الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 76
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَهَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهِ سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا تُمَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: قوْلُهُ تُمَارُونَ: أَصْلُهُ تَتَمَارُونَ [ص:130] فَأُسْقِطَتْ إِحْدَاهُمَا وَهُوَ مِنَ الْمِرْيَةِ وَهِيَ الشَّكُّ فِي الشَّيْءِ وَالِاخْتِلَافِ فِيهِ، يَقُولُ: تَرَوْنَ رَبَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ كَمَا تَرَوْنَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ فِي دَارِ الدُّنْيَا بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ
ابو عبداللہ الحافظ اور ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا ہمیں ابو جعفر بن عون نے خبر دی کہا ہمیں ہشام بن سعد نے خبر دی کہا ہم سے زید بن اسلم نے بیان کیا وہ عطاء بن یسار سے وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں دوپہر کے وقت حالت بیداری میں سورج کے دیکھنے میں کوئی شک ہوتا ہے جب کہ اس کے اوپر کوئی بادل بھی نہ ہو؟ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ہم نے کہا: یا رسول اللہ انہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا حالت بیداری میں تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دکھائی دینے میں کوئی شک ہوتا ہے جب کہ اس پر بادل نہ ہوں ؟ صحابہ کرام نے کہا : یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )!نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” قیامت کے دن اس یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار میں تمہیں شک نہیں ہو گا مگر ایسے ہی جیسے تمہیں ان دونوں(چاند وسورج) کے دیکھنے میں شک ہوتا ہے‘‘۔ استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’تمارون‘‘ کی اصل’’ تتمارون‘‘ ہے چنانچہ ان میں سے ایک تا کو گرا دیا گیا اور یہ ’’مریۃ‘‘ سے ماخوذ ہے یہ کسی شے میں شک پڑنے یا اختلاف ہو جانے کو کہتے ہیں۔فرماتے ہیں :تم اپنے رب کو بغیر کسی شک وشبہ کے دیکھو گے جیسے سورج و چاند کو دار دنیا میں بغیر کسی شک وشبہ کے دیکھتے ہو۔
قُلْنَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 76
