Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 64

: 23] نَظَرَ التَّفَكُّرِ وَالِاعْتِبَارِ؛ لِأَنَّ الْآخِرَةَ لَيْسَتْ بِدَارِ اسْتِدْلَالٍ وَاعْتِبَارٍ، وَإِنَّمَا هِيَ دَارُ اضْطِرَارٍ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَنَى نَظَرَ الِانْتِظَارِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ انْتِظَارٌ؛ لِأَنَّ الِانْتِظَارَ مَعَهُ تنْغِيصٌ وَتَكْدِيرٌ، وَالْآيَةُ خَرَجَتْ مَخْرَجَ الْبِشَارَةِ، وَأَهْلُ الْجَنَّةِ فِيمَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ مِنَ الْعَيْشِ السَّلِيمِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَهُمْ مُمَكَّنُونَ مِمَّا أَرَادُوا وَقَادِرُونَ عَلَيْهِ، وَإِذَا خَطَرَ بِبَالِهِمْ شَيْءٌ أُتُوا بِهِ مَعَ خُطُورِهِ بِبَالِهِمْ، وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] نَظَرَ الِانْتِظَارِ؛ وَلِأَنَّ النَّظَرَ إِذَا ذُكِرَ مَعَ ذِكْرِ الْوُجُوهِ فَمَعْنَاهُ: نَظَرُ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ فِي الْوَجْهِ كَمَا قَالَ تَعَالَى: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: 144] ، وَأَرَادَ بِذَلِكَ تَقَلُّبَ عَيْنَيْهِ نَحْوَ السَّمَاءِ؛ وَلِأَنَّهُ قَالَ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] ، وَنَظَرُ الِانْتِظَارِ لَا يَكُونُ مَقْرُونًا بِـ «إِلَى» لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ عِنْدَ الْعَرَبِ أَنْ يَقُولُوا فِي نَظَرِ الِانْتِظَارِ: «إِلَى» ، أَلَا تَرَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا قَالَ: {مَا يَنْظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً} [يس: 49] لَمْ يَقُلْ: «إِلَى» ؛ إِذْ كَانَ مَعْنَاهُ الِانْتِظَارَ، وَقَالَتْ بِلْقِيسُ فِيمَا أَخْبَرَ اللَّهُ عَنْهَا {فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ} [النمل: 35] ، فَلمَّا أَرَادَتِ الِانْتِظَارَ لَمْ تَقُلْ: «إِلَى» . قُلْنَا: وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَرَادَ نَظَرَ التَّعَطُّفِ وَالرَّحْمَةِ؛ لِأَنَّ الْخَلْقَ لَا يَجُوزُ أَنْ يَتَعَطَّفُوا عَلَى خَالِقِهِمْ، فَإِذَا فَسَدَتْ هَذِهِ الْأَقْسَامُ الثَّلَاثَةُ صَحَّ الْقِسْمُ الرَّابِعُ مِنْ أَقْسَامِ النَّظَرِ، وَهُوَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] أَنَّهَا رَائِيَةٌ تَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ: إِلَى ثَوَابِ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ؛ لِأَنَّ ثَوَابَ اللَّهِ غَيْرُ اللَّهِ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِلَى رَبِّهَا} [القيامة: 23] ، وَلَمْ يَقُلْ: إِلَى غَيْرِ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ، وَالْقُرْآنُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَلَيْسَ لَنَا أَنْ نُزِيِلَهُ عَنْ ظَاهِرِهِ إِلَّا بِحُجَّةٍ، أَلَا تَرَى

اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔ (القيامۃ :23،22) اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ’’نَّاضِرَۃٌ‘‘ سے مراد روشن ہے۔ آیت کی تفسیر امام بیہقی کی زبانی : اور یہ دیکھنا کئی وجوہ سے خالی نہیں: (1): یاتو اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد تفکر کی نظر ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا(الغاشية :17) ۔ (2) یا اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد نظر انتظار ہے جیسا کہ اسکا فرمان ہے : ترجمہ: راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی(یسں:49) ۔ (3) : یا اس سے نرمی ورحمت کی نظر مراد ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان : ترجمہ:(وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں انکا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے) نہ ان کی طرف نظر فرمائے(قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے)۔ (آل عمران:77) (4): یا اس سے مراد رؤیت(دیکھنا) ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: ترجمہ:(اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ) تمہاری طرف اسکا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر موت چھائی ہو (تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے)۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :20) اور یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے فرمان: اَلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌسے مراد تفکرو اعتبار کی نظر ہو کیونکہ آخرت استدلال و اعتبار کا گھر نہیں ہے وہ تو دار اضطرار ہے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ اس سے نظر انتظار مراد ہواس لیے کہ امر جنت کے کسی شے میں انتظار نہیں ہے کیونکہ جنت میں انتظار نقص وعیب ہے اور اس وقت آیت مقام بشارت سے خارج ہو جائے گی اور اہل جنت تو سلامتی والی زندگی اور ہمیشہ رہنے والی ان نعمتوں میں ہوں گے جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال پیدا ہوا پس جس کا وہ ارادہ کریں گے وہ ان کے اختیار میں دی جائے گی اور وہ اس پر قادر ہوں گے اور جب ان کے دل میں کسی چیز کا خیال پیدا ہو گا ان کے خیال دل کیساتھ ہی اسے حاضر کر دیا جائے گا جب وہاں پر معاملہ یہ ہے تو پھر یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان: اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌسے انتظار کی نظر مراد لی ہو۔ اور کیونکہ جب نظر کی سابقہ وجوہ کو ذکر کیا گیا تو ثابت ہو گیا کہ اس کا یہ معنی ہے ان آنکھوں سے دیکھنا جو چہرے میں ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : ترجمہ: ہم دیکھ رہے ہیں تمہارا آسمان کی طرف بار بار چہرہ کرنا۔ (البقرة:144 ) اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف پھیرنا ہے ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ اور نظر انتظار’’الٰی‘‘ کیساتھ ملی ہوئی نہیں ہوتی کیونکہ یہ جائز نہیں کہ اہل عرب نظر انتظار کے بارے میں الیٰ کا حرف استعمال کریں کیا تو نہیں دیکھتا اللہ تعالیٰ عزوجل نے جب ارشاد فرمایا: ترجمہ: راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی۔(یس:49) توحرف الیٰ استعمال نہیں فرمایا جب کہ اس کا معنی انتظار ہے اور ملکہ بلقیس نے کہا، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خبر دی : ترجمہ:(ملکہ بلقیس نے کہا: میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں) پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے۔ (النمل:35)جب اس نے اس نظر سے نظر انتظار مراد لیا تو اس نے حرف ’’الیٰ‘‘ استعمال نہیں کیا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم کہتے ہیں کہ یہ بھی ممکن نہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اس سے مرادنرمی ورحمت کی نظر ہو کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ مخلوق اپنے خالق پر نرمی کرے۔ لہٰذا جب تین قسموں کا فاسد ہونا ثابت ہو گیا تو نظر کی اقسام میں سے چوتھی قسم(دیکھنا) کی صحت ثابت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ کا معنی ہے وہ اپنے رب کو دیکھنے والی ہیں وہ اللہ عزوجل کو دیکھیں گی۔ اور یہ بھی جائز نہیں کہ اس کا معنی ہو کہ وہ اپنے رب کے ثواب کی طرف دیکھنے والی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ثواب غیراللہ ہے اور اللہ تعالیٰ عزوجل نے تو فرمایا: الیٰ ربھا یعنی اپنے رب کی طرف دیکھنے والی ہوں گی ، یہ نہیں کہا:الیٰ غیر ربھا ناظرۃ اپنے رب کے غیر کو دیکھنے والی ہوں گی اور قرآن کو اپنے ظاہر پر رکھا جائے گا اور ہمارے لیے جائز نہیں ہم اسے اس کے ظاہر سے بغیر کسی دلیل کے پھیریں کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جب اس نے فرمایا:

مَعَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 64

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 65

أَنَّهُ لَمَّا قَالَ: {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرونِ} [البقرة: 152] ، لَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ: أَرَادَ ملَائِكَتِي أَوْ رُسُلِي، ثُمَّ نَقُولُ: إِنْ جَازَ لَكُمْ أَنْ تَدَّعُوا هَذَا فِي قَوْلِهِ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] جَازَ لِغَيْرِكُمْ أَنْ يَدَّعِيَهُ فِي قَوْلِهِ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ} [الأنعام: 103] ، فَيَقُولُ: أَرَادَ بِهَا: لَا تُدْرِكُ غَيْرَهُ، وَلَمْ يُرِدْ أَنَّهَا لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ، وَإِذَا لَمْ يَجُزْ ذَلِكَ لَمْ يَجُزْ هَذَا، وَلَا حُجَّةَ لَهُمْ فِي قَوْلِهِ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ} [الأنعام: 103] ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ: لَا تُدْرِكُهُ أَبْصَارُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الدُّنْيَا دُونَ الْآخِرَةِ، وَلَا تُدْرِكُهُ أَبْصَارُ الْكَافرِينَ مُطْلَقًا، كَمَا قَالَ: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15] . فَلمَّا عَاقَبَ الْكُفَّارَ بِحَجْبِهِمْ عَنْ رُؤْيَتِهِ دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يُثِيبُ الْمُؤْمِنِينَ بِرَفْعِ الْحِجَابِ لَهُمْ عَنْ أَعْيُنِهِمْ حَتَّى يَرَوْهُ، وَلمَّا قَالَ فِي وُجُوهِ الْمُؤْمِنِينَ: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ} [القيامة: 22] ، فَقَيَّدَهَا بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ وَوَصَفَهَا، فَقَالَ: {نَاضِرَةٌ} [القيامة: 22] ثُمَّ أَثْبَتَ لَهَا الرُّؤْيَةَ فَقَالَ: {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] ، عَلِمْنَا أَنَّ الْآيَةَ الْأُخْرَى فِي نَفْيِهَا عَنْهُمْ فِي الدُّنْيَا دُونَ الْآخِرَةِ، وَفِي نَفْيِهَا عَنِ الْوُجُوهِ الْبَاسِرَةِ دُونَ الْوُجُوهِ النَّاضِرَةِ جَمْعًا بَيْنَ الْآيَتَيْنِ حَمْلًا لِلْمُطْلَقِ مِنَ الْكَلَامِ عَلَى الْمُقَيَّدِ مِنْهُ، ثُمَّ قَدْ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: إِنَّمَا نَفَى عَنْهُ الْإِدْرَاكَ دُونَ الرُّؤْيَةِ. وَالْإِدْرَاكُ هُوَ الْإِحَاطَةُ بِالْمَرْئِيِّ دُونَ الرُّؤْيَةِ، فَاللَّهُ يُرَى وَلَا يُدْرَكُ، كَمَا يُعْلَمُ وَلَا يُحَاطُ بِهِ عِلْمًا، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُرَى بِالْأَبْصَارِ قَوْلُ مُوسَى الْكَلِيمِ عَلَيْهِ السَّلَامُ {رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ} [الأعراف: 143] ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ نَبِيٌّ مِنَ

ترجمہ:تم میری یاد کروں میں تمہارا چرچا کروں گا اور میراحق مانو(اور میری ناشکری نہ کرو)۔ (البقرة:152) تو یہ جائز نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اس نے اپنے فرشتے اور رسل مراد لیے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر تمہارے لیے یہ جائز ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ میں میں مذکورہ دعویٰ کر تو دوسروں کے لیے یہ بھی جائز ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ترجمہ: آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں۔(الانعام:103) کے بارے میں یہ دعویٰ کریں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنکھیں اس کے علاوہ کا دیدار نہیں کرتیں اس سے یہ مرادنہیں ہے کہ آنکھیں اس کا دیدا نہیں کرتیں جب یہ جائز نہیں تو وہ بھی جائز نہیں۔ ایک وہم کا ازالہ: اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے فرمان: لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصٰرُ میں کوئی حجت نہیں کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ مؤمنین کی آنکھیں دنیا میں اس کا دیدار نہیں کر سکتیں نہ کہ کفار میں اور آخرت کی آنکھیں مطلقاً اس کا دیدار نہیں کر سکتیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ترجمہ: ہاں ہاں وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں۔ (المطففين :15)پس جب کفار کو اپنے رب کے دیدار سے پردے میں رکھ کر سزا دی تو یہ اس بات پر دلیل ہے کہ وہ مومنین کی آنکھوں سے پردے ہٹا کر ثواب عنایت فرمائے گا تاکہ مومنین کی آنکھیں اس کا دیدار کریں۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے چہروں کے بارے میں فرمایا: وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍیعنی اس دن چہرے ، پس اسے قیامت کے دن کیساتھ مقید کیا پھرفرمایا ’’نَّاضِرَۃٌ‘‘ روشن ہونگے پھر ان کے لیے رؤیت ثابت کی تو فرمایا:اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ‘‘ کہ وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے پس ہمیں معلوم ہو گیا کہ دوسری آیت(اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ)میں لوگوں سے دنیا میں نفی کی ہے نہ کہ آخرت میں اور دیدار کی نفی سیاہ چہرے والوں سے ہے نہ کہ روشن چہروں سے اس طرح دونوں آیتوں میں تطبیق ہو جائے گی مطلق کلام کو مقید پر محمول کرتے ہوئے۔ دیدار خداوندی کے متعلق وہم کا ازالہ ایک اور طریق سے: پھر ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا :اس آیت میں ان سے ادراک کی نفی کی گئی نہ کہ رؤیت کی اور ادراک کہتے ہیں دکھائی دی جانے والی چیز کا احاطہ کرنا نہ کہ رؤیت پس اللہ تعالیٰ کو دیکھا جائے گا اس کا اداراک نہیں کیا جائے گا جیسا کہ اسے جانا جاتا ہے اور علم کے اعتبار سے اس کا احاطہ نہیں کیا جاتا۔ دلائل میں سے وہ دلیل جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل جو آنکھوں سے دیکھا جائے گا حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا یقول ہے: ترجمہ: اے رب مجھے اپنا دیدار دکھا۔ (الاعراف:143) یہ ممکن نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کوئی نبی ہو اور اسے خلعت نبوت سے سرفراز کیا ہو اور اس کی حفاظت کی ہو ان چیزوں سے جن سے مرسلین علیہم السلام کی حفاظت کی وہ اپنے رب سے ایسی بات کا سوال کرے جو اس پر محال ہو اور جب یہ بات ممکن نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے رب سے ایک محال چیز کا سوال نہیں کیا اور ہمارے رب عزوجل کا دیدار ممکن ہے۔ اس پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ترجمہ:ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگراپنی جگہ ٹھہرا رہا توعنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔ (الاعراف:143) پس جب اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ پہاڑ کو ٹھہرا دے تو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ اگر وہ ایسا کرتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اسے دیکھتے پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو اپنی ذات کا دیدار کرائے اور اس کا دیدار ممکن ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ترجمہ: تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ (الاعراف:143) اس سے مراد یہ ہے کہ تو دنیا میں نہیں دیکھ سکتا نہ کہ آخرت میں اس کی دلیل وہی ہے جو پیچھے آیت(لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصٰرُ) میں گزر چکی ہے ۔ لفظ ملاقات سے دیدار خداوندی کا اثبات : اور ایک دلیل یہ بھی ہے اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا : ترجمہ:ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے۔ (الاحزاب:45)اور زندہ وصحیح وسالم آدمی پر لقاء(ملاقات) کا اطلاق صرف اسی وقت ہوتا ہے جب آنکھوں سے دیکھا جا سکے اور اس سلام والے لوگوں کو وہاں پر کوئی آفت نہیں ہو گی(جود یدار سے رکاوٹ بنے بلکہ وہ توصحیح وسالم ہو نگے لہٰذا وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے)۔ اور ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ترجمہ:اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔ (ق:353)اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد۔ (سيد نایونس علیہ السلام:26) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو اللہ تعالیٰ عزوجل کی طرف سے قرآن کی وضاحت فرمانے والے ہیں۔ نے اس کی تفسیر بیان فرمائی آپ کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ تفسیر لی اورصحابہ کرام علیہم الرضوان سے تابعین نے یتفسیر لی کہ اس آیت میں زیادہ سے مراد اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کی طرف دیکھنا ہے‘‘۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ وتابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشہور ہے کہ آخرت میں ظاہری آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ثابت ہے۔ ان شه ہم ان میں سے بعض کے اقوال کو مختصراً یہاں ذکر کرتے ہیں ، اور ہم نے دیدار خداوندی کے اثبات کے لیے الگ کتاب لکھی ہے۔ اور توفیق اللہ تعالیٰ ہی طرف سے ہے۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 65

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 66

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ [ص:124] بِشْرَانَ، فِي آخَرِينَ بِبَغْدَادَ قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نُودُوا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا لَمْ تَرَوْهُ. قَالَ: فَيَقُولُونَ: فَمَا هُوَ أَلَمْ يُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَيُزَحْزِحْنَا عَنِ النَّارِ وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ؟ قَالَ: فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْهُ. قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26] قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرَوَاهُ هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ وَلَا أَقَرُّ لِأَعْيُنِهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرُوِّينَا عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزيَادَةٌ} [يونس: 26] قَالَ: النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ الرَّحْمَنِ

اہل جنت اللہ تعالیٰٰ کا دیدار کریں گے: ہمیں ابو عبداللہ حسین بن عمر بن برہان ،ابو الحسین بن بشران اور دوسرے لوگوں نے بغداد میں خبر دی انہوں نے کہا ہمیں اسماعیل بن محمد صفار نے خبر دی کہا ہم سے حسن بن عرفہ نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا وہ حماد بن سلمہ سے وہ ثابت بنانی سے وہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے وہ صہیب سے راوی آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہوں گے تو ندا دی جائے گی :اے اہل جنت بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کے ہاں ایسا وعدہ ہے جسے تم نے نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ کہیں گے وہ وعدہ کیا ہے؟ کیا اس نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا ؟ اور ہمیں جہنم سے دور نہیں کیا ؟ اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس پردہ ہٹا دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! اللہ عزوجل جو بھی انہیں عطا کرے گا یہ (دیدار) انہیں سب سے پیارا ہو گا۔ رادی نے کہا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ ۔اہل جنت کے لیے جنت میں سب سے بڑا انعام : استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہدیہ بن خالد نے حماد بن سلمہ سے اپنی سند سے اسے اسی کے معنی کیساتھ روایت کیا مگر اس روایت میں یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کے دیدار سے زیادہ کوئی بھی چیز انہیں ایسی نہیں عطا کی جائے گی جو انہیں سب سے زیادہ محبوب ہو اور جس سے ان کی آنکھیں سب سے زیادہ ٹھنڈی ہوں۔ ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے خبر دی کہا مجھے ابو النضر فقیہ نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن نصر المروزی نے بیان کیا کہا ہم سے ہدبہ نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا چنانچہ انہوں نے بھی یہی بات ذکر کی۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرمان: لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌکے بارے میں حضرت ابی بن کعب اور حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد رحمن کی ذات کو دیکھنا ہے۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 66

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 67

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْفَرَّاءُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26] قَالَ زِيدُوا النَّظَرَ إِلَى ربِّهِمْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَابَعَهُمَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَرُوِّينَا هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

آیت کی تفسیر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی: ابو سعید بن ابی عمرو نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس اصم نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جہم نے بیان کیا کہا ہم سے فراء نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو الاحوص نے بیان کیا وہ ابو اسحاق سے راویت کرتے ہیں۔ یہاں سے امام بیہقی دوسرے سند کی طرف پلٹے چنانچہ فرمایا : ابو طاہر فقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو حامد بن بلال نے خبر دی کہا احمد بن منصور مروزی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا کہا ہمیں محمد بن جابر نے خبر دی وہ ابو اسحاق سے وہ عامر بن سعد سے وہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: انہیں زیادہ دیا جائے گا کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھیں۔ ابو الاحوص کی ایک روایت میں فرمایا : رب عزوجل کی ذات کا دیدار ہے۔ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ان دونوں کی متابعت اسرائیل نے ابو اسحاق سے روایت کرتے ہوئے کی اور ہم نے اس کو تفسیر میں حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ وَرُوِّينَا هَذَا التَّفْسِيرَ ← تَابَعَهُمَا إِسْرَائِيلُ، ← النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ ← زِيدُوا النَّظَرَ إِلَى ربِّهِمْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْأَحْوَصِ ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فِي قَوْلِهِ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْفِرَاءِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 67

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 68

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْهبِ هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26] قَالَ: الْجَنَّةُ {وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26] قَالَ: النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، وَقَتَادَةَ، وَغَيْرِهِمْ مِنَ التَّابِعِينَ مَعْنَى قَوْلِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فِي تَفْسِيرِهِ الزِّيَادَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ بِالنَّظَرِ إِلَى وَجْهِ ربِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ

آیت کی تفسیر امام حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن اسحاق الصغانی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو الاشہب ہوذہ بن خلیفہ نے بیان کیا کہا ہم سے عوف نے بیان کیا وہ حسن سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی کے بارے میں روایت کیا آپ نے فرمایا: الحسنی سے مراد جنت ہے اور ’’زیادۃ‘‘ کی تفسیر میں فرمایا: رب عزوجل کی ذات کا دیدار۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے سعید بن مسیب ،عبدالرحمٰن بن ابی لیلی ،عبدالرحمٰن بن سابط اور قتادہ وغیر ہم تابعین سے اس آیت میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول’’ رب عزوجل کی ذات کا دیدار‘‘ کے معنی میں روایت کیا ہے(یعنی ان تابعین سے بھی یہی تفسیر مروی ہے)۔

الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ وَرُوِّينَا ← النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ ← الْجَنَّةُ {وَزِيَادَةٌ} [يونس: ← الْحَسَنِ، {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: ← عَوْفٌ، ← أَبُو الْأَشْهبِ هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 68

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 69

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ سَابُورَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ} [القيامة: 22] يَعْنِي: حُسْنَهَا {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] قَالَ: نَظَرَتْ إِلَى الْخَالِقِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر : ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سلمہ بن سابور نے بیان کیا وہ عطیہ سے وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰٰ کے فرمان : ’’وجوہ یومئذ ناضرۃ‘‘ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ ناضرۃ کا معنی ہے ان کا حسن اور اللہ تعالیٰ کے فرمان’’الٰی ربھا ناظرۃ ‘‘ کے متعلق فرمایا: وہ خالق اللہ عزوجل کی ذات کو دیکھیں گی۔

نَظَرَتْ إِلَى الْخَالِقِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ} [القيامة: يَعْنِي: حُسْنَهَا {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: ← عَطِيَّةَ، ← سَلَمَةُ بْنُ سَابُورَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 69

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 70

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ} [القيامة: 22] قَالَ: حَسَنَةٌ، {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 23] قَالَ: تَنْظُرُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ حَسَّنَهَا اللَّهُ بِالنَّظَرِ إِلَيْهِ، وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَنْضُرَ وَهِيَ تَنْظُرُ إِلَى رَبِّهَا قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَغَيْرِهِ مِنَ التَّابِعِينَ

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے خبر دی کہا ہم سے ابراہیم بن حسین نے بیان کیا کہا ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے مبارک بن فضالہ نے بیان کیا وہ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :وجوہ یومئذ ناضرۃ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :ناضرۃ کا معنی حسین اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’الی ربھا ناظرۃ ‘‘ کے بارے میں فرمایا: وہ اپنے رب عزوجل کی طرف دیکھیں گے ، اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنے سے اللہ تعالیٰ انہیں حسین فرمائے گا اور ان آنکھوں کا حق ہے کہ انہیں روشن کیا جائے اور وہ اپنے رب کا دیدار کریں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے اسے مکر مہ و دیگر تابعین سے روایت کیا۔

حَسَنَةٌ، ← الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 70

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 71

وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ، وَتؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخَرِ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ [ص:127] قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَاللِّقَاءُ الْمَذْكُورُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ هُوَ لِقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَدْ أَفْرَدَ الْبَعْثَ بِالذِّكْرِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ دُعَاءِ التَّهَجُّدِ: وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسَتَلْقَوْنَ ربَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ. وَفِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْأَنْصَارِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمُ: اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ. وَفِي الْكِتَابِ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} [الكهف: 110]

ایمان کیا ہے؟ محمد بن عبداللہ بن محمد حافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد یعقوب الحافظ نے بیان کیا کہا ہم سے یحیی ٰ بن محمد بن یحییٰ نے بیان کیا کہا ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو حیان نے بیان کیا وہ ابو زرعہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک روشن دن لوگوں کے پاس تھے کہ ایک آدمی آیا اس نے کہا : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ،اس کی ملاقات ، اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور آخری مرتبہ اٹھائے جانے پر تو ایمان لائے۔اور باقی مکمل حدیث ذکر کی۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث میں جو ملاقات کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ سےملاقات کرنا ہے یہی وجہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کوعلیحدہ ذکر کیا اور دعائے تہجد کی حدیث میں فرمایا: تیرا وعدہ حق ہے اور تیری ملاقات حق ہے۔ اور حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مروی ایک روایت میں ہے : ’’تم عنقریب اپنے رب سے ملاقات کرو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا‘‘۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قصہ انصار کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ملاقات تک صبر کرو!۔ اور قرآن پاک میں ہے: ترجمہ: تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔ (الكهف:110)

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 71

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 72

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْبَاشَانِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا} [الكهف: 110] ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَنْ أَرَادَ النَّظَرَ إِلَى وَجْهِ خَالِقِهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا، وَلَا يُخْبِرْ بِهِ أَحَدًا

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تفسیر : ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر الجراحی نے خبر دی کہا ہم سے یحییٰ بن ساسویہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الکریم السکری نے بیان کیا کہا ہم سے وہب بن زمعہ نے بیان کیا کہا مجھ علی بن باشانی نے خبر دی کہا میں نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صٰلِحًا وَّلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃٍ رَبِّہٖ اَحَدًا کے بارے میں سوال کیا۔ تو حضرت عبداللہ بن مبارک نے فرمایا : جو ذات خداوندی کا دیدار کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اچھے عمل کرے اس کی کسی کو خبر نہ دے۔

قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا} [الكهف: ← سألت عبد الله بن المبارك ← عَلِيُّ بْنُ الْبَاشَانِيِّ، ← وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 72

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 73

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا «وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ عِنْدَ قَوْلِهِ» وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " ثُمَّ قَرَأَ {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ ربِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} [ق: 39] قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللَّهُ: سَمِعْتُ الشَّيْخَ الْإِمَامَ أَبَا الطَّيِّبِ سَهْلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ فِيمَا أَمْلَاهُ عَلَيْنَا فِي قَوْلِهِ: لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ بِضَمِّ التَّاءِ وَتشْدِيدِ الْمِيمِ يُرِيدُ لَا تَجْتَمِعُونَ لِرُؤْيَتِهِ مِنْ جِهَتِهِ، وَلَا يُضَمُّ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ لِذَلِكَ فَإِنَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُرَى فِي جِهَةٍ كَمَا يُرَى الْمَخْلُوقُ فِي جِهَةٍ وَمَعْنَاهُ بِفَتحِ التَّاءِ لَا تُضَامُونَ لِرُؤْيَتِهِ مِثْلَ مَعْنَاهُ بِضَمِّهَا، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ بِالِاجْتِمَاعِ فِي جِهَةٍ وَهُوَ دُونَ تَشْدِيدِ الْمِيمِ مِنَ الضَّيْمِ مَعْنَاهُ: لَا تُظْلَمُونَ فِي رُؤْيَتِهِ بِرُؤْيَةِ بَعْضِكُمْ دُونَ بَعْضٍ وَأَنَّكُمْ تَرَوْنَهُ فِي جِهَاتِكُمْ كَلِّهَا وَهُوَ يَتَعَالَى عَنْ جِهَةٍ، قَالَ: وَالتَّشْبِيهُ بِرُؤْيَةِ الْقَمَرِ لِيَقِينِ الرُّؤْيَةِ دُونَ تَشْبِيهِ الْمَرْئِيِّ، تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا

بغیر کسی رکاوٹ کے اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا: ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو سعید بن اعرابی نے خبر دی کہا ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا وہ قیس بن ابی حازم سے وہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بلاشبہ تم اپنے رب عزوجل کے سامنے پیش کیلئے جاؤ گے تو تم اس کو دیکھو گے جیسے تم(بغیر کسی حجاب کے) اس چاند کو دیکھتے ہوں اس کے دیدار میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی ، پس اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ طلوع شمس اور غروب شمس سے قبل کی نماز پرتم پر غلبہ نہ پایاجائے تو تم ایسا کرو!‘‘۔ ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس الاصم نے بیان کیا کہا مجھ سے احمد بن یونس الضبی نے بیان کیا کہا ہم سے یعلی بن عبید نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا چنانچہ آپ نے اسی سند کیساتھ اس کے معنی میں ذکر کیا ’’قبل غروبھا‘‘ کے قول کیساتھ ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی :وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب(ق:39) ترجمہ: اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمپکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے۔ شرح حدیث از امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ: شیخ امام بیہقی رحمہ للہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے شیخ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان رحمہ اللہ تعالیٰ کوفرماتے ہوئے سنا ان روایات میں جنہیں آپ نے ہمیں املا کروایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان : لاتضامون فی رؤیتہ‘‘ کے بارے میں فرمایا: تضامون ، تاء کے ضمہ اور میم کی تشدید کیساتھ ، اس سے مراد یہ ہے کہ تم اس کے دیدار میں کسی جہت میں جمع نہیں ہو گے اور نہ ہی تم اس کے لیے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل کوکسی جہت میں نہیں دیکھا جائے گا جیسا کہ مخلوق کو کسی جہت میں دیکھا جاتا ہے اور ’’لاتضامون لرؤیتہ‘‘تاء کے فتنہ کیساتھ ہو تو اس کا بھی وہی معنی ہے جو ضمہ کی صورت میں معنی بنتا ہے اور ’’لا تتضامون فی رویتہ‘‘ ہو تو بالاجماع جہت میں دیکھنا مراد ہو گا یہ میم کے تشدید کے بغیر ہے اور یہ ضیم سے ماخوذ ہو تو اس کا معنی بنتا ہے : اس میں ظلم نہیں ہے کہ تم ایک دوسرے کو دیکھتے ہو اور اسے(اللہ تعالیٰ کو تم جہتوں میں دیکھو گے اور وہ بہت سے پاک ہے(لہٰذا ضیم سے ماخوذ ماننا، یہاں پر درست نہیں)۔ فرمایا : چاند کو دیکھنے کیساتھ تشبیہ دیدار کے یقین کی وجہ سے دی نہ کہ مرئی(جسے دیکھا جائے گا یعنی اللہ تعالیٰ) کی تشبیہ مراد ہے اللہ تعالیٰ اس سے بہت زیادہ بلند و بالا ہے۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 73

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 74

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا يُوسُفَ بْنُ مُوسَى، ثنا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ ربَّكُمْ عِيَانًا

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا مجھ سے حسین بن علی الدارمی نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن محمد بن صاعد نے بیان کیا کہا ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عاصم بن یوسف الیربوعی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو شہاب نے بیان کیا وہ اسماعیل بن ابی خالد سے وہ قیس سے وہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم عنقریب ظاہری آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھو گے۔

جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو شِهَابٍ، ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← يحيى بن محمد بن صاعد ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 74

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 75

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى ربَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَلَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «هَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ» ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ»

ہمیں علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے خبر دی کہا ہم سے ابو سہل بن زیاد القطان نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن ہیثم البلدی نے بیان کیا کہا ہمیں سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید اللیثی نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کوخبر دی کہ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیاتم چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو حالانکہ اس کے اوپر بادل(بھی) نہ ہو؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سورج دیکھنے میں کسی تشویش میں مبتلا ہوتے ہو جبکہ بادل نہ ہوں؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ انہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” پس تم اس کا دیدار اسی طرح کرو گے‘‘۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 75

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him