Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 362

وَكذَلِكَ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، وَرُوِيَ عَنِ الرَّبِيعِ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ

ایسے ہی ابن عبد الحکم سے روایت کی گئی وہ امام شافعی سے راوی اور ربیع سے دوسری روایت میں روایت کی گئی وہ امام شافعی سے راوی آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سے افضل حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں۔

أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ ← الشَّافِعِيُّ: أَنَّهُ ← الرَّبِيعِ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، ← الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ ← ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، ← وَكَذَلِكَ رُوِيَ،

Hadith 362

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 363

وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: مَا اخْتَلَفَ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ فِي تفْضِيلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَتَقْدِيمِهِمَا عَلَى جَمِيعِ الصَّحَابَةِ وَإِنَّمَا اخْتَلَفَ مَنِ اخْتَلَفَ مِنْهُمْ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ وَنَحْنُ لَا نُخَطِّئُ وَاحِدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا فَعَلُوا، وَقَدْ ذَكَرْنَا أَسَانِيدَهَا فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ، وَرُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ وَأَتبَاعِهِمْ نَحْوَ هَذَا وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

افضلیت حضرت ابو بکرو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر صحابہ وتابعین کا اجماع : اور ہم نے ابو ثور سے روایت کی وہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تمام صحابہ سے افضل قرار دینے اور مقدم جانے پر صحابہ وتابعین میں سے کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا اور جس نے اختلاف کیا اس نے حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں اختلاف کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے جو بھی کیا ہم اس میں کسی کو بھی خطا کارقرارنہیں دیتے۔

الشَّافِعِيُّ: أَنَّهُ ← أَبي ثَوْرٍ ← وَرُوِّينَا

Hadith 363

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 364

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خِلَافَةُ النُّبُوَةِ ثلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ، ثُمَّ ذَكَرَ سَفِينَةُ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، وَقَالَ سَعِيدٌ: قُلْتُ لِسفينَةَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمونَ أَنَّ عَلِيًّا لَمْ يَكُنْ خَلِيفَةً، قَالَ: كَذَبَتْ أَسْتَاهُ بَنِي الزَّرْقَاءِ

ابو علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا سوار بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالوارث بن سعید نے ہم سے بیان کیا وہ سعید بن جمہان سے وہ حضرت سفینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خلافت نبوت تیس سال ہو گی پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطا کرے گا‘‘۔ پھر حضرت سفینہ نے حضرت ابو بکرو عمر وعثمان وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی خلافت ذکر کی حضرت سعید نے کہا میں نے حضرت سفینہ سے کہا: یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ حضرت علی خلیفہ نہیں ہیں آپ نے فرمایا: بنی زرقاء کے برے آدمی نے جھوٹ بولا۔

سَفِينَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 364

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 365

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ , ثنا جَدِّي , عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ بَرَزَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لِلنَّاسِ وَدَعَاهُمْ إِلَى الْبَيْعَةِ فَبَايَعَهُ النَّاسُ وَلَمْ يَعْدِلوا بِهِ طَلْحَةَ وَلَا غَيْرَهُ وَهَذَا لِأَنَّ سَائِرَ مِنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الشُّورَى كَانُوا قَدْ تَرَكُوا حُقوقَهُمْ عِنْدَ بَيْعَةِ عُثْمَانَ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنْهُمْ لَمْ يَتْرُكَ حَقَّهُ إِلَّا عَلِيٌّ وَكَانَ قَدْ وَفَّى بِعَهْدِ عُثْمَانَ حَتَّى قُتِلَ وَكَانَ أَفْضَلَ مِنْ بَقِيَ مِنَ الصَّحَابَةِ فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَحَقَّ بِالْخِلَافَةِ مِنْهُ، ثُمَّ لَمْ يَسْتَبِدَّ بِهَا مَعَ كَوْنِهِ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَا حَتَّى جَرَتْ لَهُ [ص:371] بَيْعَةٌ وَبَايَعَهُ مع سَائِرُ النَّاسِ مِنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الشُّورَى

ابو الحسین بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا حجاج بن ابو منیع نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے میرے دادا نے بیان کیا وہ زہری سے راوی آپ نے کہا: جب حضرت عثمان شہید کیے گئے تو حضرت علی بن ابو طالب لوگوں کے لیے ظاہر ہوئے اور لوگوں کو بیت کی طرف بلایا تو لوگوں نے آپ کی بیعت کی حضرت طلحہ نے آپ کی برابری کی نہ کسی اور نے اس کی وجہ یہ ہے کہ اصحاب شوری میں سے جو بھی باقی رہ گئے تھے انہوں نے اپنے حقوق حضرت عثمان کی بیعت کے وقت چھوڑ دیئے تھے جیسا اس کا ذکر گزر چکا ہے تو ان میں سے کوئی ایک بھی باقی نہیں رہا تھا جس نے اپناحق نہ چھوڑا ہو سوائے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے اور آپ نے حضرت عثمان کے عہد کو پورا کیا حتٰی کہ حضرت عثمان شہید ہو گئے اور حضرت علی بقیہ صحابہ میں سے سب سے افضل تھے لہٰذا کوئی ایک بھی خلافت کا آپ سے زیادہ حقدار نہیں تھا پھر آپ نے خود کو ترجیح نہیں دی اس کام کے لیے باوجود یہ کہ آپ لوگوں میں سے سب سے زیادہ حقدار تھے حتٰی کہ آپ کی بیعت جاری ہوئی بقیہ تمام اصحاب شوری کیساتھ حضرت طلحہ نے بیعت کی۔

الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 365

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 366

ثنا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ إِمْلَاءً، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الدَّقَّاقُ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ , ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، فِي مُسنَدِهِ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , ثنا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ أَبُو الْعَلَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: لَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ الْبَصْرَةَ فِي إِثْرِ طَلْحَةَ وَأَصحَابِهِ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْكَوَّا، وَابْنُ عَبَّادٍ فَقَالَا لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا أَوَصِيَّةٌ أَوْصَاكَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ حِينَ تَفَرَّقَتِ الْأُمَّةُ وَاخْتَلَفَتْ كَلِمَتُهَا؟ فَقَالَ: مَا أَكونُ أَوَّلَ كَاذِبٍ عَلَيْهِ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْتَ فَجْأَةٍ وَلَا قُتِلَ قَتْلًا وَلقَدْ مَكَثَ فِي مَرَضِهِ كُلَّ ذَلِكَ يَأْتِيهِ الْمُؤَذِّنُ فُيُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ فَيَقُولُ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَلقَدْ تَرَكَنِي وَهُوَ يَرَى مَكَانِي، وَلَوْ عَهِدَ إِلَيَّ شَيْئًا لَقُمْتُ بِهِ حَتَّى عَرَّضَتْ فِي ذَلِكَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذْ قَامَ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَ لَهَا: إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ فِي أَمْرِهِمْ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى أَبَا بَكْرٍ أَمْرَ دِينِهِمْ فَوَلُّوهُ أَمْرَ دُنيَاهِمْ فَبَايَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَبَايَعَتْهُ مَعَهُمْ فَكُنْتُ أَغْزُو إِذَا أَغْزَانِي وَآخُذُ إِذَا أَعْطَانِي وَكُنْتُ سَوْطًا بَيْنَ يَدَيْهِ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ فَلَوْ كَانَتْ مُحَابَاةً عِنْدَ حُضُورِ مَوْتِهِ لِجَعَلَهَا لِوَلَدِهِ فَأَشَارَ بعُمَرَ وَلَمْ يَأْلُ فَبَايَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَبَايَعْتُهُ مَعَهُمْ فَكُنْتُ أَغْزُو إِذَا أَغْزَانِي وَآخُذُ إِذَا أَعْطَانِي وَكُنْتُ سَوْطًا بَيْنَ يَدَيْهُ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ، فَلَوْ كَانَتْ مُحَابَاةً عِنْدَ حُضُورِ مَوْتِهِ لِجَعَلَهَا لِوَلَدِهِ وَكَرِهَ أَنْ يَنْتَخِبَ مِنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ رَجُلًا فَيُوَلَّيِهِ أَمْرَ الْأُمَّةِ فَلَا يَكُونُ فِيهِ إِسَاءَةٌ لِمَنْ بَعْدَهُ إِلَّا لَحِقَتْ عُمَرَ فِي قَبْرِهِ فَاخْتَارَ مِنَّا سِتَّةً أَنَا فِيهِمْ لِنَخْتَارَ لِلْأُمَّةِ رَجُلًا مِنَّا فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا وَثَبَ [ص:372] عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَوَهَبَ لَنَا نَصِيبَهُ مِنْهَا عَلَى أَنْ نُعْطِيَهُ مَوَاثِيقَنَا عَلَى أَنْ يَخْتَارَ مِنَ الْخَمْسَةِ رَجُلًا فُيُوَلِّيهِ أَمْرَ الْأُمَّةِ فَأَعْطَيْنَاهُ مَوَاثِيقَنَا فَأَخَذَ بِيَدِ عُثْمَانَ فَبَايَعَهُ وَلقَدْ عَرَضَ فِي نَفْسِي عِنْدَ ذَلِكَ فَلَمَّا نَظَرْتُ فِي أَمْرِي فَإِذَا عَهْدِي قَدْ سَبَقَ بَيْعَتِي فَبَايَعْتُ وَسَلَّمْتُ، فَكُنْتُ أَغْزُو إِذَا أَغْزَانِي وَآخُذُ إِذَا أَعْطَانِي فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ نَظَرْتُ فِي أَمْرِي فَإِذَا الرِّبْقَةُ الَّتِي كَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي عُنُقِي قَدِ انْحَلَّتْ وَإِذَا الْعَهْدُ لِعُثْمَانَ قَدْ وَفَيْتُ بِهِ، وَإِذَا أَنَا برَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَيْسَ لِأَحَدٍ عندي دَعْوَى وَلَا طَلَبٌ فَوَثَبَ فِيهَا مِنْ لَيْسَ مِثْلي - يَعْنِي مُعَاوِيَةَ - لَا قَرَابَتُهُ كَقَرَابَتِي وَلَا عِلْمُهُ كَعِلْمِي وَلَا سَابِقَتُهُ كَسَابِقَتِي، وَكُنْتُ أَحَقَّ بِهَا مِنْهُ، قَالِا: صَدَقْتَ، فَأَخْبِرْنَا، عَنْ قِتَالَكَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ - يَعْنِيَانِ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ - صَاحِبَاكَ فِي الْهِجْرَةِ وَصَاحبَاكَ فِي بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ وَصَاحبَاكَ فِي الْمَشُورَةِ، قَالَ: بَايَعَانِي بِالْمَدِينَةِ وَخَالَفَانِي بِالْبَصْرَةِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِمَّنْ بَايَعَ أَبَا بَكْرٍ خَلَعَهُ لَقَاتَلْنَاهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِمَّنْ بَايَعَ عُمَرَ خَلَعَهُ لَقَاتَلْنَاهُ. سَمِعْتُ الشَّيْخَ الْإِمَامَ أَبَا الطَّيِّبِ سَهْلَ بْنَ مُحَمَّدٍ الصُّعْلُوكِيَّ وَهُوَ يَذْكُرُ مَا يَجْمَعُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَنَاقِبِهِ وَمَزَايَاهُ وَمَحَاسِنِهِ وَدلَالِاتِ صِدْقِهِ وَقوَّةِ دِينِهِ وَصِحَّةِ بَيْعَتِهِ، قَالَ: وَمِنْ كِبَارِهَا أَنَّهُ لَمْ يَدَعْ ذِكْرَ مَا عَرَضَ لَهُ فِيمَا أَجْرَى إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَإِنْ كَانَ يسيرًا حَتَّى قَالَ: وَلقَدْ عَرَضَ فِي نَفْسِي عِنْدَ ذَلِكَ، وَفِي ذَلِكَ مَا يُوَضِّحُ أَنَّهُ لَوْ عَرَضَ لَهُ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ شَيْءٌ، وَاخْتَلَفَ لَهُ فِيهِ سِرٌّ وَعَلَنٌ لَبَيَّنَهُ بِصَرِيحٍ أَوْ نَبَّهُ عَلَيْهِ بِتَعْرِيضٍ كَمَا فَعَلَ فِيمَا عَرَضَ لَهُ عِنْدَ فِعْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا فَعَلَ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَانَ السَّبَبُ فِي قِتَالِ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ عَلِيًّا أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ صَوَّرَ لَهُمَا أَنَّ عَلِيًّا كَانَ رَاضِيًا بِقَتْلِ عُثْمَانَ فَذَهَبَا إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَحَمَلَاهَا عَلَى الْخُرُوجِ فِي طَلَبِ دَمِ عُثْمَانَ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ [ص:373] بِتَخْليَةِ عَلِيٍّ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي قَتْلِ عُثْمَانَ فَجَرَى الشَّيْطَانُ بَيْنَ الْفرِيقَيْنِ حَتَّى اقْتَتَلوا ثُمَّ نَدِمُوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَتَابَ أَكْثَرُهُمْ فَكَانَتْ عَائِشَةُ تقَوْلُ: وَدَدْتُ أَنِّي كُنْتُ ثَكَلْتُ عَشَرَةً مِثْلَ وَلَدِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَأَنِّي لَمْ أَسْرِ مَسِيرِي الَّذِي سِرْتُ، وَرُوِيَ أَنَّهَا مَا ذَكَرَتْ مَسِيرَهَا قَطُّ إِلَّا بَكَتْ حَتَّى تَبِلَّ خِمَارَهَا وَتقَوْلُ: يَا لِيتَنِي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا. وَرُوِيَ أَنَّ عَلِيًّا بَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ يَوْمَ الْجَمَلِ فَأَتَاهُ فَقَالَ: نَشَدْتُكَ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمْ وَالِ مَنْ وَالِاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلِمَ تُقَاتِلُنِي؟ قَالَ لَمْ أَذْكُرْ، قَالَ: فَانْصَرَفَ طَلْحَةُ، ثُمَّ رُوِيَ أَنَّهُ حِينَ رُمِيَ بَايَعَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ ثُمَّ قَضَى نَحْبَهُ فَأُخْبِرَ عَلِيٌّ بِذَلِكَ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، أَبَى اللَّهُ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا وَبَيْعَتِي فِي عُنُقِهِ، وَرُوِيَ أَنَّ عَلِيًّا بَلَغَهُ رُجوعُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا رَجَعَ جُبْنًا وَلَكِنَّهُ رَجَعَ تَائِبًا وَحِينَ جَاءَ ابْنُ جَرْمُوزٍ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ قَالَ: لِيَدْخُلْ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَكلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ

امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے املاء کرواتے ہوئے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو محمد عبداللہ بن محمد بن علی الدقاق نے خبر دی کہا ہمیں عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن المدینی نے خبر دی کہا اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے اپنے مسند میں ہم سے بیان کیا کہا عبدہ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہا سالم المرادی ابوالعلاء نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے حضرت حسن کو فرماتے ہوئے سنا جب حضرت مولاعلی بصرہ میں حضرت طلحہ اور ان کے دوستوں کے پیچھے آئے تو عبداللہ بن الکوا اور اور ابن عباد کھڑے ہوئے آپ سے کہا: اے امیر المؤمنین ہمیں اپنے اس سفر کے بارے میں بتایئے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی آپ سے وصیت کی تھی ؟ یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے کوئی عہد لیا تھا؟ یا آپ نے کوئی رائے دیکھی جب امت فرقے فرقے ہوئی اور اس کے کلے میں اختلاف ہوا؟ تو آپ نے فرمایا: میں سب سے پہلا جھوٹ بولنے والانہیں ہوں گا اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی اچانک موت نہیں آئی نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید کیے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیماری میں کئی دن رہے ان تمام دنوں میں مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا وہ نماز کی اطلاع دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: حضرت ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور آپ نے مجھے چھوڑ دیا اور آپ میرا مرتبہ جانتے ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کوئی عہد لیا ہوتا تو میں اس کیساتھ کھڑا ہو جاتا حتٰی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک زوجہ(حضرت عائشہ صدیقہ) نے اس بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بات پیش کی کہ حضرت ابو بکر رقیق القلب آدمی ہیں جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے اگر آپ حضرت عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ؟ تو آپ نے انہیں فرمایا: تم حضرت یوسف علیہ السلام کی عورتوں کی طرح ہو۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا مسلمانوں نے اپنے معاملے میں غورو فکر کی تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو ان کے دین کا والی بنایا تو لوگوں نے اپنے دنیاوی معاملات کا انہیں والی بنا لیا چنانچہ لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور میں نے بھی ان کیساتھ آپ کی بیعت کی پھر جب آپ مجھے جنگ کا کہتے تو میں جنگ کرتا جب مجھے دیتے میں لے لیتا میں آپ کے سامنے حدود کے قیام میں کوڑا چلاتا اگر آپ کو اس میں کوئی محبت ہوتی تو اپنے موت کے وقت اپنے بیٹے کو یہ معاملہ سونپ دیتے چنانچہ آپ نے حضرت عمر کی خلافت کا اشارہ کیا تو لوگوں نے اس میں کوئی تاخیر نہیں کی پس حضرت عمر سے لوگوں نے بیعت کی اور میں نے بھی ان کیساتھ آپ کی بیعت کی پھر جب آپ مجھے جنگ کا کہتے تو میں جنگ کرتا جب مجھے دیتے میں لے لیتا میں آپ کے سامنے حدود کے قیام میں کوڑا چلاتا اگر آپ کو اس میں کوئی محبت ہوتی تو اپنی موت کے وقت اسے بیٹے کو یہ معاملہ سونپ دیتے اور آپ نے ہم گروہ قریش میں سے کسی آدمی کو خلافت کے لیے منتخب کرنا ناپسند کیا کہ وہ امت کے امور کا والی ہو کہ اس میں اپنے مابعد کے لیے کوئی برائی نہ ہومگر حضرت عمر اپنی قبر میں پہنچ گئے ہم میں سے آپ نے چھ آدمی منتخب کیے میں بھی ان میں سے تھا کہ اپنے میں کوئی آدمی امت کے لیے منتخب کریں جب ہم اکٹھے ہوئے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کھڑے ہوئے آپ نے اس میں سے اپناحصہ ہمیں دے دیا اس بات پر کہ ہم انہیں پختہ وعدے دیں کہ آپ پانچوں میں سے کسی کو منتخب کریں جو امت کے معاملے کا والی ہو چنانچہ ہم نے اپنے وعدے انہیں دیئے تو آپ نے حضرت عثمان کا ہاتھ پکڑا اتو آپ سے بیعت کی اس وقت میرے دل میں بات آئی پھر جب میں نے اپنے معاملے میں غور کیا تو میرا وعدہ میری بیت سے سبقت کر چکا تھا تو میں نے حضرت عثمان کی بیعت کی اور تسلیم کیا پھر جب آپ مجھے جنگ کا کہتے تو میں جنگ کرتا جب مجھے دیتے میں لے لیتا پھر جب حضرت عثمان شہید ہو گئے تو میں نے اپنے معاملے میں غورو فکر کی تو وہ قلادہ جو حضرت ابو بکرو عمر کے لیے میری گردن میں تھا وہ جدا ہو گیا اور حضرت عثمان کے وعدہ پورا ہو چکا تھا۔ اور میں مسلمانوں میں سے ایک آدمی تھا اور میرے پاس کسی کا بھی دعویٰ تھا نہ طلب تو اس معاملے میں وہ آیا جو میری مثل نہیں ہے یعنی حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ اس کی قرابت میری قرابت جیسی ہے نہ اس کا علم میرے علم جیسا نہ اس کی سبقت میری سبقت جیسی میں ان سے زیادہ اسکا حق دار تھا۔عبداللہ بن الکوا اور ابن عباد دونوں نے کہا: آپ نے سچ کہا پس ہمیں ان دو آدمیوں کے قتال کے متعلق بتایئے اس سے ان کی مراد حضرت طلحہ اور حضرت زبیر تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہما یہ دونوں ہجرت میں آپ کے ساتھی ہیں اور بیعت الرضوان میں بھی آپ کے ساتھی اور مشاورت میں بھی آپ کے ساتھی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں نے مدینہ میں میری بیعت کی اور بصرہ میں میری مخالفت کی اگر کوئی آدمی ان لوگوں میں سے ہوتا جس نے حضرت ابو بکر کی بیعت کی پھر توڑ دی تو ہم اس سے قتال کرتے اگر کوئی آدمی ان لوگوں میں سے ہوتا جس نے حضرت عمر کی بیعت کی پھر توڑ دی تو ہم اس سے قتال کرتے۔ میں نے شیخ امام ابو الطیب سہل بن محمد الصعلو کی سے سنا جو اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل ومناقب، خصوصیات ومحاسن اور آپ کے صدق وقوت دینی اور صحت بیعت کی دلیلیں جمع ہیں وہ ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ان کی بڑی باتوں میں سے ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن کے معاملے میں آپ کے دل میں جو خیال آیا وہ آپ نے نہیں چھوڑا (بلکہ بیان کر دیا) اگرچہ وہ تھوڑا سا تھا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: میرے دل میں بات پیدا ہوئی یہ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اگر آپ کو حضرت ابو بکرو عمر کے معاملے میں کوئی بات پیش آتی یا پوشیدہ یا اعلانیہ اس بارے میں آپ کا کوئی اختلاف ہوتا تو آپ صراحت کیساتھ بیان کر دیتے یا اشارۃ اس پر تنبیہ کرتے جیسے آپ نے حضرت عبدالرحمٰن کے فعل کے وقت دل میں خیال آنے کے وقت کیا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت طلحہ و حضرت زبیر کا حضرت علی سے جنگ کرنے کا سبب یہ تھا بعض نے لوگوں نے ان دونوں کے لیے یہ ظاہر کیا کہ حضرت علی حضرت عثمان کے قتل سے راضی تھے چنانچہ یہ دونوں اُم المؤمنین حضرت عائشہ کے پاس گئے اور حضرت عائشہ کو حضرت عثمان کے خون کے طلب اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کی غرض سے نکلنے پر ابھارا اس وجہ سے کہ حضرت علی ان سے اور جو مدینہ میں حضرت عثمان کے قتل کے لیے آئے تھے ان کے درمیان علیحدگی اختیار کر رکھی تھی چنانچہ دونوں فریقوں کے درمیان شیطان نے اختلاف پیدا کر دیا یہاں تک کہ جنگ کی نوبت آ گئی پھر وہ اپنے فعل پر نادم ہوئے اور اکثر نے توبہ کی پھر حضرت عائشہ کہا کرتی تھی میں نے چاہا کہ حرث بن ہشام کی اولاد کی طرح دس بار مجھ پر رویا جاتا اور میں نے یہ سفر نہ کیا ہوتا جو میں نے کیا اور یہ روایت کی گئی ہے کہ جب بھی اس سفر کا ذکر ہوا آپ رونے لگتیں یہاں تک کہ آپ کا دوپٹہ آنسو سے تر ہو جاتا اور کہتیں : اے کاش میں بھولی بسری ہوتی۔روایت کی گئی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلانے کے لیے قاصد بھیجا جب آپ آئے تو حضرت علی نے کہا: میں اللہ کی قسم آپ کو دیتا ہوں کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں دوست اسکا علی دوست اے اللہ جو اسے دوست رکھے تو اسے دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے اس سے تو دشمنی رکھ ! حضرت طلحہ نے کہا ہاں میں نے سنا ہے تو حضرت علی نے کہا پھر آپ مجھ سے کیوں جنگ کرتے ہیں ؟ آپ نے کہا: مجھے یاد نہیں تھا راوی کہتے ہیں پھر حضرت طلحہ جنگ سے علیحدہ ہو گئے۔ روایت کی گئی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نیزہ مارا گیا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصحاب میں سے ایک آدمی کی اس نے بیعت کی پھر وہ مر گیا تو اس کی خبر جب حضرت علی کو دی گئی تو آپ نے فرمایا: اللہ اکبر اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اللہ انکار کرتا ہے کوئی جنت میں داخل ہو مگر میری بیعت جس کی گردن میں ہو۔ روایت کی گئی ہے کہ جب حضرت علی تک حضرت زبیر بن عوام کا رجوع پہنچا تو آپ نے فرمایا: آپ نے بخل کی وجہ سے رجوع نہیں کیا بلکہ آپ نے توبہ کی وجہ سے رجوع کیا اور جب ابن جرموز آ یا جو حضرت زبیر کا قاتل تھا تو آپ نے فرمایا : ابن صفیہ(حضرت زبیر) کا قاتل جہنم میں داخل ہو گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔

الْحَسَنِ، ← سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ أَبُو الْعَلَاءِ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، فِي مُسنَدِهِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الدَّقَّاقُ ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Hadith 366

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 367

وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكونَ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا [ص:374] عَلَى سُرِرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] وَكَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَرِيئًا مِنْ قَتْلِ عُثْمَانَ وَكَانَ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا قَتَلْتُ وَلَا أَمَرْتُ وَلَا رَضِيتُ وَلَا شَارَكْتُ فِي قَتْلِ عُثْمَانَ، وَلَكِنْ غُلِبْتُ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرِرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]

الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے خبر دی کہ احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہا سفیان نے ذکر کیا وہ جعفر ابن محمد سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ میں، طلحہ اورز بیران لوگوں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا:وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِ ھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ (الحجر:47) ترجمہ: اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔ اور امیر المؤمنین حضرت علی حضرت عثمان کے قاتلین سے بری تھے آپ فرمایا کرتے تھے اللہ کی قسم نہ میں نے قتل کیا یہ حکم دیا نہ راضی ہوا اور نہ حضرت عثمان کے قتل میں شریک ہوا لیکن مجھ پر غلبہ پا لیا گیا۔ اور آپ فرمایا کرتے تھے : میں امید کرتا ہوں کہ میں اور حضرت عثمان ان لوگوں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ (الحجر:47) ترجمہ: اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔

عَلِيٌّ: إِنِّي لَأَرْجُو ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 367

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 368

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي , ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ , ثنا شُعْبَةُ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: أَدْرَكْتُ خَمْسَمِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَكْثَرَ كُلُّهُمْ يَقُولُ: عُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ. وَأَمَّا خُرُوجُ مَنْ خَرَجَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ أَهْلِ الشَّامِ فِي طَلَبِ دَمِ عُثْمَانَ ثُمَّ مُنَازَعَتُهُ إِيَّاهُ فِي الْإِمَارَةِ فَإِنَّهُ غَيْرُ مُصِيبٍ فِيمَا فَعَلَ، وَاسْتَدْلَلْنَا بِبَرَاءَةِ عَلِيٍّ مِنْ قَتْلِ عُثْمَانَ بِمَا جَرَى لَهُ مِنَ الْبَيْعَةِ ثُمَّ بِمَا كَانَ لَهُ مِنَ السَّابِقَةِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْفَضَائِلِ الْكَثِيرَةِ وَالْمنَاقِبِ الْجَمَّةِ الَّتِي هِيَ مَعْلُومَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ إِنَّ الَّذِي خَرَجَ عَلَيْهِ وَنَازَعَهُ كَانَ بَاغِيًا عَلَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخْبَرَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ بِأَنَّ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ تَقْتُلُهُ فَقَتَلَهُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَرْبِ صِفِّينَ

ابو الحسن علی بن محمد بن علی المقریٔ نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن محمد ابن اسحاق نے ہمیں خبر دی کہا یوسف بن یعقوب القاضی نے ہم سے بیان کیا کہا عمرو بن مرزوق نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ نے ہم سے بیان کیا وہ منصور بن عبدالرحمٰن سے راوی آپ نے شعبی کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے پانچ یا اس سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو پایا وہ سبھی یوں کہتے تھے : حضرت عثمان وعلی وطلحہ و زبیرجنتی ہیں۔ جس نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر خروج کیا اہل شام کیساتھ ان کا خروج حضرت عثمان کے خون کے مطالبہ میں پھر ان کا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں جنگ کرنا درست نہیں ہے ہمارا استدلال حضرت علی کا قتل عثمان سے براءت کا ہے کیونکہ آپ کی بیعت جاری ہو چکی تھی اس لیے کہ آپ اسلام ،ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ ،فضائل کثیرہ اور بہت سے مناقب میں سبقت لے جانے والے ہیں جو اہل معرفت کے ہاں معلوم ہیں۔ جس نے آپ پر خروج کیا اور آپ سے منازعت کی وہ آپ سے بغاوت کرنے والا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر دی تھی کہ آپ کو باغی گروہ قتل کرے گا تو آپ کو ان لوگوں نے شہید کو جنہوں نے جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر خروج کیا تھا۔

أَدْرَكْتُ خَمْسَمِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَوْ أَكْثَرَ كُلُّهُمْ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Hadith 368

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 369

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبْعِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ , ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ , ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , ثنا شُعْبَةُ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ: تَقْتُلكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ الْأَصَمُّ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:375] قَالَ لِعَمَّارٍ: تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

ابو الحسین علی بن محمد سبعینی نیشاپوری نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس الاصم نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن مرزوق نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالصمد بن عبد الوارث نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ خالد حذاء سے وہ سعید بن ابو الحسن سے وہ اپنی ماں سے وہ حضرت سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمار سے فرمایا :’’ مجھے باغی گروہ قتل کرے گا‘‘۔ اصم نے کہا اور ہم سے ابراہیم بن مرزوق نے بیان کیا کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ خالد حذاء سے وہ حسن بن ابو الحسن سے وہ اپنی ماں اُم سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمار سے فرمایا: ’’تجھے باغی گروہ قتل کرے گا‘‘۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أُمِّهِ2، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبْعِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ،

Hadith 369

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 370

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي وَأَبَا الطَّيِّبِ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ الْكَرَابِيسِيَّ وَأَبَا أَحْمَدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارِميَّ يَقُولونَ: سَمِعْنَا أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ وَهُوَ - ابْنُ خُزَيْمَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ: خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْلَاهُمْ بِالْخِلَافَةِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ثُمَّ عُمَرُ الْفَارُوقُ ثُمَّ عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَحْمَةُ اللَّهُ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ. قَالَ: وَكُلُّ مَنْ نَازَعَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي إِمَارَتِهِ فَهُوَ بَاغٍ، عَلَى هَذَا عَهِدْتُ مشَايِخَنَا وَبهُ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ. قَالَ الشَّيْخُ: ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ مَنْ خَرَجَ عَلَيْهِ بِبَغْيِهِ، عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَيَعْنِي بِقِيَامِ السَّاعَةِ انْقِرَاضَ ذَلِكَ الْعَصْرِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَصَحِيحٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَاتَلَهُمْ قِتَالَ أَهْلِ الْعَدْلِ مَعَ أَهْلِ الْبَغْيِ فَكَانَ أَصْحَابُهُ لَا يُجِيزُونَ عَلَى جَرِيحٍ وَلَا يَقْتُلونَ مُوَلِّيًا وَلَا يَسْلُبونَ قَتِيلًا

ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا میں نے ابو بکر محمد بن جعفر المزکی اور ابو طیب محمد بن احمد الکرابیسی اور ابو احمد بن ابو الحسن الدارمی سے سنا وہ سب کہتے ہیں ہم نے ابو بکر محمد بن اسحاق ابن خزیمہ رحمہ اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سے سب سے افضل اور خلافت کے زیادہ مستحق حضرت ابو بکر صدیق ہیں پھر حضرت عمر فاروق ہیں پھر حضرت عثمان ذوالنورین ہیں پھر حضرت علی بن ابو طالب ہیں رحمۃ اللہ ورضوان علیہم اجمعین۔ آپ نے فرمایا: ہر وہ شخص جس نے حضرت امیر المؤمنین علی بن ابو طالب سے آپ کے دور خلافت میں آپ سے جنگ کی وہ باغی ہے اس پر ہمارے مشایخ گزرے ہیں اور ایسے ہی ابن ادریس امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جنہوں نے حضرت علی پر خروج کیاوہ اپنی بغاوت کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا:لا تقوم الساعۃ حتی تقتتل فئتان عظیمتان تکون بینھما مقتلۃ عظیمۃ ودعواھما واحدۃ ’’قيامت قائم نہیں ہو گئی یہاں تک کہ دو عظیم گروہ لڑیں گے ان دونوں کے درمیان عظیم جنگ ہو گی ان دونوں کا دعوی ایک ہو گا‘‘۔الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہا معمر نے ہمیں خبر دی وہ ہمام بن منبہ سے راوی آپ نے کہا یہ وہ روایت ہے جسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم سے بیان کیا آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر یہی حدیث ذکر کی۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یعنی قیام قیامت سے یہ زمانہ ختم ہو جائے گا۔ واللہ اعلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیح روایت میں ہے آپ کا ان سے قتال اہل عدل کا اہل بغاوت کیساتھ تھا چنانچہ آپ کے ساتھی زخمی کی تجہیز نہیں کرتے اور نہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کوقتل کرتے اور نہ ہی مقتول کو سولی پر چڑھاتے تھے۔

أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبَا أَحْمَدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارِميَّ يَقُولونَ: ← أَبَا الطَّيِّبِ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ الْكَرَابِيسِيَّ ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 370

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 371

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّ كَثِيرَ بْنَ هِشَامٍ حَدَّثَهُمْ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ [ص:376] مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: شَهِدْتُ صِفِّينَ فَكَانُوا لَا يُجْهِزونَ عَلَى جَرِيحٍ وَلَا يَقْتُلُونَ مُوَلِّيًا وَلَا يَسْلُبونَ قَتِيلًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ بِفُرْقَةٍ تَكُونُ بَيْنَ طَائِفَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِهِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلهَا أُولَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ، فَكَانَتْ هَذِهِ الْفُرْقَةُ بَيْنَ عَلِيٍّ وَمَنْ نَازَعَهُ وَقَدْ جَعَلَهُمَا جَمِيعًا مِنْ أُمَّتِهِ ثُمَّ خَرَجَتْ هَذِهِ الْمَارِقَةُ وَهِيَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ أُولَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ الْمَارِقَةَ الْخَارِجَةَ وَأَخْبَرَ بِالْمُخْدجِ الَّذِي يَكُونُ فِيهِمْ فَوَجَدوا بِالصِّفَةِ الَّتِي وُصِفَ وَوُجِدَ الْمُخَدَّجُ بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَغَيْرِهِ، وَكَانَ إِخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ وَوجُودُ تَصْدِيقهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ مِنْ دَلَائِلِ النُّبُوَةِ وَمِمَّا يُؤْثَرُ فِي فَضَائِلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كَوْنِهِ مُحِقًّا فِي قِتَالَهُمْ مُصِيبًا فِي قَتْلِ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ وَحِينَ وُجِدَ الْمُخَدَّجُ سَجَدَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى عَلَى مَا وُفِّقَ لَهُ مِنْ قِتَالِهِمْ، وَقَدْ ذَكَرْنَا هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي الْفَضَائِلِ وَهَذَا الْكِتَابُ لَا يَحْتَمِلُ أَكْثَرَ مِنْ هَذَا

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہاعلی بن حمشاذ نے ہم سے بیان کیا کہا حرث بن ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ کثیر بن ہمام نے ان سے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن برقان نے بیان کیا کہا ہم سے میمون بن مہران نے بیان کیا وہ ابو امامہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: میں جنگ صفین میں حاضر تھا وہ زخمی کی تجہیز نہیں کرتے اور نہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کو قتل کرتے اور نہ ہی مقتول کو سولی پر چڑھاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فرقے کی خبر دی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے دو فرقوں کے درمیان ہو گا وہ ان دونوں سے دین سے جدا ہو کر نکلے گا دوگروہوں والے اسے حق کیساتھ قتل کریں گے یہ فرقہ حضرت علی اور جس نے آپ سے جھگڑا کیا اس کے درمیان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں فرقوں کے سبھی کو اپنی امت قراردیا پھر یہ دین سے جدا ہونے والا فرقہ خارج ہوا یہ اہل نہروان تھے جنہیں حضرت علی اور آپ کے اصحاب نے قتل کیا وہ دونوں گروہوں والوں میں سے حق کیساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دین سے جدا وخارج ہونے والے فرقے کے اوصاف بیان کیے اور ان کے چھوٹے ہاتھ ہونے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی تو جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصف بیان کیا ایسا ہی پایا گیا اور اسی صفت کیساتھ ان کے چھوٹے ہاتھ ہائے گئے جس صفت کیساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ اس کی وضاحت حضرت ابو سعید خدری وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیث میں موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسکی خبر دینا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد اس کی تصدیق کا پایا جانا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے دلائل میں سے ہے ان باتوں میں سے جو حضرت امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل میں ترجیح دیتی ہے کہ آپ ان کیساتھ قتال میں حق پر تھے جو ان میں سے قتل ہوا ان کے قتل میں آپ درستگی پر تھے اور جب چھوٹے ہاتھ کی نشانی پائی گئی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے لیے اس بات کے شکریہ کا سجدہ کیا جو ان کے قتال میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موافق ہوئی۔ ہم نے یہ احادیث کتاب الفضائل میں ذکر کی ہیں اور یہ کتاب اس سے زیادہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مَيْمُونِ بْنِ [ص:479] مِهْرَانَ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّ كَثِيرَ بْنَ هِشَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 371

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 372

وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْرَائِيلُ [ص:377] أَبُو مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَعَهُ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى النَّاسِ مَرَّةً وَإِلَيْهِ مَرَّةً وَيَقُولُ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ يُصْلِحُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ سُفْيَانُ: قَوْلُهُ «فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» يُعْجِبُنَا جِدًّا، قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَعْجَبَهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُمَا جَمِيعًا مُسْلِمِينَ، وَهَذَا خَبَرٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ وَفَاةِ عَلِيٍّ فِي تَسْلِيمِهِ الْأَمْرَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ هَدَاكُمْ بأَوَّلِنَا وَحَقَنَ دِمَاءَكُمْ بآخِرِنَا، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ مَا هُوَ حَقٌّ لَامْرِئٍ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي بَلْ حَقٌّ لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ إِصْلَاحِ الْمُسْلِمِينَ وَحَقْنِ دمَائِهِمْ بَلْ وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةً لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ. قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الَّذِي أَوْدَعْنَاهُ الْكِتَابَ اعْتِقَادُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ وَأَقوَالُهُمْ وَقَدْ أَفْرَدْنَا كُلَّ بَابٍ مِنْهَا بِكِتَابٍ يَشْتمِلُ عَلَى شَرْحِهِ مُنَوَّرًا بدَلَائِلِهِ وَحُجُجِهِ، وَاقْتَصَرْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ عَلَى ذِكْرِ أُصُولِهِ وَالْإِشَارَةِ إِلَى أَطْرَافِ أَدِلَّتِهِ إِرَادَةَ انْتِفَاعِ مَنْ نَظَرَ فِيهِ بِهِ وَاللَّهُ يُوَفِّقُنَا لِمُتَابَعَةِ السُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ وَيَجْعَلُ عَاقِبَةَ أُمُورِنَا إِلَى رُشْدٍ وَسَعَادَةٍ بِفَضْلِهِ وَسَعَةِ رَحْمَتِهِ إِنَّهُ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ الْوَاسِعُ الْغُفْرَانِ

ابو الحسن بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہا سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا اسرائیل نے ہم سے بیان کیا کہا ابو موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے حضرت حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ کومنبر پر تشریف فرما دیکھا اور حضرت حسن بن علی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے کبھی حضرت حسن کی طرف اور فرماتے :’’میرا یہ بیٹا سردار ہے شاید کہ اللہ تعالیٰ اسکے ذریعے دو مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان صلح کرائے‘‘۔سفیان نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان:’’مسلمانوں کے دو گروہ‘‘ ہمیں بہت زیادہ تعجب میں ڈالتا ہے۔ امام بیہقی نے فرمایا : انہیں تعجب میں اس لیے ڈالتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں گروہوں کو اکٹھا مسلمان نام دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ خبر حضرت علی کی وفات کے بعد حضرت حسن بن علی کا امر خلافت کو حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حوالے کرنے میں پوری ہوئی۔ حضرت امام حسن نے اپنے خطبے میں فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہم سے پہلے ہدایت دی اور تمہارے خون کو ہمارے آخر کے ذریعے بچایا ہے اور بے شک یہ امر جس میں میرا اور حضرت معاویہ کا اختلاف ہوا یہ کسی کا حق نہیں جو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہو بلکہ میں اپنا حق حضرت معاویہ کے لیے چھوڑتا ہوں مسلمانوں کی اصلاح اور ان کے خون کو محفوظ رکھنے کے ارادے سے بلکہ میں نہیں جانتا کہ تمہارے لیے فتنہ ہو اور ایک مدت تک کا سامان ہو۔ خاتمہ: امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ اہل سنت و جماعت کے اعتقاد واقوال ہیں جو ہم نے اس کتاب میں لکھے ہیں اور ہم نے اس کتاب کے ہر باب کو علیحدہ کیا جو اس کی روشن تشریح پر مشتمل ہے دلائل وحجبتوں کیساتھ ، ہم نے اس کتاب میں اسکے اصول ذکر کرنے پر اکتفاء کیا اور بعض دلائل کے اطراف کی طرف اشارہ کیا اس شخص کو نفع پہنچانے کے ارادہ سے جو اس میں اس کے ذریعے غور کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے اور بدعت سے بچائے اور ہمارے امر کا انجام رشدو سعادت کیساتھ فرمائے اپنے فضل اور وسیع رحمتوں سے وہ حنان ومنان اور وسیع بخشش والا ہے۔

أبا بكرة ← الْحَسَنِ، ← إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← وقد

Hadith 372

chevron_left Previous
1…27282930
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him