعَةِ وَالْقِيَامُ بوَاجِبَاتِهَا كَمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قُعُودُ عَلِيٍّ فِي بَيْتِهِ عَلَى وَجْهِ الْكَرَاهِيَةِ لِإِمَارَتِهِ، فَفِي رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّهُ بَايَعَهُ بَعْدُ وَعَظَّمَ حَقَّهُ وَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى غَيْرِ مَا قُلْنَا لَكَانَتْ بَيْعتُهُ آخَرَ خَطَأً وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلِيًّا بَايَعَهُ ظَاهِرًا وَخَالَفَهُ بَاطِنًا فَقَدْ أَسَاءَ الثَّنَاءَ عَلَى عَلِيٍّ، وَقَالَ فِيهِ أَقْبَحَ الْقَوْلِ، وَقَدْ قَالَ عَلِيٌّ فِي إِمَارَتِهِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: بَلَى قَالَ: أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ، وَنَحْنُ نَزْعُمُ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ لَا يَفْعلُ إِلَّا مَا هُوَ حَقٌّ وَلَا يَقُولُ إِلَّا مَا هُوَ صِدْقٌ وَقَدْ فَعَلَ فِي مُبَايَعَةِ أَبِي بَكْرٍ وَمؤازَرَةِ عُمَرَ مَا يَلِيقُ بِفَضْلِهِ وَعِلْمِهِ وَسَابِقَتِهِ وَحُسْنِ عَقِيدَتِهِ وَجَمِيلِ نِيَّتِهِ فِي أَدَاءِ النُّصْحِ لِلرَّاعِي وَالرَّعِيَّةِ وَقَالَ فِي فَضْلَهُمَا مَا نَقَلْنَاهُ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ فَلَا مَعْنَى لِقَوْلِ مِنْ قَالَ بِخِلَافِ مَا قَالَ وَفَعَلَ. وَقَدْ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى فَاطِمَةَ فِي مَرَضِ مَوْتِهَا وَتَرَضَّاهَا حَتَّى رَضِيَتْ عَنْهُ فَلَا طَائِلَ لِسَخَطِ غَيْرِهَا مِمَّنْ يَدَّعِي مُوَالِاةَ أَهْلِ الْبَيْتِ ثُمَّ يَطْعَنُ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُهَجِّنُ مِنْ يُوَالِيهِ وَيَرْمِيهُ بِالْعَجْزِ وَالضَّعْفِ وَاخْتِلَافِ السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ فِي الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ وَبِاللَّهِ الْعِصْمَةُ وَالتوفيقُ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنے منبر پر شیخین کریمین کی افضلیت بیان فرمائی : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت میں منبر پرفر مایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت کے فضل کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں فرمایا وہ حضرت ابو بکر ہیں پھر حضرت عمر ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔ ہمارا یہ یقین ہے کہ حضرت علی صرف حق کرتے ہیں اور صرف سچ کہتے ہیں اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق کی بیعت اور حضرت عمر کی معاونت میں اپنے فضل وعلم ،سبقت اسلام وحسن عقیدت اور اچھی نیت کی وجہ سے جو کیا وہ حکمران ورعایا کی خیر خواہی کی ادائیگی کے لائق ہے اور حضرت ابو بکرو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی فضیلت میں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا وہ ہم نے کتاب الفضائل میں نقل کر دیا ہے لہٰذا اب کوئی گنجائش نہیں ہے اس کے لیے جو آپ کے قول وفعل کے خلاف کہے۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راضی ہو گئیں تھیں: اور حضرت ابو بکر صدیق حضرت سیدہ فاطمہ کے مرض الموت میں آپ کے پاس آئے اور انہیں راضی کر تے رہے یہاں تک سیدہ آپ سے راضی ہو گئیں لہٰذا کسی دوسرے مدعی محبت اہل بیت کے لیے ناراضگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے پھر اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب پر طعن کرنے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے تھے انہیں عیب لگانے اور انہیں عجز و کمزوری کی تہمت لگانے اور قول وفعل میں اعلانیہ و پوشیدگی میں اختلاف ظاہر کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ حفاظت و توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

Hadith 337

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 338

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِيُّ، بِنَيْسَابُورَ، أنا أَبُو حَمْزَةَ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا مرِضَتْ فَاطِمَةُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ [ص:354]، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأَذِنُ عَلَيْكَ، فَقَالَتْ: أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَتْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ الدَّارَ وَالْمَالَ وَالْأَهْلَ وَالْعشيرَةَ إِلَّا ابْتغَاءَ مرْضاةِ اللَّهِ وَمرضاةِ رَسُولِهِ وَمرضاتِكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ثُمَّ تَرَضَّاهَا حَتَّى رَضِيتْ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدان بن عثمان العتکی نے نیشاپور میں بیان کیا کہا ابو حمزہ نے ہمیں خبر دی وہ اسماعیل بن ابو خالد سے وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا جب حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہو گئیں تو آپ کے پاس حضرت ابو بکر صدیق آئے تو آپ نے ان سے اجازت چاہی کہا: حضرت ابو بکر آپ سے اجازت مانگتے ہیں، تو سیدہ نے حضرت علی سے کہا: کیا آپ پسند کرتے ہیں میں انہیں اجازت دوں؟ آپ نے کہا: ہاں تو سیدہ فاطمہ نے اجازت دے دی پس حضرت ابو بکر ان کے پاس آئے ، انہیں راضی کرنے لگے اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے گھر ، مال ،اہل اور خاندان صرف اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی رضا اور تم اہل بیت کی رضا کے لیے چھوڑ دیا ہے پھر آپ راضی کرتے رہے حتٰی کہ سیدہ آپ سے راضی ہو گئی۔

نَعَمْ، فَأَذِنَتْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا ← أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ ← يَا فَاطِمَةُ [ص:354]، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأَذِنُ عَلَيْكَ، ← لَمَّا مرِضَتْ فَاطِمَةُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو حَمْزَةَ ← عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِيُّ، بِنَيْسَابُورَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 338

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 339

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي , ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , ثنا ابْنُ دَاوُدَ , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ مكَانَ أَبِي بَكْرٍ لِحَكَمْتُ بِمِثْلِ مَا حَكَمَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فِي فَدَكَ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْمُوَالِاةِ فَلَيْسَ فِيهِ - إِنْ صَحَّ إِسنَادُهُ - نَصٌّ عَلَى وَلَايَةِ عَلِيٍّ بَعْدَهُ، فَقَدْ ذَكَرْنَا مِنْ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ مَا دَلَّ عَلَى مَقْصودِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ أَنَّهُ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيمَنِ كَثُرَتِ الشَّكَاةُ عَنْهُ وَأَظْهَرُوا بُغْضَهُ فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرَ اخْتِصَاصَهُ بِهِ وَمَحبَّتَهُ إِيَّاهُ وَيَحُثُّهُمْ بِذَلِكَ عَلَى مَحَبَّتِهِ وَمُوَالِاتِهِ وَتَرْكِ مُعَادَاتِهِ فَقَالَ: «مِنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيَّهُ» وَفِي بَعْضِ الرُّوَايَاتِ: مِنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمْ وَالِ مِنْ وَالِاهُ وَعَادِ مِنْ عَادَاهُ. وَالْمُرَادُ بِهِ وَلَاءُ الْإِسْلَامِ وَمَودَّتُهُ، وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يوَالِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَلَا يُعَادِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَهُوَ فِي مَعْنَى مَا ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ «أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي إِلَا [ص:355] مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ» . وَفِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ شَكَا عَلِيًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبْغِضُ عَلِيًّا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لَا تُبْغِضْهُ وَأَحْبِبْهُ وَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، قَالَ بُرَيْدَةُ: فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ أَليَّ مِنْ عَلِيٍّ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

باغ فدک کا میرا فیصلہ حضرت ابو بکر والا ہوتا ،حضرت زید بن علی بن حسین کا فتویٰ : ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ الصفار نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن اسحاق القاضی نے ہمیں خبر دی کہا نصر بن علی نے ہمیں خبر دی کہا ابن داؤد نے ہم سے بیان کیا وہ فضیل بن مرزوق سے راوی آپ نے کہا کہ حضرت زید بن علی بن حسین بن علی نے فرمایا: اگر حضرت ابو بکر صدیق کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی باغ فدک کے بارے میں حضرت ابو بکر کی مثل فیصلہ کرتا۔ کچھ حد یث موالات کے بارے میں: رہا معاملہ حدیث موالاۃ کا تو اگر اس کی سند صحیح ہو تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی کی خلافت پر کوئی نص نہیں ہے ہم نے اس کے طرق کتاب الفضائل میں ذکر کیے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا تو آپ کے متعلق بہت زیادہ شکایتیں آئیں اور انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغض کا اظہار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ کیا کہ اپنے ساتھ حضرت علی کی خصوصیت و محبت ذکر کریں اور اس کے ذریعے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت وموالات پر ابھاریں اور آپ کی دشمنی چھوڑ دیں چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مِنْ کُنْتُ وَلِیَّہُ فَعَلِیُّ وَلِیَّہُ ‘‘ جس کا میں دوست حضرت علی اس کا دوست۔ اور بعض روایات میں ہے: مِنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیُّ مَوْلَاہُ اَللّٰھُمَّ وَالِ مِنْ وَالِاہُ وَعَادِمِنْ عَادَاہُ جس کا میں دوست حضرت علی اس کا دوست ہے اے اللہ! تو اسے دوست رکھ جو اسے دوست رکھے اور تو اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے۔ اس سے مراد اسلامی دوستی اور مؤدت ہے اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دوست رکھیں اور ایک دوسرے سے دشمنی نہ رکھیں یہ اس حدیث کا معنی ہے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ترجمہ: اس ذات کی قسم! جس نے دانہ پھاڑا اور جان پیدا کی کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عہد ہے کہ مجھ سے صرف مؤمن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ سب سے پیارے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ : اور حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو حضرت علی سے بغض رکھتا ہے؟ کہتے ہیں میں نے کہا: ہاں تو آپ نے فرمایا: ’’اس سے بعض نہ رکھ! اس سے محبت کر اور محبت میں اضافہ کر‘‘۔ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے کوئی ایک بھی حضرت علی سے زیادہ محبوب نہیں ہوا۔

فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← ابن داود ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Hadith 339

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 340

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَجَّاجِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ فِي مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مِنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، يَعْنِي بِذَلِكَ وَلَاءَ الْإِسْلَامِ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ وَأَمَا قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لِعَلِيٍّ: أَصْبَحْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ، يَقُولُ: وَلِيُّ كُلِّ مُسْلِمٍ

ہر مؤمن کا مولیٰ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم : ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن محمد بن یعقوب الحجاجی نے ہم سے بیان کیا کہا العباس بن یوسف اشکلی نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے ربیع بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفر مانا: ’’ جس کا میں دوست اس کا علی دوست‘‘ اس سے مراد اسلامی دوستی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ (سيدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :11) ترجمہ: یہ اس لئے کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔ اور حضرت عمر بن خطاب کا حضرت علی کو کہنا: آپ نے ہر مؤمن کی دوستی میں صبح کی۔اس کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں : ہرمسلمان کی دوستی۔

الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← العباس بن يوسف الشكلي ← مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَجَّاجِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ،

Hadith 340

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 341

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , أنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ الْحَسَنِ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ، أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ، قَالَ لِي: بَلَى وَاللَّهِ لَوْ يَعْنِي بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَارَةَ وَالسُّلْطَانَ لَأَفْصَحَ لَهُمْ بِذَلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَنْصَحَ لِلْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا وَلِيُّ أَمْرِكِمْ وَالْقَائِمُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ اختَارَ عَلِيًّا لِهَذَا الْأَمْرِ وَجَعَلَهُ الْقَائمَ بِهِ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْ بَعْدِهِ ثُمَّ تَرَكَ عَلِيٌّ مَا أَمَرَ اللَّهُ [ص:356] وَرَسُولُهُ لَكانَ عَلِيٌّ أَوَّلَ مِنْ تَرَكَ أَمْرَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» وَرَوَاهُ شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ الْحَسَنِ أَخَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ وَهُوَ يَقُولُ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَتَولَّاهُمْ، فَذَكَرَ قِصَّةً ثُمَّ قَالَ: وَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ كَمَا يَقُولونَ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ اختَارَ عَلِيًّا لِهَذَا الْأَمْرِ وَللقيَامِ بِهِ عَلَى النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عيهُ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لِأَعْظَمَ النَّاسِ خَطِيَّةً وَجُرْمًا فِي ذَلِكَ؛ إِذْ تَرَكَ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَمَرَهُ أَوْ يَعْذِرُ فِيهِ إِلَى النَّاسِ قَالَ: فَقَالَ الرَّافِضِيُّ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: مِنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِمْرَةَ وَالسُّلْطَانَ وَالْقِيَامَ عَلَى النَّاسِ بَعْدَهُ لِأَفْصَحَ لَهُمْ بِذَلِكَ كَمَا أَفْصَحَ لَهُمْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَلقَالَ لَهُمْ: إِنَّ هَذَا وَلِيُّ أَمْرِكُمْ مِنْ بَعْدِي فَاسْمعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا فَمَا كَانَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا شَيْءٌ فَإِنَّ أَنْصَحَ النَّاسِ كَانَ لِلْمُسْلِمِينَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ , ثنا شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ , أنا الْفُضَيْلُ بْنُ مرْزُوقٍ، فَذَكَرَهُ وَأَمَّا حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَّفَ عَلِيًّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بمنْزلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَعِي» ، فَإِنَّهُ لَا يَعْنِي بِهِ استخلَافَهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ وَإِنَّمَا يَعْنِي بِهِ استخلَافَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ عِنْدَ خُرُوجِهِ إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ كَمَا اسْتَخْلَفَ مُوسَى هَارُونَ عِنْدَ خُرُوجِهِ إِلَى الطُّورِ، وَكَيْفَ يَكُونُ الْمُرَادُ [ص:357] بهُ الْخِلَافَةَ بَعْدَ مَوْتِهِ وَقَدْ مَاتَ هَارُونُ قَبْلَ مُوسَى، ثُمَّ الْجَوَابُ عَنْ هَذَا وَعَنْ جَمِيعِ مَا رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ مَا رُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْ تَنْزِيهِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كِتْمَانِ مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكذَلِكَ قَالْهُ أَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ فَإِنَّا رُوِّينَا عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ مَقْهورًا وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِأُمُورٍ لَمْ يُنَفِّذْهَا فَكَفَى ازْدِرَاءً عَلَى عَلِيٍّ وَمَنْقَصَةً بِأَنْ يَزْعُمَ قَوْمٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بأَمْرٍ فَلَمْ يُنَفِّذْهُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ , أنا شَبَابَةُ , أنا حَفْصُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، فَذَكَرَهُ، وَقَدِ اعْتَرَفَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا بَعْدَ وَفَاتِهِ فِي أَحَاديثَ قَدْ ذَكَرْنَاهَا فِي مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ كِتَابِ (دَلَائِلِ النُّبُوَةِ) وَفِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ وَنَحْنُ نَذْكُرُ هَاهُنَا

کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا؟ یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن علی نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر بن عون نے ہمیں خبر دی کہ فضیل ابن مرزوق نے ہمیں خبر دی آپ نے کہا: میں نے حضرت حسن بن حسن سے سنا کہ آپ سے ایک آدمی سے سوال کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ’’ جس کا میں مولا اس کا علی مولا‘‘ تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیوں نہیں (ایسا ہی فرمایا ہے) اللہ کی قسم ! اگر اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد امارت وسلطنت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے زیادہ فصیح انداز میں بیان فرماتے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں(اگر ایسی بات ہوتی تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہیں :اے لوگو! میرے بعد یہ(حضرت علی) تمہارے امور کا والی اور تم پر حکمران ہو گا تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ اور اسکے رسول نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکر یم کو اس امر کیلئے منتخب کیا ہوتا اور آپ کو اپنے بعد مسلمانوں کا حکمران بنایا ہوتا تو پھر حضرت علی نے اس امر کوترک کر دیا جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا تھا تو اس طرح(معاذ اللہ) حضرت علی سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو چھوڑنے والے ہوئے۔ روافض حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مجرم قرار دیتے ہیں: اور اسے شبابہ بن سوار نے فضیل بن مرزوق سے روایت کیا آپ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن حسن کے بھائی حسن ابن حسن سے سناوہ ایک آدمی کو کہہ رہے تھے جو ان سے محبت رکھتا تھا پھر میں مذکورہ واقعہ ذکر کیا پھر فرمایا: اگر معاملہ ایسے ہی ہوتا جیسے لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو اس امر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں پر حکمرانی کے لیے چن لیا تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں میں سے سب سے بڑے خطاوار اور مجرم ٹھہریں گے(معاذ اللہ تعالیٰ) کیونکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم چھوڑ دیا جیسا کہ(بقول ان لوگوں کے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا اور اس امر میں لوگوں سے معذرت کرنے لگے۔ کہتے ہیں رافضی نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کے لیے یہ نہیں فرمایا ’’جس کا میں مولا اس کا علی مولا‘‘ تو آپ نے فرمایا:خبر دار! اللہ کی قسم ! اگر اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد امارت وسلطنت اور لوگوں پر حکمرانی ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے اس سے زیادہ واضح انداز میں بیان فرماتے جیسا کہ واضح انداز میں ان سے نماز ،زکوٰۃ ، رمضان کے روزوں اور بیت اللہ شریف کے حج کا بیان فرمایا اور(اگر یہی بات ہوتی تو) یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرماتے : یہ میرے بعد تمہارے امور کا والی ہو گاتم اسکی بات سننا اور اطاعت کرنا تو پھر اسکے بعد کوئی چیز نہ ہوتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ ابو بکر احمد بن حسن نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس الاصم نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو طالب نے ہم سے بیان کے کہا شبابہ بن سوار نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں فضیل بن مرزوق نے خبر دی۔ پھر آپ نے یہی واقعہ ذکر کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت : رہا معاملہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوا پنا نائب بنایا تو آپ نے عرض کی : یارسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں نائب بناتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام ماسوا اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ایک روایت میں معی کے الفاظ ہیں۔ ایک وہم کا ازالہ: اس سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے وصال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بنانا نہیں ہے بلکہ اسسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تبوک کی طرف روانہ ہوتے وقت پیچھے نائب بنانا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور کی طرف روانہ ہوتے وقت حضرت ہارون علیہ السلام کو خلیفہ بنایا تھا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد خلافت کیسے مراد ہو سکتی ہے جبکہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ پھر اس کا اور اور اسی کے ہم معنی تمام مرویات کا وہ جواب ہے جس کو ہم نے حضرت حسن بن حسن بن علی بن ابو طالب سے روایت کیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس امر سے منزہ ہیں کہ آپ نے اس امر کو چھپایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کا آپ کو حکم دیا تھا ایسے ہی ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حسن نے فرمایا کیونکہ ہم نے آپ سے روایت کیا آپ نے فرمایا: وہ شخص جو یہ گمان کرتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مغلوب تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کئی ایسے امور کا حکم دیا جن کو آپ نے نافذ نہیں کیا تو اس کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تو ہین تنقیص کافی ہے کہ وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکسی امر کا حکم دیا اور آپ نے نافذ نہیں کیا (یہ کیسے ہو سکتا ہے؟)۔ احمد بن حسن نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس الاصم نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو طالب نے ہم سے بیان کیا کہا شبابہ نے ہمیں خبر دی کہا حفص بن قیس نے ہمیں خبر دی وہ عبداللہ بن حسن سے راویت کرتے ہیں۔ پھر آپ نے یہی بات ذکر کی۔ اور حضرت امیر المؤمنین حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعتراف کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے بعد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں فرمایا۔ ان احادیث میں یہ اعتراف موجود ہے جنہیں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کی احادیث میں ’’دلائل النبوۃ‘‘ کے آخر اور’’ کتاب الفضائل‘‘ میں نے ہم نے ذکر کر دیا ہے ان میں سے یہاں کچھ کا تذکرہ کرتے ہیں:

Hadith 341

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him