Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 191

حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ، آمَنُوا أَجْمَعُونَ وَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا»

قرب قیامت سورج مغرب سے طلوع ہو گا : ابو الحسن علوی نے ہم سے بیان کیا کہا عبیداللہ بن ابراہیم بن بالویہ المزکی نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا کہا ہمیں معمر نے خبر دی وہ ہمام بن منبہ سے کہا یہ وہ روایت ہے جو ہم سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو گا پھر جب وہ طلوع ہو گا تو سب لوگ اسے دیکھ کر ایمان لائیں گے اور اس وقت کسی جان کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اس سے پہلے اس نے اپنے ایمان میں کوئی خیر نہیں کھائی تھی‘‘۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 191

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 192

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ "

تین نشانیوں کے ظہور کے بعد ایمان لانا نفع نہیں دے گا: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا یعلی بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا فضیل بن غزوان نے ہم سے بیان کیا وہ ابو حازم سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تین چیزیں جب نکلیں گی تو کسی جان کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو ان سے پہلے پہلے ایمان نہ لایا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی خیر نہ کمائی(ایک) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا(دوسرا) دجال(تیسرا) دابۃ الارض‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 192

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 193

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا [ص:214] أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ إِنَّمَا قُلْتُ: إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا فَكَانَ حَرِيقُ الْبَيْتِ، قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيمْكُثُ فَيهِمْ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَلْبَثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ كَانَ فِي كَبَدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ، فَيَأْمُرُهُمْ بِالْأَوْثَانِ، فَيَعْبُدُونَهَا وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا صَغَا لِيتًا يعني: وَرَفَعَ لِيتًا، وَرَفَعَ بُنْدَارٌ إِحْدَى مَ‍نْكِبَيْهِ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَهُ، فَيُصْعَقُ ثُمَّ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا صُعِقَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ، أَوِ الظُّلَلُ النُّعْمَانُ الشَّاكُّ فَيَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، {ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} [الزمر: 68] ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24] ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ [ص:215] قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ، وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: سَقَطَ مِنْ كِتَابِي «وَرَفَعَ لَيْتًا» وَاللَّيْتُ مَجْرَى الْقُرْطِ مِنَ الْعُنُقِ

دجال کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سے ہلاک کرنا: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو الفضل بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے احمد بن سلمہ نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ نعمان بن سالم سے کہا میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا آپ نے کہا میں نے ایک آدمی کو سنا اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی عنہ سے کہا قیامت اس اور اس وقت تک قائم ہو گی تو آپ نے کہا : میں نے ارادہ کیا کہ اس کے بارے میں تمہیں کچھ بھی نہ بتاؤں میں نے کہا: تم تھوڑی مدت میں ہی ایک امر عظیم دیکھو گے پس بیت اللہ جلایا گیا۔ شعبہ نے کہا یہ یا اسی کی مثل۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں دجال نکلے گا تو وہ اس میں چالیس رہے گا نہیں معلوم چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ مبعوث فرمائے گا گویا کہ وہ(شکل وصورت میں) عروہ بن مسعود ثقفی ہیں تو وہ اسے طلب کریں گے پھر اسے ہلاک کریں گے پھر لوگ اس کے بعد سات سال رہیں گے اس وقت دو بندوں کے مابین بھی عداوت نہیں ہو گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا تو جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا اس کی روح کو قبض کر لیا جائے گا حتٰی کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے جگر میں ہو گا تو وہ ہوا اسے بھی پہنچے گی‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے: ’’اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح جلد باز اور درندوں کی عقلوں والے ہوں گے نہ نیکی کو پہچانے گے اور نہ برائی کو برا جانیں گے پھر شیطان انسانی صورت میں آئے گا تو کہے گا تم میری بات کو قبول کیوں نہیں کرتے ؟ پھر شیطان انہیں بتوں کی عبادت کرنے کا حکم دے گا تو وہ بتوں کی عبادت کرنے لگیں گے وہ اچھے رزق اور(ظاہری اعتبار سے) بہترین زندگی میں ہونگے پھر صور میں پھونکا جائے گا اور جو بھی اسے سنے گا وہ ایک طرف سے گردن اٹھائے گا اور دوسری طرف سے جھکائے گا اور سب سے پہلے جو اس کی آواز سنے گا وہ اپنے (اونٹوں کے) حوض کو درست کر رہا ہو گا تو وہ بے ہوش ہو جائے گا پھر سبھی لوگ بے ہوش ہو جا ئیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا یا اتارے گا گویا کہ وہ شبنم ہو گی یا درختوں کے سائے میں رہنے والا پانی ہو گا، اس حدیث کے راوی نعمان کو اس میں شک ہے تو اس سے لوگوں کے جسم اگیں گے پھر دوسری مرتبہ صور میں پھونکا جائے گا پھر لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو! انہیں کھڑا کرو بے شک ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا :جہنم کے لیے ایک گروہ نکالو! کہا جائے گا کتنی تعداد میں؟ تو جواباً کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے‘‘۔ محمد بن جعفر نے کہا مجھ سے شعبہ نے یہ حد یث کئی مرتبہ بیان کی اور میں نے بھی ان پر اسے پڑھا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میری کتاب میں ورفع لیتا کے الفاظ ساقط ہیں اور لیت کا معنی ہے گردن کی وہ جگہ جہاں عورتوں کے کانوں کا زیور لٹکا ہوتا ہے۔

لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّكَ تَقُولُ: ← رَجُلًا ← يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 193

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 194

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " اسْتيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً بأُصْبُعَيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " قَالَ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْبَعْثِ قِصَّةَ الدَّجَّالِ وَنُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهَلَاكِهِمْ، وَقِيَامِ السَّاعَةِ مِنْ حَدِيثِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَغَيْرِهِ

ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا ابو سعید بن الاعرابی نے خبر دی کہا ہم سے سعدان بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ زہری سے وہ عروہ سے وہ زینت بنت ابو سلمہ سے وہ حبیبہ سے وہ ان کی ماں اُم حبیبہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب سے راویت کرتی ہیں فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ کہہ رہے تھے لا الہ الا اللہ یہ تین مرتبہ کہا(پھر کہا:) ’’عرب کے لیے ہلاکت ہے شر سے جو قریب آ چکا ہے آج یاجوج ماجوج کی دیوار کا اتنا حصہ کھل گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کا حلقہ بنایا میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ ہم میں صالحین موجود ہیں ؟ فرمایا : ہاں جب خبیثوں کی کثرت ہو جائے‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے کتاب البعث میں دجال کا قصہ، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آسمانوں سے اترنا اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا اور ان کا ہلاک ہونا اور قیامت کا قائم ہونا حضرت نواس بن سمعان وغیرہ کی حدیث سے ذکر کیا ہے۔

استيقظ النبي من نوم محمرا وجهه وهو ← زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، ← حبيبة ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 194

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 195

حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبي»

امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر : ابو سعد عبدالملک بن ابو عثمان الزاہد رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ہمیں حامد ابن محمد الہروی نے بیان کیا کہا ہمیں علی بن عبدالعزیز نے خبر دی کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے فطر بن خلیفہ نے بیان کیا وہ حبیب بن ابو ثابت سے وہ ابو الطفیل سے وہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر دنیا میں ایک ہی دن باقی رہ جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس دن کولمبا کر دے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میری اہل بیت سے ایک آدمی کو بھیجے گا جس کا نام میرے نام پر ہو گا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہو گا‘‘۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← فِطْرِ بن خليفة ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 195

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 196

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَا: أنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فِطْرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا» قَالَ: وَحَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِطْرٌ: أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدنيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا» وَرَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ فِيهِ «يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي»

امام سیدنا مہدی رحمۃ اللہ علیہ دنیا عدل سے بھر دیں گے: ابو عبدالرحمٰن السلمی اور ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا یحییٰ بن منصور قاضی نے ہمیں خبر دی کہا علی بن عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا کہا ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے فطر نے بیان کیا وہ قاسم بن ابو بزہ سے وہ ابو الطفیل سے وہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر دنیا میں صرف ایک دن باقی رہ جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ میری اہل بیت سے ایک شخص بھیجے گا وہ اسے عدل سے بھر دے گا جیسے ظلم سے بھر دی جائے گا‘‘۔ فرمایا: اور ہم سے فطر نے بیان کیا وہ حبیب بن ابو ثابت سے وہ ابو الطفیل سے وہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فطر نے کہا اسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا: ’’اگر دنیا میں ایک ہی دن باقی رہ جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس دن کولمبا کر دے گا یہاں تک کہ میری اہل بیت سے ایک آدمی مبعوث ہو گا وہ اس کو عدل سے بھر دے گا جیسا کہ اسے ظلم سے بھر دیا جائے گا‘‘۔ اور عاصم بن ابو النجود نے اسے روایت کیا وہ زر بن حبیش سے وہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس روایت میں آپ نے یہ ذکر کیا : ’’اس کا نام میرے اسم کے نام کے موافق ہو گا اور اسکے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہو گا‘‘۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 196

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 197

وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَضَتِ الْآيَاتُ غَيْرَ أَرْبَعٍ: طُلُوعُ [ص:217] الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَيَأْجُوجُ، وَمَأْجُوجُ، قَالَ: وَبِهَا يُخْتَمُ الْأَعْمَالُ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ} [الأنعام: 158] قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَعْنِي بِهِ الْآيَاتِ الْكِبَارَ

قیامت کی چار بڑی نشانیاں باقی ہیں: ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح المحاربی نے کوفہ میں ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن حازم بن ابو غرازہ نے ہم سے بیان کیا کہا عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں سفیان نے خبر دی وہ عوف سے وہ انس بن سیرین سے وہ ابو عبیدہ سے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’(قیامت کی نشانیوں میں سے) چار نشانیوں کے علاوہ(نشانیاں) گزر چکی ہیں(1) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا(2) دجال(3) دابہ(4) یا جوج ماجوج ‘‘ فرمایا: انہی کیساتھ اعمال ختم ہو جائیں گے فرمایا۔ پھر یہ آیت پڑھی: ’’اس دن تیرے رب کی بعض آیات آئیں گی‘‘۔ (الانعام:158) امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس سے مراد نشانیاں ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح المحاربي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 197

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 198

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْنِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ «كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَنْبَغِ لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ، وَلَمْ يَنْبَغِ لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ» لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ «اتَّخَذَ اللَّهُ وَلدًا، وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ، وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ»

بندے کا اللہ تعالیٰ کو گالی دینا اور جھٹلانا: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر احمد بن عبید بن ابراہیم الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابراہیم بن حسین نے ہم سے بیان کیا کہا ابو الیمان حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعیب بن حمزہ نے بیان کیا کہا مجھے سے ابو الزناد نے بیان کیا وہ عبدالرحمٰن الاعرج سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :”مجھے ابن آدم نے جھٹلایا اس کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ مجھے جھٹلائے اور ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اس کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ مجھے گالی دے اس کا مجھے جھٹلانا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز دوبارہ نہیں لوٹائے گا جس طرح اس نے پہلے مجھے پیدا کیا حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا مجھ پر دوبارہ لوٹانے سے زیادہ آسان نہیں ہے اور اس کا مجھے گالی دینا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا حالانکہ میں اکیلا بے نیاز ہوں نہ میں نے جنا اور نہ میں جنا گیا اور میرا کوئی ہمسر نہیں‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 198

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 199

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، (ح) ، وَأَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزْدَادَ الْجَوْسَقَانِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، قَالَا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: " أَمَا مَرَرْتَ بوَادٍ لَكَ مَحْلًا، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ مَحْلًا، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟ [ص:218] قَالَ: بَلَى، قَالَ: كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ «لَفْظً حَدِيثِ الْمُؤَدِّبِ، وَفِي رِوَايَةِ الصَّغَانِيِّ بِوَادِي أَهْلِكَ مَحْلًا، وَلَمْ يَقُلْ» يَهْتَزُّ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ وَرَدَ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [الحج: 6] وَآيَاتُ الْقُرْآنِ فِي الْإِعَادَةِ كَثِيرَةٌ

اللہ تعالیٰ ٰ مردے کیسے زندہ کرے گا ؟ ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن اسحاق الصغانی نے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا- استاذ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن یزداد الجوسقانی نے خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن عباس المؤدب نے کہا عفان بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا کہا ہمیں یعلیٰ بن بن عطاء نے خبر دی وہ وکیع بن حدس سے وہ اپنے چچا ابو رزین العقیلی سے روایت کرتے ہیں کہا میں نے کہا : یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اور اس کی خلقت کی نشانی کیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تو کسی وادی میں نہیں گزرا جس میں تیرا ٹھکانہ ہوا (اور وہاں کچھ بھی سبزہ نہ ہو) پھر تو وہاں سے گزرا کہ وہاں سبزہ لہلہا رہا ہو پھر تو گزرا اس ٹھکانے سے (اور وہاں کچھ بھی سبزہ نہ) ہو پھر تو وہاں سے گزرا کہ وہاں سبزہ لہلہا رہا ہو اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور یہ اس کی مخلوق میں اس کی نشانی ہے‘‘۔ یہ مؤدب کی حدیث کے لفظ ہیں اور صغانی کی روایت میں’’ بھتز‘‘ کی جگہ ’’بوادی اھلک‘‘ ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات اللہ تعالیٰ کی کتاب میں آئی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ترجمہ: اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا ترو تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑ اگالائی میں اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہ مردے زندہ کرے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اس دعویٰ میں آیات بہت زیادہ ہیں۔

قُلْتُ ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزْدَادَ الْجَوْسَقَانِيُّ، ← وَأَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 199

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him