Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْخُلَفَاءِ الَّذِينَ نَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَتِهِمْ بَعْدَهُ وَعَلَى مُدَّةِ بَقَائِهِمْ · حديث 314

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ , ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , ثنا حَشْرجُ بْنُ نُبَاتَةَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةُ أَبِي بَكْرٍ وَخِلَافَةُ عُمَرَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ فَنَظَرْنَا فَوَجَدْنَاهَا ثلَاثِينَ سَنَةً

خلافت نبوت تیس سال ہے: ابو الحسین محمد بن حسین بن محمد بن الفضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حشرج بن نباتہ نے بیان کیا کہا مجھ سے سعید بن جمہان نے بیان کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد خلافت تیس سال ہو گی پھر اس کے بعد بادشاہت ہو گی‘‘۔ حضرت سفینہ نے فرمایا: تو حضرت ابو بکر حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی خلافت شمار کر پس ہم نے شار کی تو تیس سال ہم نے ہائے۔ عبدالوارث بن سعید نے سعید بن جہمان سے متابعت کی۔

سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time · Hadith 314

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْخُلَفَاءِ الَّذِينَ نَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَتِهِمْ بَعْدَهُ وَعَلَى مُدَّةِ بَقَائِهِمْ · حديث 315

تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ بِمِصْرَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خِلَافَةُ النُّبُوَةِ ثلَاثونِ سَنَةً وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن مرزوق البصری نے مصر میں ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہا سعید بن ابوجمہان نے بیان کیا کہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابو عبدالرحمٰن سفینہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’نبوت خلافت تیس سال ہو گی‘‘۔ اور عبدالرحمٰن بن ابو بکر سے روایت کی گئی وہ اپنے باپ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، ← إبراهيمُ بنُ مرزوقٍ البصريُّ بمصرَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time · Hadith 315

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْخُلَفَاءِ الَّذِينَ نَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَتِهِمْ بَعْدَهُ وَعَلَى مُدَّةِ بَقَائِهِمْ · حديث 316

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ , أنا أَبُو عَمْرِو بْنِ السَّمَّاكِ , ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ , وَحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , (ح) ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَنْبَلٌ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ , ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، قَالَ: اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَاتَ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فِي سَنَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ فَكَانَتْ خِلَافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ إِلَّا عَشَرَ لَيَالٍ، وَقُتِلَ عُمَرُ يَوْمَ الْأَرْبعَاءِ لِأَرْبعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذي الْحِجَّةِ تَمَامَ سَنَةِ ثَلَاثٍ وَعِشرِينَ فَكَانَتْ خلَافتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَسِتَةَ أَشْهُرٍ وَأَرْبَعَةَ أَيَّامٍ، وَقُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ ذي الْحِجَّةِ سَنَةَ خَمْسٍ وَثلَاثِينَ فَكَانَتْ خلَافتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي رَمَضَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ فَكَانَتْ خِلَافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، وَقِيلَ: إِلَّا شَهْرَيْنِ

ہر ایک خلیفہ کی مدت خلافت : ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو عمرو بن السماک نے ہمیں خبر دی کہا حنبل بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا اور مجھ سے ابو عبداللہ احمد بن محمد حنبل نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ ابومعشر سے راوی۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اورفرمایا: اور ہم سے حنبل نے بیان کیا کہا عاصم بن علی نے ہم بیان کیا کہا ہم سے ابو معشر نے بیان کیا فرمایا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(ربیع الاول کے مہینے میں) وصال فرمایا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ربیع الاول کے مہینے میں خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے پیر کے دن تیرہ ہجری بائیس جمادی الاخری میں وفات پائی تو آپ کی خلافت دوسال چار ماہ سے دس دن کم ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیس ہجری کے اختتام بدھ کے دن ذوالحجہ کی چار راتیں رہتی تھیں تو آپ نے وصال فرمایا تو آپ کی خلافت دس سال چھ مہینے چار دن ہوئی اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن پینتیس ہجری اٹھارہ ذوالحجہ میں شہید ہوئے تو آپ کی خلافت بارہ سال میں بارہ دن کم ہوئی اور حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سترہ رمضان بروز جمعہ چالیس ہجری میں شہید ہوئے تو آپ کی خلافت پانچ سال سے تین مہینے کم ہوئی بعض نے کہادو مہینے کم۔

أبو معشر ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← حَنْبَلٌ ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time · Hadith 316

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْخُلَفَاءِ الَّذِينَ نَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَتِهِمْ بَعْدَهُ وَعَلَى مُدَّةِ بَقَائِهِمْ · حديث 317

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيفًا ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا، فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَانْتَشَطَتْ وَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ [ص:335]. قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ضُعْفُ شُرْبِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِصَرُ مُدَّتِهِ وَالِانتضاحُ مِنْهُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمُنَازَعَةِ فِي وِلَايَتِهِ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ -، وَشَوَاهِدُ هَذَا الْبَابِ قَدْ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ وَفِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَةِ

آسمانی ڈول: ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا وہ اشعث بن عبدالرحمٰن سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) میں نے ایک ڈول دیکھا جو آسمان سے لٹکا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے آپ نے ڈول کے منہ پر لگی لکڑی کو پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو آپ نے بھی ڈول کے منہ پر لگی لکڑی کو پکڑ کر اس سے پانی پیا حتٰی کہ آپ سیر ہو گئے پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے آپ نے بھی ڈول کے منہ پر لگی لکڑی کو پکڑ کر اس سے سیر ہو کر پیا پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے چنانچہ آپ نے بھی ڈول کے منہ پر لگی لکڑی کو پکڑا تو وہ ہلنے لگا اور اس میں جو کچھ تھاوہ آپ پر گر گیا۔ استاذ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پینے سے آپ کی مدت خلافت کی کمی مرادہے اور اس ڈول سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر گر نے سے مراد وہ تکلیفیں ہیں جو آپ کی خلافت میں جنگوں سے آپ کو پہنچی ہیں۔ اس باب کے کئی شواہد ہیں جنہیں ہم نے کتاب الفضائل اور کتاب دلائل النبوۃ میں ذکر کر دیا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَجُلًا ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ محمد بن عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time · Hadith 317

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْخُلَفَاءِ الَّذِينَ نَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَتِهِمْ بَعْدَهُ وَعَلَى مُدَّةِ بَقَائِهِمْ · حديث 318

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا إِدْرِيسُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَدِّبِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ [ص:336] يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ فِي الْخِلَافَةِ وَالتَّفْضِيلِ، نَبْدَأُ بأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

افضلیت وخلافت میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف : ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ہمیں خبر دی کہا ادریس بن علی المؤدب نے ہمیں خبر دی کہا میں نے ابو بکر عبداللہ بن محمد بن زیاد سے سنا آپ نے کہا میں نے ربیع بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا: ہم خلافت تفضیل میں ہم حضرت ابو بکر سے ابتداء کرتے ہیں(پھر) حضرت عمر(پھر) حضرت عثمان(پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔

فِي الْخِلَافَةِ وَالتَّفْضِيلِ، نَبْدَأُ بأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ ← الشَّافِعِیُّ ← الربيع بن سليمان [ص:1023] ← أَبَا بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← إِدْرِيسُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَدِّبِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time · Hadith 318

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَسْمِيَةِ الْخُلَفَاءِ الَّذِينَ نَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَتِهِمْ بَعْدَهُ وَعَلَى مُدَّةِ بَقَائِهِمْ · حديث 319

أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ قَالَ، سَمِعْتُ أَبَا عَرُوبَةَ السُّلَمِيَّ يَقُولُ، سَمِعْتُ الْمَيْمونِيَّ يَقُولُ، سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَقِيلَ: إِلَى مَا تَذهبُ فِي الْخِلَافَةِ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ، فَقِيلَ لَهُ: كَأَنَّكَ تَذهبُ إِلَى حَدِيثِ سَفِينَةَ قَالَ: أَذْهَبُ إِلَى حَدِيثِ سَفِينَةَ وَإِلَى شَيْءٍ آخَرَ، رَأَيْتُ عَلِيًّا فِي زمَنِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ لَمْ يَتَسَمَّ بأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَلَمْ يُقِمَ الْجُمُعَ وَالْحُدُودَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَعَلِمتُ أَنَّهُ قَدْ وَجَبَ لَهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مَا لَمْ يَكُنْ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ

ابو منصور عبد القاہر بن طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو احمد الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا میں نے ابو عروبہ السلمی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے میمونی سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا: آپ سے کہا گیا کہ خلافت میں آپ کہاں تک جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:حضرت ابو بکر ، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔آپ سے کہا گیا : گویا آپ حدیث سفینہ کی طرف جاتے ہیں؟ فرمایا: حدیث سفینہ کی طرف جاؤ اور دوسری چیز کی طرف۔ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا(یعنی علم سے جانا) حضرت ابو بکر ،حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے میں آپ کو امیر المؤمنین نام نہیں دیا جاتا تھا اور نہ ہی آپ نے جمعے اور حدیں قائم کیں پھر میں نے جانا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے بعد آپ نے ایسا کیا تو میں نے جان لیا کہ اس وقت میں آپ کے لیے وہ کچھ ثابت ہوا جو اس سے پہلے ثابت نہیں ہوا تھا۔

أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ، فَقِيلَ لَهُ: كَأَنَّكَ تَذهبُ إِلَى حَدِيثِ سَفِينَةَ ← أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَقِيلَ: إِلَى مَا تَذهبُ فِي الْخِلَافَةِ؟ ← الْمَيْمُونِيَّ ← أَبَا عَرُوبَةَ السُّلَمِيَّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أبو منصور عبد القاهر بن طاهر الفقيه

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time · Hadith 319

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 320

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللَّهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ , ثنا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ , عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يَسْتطِيعُ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ: فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصلی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر : ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا عباس بن محمد الدوری نے ہم سے بیان کیا کہاحسین الجعفی نے ہم سے بیان کیاوہ زائدہ سے وہ عبدالملک بن عمیر سے وہ ابو بردہ سے وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’حضرت ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں‘‘حضرت عائشہ نے کہا: حضرت ابو بکر نرم دل آدمی ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت ابو بکر کر حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم حضرت یوسف علیہ السلام کی ساتھی ہو۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نماز پڑھائی۔

مرض رسول الله فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت عائشة ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 320

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 321

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ , ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أنا [ص:338] مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ، أَخْبرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بأَوَّلِ مِنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثلَاثًا فَقَالَ: «لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ»

ابو طاہر محمد بن محمد بن محمش الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد ابن الحسن القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہا معمر نے ہمیں خبر دی وہ زہری سے راوی کہا مجھے حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی وہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بیماری کے ایام میں) میرے گھر میں داخل ہوئے توفر مایا: ”حضرت ابو بکر کوکہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں‘‘۔سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ ! حضرت ابو بکر نرم دل آدمی ہیں جب قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں آنسو پر قدرت نہیں رہتی(آپ کے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں) آپ حضرت ابو بکر کے علاوہ کسی اور کو حکم دیں ؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : اللہ کی قسم ! میرے پیش نظر صرف یہی بات کہ میں اس بات کو ناپسند سمجھتی تھی کہ لوگ اس شخص کو نا مبارک خیال کریں گے جو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہو گا آپ فرماتی ہیں میں نے دو یا تین مرتبہ یہی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’حضرت ابو بکر لوگوں کو نماز پڑھائیں تم حضرت یوسف علیہ السلام کی ساتھی ہو‘‘ ۔

قُلْتُ ← مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ← لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ بَيْتِي ← عَائِشَةَ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← [ص:55] مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو بكر محمد بن الحسن القطان ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 321

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 322

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا أَبُو الْيَمَانِ , أنا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، - وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ - أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفوفٌ فِي الصَّلَاةِ كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَينَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقُ مُصْحفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحكُ قَالَ: فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ برؤيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْخَى السِّتْرَ فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ مِنْ إِرْخَاءِ السِّتْرِ بَعْدَمَا نَظَرَ إِلَيْهِمْ وَأَظْهَروا الْفَرَحَ بِمكَانِهِمْ صُفوفًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ كَانَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوُلَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ أَنَّهُ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ فَأَدْرَكَ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّاهَا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ أَتُمْ [ص:339] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى وَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ. هَكَذَا ذَكَرَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِيهُ وَكذَلِكَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَيَشْهدُ لَهُ مَا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری دن : ابو الحسین بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہا شعیب نے ہمیں خبر دی وہ زہری سے راوی کہا مجھے حضرت انس بن مالک انصاری آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ، خدمت اور صحبت میں دس سال گزارے۔ نے خبر دی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بیماری کے ایام میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا یہاں تک کہ جب پیر کا دن آیا لوگ نماز کی صفوں میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا آپ ساری کھڑے ہماری طرف دیکھنے لگے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ کھلا ہوا قرآن تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبسم فرما کر ہنسنے لگے۔ حضرت انس فرماتے ہیں : ہم سمجھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کی خوشی میں فتنے میں پڑھ جائیں گے حالانکہ ہم نماز میں تھے اور حضرت ابو بکر اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہوئے تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صف کو نماز پڑھائیں اور آپ نے یہ گمان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے نکلے ہیں۔ حضرت انس نے فرمایا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ہماری طرف اشارہ کیا کہ اپنی نماز مکمل کرو پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرہ میں داخل ہو گئے اور پردہ گراد یا پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن وصال فرمایا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو دیکھنے کے بعد پردہ گرا دیا اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے صفوں کے اندر حضرت ابو بکر کے پیچھے اپنی اپنی جگہوں میں خوشی کا اظہار کیا یہ نماز صبح کی پہلی رکعت میں ہوا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو کچھ ہلکا محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو دوسری رکعت پالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حضرت ابو بکر کے پیچھے پڑھا پھر جب حضرت ابو بکر نے سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت کو پورا کیا اور اسی دن آپ سلیم نے وفات پائی ایسے ہی موسیٰ بن عقبہ نے اپنے مغازی میں روایت کیا اور ایسے ہی عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور اسی کے ہم معنی حضرت عبداللہ بن ملیکہ نے ذکر کیا۔ اس کی شہادت وہ روایت دیتی ہے جس کی ہمیں خبر دی۔

كَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ عَشْرَ سِنِينَ ← أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 322

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 323

أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّويلِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثوْبٍ وَاحِدٍ مُوشَّحًا بِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری نماز ظاہری دنیا میں : ہمیں خبر دی ابو القاسم عبد الخالق بن علی بن عبد الخالق المؤذن نے کہا ابو بکر محمد بن احمد بن خنبب نے ہمی خبر دی کہا محمد بن اسماعیل الترمذی نے ہم سے بیان کیا کہا ایوب ابن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر بن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا وہ سلیمان بن بلال سے وہ حمید الطویل سے وہ ثابت البنانی سے وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: آخری نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کیساتھ پڑھی وہ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے پڑھی۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 323

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 324

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ , ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبرَنِي يُونُسُ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بَيْنَا، أنا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ اسْتحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقرِيًا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ. وَكذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: رُؤْيَا الْأَنبيَاءِ وَحْيٌ، وَقَوْلُهُ «وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ» قِصَرُ مُدَّتِهِ وَعَجَلَةُ مَوْتِهِ وَشُغْلُهُ بِالْحرْبِ لِأَهْلِ الرِّدَّةِ عَنِ الِافْتِتَاحِ وَالتَّزَيُّدِ [ص:340] الَّذِي بَلَغَهُ عُمَرُ فِي طُولِ مُدَّتِهِ أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ , أنا الرَّبِيعُ، قَالَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَهُ

ابو عبداللہ الحافظ اور دوسرے لوگوں نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا بحر بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہا ابن وہب نے ہم سے بیان کیا کہا مجھے یونس نے خبر دی وہ ابن شہاب سے راوی سعید نے انہیں خبر دی کہ سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا جس پر ایک ڈول تھا تو میں نے اسے کھینچا(یعنی اس سے پانی نکالا) تو جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا میں نے اس سے کھینچا پھر اس کو ابو قحافہ کے بیٹے (حضرت ابو بکر صدیق) نے اسے لے لیا تو آپ نے اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے اور آپ کے کھینچے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ انہیں بخشے پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو خطاب کے بیٹے(حضرت عمر فاروق) نے اسے لے لیا میں نے لوگوں میں سے ایسا محنتی نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب جیسا ڈول کھینچتا ہوں حتٰی کہ تمام لوگ سیراب ہو گئے‘‘۔ ایسے ہی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انبیاء کرام علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ’’حضرت ابو بکر کے ڈول کھینچے میں کمزوری تھی‘‘ یہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدت خلافت کی کمی اور جلدی موت اور آغاز خلافت سے ہی مرتدین کیساتھ جنگ میں مشغولیت مراد ہے کہ پھر وہ(جنگ) اتنی بڑھتی جائے گی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر مکمل ہو جائے گی اس کی مدت کی طوالت تک۔ الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں اس کی خبر دی کہا ابو العباس نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی رحمہ ا للہ تعالیٰ نے فرمایا : پھر یہی کلام ذکر کیا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 324

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ تَنْبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَهُ، وَبَيَانُ مَا فِي الْكِتَابِ مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى صِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَإِمَامَةِ مِنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ · حديث 325

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، فِي الْمُخَرَّجِ عَلَى كِتَابِ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، (ح) . وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ - كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ - قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِ أَبَا بَكْرٍ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ فِي قِصَّةِ الْمِيضَأَةِ عُمومَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدوا»

میرے بعد حضرت ابو بکر کے پاس آنا: الحافظ ابو عبداللہ نے ’’المخرج کتاب مسلم‘‘ میں ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع بن سلیمان نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی نے ہمیں خبر دی کہا ابراہیم بن سعد نے ہمیں خبر دی۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور فرمایا۔ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد الشعرانی نے مجھے خبر دی کہا میرے دادا نے مجھ سے بیان کیا کہا ابو ثابت نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اس نے کسی امر کے متعلق بات کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوبارہ آنے کا حکم دیا اس نے کہا: یارسول اللہ ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں واپس آؤں اور آپ کو نہ پاؤں ؟۔ اس کی مراد موت تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اگر تو مجھے نہ ہائے تو حضرت ابو بکر کے پاس آنا‘‘۔ حضرت ابو بکرو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اطاعت کرنے سے ہدایت نصیب ہوتی ہے: اور ہم نے ابو قتادہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا وضو کے پانی کے برتن کے قصہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کا عموم فرمایا:’’وَاِنْ یُطِیعُوا اَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یَرْشُدوا ‘‘ اگر وہ ابو بکرو عمر کی اطاعت کریں گے تو ہدایت پائیں گے۔

أَتَتْ النَّبِيَّ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو ثَابِتٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي الْمَخْرَجِ عَلَى كِتَابِ مُسْلِمٍ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs · Hadith 325

chevron_left Previous
1…252627…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him