الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 38
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، إِجَازَةً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِمَكَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْجَارُودِيَّ، يَقُولُ: ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ ابْنَ عُلَيَّةَ فَقَالَ: أَنَا مُخَالِفٌ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، وَفِي قَوْلِهِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَسْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُ، أَنَا أَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الَّذِي كَلَّمَ مُوسَى مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَذَاكَ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ كَلَامًا أَسْمَعَهُ مُوسَى مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ قُلْنَا: وَلِأَنَّ اللَّهَ قَالَ مُخْبِرًا عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنَّهُمْ قَالُوا: {إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ} [المدثر: 25] ، يَعْنُونَ الْقُرْآنَ، فَمَنْ زَعَمَ أَنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ فَقَدْ جَعَلَهُ قَوْلًا لِلْبَشَرِ، وَهَذَا مِمَّا أَنْكَرَهُ اللَّهُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛ وَلِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: {قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا} [الكهف: 109] ، فَلَوْ كَانَتِ الْبِحَارُ مِدَادًا يُكْتَبُ بِهِ لِنَفِدَتِ الْبِحَارُ وَتَكَسَّرَتِ الْأَقْلَامُ وَلَمْ يَلْحَقِ الْفَنَاءُ كَلِمَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا لَا يَلْحَقُ الْفَنَاءُ عِلْمَ اللَّهِ؛ لِأَنَّ مَنْ فَنِيَ كَلَامُهُ لَحِقَتْهُ الْآفَاتُ وَجَرَى عَلَيْهِ السُّكُوتُ، فَلَمَّا لَمْ يَجْرِ ذَلِكَ عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ صَحَّ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ مُتَكَلِّمًا وَلَا يَزَالُ مُتَكَلِّمًا، وَقَدْ نَفَى النَّفَادَ عَنْ كَلَامِهِ كَمَا نَفَى الْهَلَاكَ عَنْ وَجْهِهِ. وَأَمَّا قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ} [التكوير: 19] ، مَعْنَاهُ: قَوْلٌ تَلَقَّاهُ عَنْ رَسُولٍ كَرِيمٍ أَوْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولٍ كَرِيمٍ، أَوْ نَزَلَ بِهِ رَسُولٌ كَرِيمٌ. فَقَدْ قَالَ: {فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ} [التوبة: 6] ، فَأَثْبَتَ أَنَّ الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَكُونُ شَيْءٌ وَاحِدٌ كَلَامًا لِلرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكلَامًا لِلَّهِ، دَلَّ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْأَوَّلِ مَا قُلْنَا، وَقَوْلُهُ: {إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا} [الزخرف: 3] مَعْنَاهُ: سَمَّيْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَأَنْزَلْنَاهُ مَعَ الْمَلَكِ الَّذِي أَسْمَعْنَاهُ إِيَّاهُ حَتَّى نَزَلَ بِهِ بِلِسَانِ الْعَرَبِ لِيَعْقِلُوا مَعْنَاهُ، وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ} [النحل: 62] ، يَعْنِي: يَصِفُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَلَمْ يُرِدْ بِهِ الْخَلْقَ. وَقَوْلُهُ: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ} [الأنبياء: 2] يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ ذِكْرًا غَيْرَ الْقُرْآنِ، وَهُوَ كَلَامُ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَعْظِهِ إِيَّاهُمْ بِقَوْلِهِ {وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ} [الذاريات: 55] ؛ وَلِأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: لَا يَأْتِيهِمْ ذِكْرٌ إِلَّا كَانَ مُحْدَثًا، وَإِنَّمَا قَالَ: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٌ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ} [الأنبياء: 2] ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ ذِكْرًا غَيْرَ مُحْدَثٍ ثُمَّ إِنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ ذِكْرَ الْقُرْآنِ لَهُمْ وَتِلَاوتَهُ عَلَيْهِمْ وَعِلْمَهُمْ بِهِ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُحْدَثٌ، وَالْمَذْكُورُ الْمَتْلُوُّ الْمَعْلُومُ غَيْرُ مُحْدَثٍ، كَمَا أَنَّ ذِكْرَ الْعَبْدِ لِلَّهِ وَعِلْمَهُ بِهِ وَعِبَادَتَهُ لَهُ مُحْدَثٌ، وَالْمَذْكُورُ الْمَعْلُومُ الْمَعْبُودُ غَيْرُ مُحْدَثٍ، وَحِينَ احْتُجَّ بِهِ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ تَنْزِيلُهُ إِلَيْنَا هُوَ الْمُحْدَثُ لَا الذِّكْرُ نَفْسُهُ مُحْدَثٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَذَا الَّذِي أَجَابَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ ظَاهِرٌ فِي الْآيَةِ، وَإِتْيَانُهُ تَنْزِيلُهُ عَلَى لِسَانِ الْمَلَكِ الَّذِي أَتَى بِهِ، وَالتَّنْزيلُ مُحْدَثٌ، وَقَدْ أَجَابَ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالْجَوَابِ الْأَوَّلِ. وَأَمَّا تَسْمِيَةُ عِيسَى بِكَلِمَةِ اللَّهِ فَعَلَى مَعْنَى أَنَّهُ صَارَ مُكَوَّنًا بِكَلِمَةِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَبٍ كَمَا صَارَ آدَمُ مُكَوَّنًا بِكَلِمَةِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَبٍ وَلَا أُمٍّ، وَقَدْ بَيَّنَهُ بِقَوْلِهِ: {إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ} [آل عمران: 59] . وَقَدْ رُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ» ، وَالْقُرْآنُ فِيمَا كُتِبَ فِي الذِّكْرِ لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ} [البروج: 22] . وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى قِدَمِ الْقُرْآنِ وَوُجُودِهِ قَبْلَ وُقُوعِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ الْحَدِيثُ الصَّحِيحُ الَّذِي
ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں حسن بن رشیق نے اجازۃ خبر دی کہا ہم سے محمد بن سفیان بن سعد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن اسماعیل اصبہانی نے مکہ میں بیان کیا کہا میں نے جارودی کو کہتے ہوئے سنا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں ہر چیز میں اسکا مخالف ہو اور لا الہ الا اللہ کے بارے میں فرمایا: میں ایسے نہیں کہتا جیسے وہ کہتا ہے : میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا پردے کے پیچھے سے ، اور وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنا کلام پیدا کیا اور اسے حضرت موسیٰ کوسنا یا پردے کے پیچھے سے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ہم کہتے ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ مشرکین نے کہا: ترجمہ: یہ نہیں مگر آدمی کا کلام۔ (المدثر :25) اس سے ٍوہ قرآن مراد لیتے ہیں پس جس نے گمان کیا کہ قرآن مخلوق ہے تو اس نے اسے بشر کا کلام ٹھہرا دیا یہ انہی باتوں میں سے ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر انکار کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: تم فرما دو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہو جائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں۔ پس اگر سمند روشنائی بن جائیں جس سے لکھا جائے تو سمندر ختم ہو جائیں گے اور قلمیں ٹوٹ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ عزوجل کے کلمات کو فناء لاحق نہیں ہو سکتی جیسے اللہ تعالیٰ کے علم کو فناء لاحق نہیں ہوتی کیونکہ جس کا کلام فانی ہو جائے اسے آفات لاحق ہو جاتی ہیں اور اس پر سکوت جاری ہو جاتا ہے تو جب آفات وسکوت ہمارے رب عزوجل پر جاری نہیں ہوتا تو ثابت ہو گیا کہ وہ ہمیشہ سے متکلم ہے اور ہمیشہ متکلم رہے گا اور اس نے خود اپنے کلام کے ختم ہونے کی نفی کی جیسا کہ اپنی ذات کی ہلاکت کی اس نے نفی کی۔ رہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ترجمہ: بے شک یہ عزت والے رسول کا پڑھنا ہے۔ (التکویر: 19) اس کا معنی یہ ہے : یہ وہ قول ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول کریم(جبریل) سے ملا ہے یا جسے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے رسول کریم سے سنا ہے یا جسے لیکر رسول کریم اترا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ: تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔ (التوبة:6)چنانچہ اس نے ثابت کر دیا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور رسول کا کلام اور اللہ تعالیٰ کا کلام ایک ہی چیز نہیں ہے یہ اس بات کی دلیل ہے پہلی آیت سے مراد وہی ہے جو ہم نے بیان کی۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ترجمہ: ہم نے اسے عربی قرآن اتارا۔(الزخرف:3) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کا نام قرآن عربی رکھا اور اسے اس فرشتے کیساتھ اتارا جسے ہم نے سنایا تاکہ وہ عربی زبان میں اتارے جس کی وجہ سے اہل عرب اسکا معنی سمجھیں یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرمایا : ترجمہ: اور اللہ کے لئے وہ ٹھہراتے ہیں جو اپنے لئے نا گوار ہے۔ (النحل:62) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ بیان کرتے ہیں جو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور اس سے مخلوق مراد نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ترجمہ: جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے۔ ذکر سے مراد احتمال یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے : ذکر سے مراد قرآن کے علاوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کو وعظ ونصیحت فرمانا ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کے ساتھ فرمایا: ترجمہ: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔ (الذاريات:55) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ترجمہ: جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ذکر (قرآنی نصیحت یعنی قرآن) حادث نہیں ہے اور جس کا ذکر کیا گیا ہے، جو پڑھا گیا ہے وہ حادث نہیں ہے جیسا کہ بندے کا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کا اللہ تعالیٰ کو جاننا اور اس کی عبادت کرنا حادث ہے اور جس کا ذکر کیا گیا، جسے جانا گیا، جس کی عبادت کی گئی وہ حادث نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کا قرآن کے متعلق قول فیصل : جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ پر اسی آیت سے(قرآن کے مخلوق ہونے پر) دلیل پکڑی گئی تو امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اس میں یہ احتمال ہے کہ اس کا ہماری طرف اتارتا حادث ہو نہ کہ قرآن خود حادث ہو۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو جواب دیا وہ اس آیت میں ظاہر ہے اور اس کے آنے سے مراد اس فرشتے کی زبان پر نازل کرنا ہے جو اسے لے کر آیا اور اتارنا حادث ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے پہلا جواب دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام’’کلمۃ اللہ‘‘ کی وجہ تسمیہ : ا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’کلمۃ اللہ‘‘ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا وجود بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے کلمے سے ہوا ہے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا وجود بغیر ماں اور باپ کے اللہ تعالیٰ کے کلمے سے ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کیساتھ اس بات کو بیان فرمایا : ترجمہ:عیسیٰ کی کہاوت اللہ کی نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا وہ فوراً ہو جاتا ہے۔ (آل عمران:59)لوح محفوظ میں ہر شے لکھی گئی ہے: ہم نے صحیح حدیث میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذکر(لوح محفوظ) میں ہر شے لکھی گئی۔ اور قرآن بھی ان چیزوں میں سے ہے جو لوح محفوظ میں لکھی گئی ہیں کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : ترجمہ: بلکہ وہ کمال شرف والا قرآن ہے ،لوح محفوظ میں۔(بروج:22)اس حدیث میں قرآن کے قدیم ہونے کی دلیل ہے اور اسکا وجود حاجت پیش آنے سے پہلے ہے۔اس کے دلائل میں سے ایک وہ حدیث صحیح ہے۔
الجارودي ← محمد بن إسماعيل الأصبهاني ← مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← الحسن بن رشيق ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Hadith 38
