الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقُطَيْعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] قَالَ: وَهِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَقَدْ ذَكَرْنَا قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ وَشَقِّ الصَّدْرِ وَصِفَةِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ، وَأَمَّا قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ} [التكوير: 23] {وَلقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13] فَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ [ص:304] السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ» ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 9] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَهُ سِتُّمِائَةٍ جَنَاحٍ» ، وَعنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ {وَلقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13] قَالَ: رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ، وَعنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلُ ذَلِكَ، وَذَهَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَنَّهُ رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ وَحَمَلَ الْآيَتَيْنِ عَلَى رُؤْيَتِهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ مَضَى ذِكْرُ أَقَاوِيلَهُمْ وَأَقَاوِيلِ غَيْرِهِمْ فِي ذَلِكَ بِأَسَانِيدِهَا فِي كِتَابِ [ص:305] الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ وَكِتَابِ الرُّؤْيَةِ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری آنکھوں سے اللہ تعالیٰٰ کا دیدار کیا: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن جعفر القطیبی نے کہا عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہا سفیان نے ہم سے بیان کیا وہ عمرو سے وہ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں :وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْٓ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ (الاسراء:60) ترجمہ: اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ نہانے فرمایا: یہ آنکھ کی رؤیت تھی جو شب اسریٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھائی گئی۔ ہم نے واقعہ معراج، شق صدر اور مہر نبوت کی صفت کتاب دلائل النبوۃ میں ذکر کر دی ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ (التکوير:23) ترجمہ: بے شک انہوں نے اسے روشن کنارہ پر دیکھا۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی (النجم:13) ترجمہ: اور انہوں نے تو وہ جلوہ دو بارد یکھا۔ تو اسکےبارے حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کرنے والی اس امت میں پہلی ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ حضرت جبریل تھے میں نے انہیں اس صورت میں جن پر وہ پیدا کئے گئے ان دو مرتبہ کے علاوہ نہیں دیکھا میں نے آپ کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا افق کو ڈھانپے ہوئے تھے آسمان سے زمین تک آپ کی بڑی خلقت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنٍ اَوْ اَدْنٰی (النجم : 9) ترجمہ: پھر خوب اتر آیا تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا جس کے چھ سو پر تھے‘‘۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان :وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبریل کو دیکھا جس کے چھ سو پر تھے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کی مثل مروی ہے۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرف گئے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ہے اور ان دونوں آیتوں کو اللہ تعالیٰ کے دیدار پر محمول کیا۔ واللہ اعلم ! ان کے اور دوسروں کے اقوال اسانید کیساتھ ہماری کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ اور ’’الرؤیۃ‘‘میں ذکر کئے جا چکے ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 289
