Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 144

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ بأَسَدِ أَبَادَ قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ الْأَحَدِ قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ [ص:182]. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَأَمَّا الِاسْتِثْنَاءُ فِي الْإِيمَانِ فَقَدْ كَانَ يَسْتَثْنِي جَمَاعَةً مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَأَتْبَاعِهِمْ وَإِنَّمَا رَجَعَ اسْتِثْنَاؤُهُمْ إِلَى كَمَالِ الْإِيمَانِ وَإِلَى بَقَائِهِمْ عَلَى إِيمَانِهِمْ فِي ثَانِي الْحَالِ فَأَمَّا أَصْلُ الْإِيمَانِ فَكَانُوا لَا يَشُكُّونَ فِي وُجُودِهِ فِي الْحَالِ، وَبِأَنَّ تَغَيُّرَ حَالِ إِنْسَانٍ فِي الْإِيمَانِ لَمْ يَمْنَعْ كَوْنَهُ مَوْصُوفًا بِهِ فِي الْحَالِ قَبْلِ التَّغْيِيرِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا مجھ سے زبیر بن عبدالواحد اسد آباد کے حافظ نے بیان کیا کہا مجھ سے یوسف بن عبد الواحد نے بیان کیا کہا ہم سے ربیع بن سلیمان نے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا: ایمان قول و عمل کا نام ہے جس میں اضافہ اور کمی ہوتی ہے۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایمان میں بعض اشیاء کے استثناء کے بارے میں فرمایا کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی ایک جماعت ایمان میں بعض اشیاء کا استثناء کیا کرتی تھی اور ان کا استثناء کمال ایمان کی طرف راجع ہے اور دوسری حالت میں ان کے ایمان پر شفقت برتنے کی طرف راجع ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایمان کے متعلق انسانی حالت کی تبدیلی اس سے مانع نہیں کہ وہ اس حالت کی تبدیلی سے پہلے ایمان سے موصوف ہو۔ واللہ اعلم!

الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ [ص:182]. ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ الْأَحَدِ ← الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَافِظُ بأَسَدِ أَبَادَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 144

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 145

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، قَالَ: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ شَادِلَ الْهَاشِمِيُّ قَالَ: نا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ الزَّاهِدُ، قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحِمْصيُّ، قَالَ: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ، عَنِ الْإِيمَانِ، فَقَالَ: الْإِيمَانُ إِيمَانَانِ، فَإِنْ كُنْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْبَعْثِ وَالْحِسَابِ، فَأَنَا مُؤْمِنٌ، وَإِنْ كُنْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا} [الأنفال: 3] فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا مِنْهُمْ أَمْ لَا؟ [ص:183] فَلَمْ يَتَوقَّفِ الْحَسَنُ فِي أَصْلِ إِيمَانِهِ فِي الْحَالِ وَإِنَّمَا تَوقَّفَ فِي كَمَالِهِ الَّذِي وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ بِقَوْلِهِ {لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} [الأنفال: 4]

ایمان کے متعلق حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا جواب: ہمیں ابو عبداللہ لحاظ نے خبردی کا مجھ سے ابو محمد حافظ نے بیان کیا کہا ہمیں ابو العباس محمد بن شادیٔ الہاشمی نے خبر دی کہا ہمیں احمد بن نصر المقریٔ زاہد نے خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن عبدالجبار الحمصی نے خبر دی کہا ہم سے ابن الولید نے بیان کیا وہ تمام بن نجیح سے روایت کرتے ہیں کہا ایک آدمی نے حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ایمان دو ہیں اگر تو اللہ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں ، جنت ، دوزخ ، قیامت اور حساب و کتاب پر ایمان لانے کے بارے میں سوال کرتا ہے؟ تو میں مومن ہوں اور اگر اللہ عزوجل کے فرمان : ترجمہ:ایمان والے وہی ہیں جب اللہ یاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں یہی سچے مسلمان ہیں۔ کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اللہ کی قسم میں نے نہیں جانتا ہے میں ان میں سے ہوں یا نہیں۔ چنانچہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اصل ایمان میں توقف نہیں کیا کسی حال میں آپ نے تو کمال ایمان میں توقف کیا جس کا اللہ عزوجل نے اہل جنت کے لیے وعدہ کیا ہے اپنے اس فرمان میں کہ: لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقُ کَرِیْمٌ (الانفال:4) ترجمہ:ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔

تمام بن نجيح ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحِمْصِيُّ، ← أحمد بن نصر المقري الزاهد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ شَادِلَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 145

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 146

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ قَالَ: نا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، قَالَ: نا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيَّ، وَسَعِيدَ بْنَ يَعْقُوبَ، قَالَا: نا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: سَمِعْتُ الثَّوْرِيَّ، يَقُولُ: قَدْ خَالَفْنَا الْمُرْجِئَةَ فِي ثَلَاثٍ، نَحْنُ نَقُولُ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ وَهُمْ يَقُولُونَ قَوْلٌ بِلَا عَمَلٍ، وَنَحْنُ نَقُولُ: يَزِيدُ وَيَنْقُصُ وَهُمْ يَقُولُونَ لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ، وَنَحْنُ نَقُولُ: أَهْلُ الْقِبْلَةِ عِنْدَنَا مُؤْمِنُونَ أَمَّا عِنْدَ اللَّهِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَهُمْ يَقُولُونَ نَحْنُ عِنْدَ اللَّهِ مُؤْمِنُونَ فَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَخْبَرَ عَنْ أَهْلِ السُّنَّةِ أَنَّهُمْ لَا يَقْطَعُونَ بِكَوْنِهِمْ مُؤْمِنِينَ عِنْدَ اللَّهِ يَعْنِي فِي ثَانِي الْحَالِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَهُوَ عَالِمٌ بِمَا يَصِيرُ إِلَيْهِ حَالُ الْعَبْدِ ثُمَّ يَمُوتُ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُهُ فَنَكِلُ الْأَمْرَ فِيمَا لَا نَعْلَمُهُ إِلَى عَالِمِهِ خَوْفًا مِنْ سُوءِ الْعَاقِبَةِ، وَنَسْتَثْنِي عَلَى هَذَا الْمَعْنَى وَنَرْجُو مِنَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُثَبِّتْنَا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ. وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي جَرَيَانِ الْقَلَمِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ وَرُجُوعُ كُلِّ [ص:184] إِنسَانٍ إِلَى مَا كُتِبَ لَهُ مِنَ الشَّقَاوَةِ وَالسَّعَادَةِ فَمَوْتُهُ عَلَيْهِ مَانِعَةٌ مِنْ قَطْعِ الْقَوْلِ بِمَا يَكُونُ فِي الْعَاقِبَةِ حَامِلَةٌ عَلَى الِاسْتِثْنَاءِ وَعَلَى الْخَوْفِ مِنْ تَبَدُّلِ الْحَالَةِ، وَاللَّهُ يَعْصِمُنَا مِنْ ذَلِكَ بِفَضْلِهِ وَسَعَةِ رَحْمَتِهِ

کچھ فرقہ مرجئہ کے متعلق حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی : ہمیں ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین السلمی نے خبر دی کہا ہمیں بشر بن احمد المہرجانی نے خبر دی کہا داؤد بن حسین بیہقی نے خبر دی کہا میں نے محمد بن مقاتل مروزی اور سعید بن یعقوب سے سنا ان دونوں نے کہا ہمیں مؤمل بن اسماعیل نے خبر دی کہا میں نے سفیان ثوری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے مرجئہ کی تین باتوں میں مخالفت کی ، ہم کہتے ہیں: ایمان قول وعمل کا نام ہے وہ کہتے ہیں قول کا نام ہے بغیر عمل کے، ہم کہتے ہیں اس میں اضافہ کمی ہوتی ہے وہ کہتے ہیں اس میں اضافہ وکمی نہیں ہوتی ہم کہتے ہیں کہ اہل قبلہ ہمارے نزدیک مؤمن ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کا حکم اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جانتا ہے وہ کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک مؤمن ہیں۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اہل سنت کے عقیدے کے متعلق خبر دی کہ وہ قطعی طور پر اللہ کے نزدیک مومن ہونے کا قول نہیں کرتے یعنی دوسری حالت میں کیونکہ اللہ تعالیٰ غیب جانتا ہے وہ جانتا ہے کہ بندے کی حالت کس کی طرف پھر جائے گی پھر وہ اسی حالت میں مر جائے گا اور ہمیں اسکا علم نہیں چنانچہ جن امور کا ہمیں علم نہیں ہم ان کو اسکے جاننے والے یعنی اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں بری عاقبت سے خوف رکھتے ہوئے اس معنی پر ہم استثناء کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیاوی واخروی زندگی میں قول ثابت(کلمہ توحید) پر ثابت قدم رکھے گا۔ اور وہ احادیث جو ہر اس چیز کے متعلق جو کچھ ہونے والا ہے قلم کے جاری ہونے کے متعلق وارد ہوئی ہیں اور ہر انسان کی اسی کی طرف لوٹنے جو اس کے لیے سعادت و شقاوت لکھ دی گئی ہے پھر اسی حالت پر ان کی موت آنے کے متعلق(احادیث) آئی ہیں یہ اس بات سے روکتی ہیں کہ عاقبت میں جو کچھ ہو گا اس کے بارے میں کوئی حتمی بات کی جائے اور یہ احادیث استثناء پر ابھارتی ہیں اور تبدیل حالت سے خوف پر ابھارتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل اور وسعت رحمت سے محفوظ فرمائے۔

الثَّوْرِيُّ ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدَ بْنَ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيَّ، وَسَعِيدَ بْنَ يَعْقُوبَ، ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← بشر بن أحمد المهرجاني، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 146

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 147

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَائِينِيُّ بِهَا قَالَ: أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، قَالَ: نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، وَهُدْبَةُ، قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ وَدَخَلَ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ وَدَخَلَ الْجَنَّةَ. وَشَوَاهِدُ هَذَا الْحَدِيثِ كَثِيرَةٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ» [ص:185] وَفِي حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ قَالَ: " فَقَالُوا: نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «قُولُوا إِنْ شَاءَ اللَّهُ»

سعادت مند ، بدبختوں میں اور بد بخت ، سعادت مندوں میں : ہمیں ابو الحسن علی بن محمد المقریٔ الاسفرائنی نے اسفرائین میں خبر دی کہا ہمیں حسن بن محمد بن اسحاق نے خبر دی کہا یوسف بن يعقوب القاضی نے ہمیں خبر دی کہا عبدالواحد بن عتاب اور ہدبہ نے ہمیں خبر دی کہا حماد بن سلمہ نے ہمیں خبر دی وہ ہشام بن عروہ سے وہ اپنے باپ سے وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بلاشبہ آدمی اہل جنت کے عمل کرتا ہے اور وہ کتاب میں اہل جہنم سے لکھا ہوتا ہے تو جب اس کی موت کا وقت آتا ہے تو وہ(اپنے عمل سے) پھر جاتا ہے تو وہ اہل جہنم کا عمل کرتا ہے پھر مر جاتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک آدمی اہل جہنم کے عمل کرتا رہتا ہے اور وہ کتاب میں اہل جنت میں سے لکھا ہوتا ہے جب اسکی موت کا وقت آتا ہے تو وہ پھر جاتا ہے تو اہل جنت کے عمل کرتا ہے پھر مر جاتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے‘‘۔ اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیث سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اعمال کا فیصلہ خاتمہ کرتا ہے: حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اعمال کا دارو مدار خاتمہ پر ہے‘‘۔حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنت کی صفت کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کے عرض کیا یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم اس کیلئے کمر بستہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم کہو! اگر اللہ نے چاہا‘‘۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، وَهُدْبَةُ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَائِينِيُّ بِهَا

Hadith 147

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him