Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 210

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ، مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ يَقُولُ: الْحِكْمَةُ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَاهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَوْلُهُ {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ} [النساء: 59] قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي إِنِ اخْتَلَفْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ يَعْنِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ: إِلَى مَا قَالَ اللَّهُ وَالرَّسُولُ وَرُوِّينَا عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: الرَّدُّ إِلَى اللَّهِ [ص:228] الرَّدُّ إِلَى كِتَابِهِ وَالرَّدُّ إِلَى الرَّسُولِ إِذَا قُبِضَ إِلَى سُنَّتِهِ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی نے خبر دی کہا: میں نے اپنی زمین کے بعض قرآن کا علم رکھنے والوں کو فرماتے ہوئے سنا: حکمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ امام بیہقی رحمت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے اسے حضرت حسن بصری، قتادہ اور یحییٰ بن ابو کثیر سے روایت کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’فَاِنْ تَنٰزَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ‘‘ کے متعلق امام شافعی رحمتہ اللہ نے فرمایا: یعنی اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے’’فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ‘‘ یعنی واللہ اعلم! تم اس کی طرف لوٹو جو اللہ تعالیٰ اور سول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت میمون بن مہران سے ہم نے روایت کی آپ نے اس آیت کے بارےمیں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کا مطلب یہ ہے اس کی کتاب کی طرف لوٹنا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹنے سے مراد آپ کی سنت کی طرف لوٹنا ہے۔

الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَقَتَادَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَوْلُهُ ← الشَّيْخُ قَدْ رُوِّينَاهُ ← الْحِكْمَةُ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ ← بَعْضَ، مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 210

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 211

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ وَلَكِنَّهُ رَضِيَ أَنْ يُطَاعَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِمَّا تَحَاقَرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَاحْذَرُوا يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ، إِنَّ كُلَّ مُسْلِمٍ أَخُو الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمُونَ إِخَوَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا أَعْطَاهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ، وَلَا تَظْلِمُوا وَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا عباس بن فضل اسفاطی نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے اور کہا الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد بن فضل الشعرانی نے مجھے خبر دی کہا مجھ سے میرے دادا نے بیان کیا کہا ابن ابو اولیس نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا وہ ثور بن زید الدیلی سے وہ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے خطبے میں فرمایا:” شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری زمین(عرب) پر اس کی عبادت کی جائے لیکن وہ اس بات پر اضی ہو گیا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کے علاوہ ان امور میں جن کو تم اپنے اعمال میں حقیر سمجھتے ہو پس تم ڈرو! اے لوگو! میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑ کے جار ہا ہوں اگر تم نے انہیں مضبوطی سے پکڑے رکھا تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ، ہر مسلمان مسلمان کا بھائی ہے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال لے مگر وہ جو خود خوش دلی سے اسے دے تم ظلم نہ کرنا اور میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ← أَبِي ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 211

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 212

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ سَالْمٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: مَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ "

منکرین حدیث کارد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا بشر بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی کہا حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو النضر سالم مولی عمر بن عبیداللہ بن معمر نے بیان کیا وہ عبیداللہ بن ابو رافع سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں ہرگز تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنی چار پائی پر ٹیک لگائے ہوئے ہومیرے امور میں سے کوئی امرا سکے پاس آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہو وہ کہے : میں(اس کے بارے میں) نہیں جانتا جو ہم نے اللہ کی کتاب میں پایا ہے اسی کی ہم پیروی کریں گے‘‘۔

أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبُو النَّضْرِ سَالْمٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 212

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 213

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , نا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ»

ابو علی روذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا وہ اپنے باپ سعد بن ابراہیم سے وہ قاسم بن محمد سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جس کی اصل اس میں نہ ہو تو وہ مردود ہے‘‘ ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 213

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 214

وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ , وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ " أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ، فَذَكَرَهُ

اور ہم نے ثابت کی حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے اور اس کی ثناء جس کا وہ اہل ہے پھر فرماتے :” جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت ہے اور برے امور نئے ایجاد کردہ امور ہیں اور ہر نیا ایجاد کردہ کام بدعت ہے اور ہر(بری) بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے‘‘۔علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا سلیمان بن احمد الطبرانی نے ہمیں خبر دی کہا جعفر بن محمد فریابی نے ہم سے بیان کیا کہا حیان بن موسی نے ہم سے بیان کیا کہا ابن المبارک نے ہم سے بیان کیا وہ سفیان سے وہ جعفر بن محمدسے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں پھر آپ نے یہ حدیث ذکر کی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 214

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 215

أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو , عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَد‍ِّعٍ فَأَوْصِنَا، قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا [ص:230] بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

خلفا راشدین کی سنت پکڑنا لازم ہے: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا عباس بن محمد دوری نے ہم سے بیان کیا کہا ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا کہا ثور بن یزید نے ہم سے بیان کیا وہ خالد بن معدان سے وہ عبدالرحمٰن بن عمر سے وہ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا :ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں ایسا عظیم وعظ فرمایا جس سے ہمارے دل ڈر گئے اور ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! گویا کہ یہ الوداعی وعظ ہے لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اطاعت وفرمانبرداری کرنے کی اگرچہ تم پر غلام امیر بنا دیا جائے کیونکہ جو تم میں زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے جبڑوں سے اسے مضبوطی سے پکڑ لو! اور نئے امور سے بچو کیونکہ ہر(بری) بدعت گمراہی ہے‘‘۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← عَبْد الرَّحْمَن بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 215

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 216

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ , أَخْبرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا

نیکی کی دعوت دینے کا اجر : ابو علی حسین بن محمد الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ایوب نے ہم سے بیان کیا کہا اسماعیل بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہا مجھے علاء بن عبدالرحمٰن نے خبردی وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ہدایت کی طرف بلایا جو اس کی پیروی کرے گا اسکے اجروں کی مثل اس(بلانے والے) کو اجر ملے گا اور ان(پیروی کرنے والوں) کے اجر میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا جو اس کی پیروی کرے گا اسکے گناہوں کی مثل اس(گمراہی کی طرف بلانے والے) پر گناہ ہو گا اور ان(پیروی کرنے والوں) کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 216

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 217

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَلَهُ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ

نیک کام ایجاد کرنے کی فضیلت : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب نے ہمیں خبر دی کہا سعید بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہا نضر بن شمیل نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ بن الحجاج نے ہمیں خبر دی کہا عون بن ابو جحیفہ نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے منذر بن جریر بن عبداللہ سے سنا وہ اپنے باپ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کا اسے اجر ملے گا اور جو اس پر عمل کرے گا اس کا بھی اجرا سے ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے اجروں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اسکے گناہ کا بوجھ اسی پر ہے اور جو اس پر عمل کرے گا اس کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر ہے بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں کے بوجھوں میں کچھ بھی کمی کی جائے‘‘۔

أَبِيهِ ← الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 217

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 218

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الشَّعْرَانِيُّ , ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ , ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي رِوَايَةِ الْحُرْفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ إِثْمُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا

علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن ہیشم الشعرانی نے ہمیں خبر دی کہا ابن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف پلٹے اور کہا: ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ بن عبداللہ الحرفی نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا احمد بن سلیمان الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا اسماعیل بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہا ابن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں بے شک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حرفی کی روایت میں کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’ جس نے میری سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹ گئی تھی تو جو بھی لوگوں میں سے اس پر عمل کرے گا تو اس کے اجر کی مثل اس(زندہ کرنے والے) کو اجر ملے گا اور لوگوں کے اجروں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے کوئی بدعت ایجاد کی جس سے اللہ اور اس کے رسول راضی نہیں تو لوگوں میں سے جو بھی اس پر عمل کرے گا اس کا گناہ اس ایجاد کرنے والے پر ہو گا اورلوگوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی‘‘۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله بن عبد الله الحرفي ببغداد ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← أحمد بن الهيثم الشعراني ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 218

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 219

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى , ثنا الْحُمَيْدِيُّ , ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ رَجُلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، أَتَى أَبَا ذَرٍّ بِمِنًى فَسَمِعَهُ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نُغْلَبَ عَلَى أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِذَا لَزِمَ اتِّبَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا سَنَّ وَكَانَ لُزُومُهُ فَرْضًا بَاقِيًا فَلَا سَبِيلَ إِلَى اتِّبَاعِ سُنَّتِهِ إِلَّا بَعْدَ مَعْرِفَتِهَا وَلَا سَبِيلَ لَنَا إِلَى مَعْرِفَتِهَا إِلَّا بِقُبُولِ خَبَرِ الصَّادقِ عَنْهُ لَزِمَ قُبُولُهُ لِيُمْكِنَنَا مُتَابَعَتَهُ وَلِذَلِكَ أَمَرَ بِتَعْلِيمَهَا وَالدُّعَاءِ إِلَيْهَا وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

امت کو کب تک غلبہ رہے گا: ابو سعید یحییٰ بن محمد بن یحییٰ الاسفرائینی نے ہمیں خبر دی کہا ابو بحر البر بہاری نے ہمیں خبر دی کہا بشر بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حمیدی نے بیان کیا کہا یزید بن ہارون نے ہم سے بیان کیا کہا عوام بن حوشب نے ہمیں خبر دی کہا قاسم بن عوف الشیبانی نے ہم سے بیان کیا وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اس نے قاسم بن عوف سے بیان کیا کہ وہ منی میں حضرت ابوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پر غلبہ نہیں کیا جائے گا اس شرط پر کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور لوگوں کوسنن کی تعلیم دیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کی پیروی کرنا لازم ہو گیا تو یہ لزوم فرض ہو گیا جو باقی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی طرف راستہ اس کی معرفت کے بعد ہی ہے اور ہمارے لیے اسکی معرفت کا راستہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی خبر صادق کو قبول کرنے میں ہی ہے تو اس خبر صادق کو قبول کرنا ہم پر لازم ہو گیا تاکہ ہمارےلیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت ہو سکے اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تعلیم کا حکم دیا اور اس کی طرف بلایا۔ اور توفیق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔

الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ ← أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ لَا نُغْلَبَ عَلَى أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى ← أَنَّهُ، أَتَى أَبَا ذَرٍّ بِمِنًى فَسَمِعَهُ ← رَجُلٌ: ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 219

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 220

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ , أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي , ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , ثنا شُعْبَةُ , عَنْ مُخَارِقٍ , عَنْ طَارِقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أَمِّهِ، وَإِنَّ السَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ فَاتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا، رَوَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مُخْتَصَرًا قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ

ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر الرزاز ہمیں خبر دی کہ محمد ابن عبیداللہ بن المنادی نے ہم سے بیان کیا کہا وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ مخارق سے وہ طارق سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت ہے اور برے امور نئے ایجادکردہ امور ہیں اور شقی وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں شقی ہوا اور سعادت مند وہ ہے جس نے دوسروں کو نصیحت کی تو تم سنت کی پیروی کرو بدعتی نہ بننا ! اسے ابو عبدالرحمٰن السلمی نے مختصراً روایت کیا کہا کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: تم سنت کی پیروی کرو بدعتی نہ بننا تو تمہیں یہی کافی ہے۔

عبد الله بن مسعود أنه ← طَارِقٍ ← مُخَارِقٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 220

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 221

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ الْفَزَارِيُّ , حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ، وَالنَّصَارَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَرُوِيَ مَعْنَاهُ فِي حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ وَغَيْرِهِ. وَقَدْ ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ الْمَدْخَلِ وَغَيْرِهِ أَنَّ الْخِلَافَ الْمَذْمُومَ مَا خُولِفَ فِيهِ كِتَابٌ أَوْ سُنَّةٌ صَحِيحَةٌ أَوْ إِجْمَاعٌ، أَوْ مَا فِي مَعْنَى وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ وَذَلِكَ كَخِلَافِ مَنْ خَالَفَ أَهْلَ السُّنَّةِ فِيمَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ فِي هَذَا الْكِتَابِ، فَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ} [آل عمران: 105] وَقَدْ جَاءَ الْكِتَابُ ثُمَّ السُّنَّةُ ثُمَّ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ بِإِثْبَاتِ مَا أَثْبَتْنَاهُ مِنْ صِفَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرُؤْيَتِهِ وَشَفَاعَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِ ذَلِكَ، فَمَنْ نَفَاهُ وَاخْتَلَفَ فِيهِ كَانَ ذَلِكَ اخْتِلَافًا بَعْدَ مَجِيءِ الْبَيِّنَةِ، وَرَدُّ مَنْ رَدَّ مَا وَرَدَ فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ الثَّابِتَةِ جَهَالَةٌ مِنْهُ بِلُزُومِهِ اتِّبَاعَ مَا بَلَغَهُ مِنْهُ، وَتَأْوِيلُ مَنْ تَأَوَّلَ مَا وَرَدَ فِيهِ مِنَ الْكِتَابِ غَيْرُ سَائِغٍ فِي الشَّرِيعَةِ، فَلَا وَجْهَ لِتَرْكِ الظَّاهِرِ إِلَّا بِمِثْلِهِ أَوْ بِمَا هُوَ أَقْوَى مِنْهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُنَا مِنْ ذَلِكَ بِرَحْمَتِهِ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ اخْتِلَافُ هَؤُلَاءِ وَأَمْثَالِهِمْ أُرِيدَ بِمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالَّذِي يُؤَكِّدُهُ مَا رُوِيَ فِي حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ. وَفِي حَدِيثِ عَمْرِو [ص:234] بْنِ عَوْفٍ: إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ. وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِلَّا وَاحِدَةً، مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي. وَإِنَّمَا اجْتَمَعَ أَصْحَابُهُ عَلَى مَسَائِلِ الْأُصُولِ فَإِنَّهُ لَمْ يُرْوَ عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمْ خِلَافُ مَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ فِي هَذَا الْكِتَابِ، فَأَمَّا مَسَائِلُ الْفُرُوعِ فَمَا لَيْسَ فِيهِ نَصُّ كِتَابٍ وَلَا نَصُّ سُنَّةٍ فَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى بَعْضِهِ وَاخْتَلَفُوا فِي بَعْضِهِ، فَمَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ لَيْسَ لِأَحَدٍ مُخَالَفَتُهُمْ فِيهِ، وَمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ فَصَاحِبُ الشَّرْعِ هُوَ الَّذِي سَوَّغَ لَهُمْ هَذَا النَّوْعَ مِنَ الِاخْتِلَافِ حَيْثُ أَمَرَهُمْ بِالِاسْتِنْبَاطِ وَبَالَاجْتِهَادِ مَعَ عِلْمِهِ بِأَنَّ ذَلِكَ يَخْتَلِفُ، وَجَعَلَ لِلْمُصِيبِ مِنْهُمْ أَجْرَيْنِ وَلِلْمُخْطِئِ مِنْهُمْ أَجْرًا وَاحِدًا، وَذَلِكَ عَلَى مَا يُحْتَمَلُ مِنَ الَاجْتِهَادِ، وَرَفَعَ عَنْهُ مَا أَخْطَأَ فِيهِ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس قاسم بن قاسم السیاری نے مرو میں ہمیں خبر دی کہا ابو الموجہ الفزاری نے ہم سے بیان کیا کہا یوسف بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ فضل بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا وہ محمد بن عمرو سے راوی کہا مجھ سے ابو سلمہ نے بیان کیا وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ یہود اکہتر(71) فرقوں میں بٹ گئے اور نصاری بھی اسی کی مثل اور میری امت تہتر(73) فرقوں میں بٹ جائے گی‘‘۔ اسی کے معنی میں حضرت معاویہ وغیرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث روایت کی گئی ہے۔ ہم نے کتاب المدخل وغیرہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ اختلاف مذموم ہے جس میں کتاب یا سنت یا اجماع کی مخالفت کی گئی ہو یا ان میں سے کسی کے معنی میں جو ہے اس کی مخالفت کی گئی ہو یہ اس خلاف کی طرح ہے جس نے اہل سنت سے خلاف کیا ان امور میں جن کی طرف ہم نے اس کتاب میں اشارہ کیا ہے۔ بلاشبہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : وَلَا تَکُوْنُوْاَ کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ ھُمُ الْبَیِّنٰتِ (آل عمران:105) ترجمہ: اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آ چکی تھیں۔ اور کتاب وسنت پر اجماع صحابہ میں ان امور کے اثبات میں آیا ہے جنہیں ہم نے اللہ تعالیٰ کی صفات ، اس کے دیدار اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت وغیرہ میں ثابت کیا ہے تو جس نے اس کی نفی کی اور اس میں اختلاف کیا تو یہ اختلاف واضح دلیل آنے کے بعد ہو گا اور جس نے اسے رد کیا اس نے اس بارے میں وارد شدہ سنت ثابتہ کو رد کیا اس سے جہالت کی وجہ سے جو اس تک پہنچا اس کے اتباع کے لزوم کی وجہ سے اور جس میں(صریح) کتاب اللہ آئی ہیں اس میں تاویل کرنے والے کی تاویل کرنا شریعت میں جائز نہیں ہے لہٰذا ظاہر قرآن کو چھوڑنے کی کوئی صورت نہیں مگر اسی کی مثل(دلیل) کیساتھ یا اس سے زیادہ قوی(دلیل) کیساتھ۔اللہ تعالیٰٰ ہمیں اپنی رحمت کیساتھ اس سے محفوظ رکھے۔ ان لوگوں اور ان کی مثل لوگوں کے اختلاف کو تشبیہ دے کر یہی مرادلیا گیا ہے اس روایت میں جسے ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں روایت کیا اور یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث سے مؤکد ہو جاتی ہے اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کُلُّھَا فِی النَّارِ اِلَّا وَاحِدَۃً وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ ‘‘ وہ سارے فرقے جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے اور وہ جماعت ہے۔ اور حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے : ’’اِلَّا وَاحِدَۃً الْاِسْلَامُ وَجَمَاعَتُھُمْ ‘‘ مگر اسلام کا ایک اور ان کی جماعت۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے: ’’اِلَّا وَاحِدَۃً مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِی ‘‘ مگر ایک فرقہ یہہ وہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہو گا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسائل اصول پر جمع ہو گئے ان میں سے کسی ایک سے بھی سکے خلاف مروی نہیں جس کی طرف ہم نے اس کتاب(مدخل) میں اشارہ کیا۔ رہا معاملہ مسائل فروع کا تو اس بارے میں نہ تو قرآن کی کوئی نص ہے نہ سنت کی تو بعض فروعی مسائل میں صحابہ اکٹھے ہو گئے اور بعض میں اختلاف کیا اور جن مسائل پر اکٹھے ہوئے ان میں کسی ایک نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی اس میں اختلاف کیا تو صاحب شرع صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس نوع کے اختلاف کی انہیں اجازت دی ہے کیونکہ انہیں استنباط واجتہاد کا حکم دیا باوجود اس کے کہ آپ جانتے تھے کہ وہ اس میں اختلاف کریں گے اور ان کے مصیب(درستگی پر پہنچے والے) کے لیے دواجر ہیں اور خطا کرنے والے کے لیے ایک اجر ہے یہ اس بناء پر ہے کہ اس میں اجتہاد کا احتمال ہے اور اس میں جس سے خطاہوئی اس سے گناہ اٹھا دیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَی ← أبو الموجه الفَزَارِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 221

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him