Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 265

وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ فِي [ص:271] آخِرِهِ: «فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، كَانَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسْكَتُ كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا»

اسے عبد الواحد بن ایمن نے اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور اس کے آخر میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے اسے اپنے ساتھ ملا لیا تو اس کی آواز اس بچے کی آواز جیسی ہو گئی جور و رہا ہو اور پھر خاموش ہو جائے۔ وہ جو پہلے اس کے پاس ذکر ہوتا تھا اسے سنتا تھا اس کی وجہ سے رو رہا تھا (کہ اب وہ ذکر نہیں سن سکے گا)۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 265

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 266

وَفِي حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعَدِيِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ حَنِينِ هَذِهِ الْخَشَبَةِ؟» فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَرَقُّوا مِنْ حَنِينِهَا حَتَّى كَثُرَ بُكَاؤُهُمْ "

اور حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس خشک لکڑی کے رونے سے تعجب نہیں ہوا؟ پس لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اس کے رونے کی وجہ سے وہ بھی بے قرار ہو گئے یہاں تک کہ وہ بہت زیادہ روئے۔

وَفِي حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعَدِيِّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 266

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 267

وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ لِمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی حدیث میں ہے: اگر اس کے رونے کو روکا نہ ہوتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔

«لَوْ لِمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ← النَّبِيِّ ← وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 267

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 268

وَفِي حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفِي حَدِيثِهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فَلَمَّا قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ الْمِنْبَرِ خَارَ الْجِذْعُ كَخُوَارِ الثَّوْرِ حَتَّى ارْتَجَّ الْمَسْجِدُ بِخُوَارِهِ

اور اسحاق بن عبداللہ بن ابو طلحہ کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی حدیث میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کا معنی بیان کیا گیا ہے ان کی حدیث میں اس قصے کے متعلق کہا: پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے تو وہ کھجور کا خشک تنا، بیل کی آواز کی طرح آواز نکال کر رونے لگا یہاں تک کہ مسجد اس کی آواز سے گونج اٹھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← وفي حديث إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 268

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 269

وَفِي حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فَلَمَّا فَقَدَتْهُ - تَعْنِي الْخَشَبَةَ - خَارَتْ كَمَا يَخُورُ الثَّوْرُ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَأَمْرُ الْحَنَانَةِ مِنَ الْأُمُورِ الظَّاهِرَةِ وَالْأَعَلَامِ الْبَاهِرَةِ الَّتِي أَخَذَهَا الْخَلَفُ عَنِ السَّلَفِ، وَرِوَايَةُ الْأَحَادِيثِ فِيهِ كَالتَّكَلُّفِ

اور حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں ہے : جب لکڑی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونہیں پایا تو وہ بیل کی طرح رونے لگی حتٰی کہ اہل مسجد نے اس کے رونے کی آواز سنی۔ استن حنانہ کے متعلق روایات کے بارے میں امام بیہقی علیہ الرحمہ کا قول فیصل: امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: اس لکڑی کے ستون کا معاملہ امور ظاہرہ اور اعلام باہر سے ہے جسے خلف نے سلف سے لیا ہے(یہ معاملہ اتنا روش ہے کہ) اس میں احادیث روایت کرنا تکلف کی طرح ہے۔

أَمْرُ الْحَنَانَةِ مِنَ الْأُمُورِ الظَّاهِرَةِ وَالْأَعَلَامِ الْبَاهِرَةِ الَّتِي أَخَذَهَا الْخَلَفُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 269

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 270

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أَخْبرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ الرَّازِيُّ , قَالَ: قَالَ أَبِي: قَالَ عَمْرُو بْنُ سَوَادٍ قَالَ لِي الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَا أَعْطَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا مَا أَعْطَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ أَعْطَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ إِحْيَاءَ الْمَوْتَى، فَقَالَ [ص:272]: أَعْطَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِذْعَ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى هُيِّئَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَلَمَّا هُيِّئَ لَهُ الْمِنْبَرُ حَنَّ الْجِذْعُ حَتَّى سُمِعَ لَهُ صَوْتٌ، فَهَذَا أَكْبَرُ مِنْ ذَاكَ

حضرت عیسیٰ اور حضور علیہما السلام کے معجزات کا تقابل امام شافعی کی زبانی : ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو محمد بن ابو الحسن نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحمٰن ابن ابو حاتم الرازی نے ہمیں خبر دی کہامیرے باپ نے کہا کہ عمرو بن ابو سواد نے کہا کہ مجھ سے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کواتنے کمالات عطا نہیں کیئے جتنے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیئے ہیں کہتے ہیں میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردے زندہ کرنے کا کمال عطا فرمایا تو آپ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کھجور کا وہ خشک تنا عطا فرمایا جس کے پہلو میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تھے حتٰی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے منبر تیار کیا گیا پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے تو وہ خشک تنا رونے لگا یہاں تک کہ اسکی آواز سنی گئی یہ معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے بڑا ہے۔

عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ الرَّازِيَّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 270

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 271

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ , ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , ثنا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ " إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الْآيَاتِ عَذَابًا وَكُنَّا نَعُدُّهَا بَرَكَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كُنَّا نَأْكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّعَامَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ السَّمَاءِ» حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا

کھانا تسبیح پڑھتا ہے: ابو عمرو محمد بن عبداللہ الادیب نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن سفیان نے مجھے خبر دی کہا محمد بن بشار العبدی نے بیان کیا کہا ابو احمد الزبیری نے ہم سے بیان کیا کہا اسرائیل نے ہم سے بیان کیا وہ منصور سے وہ ابراہیم سے وہ علقمہ سے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا: تم نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں اسے برکت شمار کرتے تھے ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے تو ہم کھانے سے تسبیح سنتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا تو پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” برکت والی پاکی پر آؤ اور برکت آسمان سے ہے‘‘ (فرماتے ہیں پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹتا رہا) یہاں تک کہ ہم سب نے اس سے وضو کر لیا۔

عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 271

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 272

وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ تَسْبِيحَ الْحَصَيَاتِ فِي كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ فِي يَدِ عُمَرَ ثُمَّ فِي يَدِ عُثْمَانَ، وَمِنْهَا مَا

ہم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی میں کنکریاں تسبیح پڑھتی تھی پھر حضرت ابو بکر کے ہاتھ میں پھر حضرت عمر کے ہاتھ میں پھر حضرت عثمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے ہاتھ میں۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 272

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 273

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا شُعْبَةُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ , قَالَ شُعْبَةُ: وَأَخْبرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ؟ قَالَ: كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ، وَذَكَرَ عَطَشًا أَصَابَهُمْ قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ فَوَضَعَ يَدَهُ [ص:273] فِيهُ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهُ الْعُيُونُ، قَالَ: فَشَرِبْنَا وَوَسِعَنَا وَكَفَانَا قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَنْتُمْ؟ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا، كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ وَفيهُ مِنَ الزِّيَادَةِ «فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا» وَفِي رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ «فَتَوَضَّأَ النَّاسُ وَشَرِبُوا» ، قَالَ: فَجَعَلْتُ لَا آلُو مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ وَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ

انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے پیا سے جھوم کر : ابو بکر بن حسین بن فورک نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یونس بن حبیب نے ہم سے بیان کیا کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ نے ہم سے بیان کیا وہ عمرو بن مرہ سے راوی کہا میں نے سالم بن ابو الجعد سے سے سنا: شعبہ نے کہا : اور مجھےحصین بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہا میں نے سالم بن ابو الجعد سے سنا آپ نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تم شجرہ(وہ درخت جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی) کے دن کتنے آدمی تھے؟ آپ نے فرمایا: ہم پندرہ سو تھے پھر آپ نے پیاس کا ذکر کیا جو انہیں پہنچی تھی فرمایا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ہانڈی میں پانی لایا گیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ مبارک رکھا تو پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے نکلنے لگا گویا کہ وہ چشمے ہیں حضرت جابر فرماتے ہیں : پس ہم نے اس سے پیا، بھرا اور وہ ہمیں کافی ہو گیا راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا آپ کتنے آدمی تھے فرمایا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ہمیں کافی ہوتا ، ہم پندرہ سو تھے۔ عبدالعزیز بن مسلم اور ابن فضیل نے اسے روایت کیا وہ حصین سے راوی اس میں اس بات کا اضافہ ہے : پس ہم نے اس سے پیا اور وضو کیا۔ اور اعمش کی روایت میں ہے وہ سالم سے وہ حضرت جابر سے راوی کہا : لوگوں نے وضو کیا اور پیا فرمایا: جب سے اس پانی میں سے کچھ میرے پیٹ میں آیا مجھے مشقت محسوس نہیں ہوتی اور میں نے جان لیا کہ یہ برکت ہے۔

سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 273

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 274

وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ» فَأَقْبَلَ النَّاسُ فَتَوَضَّئُوا وَشَرِبُوا، وَجَعَلْتُ لَا هَمَّ لِي إِلَّا مَا أَجْعَلُ فِي بَطْنِي مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ»

اس کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا اور بعض روایات میں انہی(حضرت ابن مسعود) سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے : ’’وضو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت پر آ جاؤ!‘‘ پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے انہوں نے وضو کیا اور پانی پیا مجھے صرف یہی خیال آیا کہ میں اس پانی کو اپنے پیٹ میں ڈالوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت ہے۔

وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 274

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 275

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَأَيْتُ الْعُيُونَ تَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا يُنَادِي فِي النَّاسِ: الْوَضُوءُ الْمُبَارَكُ وَهَذَا يَكُونُ فِي وَقْتٍ آخَرَ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمْ يَشْهَدِ الْحُدَيْبِيَةَ وَرَوَاهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَنَعَ ذَلِكَ، وَالْأَشْبَهُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت میں ہے آپ نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے جاری ہیں فرماتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحکم دیا کہ لوگوں کو ندا دیں کہ برکت والا وضو کا پانی ہے(تم وضو کر لو) ! یہ آخری وقت واقعہ ہوا کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیبیہ میں حاضر نہیں تھے۔ اسے حضرت انس بن مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا(یعنی اپنے انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر دیئے) قابل ترجیح بات یہ ہے کہ یہ واقعد مدینہ میں پیش آیا (جس کا ذکر حضرت ابن عباس اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت میں ہے)۔

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 275

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 276

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ , أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّى , ثنا مُسَدَّدٌ , ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ [ص:274] رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ أَنَسٌ: فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مِنْهُ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ وَرَوَاهُ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ يَتَوَضَّأُ وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَذَكَرَ عَدَدَ الثَّمَانِينَ وَزِيَادَةً، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ فِي وَقْتٍ آخَرَ سِوَى مَا رَوَاهُ جَابِرٌ وَمَنْ تَابَعَهُ. وَرَوَى قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا بِالزَّوْرَاءِ وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ فَدَعَا بِقَدَحٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءُ ثلَاثِمِائَةٍ، فَيُشْبهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا مَرَّةً أُخْرَى

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا علی بن حمشادالعدل نے ہم سے بیان کیا کہا ابو المثنی نے ہمیں خبر دی کہا مسدد نے ہم سے بیان کیا کہا حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا وہ ثابت سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگوایا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کشادہ کم گہرائی والا پیالہ لا یا گیا جس میں تھوڑ اسا پانی تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنی انگلیاں رکھیں حضرت انس فرماتے ہیں تو میں اس پانی کی طرف دیکھنے لگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی انگلیوں سے پھوٹ رہا تھا حضرت انس نے فرمایا: اس پانی سے وضو کرنے والوں کا میں نے اندازہ لگایا تو وہ ستر سے اسی کے درمیان آدمی تھے۔ اور اسے عبیداللہ بن عمر نے بھی روایت کیا ثابت سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قباء کی طرف نکلے۔ حمید نے حضرت انس سے روایت کی آپ نے فرمایا: نماز کا وقت ہوا تو جس کا گھر قریب تھا وہ اپنے گھر والوں کے پاس وضو کرنے کے لیے چلا گیا اور باقی لوگ بچ گئے۔۔۔ پھر یہی مذکورہ حدیث ذکر کی اور اس میں اسی سے زیادہ افراد کا ذکر ہے۔ ان سب میں اس بات کی دلیل ہے حضرت جابر اور ان کے متبعین نے جسے روایت کیا یہ واقعہ اس کے علاوہ دوسرے وقت میں پیش آیا۔ اور قتادہ نے حضرت انس سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب مقام زوراء میں تھے مدینہ کا زوراء بازار مسجد کے پاس ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا پھر مذکورہ حدیث ذکر کی اس میں اس بات کا اضافہ ہے کہ میں نے حضرت انس سے کہا: اے ابو حمزہ !وہ کتنے لوگ تھے فرمایا : تقریباً تین ہو۔ قابل ترجیح بات یہ ہے کہ میں ایک اور واقعہ ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 276

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him