Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 76

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَهَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهِ سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا تُمَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: قوْلُهُ تُمَارُونَ: أَصْلُهُ تَتَمَارُونَ [ص:130] فَأُسْقِطَتْ إِحْدَاهُمَا وَهُوَ مِنَ الْمِرْيَةِ وَهِيَ الشَّكُّ فِي الشَّيْءِ وَالِاخْتِلَافِ فِيهِ، يَقُولُ: تَرَوْنَ رَبَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ كَمَا تَرَوْنَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ فِي دَارِ الدُّنْيَا بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ

ابو عبداللہ الحافظ اور ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا ہمیں ابو جعفر بن عون نے خبر دی کہا ہمیں ہشام بن سعد نے خبر دی کہا ہم سے زید بن اسلم نے بیان کیا وہ عطاء بن یسار سے وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں دوپہر کے وقت حالت بیداری میں سورج کے دیکھنے میں کوئی شک ہوتا ہے جب کہ اس کے اوپر کوئی بادل بھی نہ ہو؟ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ہم نے کہا: یا رسول اللہ انہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا حالت بیداری میں تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دکھائی دینے میں کوئی شک ہوتا ہے جب کہ اس پر بادل نہ ہوں ؟ صحابہ کرام نے کہا : یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )!نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” قیامت کے دن اس یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار میں تمہیں شک نہیں ہو گا مگر ایسے ہی جیسے تمہیں ان دونوں(چاند وسورج) کے دیکھنے میں شک ہوتا ہے‘‘۔ استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’تمارون‘‘ کی اصل’’ تتمارون‘‘ ہے چنانچہ ان میں سے ایک تا کو گرا دیا گیا اور یہ ’’مریۃ‘‘ سے ماخوذ ہے یہ کسی شے میں شک پڑنے یا اختلاف ہو جانے کو کہتے ہیں۔فرماتے ہیں :تم اپنے رب کو بغیر کسی شک وشبہ کے دیکھو گے جیسے سورج و چاند کو دار دنیا میں بغیر کسی شک وشبہ کے دیکھتے ہو۔

قُلْنَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 76

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 77

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِيُّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ» قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ «رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ» هُوَ مَا يَتَّصِفُ بِهِ مِنْ إِرَادَةِ احْتِجَابِ الْأَعْيُنِ، عَنْ رُؤْيَتِهِ فَإِذَا أَرَادَ إِكْرَامَ أَوْلِيَائِهِ بِهَا رَفَعَ ذَلِكَ الْحِجَابَ عَنْ أَعْيُنِهِمْ بِخَلْقِ الرُّؤْيَةِ فِيهَا لِيَرَوهُ بِلَا كَيْفٍ، كَمَا عَرَفُوهُ بِلَا كَيْفٍ، وَقَوْلُهُ «فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ» يَعْنِي: وَالنَّاظِرُونَ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ " وَلِهَذِهِ الْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ شَوَاهِدُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامتِ، وَجَابرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرُوِّينَا فِي إِثْبَاتِ الرُّؤْيَةِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ [ص:131] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي مُوسَى وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ نَفْيُهَا، وَلَوْ كَانُوا فِيهِ مُخْتَلِفِينَ لَنُقِلَ اخْتِلَافُهُمْ إِلَيْنَا، وَكَمَا أَنَّهُمْ لَمَّا اخْتَلَفُوا فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَالشَّرَائِعِ وَالْأَحْكَامِ نُقِلَ اخْتِلَافُهُمْ فِي ذَلِكَ إِلَيْنَا، وَكَمَا أَنَّهُمْ لَمَّا اخْتَلَفُوا فِي رُؤْيَتِهِ بِالْأَبْصَارِ فِي الدُّنْيَا نُقِلَ اخْتِلَافُهُمْ فِي ذَلِكَ إِلَيْنَا فَلَمَّا نُقِلَتْ رُؤْيَةُ اللَّهِ بِالْأَبْصَارِ عَنْهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَمْ يُنْقَلْ عَنْهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافٌ يَعْنِي فِي الْآخِرَةِ كَمَا نُقِلَ عَنْهُمْ فِيهَا اخْتِلَافٌ فِي الدُّنْيَا عَلِمْنَا أَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْقَوْلِ بِرُؤْيَةِ اللَّهِ بِالْأَبْصَارِ فِي الْآخِرَةِ مُتَّفِقِينَ مُجْتَمِعِينَ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو الفضل محمد بن ابراہیم مزکی نے بیان کیا کہا ہم سے احمد بن سلمہ نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہمیں عبدالعزیز بن عبدالصمداالعمی نے خبر دی کہا ہم سے ابو عمران الجونی نے بیان کیا وہ ابو بکر بن عبداللہ بن قیس سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’دو جنتیں ہیں چاندی کی ان دونوں کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے(وہ بھی چاندی کے ہیں) اور دو جنتیں سونے کی ہیں ان دونوں کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے(وہ بھی سونے کے ہیں) لوگوں کے درمیان اور ان کا اپنے رب کے دیدار کرنے کے درمیان جنتِ عدن میں ذات خداوندی کی کبریائی کی چادر ہے‘‘۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ’’کبریائی کی چادر‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ اس سے متصف ہے کہ اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ اپنے دیدار سے آنکھوں کو پردے میں رکھے پھر جب اس نے ارادہ کیا کہ اس دیدار سے اپنے اولیاء کو عزت بخشے تو ان کی آنکھوں سے پردوں کو ہٹا دے گا ان کی آنکھوں میں رؤیت پیدا کر نے کیساتھ تاکہ وہ بغیر کسی کیفیت کے اللہ تعالیٰٰ کا دیدار کریں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان:’’جت عدن میں‘‘ مراد یہ ہے کہ وہ جنت عدن میں دیدار کریں گے۔ حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت عمار بن یاسر ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبادہ بن صامت ،حضرت جابر بن عبداللہ انصاری، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت عدی بن حاتم ،حضرت ابو رزین العقیلی، حضرت انس بن مالک اور حضرت بریدہ بن حصیب و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے ان کی احادیث میں ان اخبار صحیحہ کے کئی شواہد ہیں۔ دیدار خداوندی کی بحث میں امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول فیصل: امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: دیدار خداوندی کے اثبات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت حذیفہ بن الیمان ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو موسیٰ و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات ہم نے روایت کی ہیں اور دیدار خداوندی کی نفی میں کسی ایک (صحابی) سے بھی روایت مروی نہیں اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اس میں کوئی اختلاف ہوتا تو یقیناً ہم تک ان کا اختلاف نقل ہوتا اور جیسا کہ انہوں نے جب دنیا میں ظاہری آنکھوں سے دیدار میں اختلاف کیا تو اس بارے میں ان کا اختلاف ہماری طرف نقل ہوا پھر جب آخرت میں آنکھوں کیساتھ اللہ تعالیٰ کا دیدار نقل ہوا اور اس میں یعنی آخرت میں دیدار کے بارے میں کوئی اختلاف نقل نہیں ہوا جیسا کہ ان سے دنیا میں دیدار کے بارے میں اختلاف نقل ہوا تو ہم نے جان لیا کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا ظاہری آنکھوں سے دیدار ہونے کے قول پر سب کے سب متفق تھے۔ وباللہ التوفیق!

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 77

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 78

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ هَرِمٍ الْقُرَشِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15] قَالَ: فَلَمَّا حَجَبَهُمْ فِي السَّخَطِ كَانَ هَذَا دَلِيلًا عَلَى أَنَّهُمْ يَرَوْنَهُ فِي الرِّضَا

دیدار خداوندی کے اثبات میں امام شافعی علیہ الرحمہ کا قرآنی استدلال: ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین السلمی نے ہمیں خبر دی کہا میں نے جعفر بن محمد بن حارث کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حسن بن محمد بن بحر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے مزنی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ہرم القرشی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کوفرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں :کَلَّا اِنَّھُمْ عَنْ رَبِّھِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْیُوْنَ(مطففین:15) ترجمہ: ہاں ہاں وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ ناراضگی میں ان سے پردہ فرمائے گا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ رضا میں اسے دیکھیں گے۔

فَلَمَّا حَجَبَهُمْ فِي السَّخَطِ كَانَ هَذَا دَلِيلًا عَلَى أَنَّهُمْ يَرَوْنَهُ فِي الرِّضَا ← رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: ← فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {كَلَّا إِنَّهُمْ ← الشَّافِعِیُّ ← ابْنَ هَرِمٍ الْقُرَشِيَّ، ← الْمُزَنِيُّ ← الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ، ← جعفر بن محمد بن الحارث ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 78

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 79

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: ذَكَرَ إِسْحَاقُ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَا تَقُولُ فِي حَدِيثِ الرُّؤْيَةِ؟ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَسَدٍ اقْضِ عَلَيَّ حَيِيتَ أَوْ مِتَّ أَنَّ كُلَّ حَدِيثٍ يَصِحُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَقُولُ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَبْلُغْنِي

ہمیں ابو عبدالرحمٰن السلمی نے خبر دی کہا ہمیں علی بن عمر حافظ نے خبر دی کہا اسحاق طحان المصری نے ذکر کیا کہ ہم سے سعید بن اسد نے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے دیدار خداوندی کی حدیث کے بارے میں پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا: میں زندہ رہوں یا مر جاؤں میرا یہ فیصلہ ہے کہ ہر وہ حدیث جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر منقول ہو وہی میراقول ہے اگرچہ وہ مجھ تک نہ پہنچے۔

قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ مَا تَقُولُ فِي حَدِيثِ الرُّؤْيَةِ؟ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← إِسْحَاقُ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 79

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him