Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 338

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِيُّ، بِنَيْسَابُورَ، أنا أَبُو حَمْزَةَ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا مرِضَتْ فَاطِمَةُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ [ص:354]، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأَذِنُ عَلَيْكَ، فَقَالَتْ: أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَتْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ الدَّارَ وَالْمَالَ وَالْأَهْلَ وَالْعشيرَةَ إِلَّا ابْتغَاءَ مرْضاةِ اللَّهِ وَمرضاةِ رَسُولِهِ وَمرضاتِكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ثُمَّ تَرَضَّاهَا حَتَّى رَضِيتْ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدان بن عثمان العتکی نے نیشاپور میں بیان کیا کہا ابو حمزہ نے ہمیں خبر دی وہ اسماعیل بن ابو خالد سے وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا جب حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہو گئیں تو آپ کے پاس حضرت ابو بکر صدیق آئے تو آپ نے ان سے اجازت چاہی کہا: حضرت ابو بکر آپ سے اجازت مانگتے ہیں، تو سیدہ نے حضرت علی سے کہا: کیا آپ پسند کرتے ہیں میں انہیں اجازت دوں؟ آپ نے کہا: ہاں تو سیدہ فاطمہ نے اجازت دے دی پس حضرت ابو بکر ان کے پاس آئے ، انہیں راضی کرنے لگے اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے گھر ، مال ،اہل اور خاندان صرف اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی رضا اور تم اہل بیت کی رضا کے لیے چھوڑ دیا ہے پھر آپ راضی کرتے رہے حتٰی کہ سیدہ آپ سے راضی ہو گئی۔

نَعَمْ، فَأَذِنَتْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا ← أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ ← يَا فَاطِمَةُ [ص:354]، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأَذِنُ عَلَيْكَ، ← لَمَّا مرِضَتْ فَاطِمَةُ أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو حَمْزَةَ ← عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِيُّ، بِنَيْسَابُورَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 338

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 339

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي , ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , ثنا ابْنُ دَاوُدَ , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ مكَانَ أَبِي بَكْرٍ لِحَكَمْتُ بِمِثْلِ مَا حَكَمَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فِي فَدَكَ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْمُوَالِاةِ فَلَيْسَ فِيهِ - إِنْ صَحَّ إِسنَادُهُ - نَصٌّ عَلَى وَلَايَةِ عَلِيٍّ بَعْدَهُ، فَقَدْ ذَكَرْنَا مِنْ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ مَا دَلَّ عَلَى مَقْصودِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ أَنَّهُ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيمَنِ كَثُرَتِ الشَّكَاةُ عَنْهُ وَأَظْهَرُوا بُغْضَهُ فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرَ اخْتِصَاصَهُ بِهِ وَمَحبَّتَهُ إِيَّاهُ وَيَحُثُّهُمْ بِذَلِكَ عَلَى مَحَبَّتِهِ وَمُوَالِاتِهِ وَتَرْكِ مُعَادَاتِهِ فَقَالَ: «مِنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيَّهُ» وَفِي بَعْضِ الرُّوَايَاتِ: مِنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمْ وَالِ مِنْ وَالِاهُ وَعَادِ مِنْ عَادَاهُ. وَالْمُرَادُ بِهِ وَلَاءُ الْإِسْلَامِ وَمَودَّتُهُ، وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يوَالِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَلَا يُعَادِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَهُوَ فِي مَعْنَى مَا ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ «أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي إِلَا [ص:355] مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ» . وَفِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ شَكَا عَلِيًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبْغِضُ عَلِيًّا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لَا تُبْغِضْهُ وَأَحْبِبْهُ وَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، قَالَ بُرَيْدَةُ: فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ أَليَّ مِنْ عَلِيٍّ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

باغ فدک کا میرا فیصلہ حضرت ابو بکر والا ہوتا ،حضرت زید بن علی بن حسین کا فتویٰ : ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ الصفار نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن اسحاق القاضی نے ہمیں خبر دی کہا نصر بن علی نے ہمیں خبر دی کہا ابن داؤد نے ہم سے بیان کیا وہ فضیل بن مرزوق سے راوی آپ نے کہا کہ حضرت زید بن علی بن حسین بن علی نے فرمایا: اگر حضرت ابو بکر صدیق کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی باغ فدک کے بارے میں حضرت ابو بکر کی مثل فیصلہ کرتا۔ کچھ حد یث موالات کے بارے میں: رہا معاملہ حدیث موالاۃ کا تو اگر اس کی سند صحیح ہو تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی کی خلافت پر کوئی نص نہیں ہے ہم نے اس کے طرق کتاب الفضائل میں ذکر کیے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا تو آپ کے متعلق بہت زیادہ شکایتیں آئیں اور انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغض کا اظہار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ کیا کہ اپنے ساتھ حضرت علی کی خصوصیت و محبت ذکر کریں اور اس کے ذریعے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت وموالات پر ابھاریں اور آپ کی دشمنی چھوڑ دیں چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مِنْ کُنْتُ وَلِیَّہُ فَعَلِیُّ وَلِیَّہُ ‘‘ جس کا میں دوست حضرت علی اس کا دوست۔ اور بعض روایات میں ہے: مِنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیُّ مَوْلَاہُ اَللّٰھُمَّ وَالِ مِنْ وَالِاہُ وَعَادِمِنْ عَادَاہُ جس کا میں دوست حضرت علی اس کا دوست ہے اے اللہ! تو اسے دوست رکھ جو اسے دوست رکھے اور تو اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے۔ اس سے مراد اسلامی دوستی اور مؤدت ہے اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دوست رکھیں اور ایک دوسرے سے دشمنی نہ رکھیں یہ اس حدیث کا معنی ہے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ترجمہ: اس ذات کی قسم! جس نے دانہ پھاڑا اور جان پیدا کی کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عہد ہے کہ مجھ سے صرف مؤمن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ سب سے پیارے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ : اور حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو حضرت علی سے بغض رکھتا ہے؟ کہتے ہیں میں نے کہا: ہاں تو آپ نے فرمایا: ’’اس سے بعض نہ رکھ! اس سے محبت کر اور محبت میں اضافہ کر‘‘۔ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے کوئی ایک بھی حضرت علی سے زیادہ محبوب نہیں ہوا۔

فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← ابن داود ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 339

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 340

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَجَّاجِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ فِي مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مِنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، يَعْنِي بِذَلِكَ وَلَاءَ الْإِسْلَامِ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ وَأَمَا قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لِعَلِيٍّ: أَصْبَحْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ، يَقُولُ: وَلِيُّ كُلِّ مُسْلِمٍ

ہر مؤمن کا مولیٰ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم : ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن محمد بن یعقوب الحجاجی نے ہم سے بیان کیا کہا العباس بن یوسف اشکلی نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے ربیع بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفر مانا: ’’ جس کا میں دوست اس کا علی دوست‘‘ اس سے مراد اسلامی دوستی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ (سيدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :11) ترجمہ: یہ اس لئے کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔ اور حضرت عمر بن خطاب کا حضرت علی کو کہنا: آپ نے ہر مؤمن کی دوستی میں صبح کی۔اس کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں : ہرمسلمان کی دوستی۔

الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← العباس بن يوسف الشكلي ← مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَجَّاجِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 340

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 341

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , أنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ الْحَسَنِ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ، أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ، قَالَ لِي: بَلَى وَاللَّهِ لَوْ يَعْنِي بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَارَةَ وَالسُّلْطَانَ لَأَفْصَحَ لَهُمْ بِذَلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَنْصَحَ لِلْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا وَلِيُّ أَمْرِكِمْ وَالْقَائِمُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ اختَارَ عَلِيًّا لِهَذَا الْأَمْرِ وَجَعَلَهُ الْقَائمَ بِهِ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْ بَعْدِهِ ثُمَّ تَرَكَ عَلِيٌّ مَا أَمَرَ اللَّهُ [ص:356] وَرَسُولُهُ لَكانَ عَلِيٌّ أَوَّلَ مِنْ تَرَكَ أَمْرَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» وَرَوَاهُ شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ الْحَسَنِ أَخَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ وَهُوَ يَقُولُ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَتَولَّاهُمْ، فَذَكَرَ قِصَّةً ثُمَّ قَالَ: وَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ كَمَا يَقُولونَ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ اختَارَ عَلِيًّا لِهَذَا الْأَمْرِ وَللقيَامِ بِهِ عَلَى النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عيهُ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لِأَعْظَمَ النَّاسِ خَطِيَّةً وَجُرْمًا فِي ذَلِكَ؛ إِذْ تَرَكَ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَمَرَهُ أَوْ يَعْذِرُ فِيهِ إِلَى النَّاسِ قَالَ: فَقَالَ الرَّافِضِيُّ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: مِنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِمْرَةَ وَالسُّلْطَانَ وَالْقِيَامَ عَلَى النَّاسِ بَعْدَهُ لِأَفْصَحَ لَهُمْ بِذَلِكَ كَمَا أَفْصَحَ لَهُمْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَلقَالَ لَهُمْ: إِنَّ هَذَا وَلِيُّ أَمْرِكُمْ مِنْ بَعْدِي فَاسْمعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا فَمَا كَانَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا شَيْءٌ فَإِنَّ أَنْصَحَ النَّاسِ كَانَ لِلْمُسْلِمِينَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ , ثنا شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ , أنا الْفُضَيْلُ بْنُ مرْزُوقٍ، فَذَكَرَهُ وَأَمَّا حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَّفَ عَلِيًّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بمنْزلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَعِي» ، فَإِنَّهُ لَا يَعْنِي بِهِ استخلَافَهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ وَإِنَّمَا يَعْنِي بِهِ استخلَافَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ عِنْدَ خُرُوجِهِ إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ كَمَا اسْتَخْلَفَ مُوسَى هَارُونَ عِنْدَ خُرُوجِهِ إِلَى الطُّورِ، وَكَيْفَ يَكُونُ الْمُرَادُ [ص:357] بهُ الْخِلَافَةَ بَعْدَ مَوْتِهِ وَقَدْ مَاتَ هَارُونُ قَبْلَ مُوسَى، ثُمَّ الْجَوَابُ عَنْ هَذَا وَعَنْ جَمِيعِ مَا رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ مَا رُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْ تَنْزِيهِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كِتْمَانِ مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكذَلِكَ قَالْهُ أَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ فَإِنَّا رُوِّينَا عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ مَقْهورًا وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِأُمُورٍ لَمْ يُنَفِّذْهَا فَكَفَى ازْدِرَاءً عَلَى عَلِيٍّ وَمَنْقَصَةً بِأَنْ يَزْعُمَ قَوْمٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بأَمْرٍ فَلَمْ يُنَفِّذْهُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ , أنا شَبَابَةُ , أنا حَفْصُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، فَذَكَرَهُ، وَقَدِ اعْتَرَفَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا بَعْدَ وَفَاتِهِ فِي أَحَاديثَ قَدْ ذَكَرْنَاهَا فِي مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ كِتَابِ (دَلَائِلِ النُّبُوَةِ) وَفِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ وَنَحْنُ نَذْكُرُ هَاهُنَا

کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا؟ یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن علی نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر بن عون نے ہمیں خبر دی کہ فضیل ابن مرزوق نے ہمیں خبر دی آپ نے کہا: میں نے حضرت حسن بن حسن سے سنا کہ آپ سے ایک آدمی سے سوال کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ’’ جس کا میں مولا اس کا علی مولا‘‘ تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیوں نہیں (ایسا ہی فرمایا ہے) اللہ کی قسم ! اگر اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد امارت وسلطنت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے زیادہ فصیح انداز میں بیان فرماتے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں(اگر ایسی بات ہوتی تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہیں :اے لوگو! میرے بعد یہ(حضرت علی) تمہارے امور کا والی اور تم پر حکمران ہو گا تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ اور اسکے رسول نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکر یم کو اس امر کیلئے منتخب کیا ہوتا اور آپ کو اپنے بعد مسلمانوں کا حکمران بنایا ہوتا تو پھر حضرت علی نے اس امر کوترک کر دیا جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا تھا تو اس طرح(معاذ اللہ) حضرت علی سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو چھوڑنے والے ہوئے۔ روافض حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مجرم قرار دیتے ہیں: اور اسے شبابہ بن سوار نے فضیل بن مرزوق سے روایت کیا آپ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن حسن کے بھائی حسن ابن حسن سے سناوہ ایک آدمی کو کہہ رہے تھے جو ان سے محبت رکھتا تھا پھر میں مذکورہ واقعہ ذکر کیا پھر فرمایا: اگر معاملہ ایسے ہی ہوتا جیسے لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو اس امر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں پر حکمرانی کے لیے چن لیا تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں میں سے سب سے بڑے خطاوار اور مجرم ٹھہریں گے(معاذ اللہ تعالیٰ) کیونکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم چھوڑ دیا جیسا کہ(بقول ان لوگوں کے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا اور اس امر میں لوگوں سے معذرت کرنے لگے۔ کہتے ہیں رافضی نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کے لیے یہ نہیں فرمایا ’’جس کا میں مولا اس کا علی مولا‘‘ تو آپ نے فرمایا:خبر دار! اللہ کی قسم ! اگر اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد امارت وسلطنت اور لوگوں پر حکمرانی ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے اس سے زیادہ واضح انداز میں بیان فرماتے جیسا کہ واضح انداز میں ان سے نماز ،زکوٰۃ ، رمضان کے روزوں اور بیت اللہ شریف کے حج کا بیان فرمایا اور(اگر یہی بات ہوتی تو) یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرماتے : یہ میرے بعد تمہارے امور کا والی ہو گاتم اسکی بات سننا اور اطاعت کرنا تو پھر اسکے بعد کوئی چیز نہ ہوتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ ابو بکر احمد بن حسن نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس الاصم نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو طالب نے ہم سے بیان کے کہا شبابہ بن سوار نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں فضیل بن مرزوق نے خبر دی۔ پھر آپ نے یہی واقعہ ذکر کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت : رہا معاملہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوا پنا نائب بنایا تو آپ نے عرض کی : یارسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں نائب بناتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام ماسوا اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ایک روایت میں معی کے الفاظ ہیں۔ ایک وہم کا ازالہ: اس سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے وصال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بنانا نہیں ہے بلکہ اسسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تبوک کی طرف روانہ ہوتے وقت پیچھے نائب بنانا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور کی طرف روانہ ہوتے وقت حضرت ہارون علیہ السلام کو خلیفہ بنایا تھا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد خلافت کیسے مراد ہو سکتی ہے جبکہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ پھر اس کا اور اور اسی کے ہم معنی تمام مرویات کا وہ جواب ہے جس کو ہم نے حضرت حسن بن حسن بن علی بن ابو طالب سے روایت کیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس امر سے منزہ ہیں کہ آپ نے اس امر کو چھپایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کا آپ کو حکم دیا تھا ایسے ہی ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حسن نے فرمایا کیونکہ ہم نے آپ سے روایت کیا آپ نے فرمایا: وہ شخص جو یہ گمان کرتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مغلوب تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کئی ایسے امور کا حکم دیا جن کو آپ نے نافذ نہیں کیا تو اس کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تو ہین تنقیص کافی ہے کہ وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکسی امر کا حکم دیا اور آپ نے نافذ نہیں کیا (یہ کیسے ہو سکتا ہے؟)۔ احمد بن حسن نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس الاصم نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو طالب نے ہم سے بیان کیا کہا شبابہ نے ہمیں خبر دی کہا حفص بن قیس نے ہمیں خبر دی وہ عبداللہ بن حسن سے راویت کرتے ہیں۔ پھر آپ نے یہی بات ذکر کی۔ اور حضرت امیر المؤمنین حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعتراف کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے بعد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں فرمایا۔ ان احادیث میں یہ اعتراف موجود ہے جنہیں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کی احادیث میں ’’دلائل النبوۃ‘‘ کے آخر اور’’ کتاب الفضائل‘‘ میں نے ہم نے ذکر کر دیا ہے ان میں سے یہاں کچھ کا تذکرہ کرتے ہیں:

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 341

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 342

مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: قِيلَ لِعَلِيٍّ: اسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَخْلِفَ، وَلَكِنْ إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِالنَّاسِ خُيْرًا جَمَعَهُمْ عَلَى خَيْرِهِمْ كَمَا جَمَعَهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْرِهِمْ

خلافت کے متعلق حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا قول فیصل: ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر الرزاز نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحمٰن ابن مرزوق نے ہم سے بیان کیا کہا شبابہ بن سوار نے ہم سے بیان کیا کہا شعیب بن میمون نے ہم سے بیان کیا کہ حصین بن عبدالرحمٰن نے ہم سے بیان کیاوہ شعبی سے وہ شقیق بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا: کیا آپ ہم پر خلیفہ بنائے گئے؟ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا تو میں کیسے خلیفہ بنایا جاتا اگر اللہ تعالیٰ لوگوں سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو انہیں ان کے افضل پر جمع کر دیتا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدلوگوں کو ان کے فضل پر جمع کیا تھا۔

قِيلَ لِعَلِيٍّ اسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا. ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعَيْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عبد الرحمن بن مرزوق ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← منها ما

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 342

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 343

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ , أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: لَمَّا ظَهَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ يَوْمَ الْجَمَلِ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَينَا فِي هَذِهِ الْإِمَارَةِ شَيْئًا حَتَّى رَأَيْنَا مِنَ الرَّأْيِ [ص:358] أَنْ نَسْتَخْلِفَ أَبَا بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَأَى مِنَ الرَّأْيِ أَنْ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينَ بِجِرَانِهِ، ثُمَّ إِنَّ أَقْوَامًا طَلَبُوا هَذِهِ الدُّنْيَا فَكَانَتْ أُمُورٌ يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا مَا يَشَاءُ

ابو علی الحسین بن محمد الروذباری نے ہمیں خبر دی کہا ابو محمد عبد اللہ بن عمر بن شوذب الواسطی نے واسط میں ہمیں خبر دی کہا شعیب بن ایوب نے ہم سے بیان کیا کہا ابو داؤد الحضری نے ہم سے بیان کیا وہ سفیان سے وہ اسود بن قیس سے وہ عمرو بن سفیان سے راوی آپ نے کہا: جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ جمل کے دن لوگوں کے سامنے آئے تو آپ نے فرمایا : اے لوگو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکومت کے متعلق ہم سے کسی بات کا عہد نہیں لیا حتٰی کہ ہماری رائے یہ ہوئی کہ ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخلیفہ بناتے ہیں تو حضرت ابو بکر امر خلافت پر کھڑے ہوئے اور معاملات درست کیسے یہاں تک کہ دین کو آپ نے ثابت و مضبوط کیا پھر سب سے قوی جنہوں نے اس دنیا کو طلب کیا تو یا ایسے امور ہیں جن میں اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔

أَيُّهَا النَّاسُ ← لَمَّا ظَهَرَ عَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ يَوْمَ الْجَمَلِ ← عَمْرُو بْنُ سُفْيَانَ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو محمد عبد الله بن عمر بن شوذب الواسطي بها ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 343

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 344

وَرَوَاهُ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَينَا عَهْدًا فِي الْإِمَارَةِ نَأْخُذُ بِهِ وَلَكِنَّهُ رَأْيٌ رَأَيْنَاهُ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَأَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينَ بِجِرَانِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ

اور ضحاک بن مخلد ابو عاصم نے اسے روایت کیا وہ سفیان سے وہ اسود بن قیس سے وہ سعید بن عمرو بن سفیان سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خطبے میں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے امارت کے متعلق کوئی عہد نہیں لیا جسے ہم پکڑتے لیکن ہماری رائے قائم ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ بنائے گئے چنانچہ آپ اس امر پر کھڑے ہوئے اور معاملات درست کیے پھر حضرت عمر خلیفہ بنائے گئے تو آپ بھی اس امر پر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ دین ثابت و مضبوط ہو گیا۔ ابو الحسن علی بن محمد بن علی المقریٔ نے ہمیں خبر دی کہا الحسن بن محمد ابن اسحاق نے ہمیں خبر دی کہا یوسف بن یعقوب القاضی نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن ابو بکر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، پھر آپ نے یہ بات ذکر کی۔

أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ فَقَالَ: ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ، ← سُفْيَانَ، ← وَرَوَاهُ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 344

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 345

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أنا أَبُو حَامِدِ بْنِ بِلَالٍ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِي , ثنا الْمُحَارِبِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ جَحْلٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ: أَلَا لَا يُفَضِّلْنِي أَحَدٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا أُوتَى بِأَحَدٍ فَضَّلَنِي عَلَيْهِمَا إِلَّا جَلَدْتُهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي

جو مجھے شیخین سے افضل کہے اسے حد مفتری لگاؤں گا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ : الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو حامد بن بلال نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن اسماعیل الاحسی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محاربی نے بیان کیا کہا محمد بن طلحہ نے ہم سے بیان کیا وہ ابو عبیدہ سے وہ حکم بن جحل سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بصرہ میں ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا خبر دارکوئی ایک بھی مجھے حضرت ابو بکرو حضرت عمر پر فضیلت نہ دے، جس کو بھی میرے پاس لایا گیا جس نے مجھے ان دونوں پر فضیلت دی میں اسے حد مفتری کے(80) کوڑے ماروں گا۔

خَطَبَنَا عَلِيٌّ بِالْبَصْرَةِ ← الحكم بن جحل ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 345

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اجْتمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَانْقيَادِهُمْ لِإِمَامَتِهِ · حديث 346

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، فِي التَّارِيخِ، ثنا أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ , ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالَا لِي: يَا سَالِمُ تَوَلَّاهُمَا وَابْرَأْ مِنْ عَدُوِّهِمَا فَإِنهمَا كَانَا إِمَامَيْ هُدًى، قَالَ سَالِمُ: وَقَالَ لِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: يَا سَالِمُ أَيَسُبُّ الرَّجُلُ جَدَّهُ؟ أَبُو بَكْرٍ جَدٍّي لَا نَالَتْنِي شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَتَوَلَّاهمَا وَأَبْرأُ مِنْ عَدُوِّهِمَا قَالَ أَبُو عِيسَى: وَكَانَتْ أُمُّ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ أُمَّ فَرْوَةَ بِنْتَ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِّيقِ، أَخْبرَنِي بِذَلِكَ بَعْضُ وَلَدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت ابو بکر کے محب و مبغض کے متعلق فرمان : ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہ احمد بن علی المقری نے تاریخ میں ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو عیسیٰ الترمذی نے بیان کیا کہا حسن بن عرفہ نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن فضیل نے ہم سے بیان کیا وہ سالم بن حفصہ سے راوی آپ نے کہا میں نے حضرت ابو جعفر محمد بن علی اور حضرت جعفر بن محمد سے حضرت ابو بکر وعمر کے بارے میں پوچھا تو دونوں مجھ سے کہا: تو ان دونوں سے محبت رکھ اور ان دونوں کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کر کیونکہ وہ دونوں ہدایت والے امام ہیں۔سالم نے کہا: حضرت جعفر بن محمد نے مجھ سے کہا: اے سالم ! کیا آدمی اپنے نانا کو گالی دے گا حضرت ابو بکر میرے نانا ہیں اگر میں ان دونوں سے محبت نہیں رکھتا اور ان دونوں کے دشمنوں سے بری نہ ہوں تو قیامت کے دن مجھے حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ ہو۔ امام ابو عیسیٰ الترمذی نے فرمایا: حضرت جعفر بن محمد کی ماں ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق ہیں مجھے اس کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بعض اولاد نے خبر دی۔

سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، فِي التَّارِيخِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate · Hadith 346

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 347

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ الزَّاهِدُ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَيْهَقِيُّ قِرَاءَةً بِمدينَةِ تَبْرِيزَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أنا الشَّيْخُ وَالِدِي رَحِمَهُ اللَّهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةُ الْمَلِكُ حِينَ تَفَرَّسَ فِي يُوسُفَ، وَالْقَوْمُ فِيهِ زَاهِدُونَ، وَابْنَةُ شُعَيْبٌ فِي مُوسَى فَقَالَتْ لِأَبيهَا: {يَا أَبَتِ اسْتأَجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مِنَ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمينُ} [القصص: 26] وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ تَفَرَّسَ فِي عُمَرَ فَاسْتَخْلَفهُ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ [ص:360] سُفْيَانَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ

شیخ امام زاہد ابو علی اسماعیل بن احمد بیہقی جب آپ پر شہرتبریز میں عصر کی نماز کے بعد پڑھا گیا تو آپ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں شیخ میرے والد رحمہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہا۔ اور ہمیں ابو طاہر الفقیہ نے خبر دی کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے خبر دی کہا ابراہیم بن حرث نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ابو بکیر نے ہم سے بیان کیا کہا اسرائیل نے ہم سے بیان کیا وہ ابو اسحاق سے وہ ابو عبیدہ سے راوی آپ نے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں فہم وفراست والے لوگ تین ہیں:(1) وہ بادشاہ جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فہم فراست سے کام لیا جبکہ اس بارے میں قوم کنارہ کش تھی(2) حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنے باپ سے کہا: یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِزُہُ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (القصص:26) ترجمہ: اے میرے باپ ان کو نو کر رکھلو بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور امانتدار ہو۔(3) حضرت ابو بکر صدیق جب آپ نے فہم وفراست سے کام لیا تو حضرت عمر کو خلیفہ بنادیا۔ ایک جماعت نے اسے سفیان بن ابو اسحاق سے روایت کیا وہ ابو الاحوص سے وہ حضرت عبداللہ سے راوی۔ ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن موسیٰ الکعبی نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن ایوب نے ہم سے بیان کہا محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا پس آپ نے یہی بات ذکر کی۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← الشيخ والدي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 347

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 348

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو صَادقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلِّسِيُّ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ , ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ كَنْتُمْ تَصِفُونَ مِنِّي شِدَّةً وَغِلْظَةً وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ عَبْدَهُ وَخَادِمَهُ وَكَانَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تبَارَكَ وَتَعَالَى {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} وَكُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ إِلَّا أَنْ يَغْمِدَنِي أَوْ يَنْهَانِي عَنْ أَمْرٍ فَأَكُفَّ وَإِلَّا أَقَمْتُ عَلَى النَّاسِ لِمَكَانِ لِينِهِ فَلَمْ أَزَلْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ وَهُوَ عنِّي رَاضٍ، فَالْحمدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ كَثِيرًا وَأَنَا بِهِ أَسْعَدُ، ثُمَّ قُمْتُ ذَلِكَ الْمَقَامِ مَعَ أَبِي بَكْرٍ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ، وَكَانَ مَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ فِي كَرَمِهِ وَدَعَتِهِ وَلِينِهِ فَكُنْتُ خَادَمَهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ عَلَى النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْهِ أَخْلِطُ شِدَّتِي بلِينِهِ إِلَّا أَنْ يَتَقَدَّمَ إِلَيَّ فَأَكُفَّ وَإِلَّا خَدَمْتُ فَلَمْ أَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ وَهُوَ عنِي رَاضٍ، فَالْحمدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ كَثِيرًا وَأَنَا بِهِ أَسْعَدُ ثُمَّ صَارَ أَمْرُكُمْ إِلَيَّ الْيَوْمِ وَأَنَا أَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَقُولُ قَائِلٌ: كَانَ يَشْددُ عَلَيْنَا وَالْأَمْرُ إِلَى غَيْرِهِ فَكَيْفَ بِهِ إِذَا صَارَ إِلَيْهِ؟ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتمونِي وَقَدْ عَرَفْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَرَفْتُ وَمَا أَصْبَحْتُ نَادِمًا عَلَى شَيْءٍ يَكُونُ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ سَأَلْتُهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِدَّتِي الَّتِي كَنْتُمْ تَرَوْنَ مِنِّي قَدْ زَادَتْ أَضعَافًا - إِذْ كَانَ الْأَمْرُ إِلَيَّ - عَلَى الظَّالْمِ وَالْمُعتدِي وَالْأَخْذِ لِلْمُسْلِمِينَ لِضعيفِهِمْ مِنْ قَوِّيِهِمْ، وَإِنِي بَعْدَ شِدَّتِي تِلْكَ وَاضِعٌ [ص:361] خَدِيَّ بِالْأَرْضِ بأَهْلِ الْكَفَافِ وَالْكَفِّ مِنْكُمْ وَالتَّسْليمِ، وَإِنِي لَا أُبَالِي كَانَ بيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ فِي أَحْسَابِكُمْ أَنْ أَمْشِيَ مَعَهُ إِلَى مِنْ أَحْبَبْتُمْ مِنْكُمْ فَيَنْظُرَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ عِبَادَ اللَّهِ وَأَعِينُونِي عَلَى أَنفُسِكُمْ بِكَفِّهَا عنِّي، وَأَعِينُونِي عَلَى نَفْسِي بِالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَإِحْضَارِ النَّصِيحَةِ فِيمَا وَلَّانِي اللَّهُ، ثُمَّ نَزَلَ. قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ وَفَى بِمَا قَالَ، وَزَادَ فِي مَوْضِعٍ: الشدَّةَ عَلَى أَهْلِ الرِّيبَةِ وَالظَّلَمَةِ، وَالرِّفْقِ بأَهْلِ الْحَقِّ مَنْ كَانُوا

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عبدو خادم ہیں: الحافظ ابو عبداللہ ابو بکر احمد بن حسن اور ابوصادق محمد بن ابو الفوارس نے ہمیں خبر دی سب نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سلیمان البرلسی نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ایوب نے ہم سے بیان کیا وہ ابن حرملہ سے وہ حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر آپ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء پڑھی پھر فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم جنگ میں مجھ سے زیادہ شدت وسختی سے صف بندی کرتے ہو یہ اس وجہ سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ رہا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عہد اور خادم تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں پر رؤوف ورحیم ہیں ، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سونتی ہوئی تلوار کی طرح تھا مگر کسی امر کی وجہ سے میری آنکھیں بند کر دی جاتیں یا مجھے منع کر دیا جاتا تو میں رک جاتا ورنہ میں لوگوں میں ان کی نرم جگہ کھڑا ہوتا ہمیشہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ اسی طریقے پر رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سے راضی تھے اس پر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد وشکر ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نائب سب سے سعادت منع آدمی بنا پھر میں اسی مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق کیساتھ کھڑا ہوا اور تم آپ کے کرم ، دفاع اور نرمی کو جانتے ہو چنانچہ میں آپ کا خادم رہا آپ کے سامنے لوگوں پرسونتی ہوئی تلوار کی طرح ، میں اپنی شدت ان کی نرمی سے ملا دیتا مگر پہلے سے کوئی مجھے حکم ہوتا تو میں رک جا تا ورنہ میں خدمت میں مشغول رہتا، میں ہمیشہ اسی طریقے پر رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی وفات دے دی اور آپ مجھ سے راضی تھے۔ اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد اور شکر ہے۔ اور میں آپ کی وجہ سے سعادت مند ہوں پھر تمہارا معاملہ آج کے دن میری طرف پہنچ گیا میں جانتا ہوں کہ کوئی کہنے والا کہے گا: ہم پرسختی برتی گئی اور امر خلافت کسی دوسرے کے پاس ہونا چاہیے تو پھر کیا حال ہو گا اس کیساتھ جب معاملہ اس تک پہنچے گا۔ جان لو! تم مجھے پہچان چکے ہو اور تم نے میرا تجربہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰٰ کا شکر ہے کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پہچانتا ہے جو پہچانا اور میں کسی بھی ہونے والی چیز پر نادم نہیں ہوا میں ہی زیادہ پسند کرتا تھا کہ کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرے مگر میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ چکا ہوں جان لو! جو تم میری شدت دیکھتے ہو وہ کئی گنا زیادہ ہو جائے گی جب مجھ تک معاملہ کسی ظالم یا حد سے تجاوز کرنے والا کا پہنچے گا اور کمزور مسلمانوں کو قوی مسلمانوں سے حق لینا ہو گا میں اس شدت کے بعد اپنا رخسارز مین پر رکھ دوں گا اہل ظلم سے اور تم باز رہو اور میری بات تسلیم کرو، میں کوئی پرواہ نہیں کروں گا اس کو جو میرے اور تمہارے حسبوں میں سے کسی کے درمیان ہو کہ میں اس کے ساتھ چلوں جہاں تک تم پسند کرو پھر وہ معاملہ دیکھ لے جو میرے اور اس کے درمیان ہے، پس اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو! اور اپنے آپ کو مجھ سے روک کر خود پر میری مدد کرو اور میری جان پر میری مد دکرو نیکی کے حکم دینے ، برائی سے روکنے اور ان امور میں خیر خواہی چاہنے کیساتھ جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے والی بنایا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔ حضرت ابن مسیب نے فرمایا: آپ نے جوفرمایا وہ پورا کیا اور ایک مقام میں یہ اضافہ کیا: مشکوک اور ظالموں پر سختی ہو گی اور اہل حق جو بھی ہوں ان پر نرمی ہو گی۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← إبراهيمُ بنُ سليمانَ البُرلُّسيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو صادق محمد بن أبي الفوارس ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 348

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 349

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافُسِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ بَيَّاعِ السَّابِرِي، عَنْ قَيْسٍ الخَارَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَثَلَّثَ عُمَرُ ثُمَّ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَهُوَ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. وَكذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ: يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ

ابو علی حسین بن محمد الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو محمد عبداللہ بن عمر بن شوذب الواسطی نے ہم سے بیان کیا کہا شعیب بن ایوب نے ہم سے بیان کیا کہا یعلی بن عبدالطنافسی اور ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا وہ سفیان سے وہ قاسم بن کثیر سابری بیچنے والے سے وہ قیس حارثی سے آپ نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے آئے دوسرے نمبر پر حضرت ابو بکر تیسرے پر عمر پھر ہمیں فتنہ پہنچا جواللہ تعالیٰ نے چاہا۔ ایسے ہی عبد خیر نے حضرت علی سے روایت کیا اور اس میں فرمایا: اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے معاف فرماتا ہے۔

عَلِيًّا ← قَيْسٌ الْخَارِفِيُّ، ← الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ بَيَّاعِ السَّابِرِي، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافُسِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو محمد عبد الله بن عمر بن شوذب الواسطي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them · Hadith 349

chevron_left Previous
1…27282930
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him