Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 74

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا يُوسُفَ بْنُ مُوسَى، ثنا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ ربَّكُمْ عِيَانًا

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا مجھ سے حسین بن علی الدارمی نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن محمد بن صاعد نے بیان کیا کہا ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عاصم بن یوسف الیربوعی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو شہاب نے بیان کیا وہ اسماعیل بن ابی خالد سے وہ قیس سے وہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم عنقریب ظاہری آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھو گے۔

جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو شِهَابٍ، ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← يحيى بن محمد بن صاعد ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 74

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 75

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى ربَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَلَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «هَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ» ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ»

ہمیں علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے خبر دی کہا ہم سے ابو سہل بن زیاد القطان نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن ہیثم البلدی نے بیان کیا کہا ہمیں سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید اللیثی نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کوخبر دی کہ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیاتم چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو حالانکہ اس کے اوپر بادل(بھی) نہ ہو؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سورج دیکھنے میں کسی تشویش میں مبتلا ہوتے ہو جبکہ بادل نہ ہوں؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ انہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” پس تم اس کا دیدار اسی طرح کرو گے‘‘۔

الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 75

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 76

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَهَلْ تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهِ سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا تُمَارُونَ فِي رُؤْيَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُمَارُونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: قوْلُهُ تُمَارُونَ: أَصْلُهُ تَتَمَارُونَ [ص:130] فَأُسْقِطَتْ إِحْدَاهُمَا وَهُوَ مِنَ الْمِرْيَةِ وَهِيَ الشَّكُّ فِي الشَّيْءِ وَالِاخْتِلَافِ فِيهِ، يَقُولُ: تَرَوْنَ رَبَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ كَمَا تَرَوْنَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ فِي دَارِ الدُّنْيَا بِلَا شَكٍّ وَلَا مِرْيَةٍ

ابو عبداللہ الحافظ اور ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا ہمیں ابو جعفر بن عون نے خبر دی کہا ہمیں ہشام بن سعد نے خبر دی کہا ہم سے زید بن اسلم نے بیان کیا وہ عطاء بن یسار سے وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں دوپہر کے وقت حالت بیداری میں سورج کے دیکھنے میں کوئی شک ہوتا ہے جب کہ اس کے اوپر کوئی بادل بھی نہ ہو؟ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ہم نے کہا: یا رسول اللہ انہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا حالت بیداری میں تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دکھائی دینے میں کوئی شک ہوتا ہے جب کہ اس پر بادل نہ ہوں ؟ صحابہ کرام نے کہا : یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )!نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” قیامت کے دن اس یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار میں تمہیں شک نہیں ہو گا مگر ایسے ہی جیسے تمہیں ان دونوں(چاند وسورج) کے دیکھنے میں شک ہوتا ہے‘‘۔ استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’تمارون‘‘ کی اصل’’ تتمارون‘‘ ہے چنانچہ ان میں سے ایک تا کو گرا دیا گیا اور یہ ’’مریۃ‘‘ سے ماخوذ ہے یہ کسی شے میں شک پڑنے یا اختلاف ہو جانے کو کہتے ہیں۔فرماتے ہیں :تم اپنے رب کو بغیر کسی شک وشبہ کے دیکھو گے جیسے سورج و چاند کو دار دنیا میں بغیر کسی شک وشبہ کے دیکھتے ہو۔

قُلْنَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 76

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 77

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِيُّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ» قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ «رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ» هُوَ مَا يَتَّصِفُ بِهِ مِنْ إِرَادَةِ احْتِجَابِ الْأَعْيُنِ، عَنْ رُؤْيَتِهِ فَإِذَا أَرَادَ إِكْرَامَ أَوْلِيَائِهِ بِهَا رَفَعَ ذَلِكَ الْحِجَابَ عَنْ أَعْيُنِهِمْ بِخَلْقِ الرُّؤْيَةِ فِيهَا لِيَرَوهُ بِلَا كَيْفٍ، كَمَا عَرَفُوهُ بِلَا كَيْفٍ، وَقَوْلُهُ «فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ» يَعْنِي: وَالنَّاظِرُونَ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ " وَلِهَذِهِ الْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ شَوَاهِدُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامتِ، وَجَابرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرُوِّينَا فِي إِثْبَاتِ الرُّؤْيَةِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ [ص:131] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي مُوسَى وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ نَفْيُهَا، وَلَوْ كَانُوا فِيهِ مُخْتَلِفِينَ لَنُقِلَ اخْتِلَافُهُمْ إِلَيْنَا، وَكَمَا أَنَّهُمْ لَمَّا اخْتَلَفُوا فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَالشَّرَائِعِ وَالْأَحْكَامِ نُقِلَ اخْتِلَافُهُمْ فِي ذَلِكَ إِلَيْنَا، وَكَمَا أَنَّهُمْ لَمَّا اخْتَلَفُوا فِي رُؤْيَتِهِ بِالْأَبْصَارِ فِي الدُّنْيَا نُقِلَ اخْتِلَافُهُمْ فِي ذَلِكَ إِلَيْنَا فَلَمَّا نُقِلَتْ رُؤْيَةُ اللَّهِ بِالْأَبْصَارِ عَنْهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَمْ يُنْقَلْ عَنْهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافٌ يَعْنِي فِي الْآخِرَةِ كَمَا نُقِلَ عَنْهُمْ فِيهَا اخْتِلَافٌ فِي الدُّنْيَا عَلِمْنَا أَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْقَوْلِ بِرُؤْيَةِ اللَّهِ بِالْأَبْصَارِ فِي الْآخِرَةِ مُتَّفِقِينَ مُجْتَمِعِينَ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو الفضل محمد بن ابراہیم مزکی نے بیان کیا کہا ہم سے احمد بن سلمہ نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہمیں عبدالعزیز بن عبدالصمداالعمی نے خبر دی کہا ہم سے ابو عمران الجونی نے بیان کیا وہ ابو بکر بن عبداللہ بن قیس سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’دو جنتیں ہیں چاندی کی ان دونوں کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے(وہ بھی چاندی کے ہیں) اور دو جنتیں سونے کی ہیں ان دونوں کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے(وہ بھی سونے کے ہیں) لوگوں کے درمیان اور ان کا اپنے رب کے دیدار کرنے کے درمیان جنتِ عدن میں ذات خداوندی کی کبریائی کی چادر ہے‘‘۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ’’کبریائی کی چادر‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ اس سے متصف ہے کہ اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ اپنے دیدار سے آنکھوں کو پردے میں رکھے پھر جب اس نے ارادہ کیا کہ اس دیدار سے اپنے اولیاء کو عزت بخشے تو ان کی آنکھوں سے پردوں کو ہٹا دے گا ان کی آنکھوں میں رؤیت پیدا کر نے کیساتھ تاکہ وہ بغیر کسی کیفیت کے اللہ تعالیٰٰ کا دیدار کریں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان:’’جت عدن میں‘‘ مراد یہ ہے کہ وہ جنت عدن میں دیدار کریں گے۔ حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت عمار بن یاسر ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبادہ بن صامت ،حضرت جابر بن عبداللہ انصاری، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت عدی بن حاتم ،حضرت ابو رزین العقیلی، حضرت انس بن مالک اور حضرت بریدہ بن حصیب و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے ان کی احادیث میں ان اخبار صحیحہ کے کئی شواہد ہیں۔ دیدار خداوندی کی بحث میں امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول فیصل: امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: دیدار خداوندی کے اثبات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت حذیفہ بن الیمان ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو موسیٰ و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات ہم نے روایت کی ہیں اور دیدار خداوندی کی نفی میں کسی ایک (صحابی) سے بھی روایت مروی نہیں اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اس میں کوئی اختلاف ہوتا تو یقیناً ہم تک ان کا اختلاف نقل ہوتا اور جیسا کہ انہوں نے جب دنیا میں ظاہری آنکھوں سے دیدار میں اختلاف کیا تو اس بارے میں ان کا اختلاف ہماری طرف نقل ہوا پھر جب آخرت میں آنکھوں کیساتھ اللہ تعالیٰ کا دیدار نقل ہوا اور اس میں یعنی آخرت میں دیدار کے بارے میں کوئی اختلاف نقل نہیں ہوا جیسا کہ ان سے دنیا میں دیدار کے بارے میں اختلاف نقل ہوا تو ہم نے جان لیا کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا ظاہری آنکھوں سے دیدار ہونے کے قول پر سب کے سب متفق تھے۔ وباللہ التوفیق!

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 77

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 78

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ هَرِمٍ الْقُرَشِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15] قَالَ: فَلَمَّا حَجَبَهُمْ فِي السَّخَطِ كَانَ هَذَا دَلِيلًا عَلَى أَنَّهُمْ يَرَوْنَهُ فِي الرِّضَا

دیدار خداوندی کے اثبات میں امام شافعی علیہ الرحمہ کا قرآنی استدلال: ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین السلمی نے ہمیں خبر دی کہا میں نے جعفر بن محمد بن حارث کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حسن بن محمد بن بحر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے مزنی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ہرم القرشی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کوفرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں :کَلَّا اِنَّھُمْ عَنْ رَبِّھِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْیُوْنَ(مطففین:15) ترجمہ: ہاں ہاں وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ ناراضگی میں ان سے پردہ فرمائے گا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ رضا میں اسے دیکھیں گے۔

فَلَمَّا حَجَبَهُمْ فِي السَّخَطِ كَانَ هَذَا دَلِيلًا عَلَى أَنَّهُمْ يَرَوْنَهُ فِي الرِّضَا ← رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: ← فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {كَلَّا إِنَّهُمْ ← الشَّافِعِیُّ ← ابْنَ هَرِمٍ الْقُرَشِيَّ، ← الْمُزَنِيُّ ← الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ، ← جعفر بن محمد بن الحارث ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 78

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآخِرَةِ بِالْأَبْصَارِ · حديث 79

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: ذَكَرَ إِسْحَاقُ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَا تَقُولُ فِي حَدِيثِ الرُّؤْيَةِ؟ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَسَدٍ اقْضِ عَلَيَّ حَيِيتَ أَوْ مِتَّ أَنَّ كُلَّ حَدِيثٍ يَصِحُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَقُولُ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَبْلُغْنِي

ہمیں ابو عبدالرحمٰن السلمی نے خبر دی کہا ہمیں علی بن عمر حافظ نے خبر دی کہا اسحاق طحان المصری نے ذکر کیا کہ ہم سے سعید بن اسد نے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے دیدار خداوندی کی حدیث کے بارے میں پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا: میں زندہ رہوں یا مر جاؤں میرا یہ فیصلہ ہے کہ ہر وہ حدیث جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر منقول ہو وہی میراقول ہے اگرچہ وہ مجھ تک نہ پہنچے۔

قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ مَا تَقُولُ فِي حَدِيثِ الرُّؤْيَةِ؟ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← إِسْحَاقُ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter · Hadith 79

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 80

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا [ص:133] كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ؟ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ ظَهَرَ قَبْلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ وَإِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ كَانَ لِأَحَدِهِمْ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ السَّبِيلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ [ص:134] الْإِيمَانِ مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا الْإِحْسَانُ؟ فَقَال: الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا؟ قَال: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاةِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عُمَرُ مَا تُدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلمُ، قَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ

ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نے خبر دی کہا ہم سے عیسیٰ بن عبداللہ الطیالسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقری نے بیان کیا کہا ہم سے کہمس بن حسن نے بیان کیا کہا میں نے عبد اللہ بن بریدہ کو بیان کرتے ہوئے سناوہ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: سب سے پہلا شخص جس نے تقدیر کے متعلق(بری) بات کی وہ بصرہ میں معبد جہنی تھا چنانچہ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حج کرنے کے لیے گئے جب وہاں پہنچے تو ہم نے کہا اگر ہم رسول اللہ سلیم کے بعض صحابہ سے ملاقات کریں تو ہم ان سے سوال کریں گے کہ وہ تقدیر کے متعلق باتیں کرنے والی اس قوم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومسجد میں پالیا تو میں اور میرا دوست انہیں ملے ہم میں سے ایک ان کی دائیں جانب تھا اور دوسرا ان کی بائیں جانب۔ یحییٰ نے کہا: میں نے یہ گمان کیا کہ میرا دوست کلام کو میرے سپرد کر دے(یعنی مجھے گفتگو کر نے کا موقع دے) تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن ! ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم پہچانتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کچھ نہیں اور بلاشبہ یہ نیا معاملہ ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم جب ان سے ملاقات کرو گے تو انہیں خبر دے دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں اور اس ذات کی قسم جس کیساتھ عبداللہ بن عمر حلف اٹھاتا ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابرسونا ہو پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس خرچ کردہ کو قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ اس کی تمام اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔ پھر فرمایا: مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک انتہائی سفید کپڑوں ، انتہائی سیاہ بالوں والا آدمی آیا اس پر کوئی آثار سفر دکھائی نہیں دیتے تھے اور ہم اسے پہچانتے بھی نہ تھے حتٰی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا چنانچہ اس نے اپنے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کیساتھ ملا لیے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے پھر کہا : یامحمد !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے اسلام کے متعلق خبر دیجئے کہ اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں اور تو نماز قائم کر ، زکوٰۃ ادا کر ، رمضان کے روزے رکھ اور اگر تو راستے کی طاقت رکھتا ہے تو بیت اللہ کا حج کر ! اس آدمی نے کہا: آپ نے سچ کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے ایمان کے متعلق خبر دیجئے کہ ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن اور ہر قسم کی اچھی وبری تقدیر پر ایمان لائے تو اس نے کہا آپ نے سچ کہا پھر اس نے کہا : مجھے احسان کے متعلق خبر دیجئے کہ احسان کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت ایسے کر گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو(کم از کم اتنی کیفیت ہونی چاہیئے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا: مجھے قیامت کے متعلق بتائیے کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے(یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) وہ سوال کرنے والے(یعنی جبریل) سے زیادہ نہیں جانتا(یعنی جتنا تجھے علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو بتانا نہیں مجھے بھی اتنا علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو نہیں بتانا) تو اس نے کہا: مجھے اس کی نشانیوں کی خبر دیجئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنے مالک کو جنے گی ، اور تو ننگے پاؤں، ننگے بدن بکریاں چرانے والوں کو دیکھے گا کہ وہ محلات پر فخر کریں گے۔ پھر وہ آدمی چلا گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا : اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون ہے؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول(عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عيسى بن عبد الله الطيالسي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسن بن بشران

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 80

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 81

وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ يَعْمَرَ جَالِسَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي سُؤَالِ الرَّجُلِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِيمَانِ، وَقَالَ فِي جَوَابِهِ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ وَالْحِسَابِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ

علی بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں اسماعیل بن محمد الصفار نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن اسحاق الصغانی نے بیان کیا کہا ہم سے یعلی بن عبید نے بیان کیا کہا ہم سے ابو سنان نے بیان کیا وہ علقمہ ابن مرثد سے وہ ابن بریدہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے کہا : میں اور ابن یعمر مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے پس آپ نے آدمی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کے متعلق سوال کے بارے میں حدیث ذکر کی اور اس کے جواب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت ، حساب ، جنت ، دوزخ اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔

فِي جَوَابِهِ ← الإيمان ← الْحَدِيثَ فِي سُؤَالِ الرَّجُلِ رَسُولَ اللَّهِ ← وَابْنُ يَعْمَرَ جَالِسَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ ← كُنْتُ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو سِنَانٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 81

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 82

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُؤَدِّبُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُونَهُ فِي الْقَدَرِ قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرٍ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: 48]

ابو الحسین محمد بن محمد بن الفضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن جعفر نے خبر دی کہا ہم سے یعقوب بن سفیان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف چلے ، چنانچہ فرمایا: ابو ذر بن ابی الحسین بن ابی القاسم مذکر نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن عبدالله اصبہانی زاہد نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم مؤدب نے بیان کیا کہا ہم سے حسین بن حفص نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا وہ زیاد بن اسماعیل سہمی سے وہ محمد بن عباد محزومی سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور تقدیر کے متعلق جھگڑنے لگے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تو یہ آیت نازل ہوئی : ترجمہ: بے شک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں جس دن آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا چکھو دوزخ کی آگ! بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی ہے۔ (القمر:49:47)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← زياد بن إسماعيل السهمي ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم المؤدب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ ← أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 82

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 83

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ [ص:136] حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ

ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو النضر فقیہ نے مجھے خبر دی کہا ہم سے محمد بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالاعلی بن حماد النرسی نے بیان کیا کہا میں نے امام مالک بن انس پر پڑھا وہ زیاد بن سعد سے وہ عمرو بن مسلم سے وہ طاؤس سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو پایا وہ کہتے تھے ہر چیز تقدیر کیساتھ ہے، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز تقدیر سے ہے حتٰی کہ عاجزی اور عقلمندی بھی۔

وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← أدركت ناسا من أصحاب رسول الله يقولون كل شيء بقدر ← طَاوْسٍ ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← على مالك بن أنس ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 83

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 84

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدٌ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدُ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيَوَةُ، ثنا أَبُو هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفِ سَنَةٍ

تقدیر کب مقرر کی گئی؟ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں بکر بن محمد صیرفی نے مرو میں خبر دی دی کہا ہم سے عبدالصمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن یزید المقرئ نے بیان کیا کہا ہم سے حیوۃ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو ہانی نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو عبدالرحمٰن الحبلی سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے تقد یروں کو مقدر فرمایا۔

«قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدٌ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 84

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 85

وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لَابْنِهِ: يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَهُ اكْتُبْ قَالَ رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي

حقیقت ایمان کیسے حاصل ہو؟ حسین بن محمد بن علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن داسہ نے خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن مسافر ہذلی نے بیان کیا کہا ہم سے بھی بن حسان نے بیان کیا کہا ہم سے ولید بن رباح نے بیان کیا وہ ابراہیم بن ابی عبلہ سے وہ ابو حفصہ سے راوی کہا حضرت عبادہ بن الصامت نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اے بیٹے ہرگز تو ایمان کی حقیقت کا ذائقہ نہیں ہائے گا جب تک کہ تو یہ نہ جان لے کہ جو تجھے پہنچا ہے وہ تجھ سے خطا ہونے والا نہیں تھا اور جو تجھ سے خطا ہوا وہ تجھے پہنچنے والا نہیں تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ نے(نورمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد) سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا تو اسے کہا لکھ! اس نے کہا: اے رب! کیا لکھوں ؟ فرمایا: قیام قیامت تک ہونے والی ہر چیز کی تقدیر لکھ! فرمایا: اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس کے برخلاف عقیدے پر مرا وہ مجھ سے نہیں ہے۔

أبي حفصة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← الحسين بن محمد بن علي الروذباري،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 85

chevron_left Previous
1…567…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him