الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 222
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنِ الشَّرْقِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ فَإِنِ اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ كَانَ لَهُ أَجْرٌ. قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذَا النَّوْعُ مِنَ الِاخْتِلَافِ غَيْرُ مَا ذَمَّ اللَّهُ تَعَالَى وَذَمَّهُ رَسُولُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رُوِّينَا، وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجْعَلُ هَؤُلَاءِ الْمُخْتَلِفِينَ فِي مَعْنَى الْمُجْتَمِعِينَ حَيْثُ إِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَدَّى مَا كُلِّفَ مِنَ الَاجْتِهَادِ وَلَمْ يُخَالِفْ كِتَابًا وَلَا سُنَّةً قَائِمَةً بَلَغَتْهُ وَلَا إِجْمَاعًا وَلَا قِيَاسًا صَحِيحًا عِنْدَهُ، إِنَّمَا نَظَرَ فِي الْقِيَاسِ فَأَدَّاهُ إِلَى غَيْرِ مَا أَدَّى إِلَيْهِ [ص:235] صَاحِبَهُ، كَمَا أَدَّاهُ التَّوَجُّهُ إِلَى الْبَيْتِ بِدَلَائِلِ النُّجُومِ وَغَيْرِهَا إِلَى غَيْرِ مَا أَدَّى إِلَيْهِ صَاحِبَهُ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يَكُونُ مُؤَدِّيًا فِي الظَّاهِرِ مَا كُلِّفَ وَيَرْفَعُ عَنْهُ إِثْمَ مَا غَابَ عَنْهُ أَوْ أَخْطَأَهُ مِنَ التَّأْوِيلِ الصَّحِيحِ أَوِ السُّنَّةِ الصَّحِيحَةِ أَوِ الْقِيَاسِ الصَّحِيحِ إِذْ لَمْ يُكَلَّفْ عِلْمَ الْغَيْبِ، فَمَنْ سَلَكَ مِنَ فُقَهَاءِ الْأَمْصَارِ سَبِيلَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ فِيمَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ وَاخْتَلَفُوا فِيهِ كَانُوا كَالْفِرْقَةِ الْوَاحِدَةِ وَهِيَ الْفِرْقَةُ النَّاجِيَةُ الَّتِي أَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلٌّ مِنْهُمْ أَخَذَ بِوَثِيقَةٍ فِيمَا يَرَى فِيمَا تَبِعَ فِيهِ مِنَ الْكِتَابِ أَوِ السُّنَّةِ أَوِ الْإِجْمَاعِ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ وَأَمَّا تَخْلِيدُ مَنْ عَدَاهُمْ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ فِي النَّارِ فَهُوَ مَبْنِيٌّ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُكَفِّرْهُمْ أَجْرَاهُمْ بِالْخُرُوجِ مِنَ النَّارِ بِأَصْلِ الْإِيمَانِ مَجْرَى الْفُسَّاقِ الْمُسْلِمِينَ، وَحَمَلَ الْخَبَرَ عَلَى تَعْذِيبِهِمْ بِالنَّارِ مُدَّةً مِنَ الزَّمَانِ دُونَ الْأَبَدِ، وَاحْتَجَّ فِي تَرْكِ الْقَوْلِ بِتَكْفِيرِهِمْ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تفْتَرِقُ أُمَّتِي» , فَجَعَلَ الْجَمِيعَ مَعَ افْتِرَاقِهِمْ مِنْ أُمَّتِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
مجتہد کی خطاء میں بھی ثواب ہے: سید ابو الحسن محمد بن حسین العلوی نے ہمیں خبر دی کہا ابو حامد ابن الشرقی نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن یحییٰ اور ابو الازہر اور عبدالرحمٰن بن بشر اور احمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا سب نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا کہا ہمیں معمر نے خبر دی وہ سفیان سے وہ یحییٰ بن سعید سے وہ ابو بکر بن عمرو بن حزم سے وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جب حاکم حکم میں اجتہاد کرتا ہے تو درستگی کو پہنچے تو اس کے لیے دو اجر ہیں پھر اگر اجتہاد میں خطا کرے تو اس کے لیے ایک اجر ہے‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس نوع کے اختلاف کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذمت نہیں کی جن کے بارے میں ہم نے روایت کیا اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ ان اختلاف کرنے والوں کو اکٹھا ہونے والوں کے معنی میں قرار دیتے تھے وہ یوں کہ ان میں سے ہر ایک نے اتناہی اجتہاد کیا جتنے اجتہاد کا وہ مکلف تھا اور اس نے کتاب کی مخالفت کی نہ سنت قائمہ کی جو اس تک پہنچی ہے اور نہ اجماع کی اور نہ ہی قیاس کی جو اسکے نزدیک صحیح ہے اس نے صرف قیاس میں غور وفکر کی تو وہ اس تک پہنچا جس تک اس کا صاحب نہیں پہنچا جیسا کہ اس کی توجہ گھر کی طرف پہنچی ستاروں وغیرہ کی دلیلوں سے جس کی طرف اس کا صاحب نہ پہنچ سکا پس ان میں سے ہر ایک ظاہر میں اتنی مقدار میں پہنچنے والا ہوا جس کا وہ مکلف بنایا گیا تھا اور اس کا گناہ اس سے اٹھا دیا جاتا ہے جو اس سے پوشیدہ رہا یا اس نے تاویل صحیح سے خطا کی یا سنت صحیحہ یا قیاس صحیح پوشیدہ رہا کیونکہ وہ غیب کے علم کا مکلف نہیں بنایا گیا شہروں کے فقہاء میں سے جو صحابہ و تابعین کے راستے پر چلا ان امور میں جن میں ان کا اجماع ہو چکا یا جن میں ان کا اختلاف ہوا وہ سارے ایک ہی فرقہ کی طرح ہیں اور یہی نجات پانے والا فرقہ ہے جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا پس مجتہدین میں سے ہر ایک نے اسے اختیار کیا جو اس کے رائے میں معتمد تھا جس میں ان کے نزدیک کتاب یا سنت یا اجتماع کی اتباع تھی۔ وباللہ التوفیق! اور اس فرقہ ناجیہ کے علاوہ اہل بدعت کا جہنم میں ہمیشہ رہنا تو یہ ان کی تکفیر پر مبنی ہے تو جس نے انہیں کافر قرار نہیں دیا اس نے انہیں فساق مسلمانوں کے قائم مقام رکھا کہ وہ اصل ایمان کی وجہ سے(بالآخر) جہنم سے نکلیں گے اور ان کے جہنم میں عذاب کی حدیث کو ایک زمانے کی مدت پر محمول کیا ہمیشگی عذاب پر نہیں اور ان کی تکفیر کو چھوڑ نے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے دلیل لی’’تفترق امتی ‘‘ یعنی میری امت فرقوں میں بٹ جائے گی تو ان کے فرقوں میں بٹنے کے باوجود سب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت قرار دیا۔ واللہ اعلم !
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 222
