Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 50

وَعَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جِنَازَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُمَّ رَبَّ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ اغْفِرْ لَهُ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثَكَلَتْكَ أُمُّكَ، إِنَّ الْقُرْآنَ مِنْهُ، إِنَّ الْقُرْآنَ مِنْهُ، يَعْنِي أَنَّهُ مِنْ صِفَاتِهِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تنبیہ : مکرمہ سے روایت ہے آپ نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی ،لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ ! اے قرآن عظیم کے رب ! اس کی بخشش فرما ! تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا : تیری ماں تجھ پر روئے کوئی شک نہیں کہ قرآن بھی اسی سے ہے یعنی قرآن(کلام) بھی اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔

رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُمَّ رَبَّ الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ اغْفِرْ لَهُ ← صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى جِنَازَةٍ، ← عِكْرِمَةَ،

Hadith 50

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 51

أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَرُوبَةَ السُّلَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنَ شَبِيبٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَشْيَخَتَنَا، مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً يَقُولُونَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ، وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، وَاللفْظُ لَهُ، أنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ، قَالَ: قَالَ الْحَكَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مَرْوَانَ الطَّبَرِيُّ: حَدَّثَنَاهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يَقُولُونَ: إِنَّ الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ [ص:106] قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَكذَا وَقَعَتْ هَذِهِ الْحكَايَةُ فِي تَارِيخِ الْبُخَارِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُفْيَانَ: أَدْرَكْتُ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ. وَمَشَايِخُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ ثُمَّ أَكَابِرِ التَّابِعينَ، فَهُوَ حِكَايَةُ إِجْمَاعٍ مِنْهُمْ

مشائخ کا متفقہ فیصلہ: ابو منصور الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو احمد الحافظ نے خبر دی کہا ہمیں ابو عروبہ السلمی نے خبر دی کہا سلمہ بن شبیب نے ہم سے بیان کیا کہا حکم بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا وہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہا میں نے ستر سال سے اپنے مشایخ سے سنا وہ فرماتے ہیں :(امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ایک اور سند چلائی اور کہا) ابو احمد نے کہا :محمد بن سلیمان بن فارس نے ہمیں خبر دی۔ یہ لفظ انہی کے ہیں ، کہا ہمیں محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی کہا حکم بن محمد ابو مروان الطبری نے کہا ہم سے اس نے بیان کیا جس نے سفیان بن عیینہ سے سنا آپ نے فرمایا: میں نے ستر سال سے اپنے مشایخ سے سنا: ان میں سے عمرو بن دینار بھی ہیں وہ سب فرماتے ہیں: قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: امام بخاری کی تاریخ میں ایسی ہی حکایت بیان ہوئی ہے وہ حکم بن محمد سے وہ سفیان سے’’ادرکت‘‘(میں نے پایا) کے لفظ روایت کرتے ہیں۔اور ان کے علاوہ دوسروں نے سفیان سے وہ عمرو سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ’’سمعت ‘‘ میں نے سنا کا لفظ کہا اسی طرح حمیدی وغیرہ نے سفیان سے روایت کی وہ عمرو سے انہوں نے’’ادرکت‘‘ کا لفظ کہا اور عمرو بن دینار کے مشایخ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت ہے پھر اکابر تابعین ہیں پس یہ ان سے اجماع کی حکایت ہوئی۔

عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحَكَمِ ← سُفْيَانَ: أَدْرَكْتُ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ ← الْحَكَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ هَكذَا وَقَعَتْ هَذِهِ الْحكَايَةُ فِي تَارِيخِ الْبُخَارِيِّ، ← أَدْرَكْتُ مَشْيَخَتَنَا مُنْذُ سَبْعِينَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مَرْوَانَ الطَّبَرِيُّ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِىَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، وَاللفْظُ لَهُ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← مَشْيَخَتَنَا مُنْذُ سَبْعِينَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أبو منصور الفقيه

Hadith 51

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 52

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَعْبَدٍ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقُلتُ: إِنَّهُمْ يَسْأَلُونَنَا عَنِ الْقُرْآنِ، أَمَخْلُوقٌ هُوَ؟ قَالَ: لَيْسَ بِخَالِقٍ وَلَا مَخْلُوقٍ، وَلَكِنَّهُ كَلَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الصَّادِقِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ جَعْفَرٍ، فَهُوَ عَنْ جَعْفَرٍ صَحِيحٌ مَشْهُورٌ. وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ. وَرُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَرُوِّينَاهُ مِنْ أَوجُهٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَهُوَ مَذْهَبُ كَافَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا. وَقَدْ ذَكَرْنَا أَسَامِيَ أَئِمَّتِهِمْ وَكُبَرَائِهِمُ الَّذِينَ صَرَّحُوا بِهَذَا وَرَأَوُا اسْتِتَابَةَ مَنْ قَالَ بِخِلَافِهِ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ، وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا يُوسُفَ فَقُلْتُ: أَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَقُولُ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ. فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، وَلَا أَنَا أَقُوُلُهُ

امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ قرآن مخلوق نہیں: ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابی طاہر الدقاق نے بغداد میں خبر دی کہا ہم سے احمد بن عثمان الآدمی نے بیان کیا کہا ہم سے اپنی ابی عوام نے بیان کیا ہم کہا ہم سے موسیٰ بن داؤد الضبی نے بیان کیا وہ معبد ابو عبدالرحمٰن سے وہ معاویہ بن عمار سے راوی میں فرماتے ہیں : میں نے جعفر بن محمد سے سوال کیا کہ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ نہ خالق ہے نہ مخلوق لیکن اللہ عزوجل کا کلام ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایسے ہی سوید بن سعید نے وہ معاویہ بن عمار سے وہ حضرت سیدنا جعفر الصادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ایسے ہی قیس بن ربیع حضرت سیدنا جعفر سے راوی ہیں لہٰذا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے یہ روایت صحیح مشہور ہے۔ یہی روایت جعفر بن محمد سے روایت کی گئی وہ اپنے باپ سے وہ حضرت سیدنا علی بن حسین سے روایت کرتے ہیں اور زہری نے سیدنا علی بن حسین سے روایت کی۔ اور ہم نے کئی وجوہ سے سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور یہی تمام قدیم وجدید اہل علم کا مذہب ہے ہم نے ان ائمہ ومشایخ کے اسماء اپنے کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ میں ذکر کیے ہیں جنہوں نے اس کی تصریح کی اور جس نے اس کے خلاف کہا ان کا فیصلہ ہے کہ اسے توبہ کرائی جائے گی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق غلہ فہمی کا ازالہ: اور ہم نے محمد بن سعید بن سابق سے روایت کی کہا: میں نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا ، کیا امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے؟ تو آپ نے فرمایا: معاذ اللہ! ہرگز نہیں اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں۔

جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقُلتُ: ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← مَعْبَدٍ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ،

Hadith 52

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 53

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو [ص:108] جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ، إِجَازَةً قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُعَيْبٍ الْمِصْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيَّ، رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: «الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ» وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ. قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ مَا نَتْلُوهُ مِنَ الْقُرْآنِ بِأَلْسِنَتِنَا وَنَسْمَعُهُ بِآذَانِنَا وَنَكْتُبُهُ فِي مَصَاحِفِنَا يُسَمَّى كَلَامَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَلَّمَ بِهِ عِبَادَهُ بِأَنْ أَرْسَلَ بِهِ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ أَيْضًا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي كِتَابِهِ الْإِبَانَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِ الْجِزْيَةِ: مَنْ جَاءَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - قَالَ: يَعْنِي الْإِمَامَ - أَنْ يُجِيرَهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُبَلِّغَهُ مَأْمَنَهُ كَانَ ذَلِكَ فَرْضًا عَلَى الْإِمَامِ؛ لِقَوْلِ اللَّهِ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ استَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ} [التوبة: 6] . وَقَالَ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ فِيمَنْ حَلَفَ أَنْ لَا يُكلِّمَ رَجُلًا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولًا: مَنْ قَالَ يَحْنَثُ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِي بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ} [الشورى: 51] ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ فِي الْمُنَافِقِينَ: {قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ} [التوبة: 94] ، وَإِنَّمَا نَبَّأَهُمْ مِنْ أَخْبَارِهِمْ بِالْوَحْيِ الَّذِي تَنَزَّلَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْبِرُهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَحْيِ اللَّهِ، قَالَ: وَمَنْ قَالَ: لَا يَحْنَثُ، قَالَ: إِنَّ كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ لَا يُشْبِهُ كَلَامَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَلَامُ الْآدَمِيِّينَ [ص:109] بِالْمُوَاجَهَةِ قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَذَكَرَ بَاقِيَ الْمَسْأَلَةِ: وَهُوَ فِيمَا قَرَأْتُهُ عَلَى أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو فِي هَذَيْنِ الْكِتَابَيْنِ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمْ قَالَ: أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَذَكَرَهُ. فَقَدْ سَمَّى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَى الْقَوْلَيْنِ جَمِيعًا مَا نُسَمِّيهِ مِنَ الْقُرْآنِ كَلَامَ اللَّهِ، وَأَنَّ اللَّهَ كَلَّمَ بِهِ عِبَادَهُ بِأَنْ أَرْسَلَ بِهِ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ وَإِنْ كَانَ يَكُونُ بِالْمُوَاجَهَةِ فِي الْحُكْمِ فِي أَحَدِ الْقَوْلَيْنِ فَكلَامُ اللَّهِ تَعَالَى عِبَادَهُ قَدْ يَكُونُ بِالرِّسَالَةِ وَالْوَحْيِ كَمَا جَاءَ بِهِ الْكِتَابُ، وَيُسَمَّى ذَلِكَ كَلَامًا وَتَكْلِيمًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: حَدِّثُونَا أَتَقُولُونَ: إِنَّ كَلَامَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ؟ قِيلَ لَهُ: نَقُولُ ذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ قَالَ: {بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ} [البروج: 22] ، فَالْقُرْآنُ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ وَهُوَ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ} [العنكبوت: 49] ، وَهُوَ مَتْلُوٌّ بِالْأَلسِنَةِ، قَالَ اللَّهُ: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: 16] ، فَالْقُرْآنُ مَكْتُوبٌ فِي مَصَاحِفِنَا فِي الْحَقِيقَةِ، مَحْفُوظٌ فِي صُدُورِنَا فِي الْحَقِيقَةِ، مَتْلُوٌّ بِأَلْسِنَتِنَا فِي الْحَقِيقَةِ مَسْمُوعٌ لَنَا فِي الْحَقِيقَةِ كَمَا قَالَ: {فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ} [التوبة: 6]

امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کا مؤقف: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن محمد الفقیہ نے خبر دی کہا ہمیں ابو جعفر اصبہانی نے خبر دی کہا ہمیں ابو یحییٰ الساجی نے اجازۃ خبر دی کہا میں نے ابو شعیب مصری کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے سنا آپ فرماتے ہیں: قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے۔ اور ربیع بن سلیمان نے ابو شعیب سے وہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے اسی معنی میں روایت کی۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بات ذکر کی جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو ہم اپنے زبانوں سے پڑھتے ہیں اور اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور اپنے مصاحف میں لکھتے ہیں وہ اس کا نام کلام اللہ عزوجل رکھتے ہیں ، اللہ عزوجل نے اس کے ساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیج کر اپنے بندوں سے کلام فرمایا۔ امام علی بن اسماعیل(ابو الحسن اشعری) نے کتاب الابانہ میں اسی کے معنی میں ذکر کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب الجزیہ میں فرمایا: جو آدمی مشرکین میں سے آئے تو امام(حاکم) پر لازم ہے کہ وہ اسے پناہ دے حتٰی کہ وہ کلام اللہ سے پھر اسے امن کی جگہ اسے پہنچا دے میں امام پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرمایا : ترجمہ: اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لئے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔ (التوبة:6) اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب الایمان میں اس شخص کے بارے میں فرمایا جو یہ حلف اٹھائے کہ وہ کسی آدمی سے کلام نہیں کرے گا پھر اس کی طرف رسول بھیجا گیا(بعض نے کہا کہ حانث ہو جائے گااور بعض نے کہا حانث نہیں ہو گا) تو جس نے کہا: حانث ہو جائے گا وہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ:اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پردہ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے۔ (الشورىٰ:51) اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے منافقوں کے بارے میں فرمایا: ترجمہ :تم سے بہانے بنائیں گے جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں۔ (التوبة:94)انہوں نے وحی کیساتھ خبر دی جسے حضرت جبریل علیہ السلام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو خبر دیتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے(تو چونکہ اس نے نبی کا کلام پڑھا اس لیے قسم ٹوٹ گئی) اور جس نے کہا حانث نہیں ہو گا تو اس نے کہا: لوگوں کا کلام اللہ تعالیٰ عزوجل کے کلام کے مشابہ نہیں ہے لوگوں سے کلام آمنے سامنے ہوتا ہے۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور باقی مسئلہ ذکر کیا یہ وہ ہے جو میں نے ابو سعید بن عمرو پر پڑھا ان دو کتابوں میں کہ ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان سے بیان کیا آپ نے کہا: ہمیں ربیع بن سلیمان نے خبر دی کہا ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی۔ پس آپ نے یہی بات ذکر کی۔ چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے دونوں قولوں پر کلام اللہ کا نام رکھا جو ہم قرآن سے سنتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کیساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیج کر اپنے بندوں سے فرمایا اگر چہ دونوں قولوں میں سے ایک میں اس کا حکم آمنے سامنے کا ہو گا پس اللہ تعالیٰ کا کلام عبادت ہے کبھی وہ رسالت وحی کیساتھ ہوتا ہے جیسا کہ اس کیساتھ کتاب آئی ہے، اسکا نام کلام وتکلیم رکھتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ! امام ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ علیہ کی قرآن کے متعلق تقریر : ابو الحسن علی بن اسماعیل(امام الاشعری) رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کتاب(الابانۃ فی اصول الديانۃ) میں فرمایا: اگر کہنے والا کے لوگوں نے ہم سے بیان کیا کہ تم کہتے ہو کہ کلام اللہ عزوجل لوح محفوظ میں ہے؟ اسے ہم کہیں گے کہ ہم یہ بات اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: بلکہ وہ کمال شرف والا قرآن ہے ،لوح محفوظ میں۔ (بروج:22) پس قرآن لوح محفوظ میں ہے اور یہی اہل علم کے سینوں میں ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا۔ (العنكبوت:49)اور ہماری زبانوں سے وہی تلاوت کیا جاتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ : تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔ (القیامۃ:16) لہٰذاقرآن ہمارے مصاحف میں حقیقتاً لکھا گیا ہے اور ہمارے سینوں میں حقیقتاً محفوظ ہے اور ہماری زبانوں سے حقیقتاً تلاوت کیا جاتا ہے اور ہمارے کانوں سے حقیقتاً سنا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: (اور اے محبوب اگر کوئی مشرک) تم سے نا مانگے تو اے پناہ دو کہ اللہ کلام سے (پھر سے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لئے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔) (التوبة:6)

الشَّافِعِيُّ مَا دَلَّ عَلَى ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ وَقَدْ ← الشَّافِعِیُّ ← أَبِي شعيب، ← «الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ» وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← أَبَا شُعَيْبٍ الْمِصْرِيَّ ← أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 53

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 54

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، فِي التَّارِيخِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ [ص:110] أَبِي الْهَيْثَمِ الْمُطَوَّعِيُّ بِبُخَارَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرْبَرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ يَعْنِي أَبَا قُدَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَعْنِي الْقَطَّانَ، يَقُولُ: مَا زِلْتُ أَسْمَعُ أَصْحَابَنَا يَقُولُونَ: أَفْعَالُ الْعِبَادِ مَخْلُوقَةٌ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُخَارِيُّ: حَرَكَاتُهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ وَاكْتِسَابُهُمْ وَكِتَابَتُهُمْ مَخْلُوقَةٌ، فَأَمَّا الْقُرْآنُ الْمَتْلُوُّ الْمُبَيَّنُ الْمُثْبَتُ فِي الْمَصَاحِفِ الْمَسْطُورُ الْمَكْتُوبُ الْمُوعَى فِي الْقُلُوبِ فَهُوَ كَلَامُ اللَّهِ لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ} [العنكبوت: 49] . قَالَ الشَّيْخُ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَذَا الْقَوْلُ لَا يُخَالِفُ قَوْلَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ. وَقَدْ رَوَيْنَا عَنْهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ أَنَّهُ أَنْكَرَ عَلَى تِلْمِيذِهِ أَبِي طَالِبٍ قَوْلَهُ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ، وَكَرِهَ الْكَلَامَ فِي اللَّفْظِ

بندوں کے افعال مخلوق ہیں: ابو عبداللہ الحافظ نے تاریخ میں ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو بکرمحمد بن ابی الہیثم المطوعی البخاری نے بخارا میں بیان کیا کہا ہم سے محمد بن یوسف الفربری نے بیان کیا کہا میں نے ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ بن سعید یعنی ابن قدامہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے یحیٰی بن سعید القطان کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ہمیشہ سے اپنے اصحاب سے سنتا آ رہا ہوں ، وہ فرماتے ہیں:’’ بندوں کے افعال مخلوق ہیں‘‘۔ امام بخاری علیہ الرحمہ کا قرآن کے متعلق عقیدہ: امام ابو عبداللہ البخاری نے فرمایا: بندوں کی حرکات ، اصوات(آوازیں) ،کسب اور کتابت مخلوق ہیں رہا معاملہ قرآن کا جو تلاوت کیا جاتا ہے ، بیان کیا جاتا ہے ،مصاحف میں ثابت ہے اور لکھا ہوا ہے ، دلوں میں محفوظ ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ مخلوق نہیں ہے اللہ تعالیٰ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کوعلم دیا گیا۔ (العنكبوت :49)ایک وہم کا ازالہ: شیخ استاد امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفر مایا:امام بخاری کا یہ قول امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مخالف نہیں ہے ، ہم نے ان سے اپنی کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ میں روایت کیا کہ آپ نے اپنے شاگرد ابو طالب کے اس قول پر انکار کیا کہ اس نے کہا:’’ میرے لفظ قرآن کے مخلوق نہیں ہیں‘‘ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے کلام کو لفظ کہنا نا پسند کیا۔

يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الْقَطَّانَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي أَبَا قُدَامَةَ، ← أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ الْمُطَوَّعِيُّ ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Hadith 54

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 55

وَسَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الْأَدِيبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: مَنْ قَالَ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ، يُرِيدُ بِهِ الْقُرْآنَ، فَهُوَ كَافِرٌ [ص:111] قَالَ الشَّيْخُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَإِنَّمَا أُنْكِرُ قَوْلَ مَنْ تَذَرَّعَ بِهَذَا إِلَى الْقَوْلِ بِخَلْقِ الْقُرْآنِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ تَرْكَ الْكَلَامِ فِيهِ لِهَذَا الْمَعْنَى، وَاللَّهُ أَعْلَمُ

امام بیہقی نے فرمایا : فرمایا: میں نے عبداللہ بن محمد بن ناحیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ بن احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ میرے قرآن کے لفظ مخلوق ہیں اس سے جو قرآن مراد لیتا ہے تو وہ کافر ہے‘‘۔ شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا انکار کیا جس نے اس قول سے خلق قرآن کے قول کرنے کی دلیل بنائی اور آپ اسی معنی کی وجہ سے اس بارے میں گفتگوترک کرنا مستحب قرار دیتے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!

لَفْظِي بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ، يُرِيدُ بِهِ الْقُرْآنَ، فَهُوَ كَافِرٌ [ص:111] ← مَنْ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أبا بكر الإسماعيلي ← أَبَا عَمْرٍو الْأَدِيبَ

Hadith 55

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الِاسْتِوَاءِ · حديث 56

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيًّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ: «فَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِردَوْسَ؛ فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ [ص:114] وَمِنْهُ تَتَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ»

جنت کے درجات اور جنت الفردوس: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر بن محمد بن حمدان نے خبر دی کہ محمد بن غالب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سعد بن عبدالحمید بن جعفر نے بیان کیا کہا فلیح بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا وہ ہلال بن علی سے وہ عطاء بن یسار سے وہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا:’’ جنت کے سو درجے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر نے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے تیار کیا ہے اتنا جو ہر دو درجوں کے درمیان فاصلہ ہے ایسے ہی ہے جیسے زمین اور آسمان کے درمیان ہے ، پس تم اس سے فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ جنت کا افضل اور اعلیٰ درجہ ہے اس سے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اس سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 56

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الِاسْتِوَاءِ · حديث 57

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي " قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْأَخْبَارُ فِي مِثْلِ هَذَا كَثِيرَةٌ، وَفِيمَا كَتَبْنَا مِنَ الْآيَاتِ دَلَالَةٌ عَلَى إِبْطَالِ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ مِنَ الْجَهْمِيَّةِ أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بِذَاتِهِ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا [ص:115] كُنْتُمْ} [الحديد: 4] ، إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ بِعِلْمِهِ لَا بِذَاتِهِ، ثُمَّ الْمَذْهبُ الصَّحِيحُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ الِاقْتِصَارُ عَلَى مَا وَرَدَ بِهِ التَّوْقِيفُ دُونَ التَّكْيِيفِ. وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ الْمُتَقَدِّمُونَ مِنْ أَصْحَابِنَا وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ وَقَالُوا: الِاسْتِوَاءُ عَلَى الْعَرْشِ قَدْ نَطَقَ بِهِ الْكِتَابُ فِي غَيْرِ آيَةٍ، وَوَرَدَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ، فَقَبُولُهُ مِنْ جِهَةِ التَّوْقِيفِ وَاجِبٌ، وَالْبَحْثُ عَنْهُ وَطَلَبُ الْكَيْفِيَّةِ لَهُ غَيْرُ جَائِزٍ

رحمت، غضب پر غالب ہے:محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن خالد بن خلی نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ ابو الزناد سے وہ اعرج سے وہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کا فیصلہ فرمایا تو اسے کتاب میں لکھا تو وہ اس کے پاس ہے عرش کے اوپر(اس میں یہ بات بھی ہے کہ) میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔جہمیہ کا رد: استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بارے میں بہت زیادہ خبریں آئی ہیں اس کے متعلق ہم نے جو آیات لکھی ہیں وہ اس قول کے ابطال پر دلالت کرتی جسے بعض جہمیہ نے گمان فاسد کیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی ذات کیساتھ ہر جگہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : ترجمہ: وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ (الحدید:4)اس سے تو اس کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے علم سے ہر جگہ ہے نہ کہ اپنی ذات کیساتھ۔ پھر صحیح مذہب ان تمام امور(متشابہات) کے بارے میں اسی بات پر اکتفا کیا جائے گا جس کیساتھ توقیف(شریعت) وارد ہوئی ہے اسکی کیفیت بیان کیے بغیر اور اسی کی طرف ہمارے متقدمین اصحاب گئے ہیں اور وہ جنہوں نے ان کی اتباع کی متاخرین میں سے انہوں نے کہا: عرش پر استواء کے بارے میں کتاب نے متعدد آیات میں بیان کیا اور اس کیساتھ اخبار صحیحہ وارد ہوئی ہیں اور توقیف کی جہت سے اس کا قبول کرنا واجب ہے اور اس کے بارے میں بحث مباحثہ اور اس کی کیفیت کا طلب کرنا جائز نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 57

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الِاسْتِوَاءِ · حديث 58

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ زَيْرَكَ الْيَزْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} [طه: 5] ، كَيْفَ اسْتَوَى؟ قَالَ: فَأَطْرَقَ مَالِكٌ رَأْسَهُ، حَتَّى عَلَاهُ الرُّحَضَاءُ ثُمَّ قَالَ: الِاسْتِوَاءُ غَيْرُ مَجْهُولٍ، وَالْكَيْفُ غَيْرُ مَعْقُولٍ، وَالْإِيمَانُ بِهِ وَاجِبٌ، وَالسُّؤَالُ عَنْهُ بِدْعَةٌ، وَمَا أَرَاكَ إِلَّا مُبْتَدِعًا، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يَخْرُجَ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى مِثْلِ هَذَا دَرَجَ أَكْثَرُ عُلَمَائِنَا فِي مَسْأَلَةِ الِاسْتِوَاءِ وَفِي مَسْأَلَةِ الْمَجِيءِ وَالْإِتْيَانِ وَالنِّزُولِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا} [الفجر: 22] وَقَالَ: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ} [البقرة: 210]

استواء علی العرش کی کیفیت کے متعلق سوال بدعت ہے: ابو بکر احمد بن محمد بن حارث الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو محمد بن حیان نے خبر دی کہا ہم سے ابو جعفر احمد بن زیرک الیزدی نے بیان کیا کہا میں نے محمد بن عمرو ابن النضر النیشاپوری سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ہم امام مالک بن انس رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس تھے تو ایک آدمی آیا اس نے کہا: اے ابو عبداللہ !(اللہ تعالیٰ نے فرمایا) الرحمن علی العرش استویٰ یعنی رحمن نے عرش پر اپنی شان کے لائق استواء فرمایا تو استواء کیسے فرمایا ؟ تو امام مالک اپنا سر جھکایا پھر آپ پر پسینہ آ گیا پھر فرمایا: ”استواء مجہول نہیں ہے(بعض روایات میں آیا ہے کہ استواء مجہول ہے۔12 القادری الشاذلی) اور کیفیت غیر معقول ہے اور اس پر ایمان رکھنا واجب ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے اور میں تمہیں صرف بدعتی سمجھتا ہوں‘‘ پھر آپ نے اسے نکالنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کے نزول ومجیئت کا مطلب: امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسی کی مثل استواء کے مسئلہ میں اور آنے اور اترنے کے مسئلے کے بارے میں ہمارے اکثر علماء نے لکھا۔ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا: ترجمہ: اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار ۔(الفجر:22) اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں۔

يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، كَيْفَ اسْتَوَى؟ ← كُنَّا عِنْدَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فَجَاءَ رَجُلٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ النَّيْسَابُورِيَّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ زَيْرَكَ الْيَزْدِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ

Hadith 58

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الِاسْتِوَاءِ · حديث 59

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي [ص:117] فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُ الْحَدِيثِ فِيمَا وَرَدَ بِهِ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ مِنْ أَمْثَالِ هَذَا، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ فِي تَأْوِيلِهِ، ثُمَّ إِنَّهُمْ عَلَى قِسْمَيْنِ: مِنْهُمْ مَنْ قَبِلَهُ وَآمَنَ بِهِ وَلَمْ يُؤَوِّلْهُ وَوَكَلَ عِلْمَهُ إِلَى اللَّهِ وَنَفَى الْكَيْفِيَّةَ وَالتَّشْبِيهَ عَنْهُ. وَمِنْهُمْ مَنْ قَبِلَهُ وَآمَنَ بِهِ وَحَمَلَهُ عَلَى وَجْهٍ يَصِحُّ اسْتِعْمَالُهُ فِي اللُّغَةِ وَلَا يُنَاقِضُ التَّوْحِيدَ. وَقَدْ ذَكَرْنَا هَاتَيْنِ الطَّرِيقَتَيْنِ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ فِي الْمَسَائِلِ الَّتِي تَكَلَّمُوا فِيهَا مِنْ هَذَا الْبَابِ، وَفِي الْجُمْلَةِ يَجِبُ أَنْ يُعْلَمَ أَنَّ اسْتِوَاءَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَيْسَ بِاسْتِوَاءِ اعْتِدَالٍ عَنِ اعْوِجَاجٍ وَلَا اسْتِقْرَارٍ فِي مَكَانٍ، وَلَا مُمَّاسَّةٍ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ، لَكِنَّهُ مُسْتَوٍ عَلَى عَرْشِهِ كَمَا أَخْبَرَ بِلَا كَيْفٍ بِلَا أَيْنَ، بَائِنٌ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِهِ، وَأَنَّ إِتْيَانَهُ لَيْسَ بِإِتْيَانٍ مِنْ مَكَانٍ إِلَى مَكَانٍ، وَأَنَّ مَجِيئَهُ لَيْسَ بِحَرَكَةٍ، وَأَنَّ نُزُولَهُ لَيْسَ بِنَقْلَةٍ، وَأَنَّ نَفْسَهُ لَيْسَ بِجِسْمٍ، وَأَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِصُورَةٍ، وَأَنَّ يَدَهُ لَيْسَتْ بجَارِحَةٍ، وَأَنَّ عَيْنَهُ لَيْسَتْ بِحَدَقَةٍ، وَإِنَّمَا هَذِهِ أَوْصَافٌ جَاءَ بِهَا التَّوْقِيفُ، فَقُلْنَا بِهَا وَنَفَيْنَا عَنْهَا التَّكْيِيفَ، فَقَدْ [ص:118] قَالَ: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ} [الشورى: 11] ، وَقَالَ: {وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} [الإخلاص: 4] ، وَقَالَ: {هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا} [مريم: 65]

ہمیں علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے احمد بن سلمان نے بیان کیا کہا سلیمان بن الاشعث پر پڑھا گیا (یہاں سے احمد بن سلمان دوسری سند کی طرف پلٹے اور کہا): ابو علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا وہ مالک سے وہ ابن شہاب سے وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے وہ ابو عبداللہ الاغر سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا جب آخری رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہتا ہے پس وہ فرماتا ہے کون مجھے پکارتا ہے کہ میں اسے جواب دوں کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کروں کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اسے بخشش دوں۔ متشابہات کے متعلق اہل سنت کا مؤقف : امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اسے روایت کیا اور محدثین اس بارے میں جس کیساتھ کتاب اور سنت اس کی مثل وارد ہوئی ہے۔ کسی ایک نے بھی صحابہ و تابعین میں سے اس کی تاویل میں کلام نہیں فرمایا۔ اس کی دوقسمیں ہیں:(1): کچھ وہ ہیں جنہوں نے اسے قبول کیا اور اس پر ایمان لائے اور اس کی تاویل نہیں کی اور اس کا علم اللہ تعالیٰ نے حوالے کر دیا اس سے کیفیت وتشبیہ کی نفی کی۔(2): کچھ وہ ہیں جنہوں نے اسے قبول کیا اور اس پر ایمان لائے اور اس کو ایسی توجیہ پر محمول کیا لغت میں جس کا استعمال صحیح ہے اور یہ توحید کے مخالف نہیں ہے۔ ہم نے یہ دونوں طریقے اپنی کتاب ”الاسماء والصفات‘‘ میں ذکر کیے ان مسائل کے بارے میں جن میں کلام کیا گیا اسی باب میں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس بات کا جاننا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے استواء فرمایا یہ استواء ٹیڑھے پن سے سیدھا ہونے کیساتھ نہیں نہ ہی کسی مکان میں ٹھہرنا ہے اور نہ ہی اس کا اپنی مخلوق میں سے کسی شے کو چھونا ہے لیکن وہ اپنے عرش پر استواء فرمانے والا ہے بغیر کسی کیفیت وجگہ کے وہ اپنی تمام مخلوق سے جدا ہے ، اس کا آنا ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف آنا نہیں ہے اور اس کی محبیئت(آنا) حرکت کیساتھ نہیں ہے اور اس کا نزول فرمانا منتقل ہونے کیساتھ نہیں ہے اور اس کا ذات جسم نہیں ہے اور اس کا وجہ(چہرہ) کوئی صورت نہیں ہے اور اس کے ید(ہاتھ) عضو نہیں ہے اور اس کی آنکھ پیلی والی نہیں ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اوصاف جنہیں شریعت لے کر آئی ہے ہم ان کا قول کرتے ہیں اور ان سے کیفیت کی نفی کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اس جیسا کوئی نہیں۔ (الشورٰی:11) اور اس نے ارشاد فرمایا: ترجمہ :اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔ (الاخلاص:5) اور فرمایا ترجمہ: کیا اس کے نام کا کوئی دوسرا جانتے ہو۔ (مریم: 65)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← قُرِئَ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Hadith 59

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الِاسْتِوَاءِ · حديث 60

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ وَمَالِكٌ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَقَالُوا: أَمِرُّوهَا كَمَا جَاءَتْ بِلَا كَيْفِيَّةٍ

امام اوزاعی ، امام مالک، امام سفیان ثوری اور امام لیث بن سعد کا متشابہات کے متعلق فتویٰ :محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے خبر دی کہا ہم سے محمد بن بشر بن مطر نے بیان کیا کہا ہم سے ہیثم بن خارجہ نے بیان کیا کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا کہا : امام اوزاعی ،امام مالک ، امام سفیان ثوری اور امام لیث بن سعد سے ان احادیث کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’ان کا حکم دیا گیا ایسے ہی جیسے وہ آئی ہیں بغیر کسی کیفیت کے‘‘۔

هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَقَالُوا: أَمِرُّوهَا كَمَا جَاءَتْ بِلَا كَيْفِيَّةٍ ← سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ وَمَالِكٌ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 60

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الِاسْتِوَاءِ · حديث 61

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى الْبَزَّارَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ حَمْزَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي الْحَوَارِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: كُلُّ مَا وَصَفُ اللَّهُ مِنْ نَفْسِهِ فِي كِتَابِهِ فَتَفْسيرُهُ تِلَاوَتُهُ وَالسُّكُوتُ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ فِيمَا تَفْسِيرُهُ يُؤَدِّي إِلَى تَكْيِيفٍ، وَتَكْيِيفُهُ يَقْتَضِي تَشْبِيهًا لَهُ بِخَلْقِهِ فِي أَوْصَافِ الْحَدَثِ

حضرت امام سفیان بن عینیہ رحمۃ اللہ علیہ کا متشابہات کے بارے میں فتوٰی: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن یزید نے ہمیں خبر دی کہا میں نے ابو یحییٰ البزار کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے عباس بن حمزہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن ابو الحواری کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے صفیان بن عیینہ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر وہ صفت جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے بارے میں بیان فرمایا ہے اس کی تفسیر اس کی تلاوت ہے اور اس پر سکوت کر نالازم ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی ایسی تفسیر جو کیفیت بیان کرنے کی طرف پہنچائے اور اس کی کیفیت بیان کرنا اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلوق کے اوصاف حادثہ کا تقاضا کرتا ہے۔

كُلُّ مَا وَصَفُ اللَّهُ مِنْ نَفْسِهِ فِي كِتَابِهِ فَتَفْسيرُهُ تِلَاوَتُهُ وَالسُّكُوتُ عَلَيْهِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْزَةَ ← أَبَا يَحْيَى الْبَزَّارَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 61

chevron_left Previous
12345…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him