Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ فَصْلٌ: · حديث 290

وَالْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ بَعْدَمَا قُبِضُوا رُدَّتْ إِلَيْهِمْ أَرْوَاحُهُمْ فَهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ كَالشُّهَدَاءِ، وَقَدْ رَأَى نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً مِنْهُمْ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ وَأُمِرَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالسَّلَامِ عَلَيْهِ. وَأَخْبَرَ - وَخَبَرُهُ صِدْقٌ - أَنَّ صَلَاتَنَا مَعْرُوضَةٌ عَلَيْهِ وَأَنَّ سَلَامَنَا يَبْلُغُهُ , وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تأَكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، وَقَدْ أَفْرَدْنَا لِإِثْبَاتِ حَيَاتِهِمْ كِتَابًا، فَنَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَكْتُوبًا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يُخْلَقَ نَبِيًّا [ص:306] وَرَسُولًا , وَهُوَ بَعْدَمَا قَبَضَهُ نَبِيُّ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَصَفِيُّهُ وَخِيرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَالَّذِينَ يُبَلِّغُونَ عَنْهُ أَوَامِرَهُ وَنَوَاهِيَهُ خُلفَاؤُهُ، فَرِسَالَتُهُ بَاقِيَةٌ وَشَرِيعَتُهُ ظَاهِرَةٌ حَتَّى يأَتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا

فصل: انبیا علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں: حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح قبض کیے جانے کے بعد ان کی روحیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں لہٰذاوہ اپنے رب کے ہاں شہداء کی طرح زندہ ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت انبیاء علیہم السلام کو شب معراج دیکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا حکم دیا اور اس بات کی خبر دی اور یہ خبر سچی ہے کہ ہمارا درود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے اور ہمارا سلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام کھانا حرام کر دیا اور ہم نے انبیاء کرام کی حیات ثابت کرنے کے لیے الگ کتاب لکھی ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ہاں(حضرت آدم علیہ السلام کی) تخلیق سے پہلے نبی ورسول لکھے(یعنی امر نبوت سے متصف کیے گئے تھے جیسا کہ علامہ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ نے اشرف الوسائل الیٰ فہم الشمائل کے آغاز میں کتابت کا معنی بیان کیا۔ واللہ ورسولہ اعلم) گئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وصال کے بعد بھی نبی ورسول اور رب کی مخلوق میں چنیدہ و پسند یدہ وافضل ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تبلیغ اور اوامر و نواہی کا کام سرانجام دیتے ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت باقی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت ظاہر ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا امر(قیامت) آجائے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تسلیما۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Season: · Hadith 290

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 291

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ , ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَسِيدِ بْنِ حَارِثَةَ، حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَيْنًا , وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ، وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ , فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدْأَةِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ , فَنَفَرُوا لَهُمْ بِمِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ , فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ , فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ , فَقَالُوا: انْزِلُوا وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَلَّا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا , فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ الْيَوْمَ اللَّهُمْ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّكَ السَّلَامَ , فَقَاتَلُوهُمْ , فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ , وَنَزَلَ ثَلَاثَةٌ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ , فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ وَكَتَّفُوهُمْ , فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُمْ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ قَالَ: هَذَا وَاللَّهِ أَوَّلُ الْغَدْرِ , فَعَالَجُوهُ فَقَتَلُوهُ وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ إِلَى مَكَّةَ , فَبَاعُوهُمَا , وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَاشْتَرَى بَنُو الْحَارِثِ خُبَيْبًا - وَقَدْ كَانَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ - قَالَتِ ابْنَةُ الْحَارِثِ: فَكَانَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا عِنْدَنَا , فَوَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ [ص:309] أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ مِنْ ثَمَرِهِ , وَإِنْ هُوَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ خُبَيْبًا قَالَتْ: وَاسْتَعَارَ مِنِّي مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهِ لِلْقَتْلِ قَالَتْ: فَأَعَرْتُهُ إِيَّاهُ , وَدَرَجَ ابْنٌ لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ , فَرَأَيْتُهُ يُجْلِسُهُ عَلَى صَدْرِهِ قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ قَالَتْ: فَفَطِنَ لِي فَقَالَ: أَتَحْسَبِينَ أَنِّي قَاتِلُهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَهُ، قَالَتْ: فَلَمَّا أَجْمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ قَالَ لَهُمْ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا أَنَّ بِي جَزَعًا لَزِدْتُ، قَالَتْ: وَكَانَ خُبَيْبٌ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الصَّلَاةَ لِمَنْ قُتِلَ صَبْرًا , ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمْ أَحْصِهِمْ عَدَدًا , وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا , وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا: [البحر الطويل] فَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا ... عَلَى أَيِّ حَالٍ كَانَ فِي اللَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي جَنْبِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ ... يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمُزَّعِ قَالَ: وَبَعَثَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ لِيُؤْتَوْا مِنْ لَحْمِهِ بِشَيْءٍ , وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ , فَبَعَثَ اللَّهُ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَأْخُذُوا مِنْ لَحْمِهِ شَيْئًا وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَيْهَقِيُّ , ثنا جَدِّي ثنا أَبُو ثَابِتٍ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ , وَذَكَرَ قَوْلَ الْمَرْأَةِ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ , وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ، وَقَالَ فِي الشِّعْرِ: وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ، وَزَادَ وَاسْتَجَابَ اللَّهُ لِعَاصِمٍ [ص:310] يَوْمَ أُصِيبَ فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيبُوا خَبَرَهُمْ. وَذَكَرَ فِي عَاصِمٍ مَا بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الدَّبْرِ حَتَّى حَمَتْهُ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي الْمَغَازِي، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَزَادَ: فَلَمَّا حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ قَالُوا: دَعُوهُ حَتَّى يُمْسِيَ فَتَذْهَبَ عَنْهُ فَنَأْخُذَهُ , فَبَعَثَ اللَّهُ الْوَادِيَ , فَاحْتَمَلَ عَاصِمًا , فَذَهَبَ بِهِ. قَالَ: وَقَدْ كَانَ عَاصِمٌ أَعْطَى اللَّهَ عَهْدًا لَا يَمَسُّ مُشْرِكًا وَلَا يَمَسُّهُ مُشْرِكٌ أَبَدًا فِي حَيَاتِهِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: يَحْفَظُ اللَّهُ الْمُؤْمِنَ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ كَمَا امْتَنَعَ مِنْهُمْ فِي حَيَاتِهِ. وَرُوِّينَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ اسْتِجَابَةَ اللَّهِ دُعَاءَ خُبَيْبٍ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوهُ , فَلَمْ يَحُلِ الْحَوْلُ وَمِنْهُمْ أَحَدٌ غَيْرُ رَجُلٍ لَبَدَ بِالْأَرْضِ حِينَ رَآهُ يَدْعُو، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ كَرَامَاتٌ ظَهَرَتْ عَلَى مَنْ سُمِّيَ فِيهِ

دس صحابہ کرام علیہم الرضوان کا قافلہ اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت: ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا یونس بن حبیب نے ہم سے بیان کیا ، کہا: ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا وہ زہری سے وہ عمر بن اسید بن حارثہ بنی زہرہ کے حلیف سے روایت کرتے ہیں اور آپ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصحاب میں سے ہیں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوس بنا کر بھیجا اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت- جو عاصم بن عمر کے دادا ہیں،کوامیر مقرر فرمایا یہ لوگ چلے یہاں تک کہ جب عسفان اور مکہ کے درمیان ہداۃ کے مقام میں پہنچے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ جسے بنولھیان کہا جاتا تھا کو ان کا پتہ چل گیا تو ایک سو تیر انداز آدمی انہوں نے ان کے پیچھے بھیجے وہ ان کے قدموں کے نشانات پر ان کے پیچھے چلے یہاں تک انہوں نے کھجوروں کے کھانے کی جگہ(گٹھلیاں) پائی تو بولے یہ یثرب کی کھجوریں ہیں جب حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے انہیں آتا ہوا محسوس کیا تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گئے انہوں نے کہا: تم نیچے اترو! تم سے یہ عہد و پیمان کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کوقتل نہیں کریں گے۔حضرت عاصم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں آج کے دن کافروں کے ذمہ میں نہیں اتروں گا اے اللہ ہماری طرف سے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسلام پہنچا دے !چنانچہ انہوں نے ان اصحاب سے لڑائی کی اور سات اصحاب کو شہید کر دیا اور ان میں سے تین عہد و پیمان پر اتر آئے پھر جب انہوں نے ان تین صحابہ پر قدرت پائی تو اپنے کمانوں کی رسیاں کھول کر انہیں باندھ دیا تین میں ایک نے جب یہ بات دیکھی تو کہا: اللہ کی قسم ! یہ پہلا دھوکا ہے وہ ان سے لڑ پڑے اور انہیں بھی شہید کر دیا اور وہ حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دثنہ کو لے کر مکہ کی طرف چل پڑے پس انہوں نے ان دونوں کو بیچ دیا یہ واقعہ بدر کے بعد پیش آیا۔ پس بنو حارث نے حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخرید لیا کیونکہ بدر کے دن آپ نے حارث کو قتل کیا تھا۔ حارث کی بیٹی نے کہا: حضرت خبیب ہمارے پاس قیدی تھے اللہ کی قسم میں نے حضرت خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا اللہ کی قسم میں نے انہیں انگور کا گچھا کھاتے ہوئے دیکھا اور مکہ میں اس وقت وہ پھل نہیں تھا یہ تو صرف وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا۔ حارث کی بیٹی نے کہا: آپ نے مجھ سے استرا مانگا جس سے قتل کی تیاری کی جاتی ہے وہ کہتی ہیں میں نے وہ استرا نہیں دے دیا اور میرا بیٹا اندر آیا جبکہ مجھے اس کا پتہ نہیں چلا میں نے اپنے بیٹے کو آپ کے سینے پر پایا۔ حارث کی بیٹی نے کہا: میں بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی جسے حضرت حبیب جان گئے کہتی ہیں: آپ نے میری پریشانی محسوس کر لی تو آپ نے فرمایا: تو یہ گمان کرتی ہے میں اسے قتل کرنے والا ہوں؟ میں ایسا کرنے والا نہیں۔ وہ کہتی ہیں: پھر جب سارے ان کے قتل پر جمع ہو گئے تو آپ نے انہیں فرمایا مجھے چھوڑو تاکہ میں دو رکعتیں پڑھلوں(دو رکعتیں پڑھنے کے بعد) فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم گمان کرتے کہ میں ڈر گیا ہوں تو میں اور پھر بھی پڑھتا۔ حضرت حبیب وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے نماز کا طریقہ ایجاد کیا اس شخص کے لیے جسے روک کر قتل کیا جائے پھر فرمایا : اے اللہ ! ان کی گنتی شمار کر لے انہیں سختی سے قتل کرنا اور کسی ایک کو بھی نہ چھوڑنا۔ شعر : مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ جب میں حالت اسلام میں شہید کیا جاؤں کہ میں کس حال میں اللہ تعالیٰ کے لیے گرتا ہوں یہ اللہ تعالیٰٰ ہے اگر چاہے تو میرے جسم کے بقیہ ہر ٹکڑے میں برکت ڈال دے۔ راوی نے کہا:مشرکین نے حضرت عاصم بن ثابت کی طرف بھیجا تاکہ اس کے گوشت سے کچھ لے آئے کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سرداروں میں سے ایک بڑے آدمی کوقتل کیا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کے ایک جھنڈ کو بھیج دیا جس نے حضرت عاصم کے جسم کی ان بھیجے ہوؤں سے حفاظت کی آپ کو گوشت میں سے کچھ بھی لینے کی انہیں قدرت نہ ہوئی۔ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت: الحافظ ابوعبد اللہ نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد بن الفضل البیہقی نے خبر دی کہا میرے دادا ابو ثابت نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا پھر اسی سند کیساتھ اس کے ہم معنی روایت ذکر کی۔اس میں عورت کا یہ قول ذکر کیا: اللہ کی قسم میں نے کبھی بھی حضرت خبیب سے بہتر قیدی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم میں نے انہیں انگور کا ایک گچھا کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ آپ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں یہ پھل نہیں تھا اور شعر میں کہا : یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اور یہ اضافہ کیا: اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم کی وہ دعا قبول فرمائی جو شہادت کے دن آپ نے کی تھی اور جس دن وہ شہید ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ان کی خبر دی اور حضرت عاصم کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیاں بھیجی انہوں نے آپ کی حفاظت کی اس کا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تذکرہ کیا۔ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت : امام محمد بن اسحاق بن یسار نے مغازی میں عاصم بن عمر بن قتادہ کے حوالے سے ذکر کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا: جب شہد کی مکھیاں ان کے اور حضرت عاصم کے درمیان حائل ہو گئیں انہوں نے کہا: انہیں شام تک چھوڑ دو جب یہ چلی جائیں گی تو ہم انہیں لے لیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سیلاب بھیجا جو حضرت عاصم کو اٹھا کر لے گیا۔ فرمایا : حضرت عاصم نے اللہ تعالیٰ کوعہد دیا تھا کوئی مشرک انہیں نہ وہ کسی مشرک چھوئیں اور نہ کوئی مشرک آپ کو کبھی بھی آپ کی زندگی میں چھوئے۔ ابن اسحاق نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے:اللہ مؤمن کی حفاظت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کی وفات کے بعد بھی مشرکوں کو روک دیا جیسے ان کی زندگی میں ان سے انہیں روکا تھا۔ ہم نے بریدہ بن سفیان سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خبیب کی اپنے قاتلین کے خلاف دعا کو قبول فرمایا چنانچہ ان میں سے کوئی بھی آدمی وہاں سے نہیں پلٹا سوائے اس آدمی کے جس نے آپ کو دعا کرتے ہوئے دیکھا تو وہ زمین سے چمٹ گیا۔ اس حدیث صحیح میں بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں ان پر جن کے بارے میں نام لیا گیا۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 291

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 292

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ , أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ , ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أنا مَعْمَرٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ , وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ فِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ , ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ , فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ , فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بَلَغَ أَهْلَهُ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ , [ص:311] فَلَمْ يُسَمِّ الرَّجُلَيْنِ قَالَ: وَمعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ يُضِيئَانِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ وَأَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ أَنَّهُمَا أُكْرِمَا بِقَرِيبٍ مِنْ ذَلِكَ فَأَضَاءَتْ أَصَابِعُ حَمْزَةَ، وَنُوِّرَ فِي عَصَا أَبِي عِيسَى

دو انصاری صحابہ کی کرامت: ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا احمد ابن منصور الرمادی نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہا معمر نے ہمیں خبر دی وہ ثابت سے وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر اور ایک دوسرے انصاری آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی حاجت میں باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ سخت اندھیری رات میں رات کا ایک حصہ گزر گیا پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپس پلٹتے ہوئے نکلے ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن تھی وہ اس کی روشنی میں چلتے رہے جب ان دونوں کا راستہ جدا ہوا تو اس نے دوسرے کی لاٹھی کو روشن کیا چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلا گیا یہاں تک کہ وہ اپنے اہل کے پاس پہنچ گیا۔ حماد بن سلمہ نے اسے ثابت سے روایت کیا وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے فرمایا: وہ حضرت عباد بن بشیر اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے۔ اور اس کو قتادہ نے حضرت انس سے روایت کیا اس میں دو آدمیوں کا نام نہیں لیا کہا: ان دونوں کے پاس چراغوں کی مثل تھیں جوان دونوں کے ہاتھوں میں روشن تھیں۔حضرت حمزہ کی انگلیاں اور حضرت ابو عیسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی لاٹھی روشن ہو گئی : ہم نے حضرت حمزہ بن عمر والسلمی اور حضرت ابو عیسیٰ بن جبر سے روایت کیا اسی کے قریب سے ہی ان کو عزت بخشی تو حضرت حمزہ کی انگلیاں روشن ہو گئیں اور حضرت ابو عیسیٰ کے عصا میں نور تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 292

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 293

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ , ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , ثنا مَعْمَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ وَصَاحِبٌ لَهُ سَرَيَا فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ , فَإِذَا طَرْفُ سَوْطِ أَحَدِهِمَا عِنْدَهُ ضَوْءٌ , فَقَالَ لِصَاحِبِهِ: أَمَا إِنَّا لَوْ حَدَّثْنَا النَّاسَ بِهَذَا كَذَّبُونَا، قَالَ مُطَرِّفٌ: الْمُكَذِّبُ أَكْذَبُ. يَقُولُ: الْمُكَذِّبُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ أَكْذَبُ، وَمُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَانَ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ، وَإِنَّمَا أَوْرَدْتُهُ عَقِيبَ حَدِيثِ الصَّحَابَةِ لَكوْنِهِ شَبِيهًا بِمَا أُكْرِمُوا بِهِ [ص:312]. وَقَدْ رُوِّينَا نُزُولَ الْمَلَائِكَةِ لِلْقُرْآنِ عِنْدَ قِرَاءَةِ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ؛ وَذَلِكَ أَنَّهُ رَأَى مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ أَتَتْ لِصَوْتِكَ» . وَرُوِّينَا تَسْلِيمَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَرُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ

ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہم سے بیان کیا کہا احمد بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہا معمر نے ہم سے بیان کیا وہ قتادہ سے راوی آپ نے فرمایا : حضرت مطرف بن عبد اللہ بن خیر اور ان کے ساتھی اندھیری رات میں چل رہے تھے تو ان میں سے ایک کے کوڑے کے کنارے پر روشنی تھی تو مطرف کے ساتھی نے آپ سے کہا: ہم اگر لوگوں کو اس بارے میں بتائیں تو وہ ہمیں جھٹلائیں گے۔مطرف نے کہا: جھٹلانے والا سب سے بڑا جھوٹا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں اللہ کی نعمت کو جھٹلانے والا سب سے بڑا جھوٹا ہوتا ہے۔ حضرت مطرف بن عبداللہ کبار تابعین میں سے ہیں ہم نے صحابہ کرام کی حدیث کے بعد انہیں ذکر کیا کیونکہ یہ بھی اسی کے مشابہ ہے جس کے سبب صحابہ کو عزت بخشی گئی۔ فرشتے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاوت سننے آئے: اور ہم نے روایت کیا کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاوت قرآن کے وقت فرشتے اترے آپ نے سائبان کی طرح دیکھا جس میں چراغوں کی طرح کچھ تھا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ اَتَتْ لِصَوْتِکَ ‘‘ یہ فرشتے تھے جو تیرے آواز کی وجہ سے آئے تھے۔ ہم نے روایت کیا کہ فرشتوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کیا۔ ہم نے صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کیا کہ ان میں سے ہر ایک نے حضرت جبریل علیہ السلام کو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صورت میں دیکھا۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 293

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 294

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ , أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّهُ حَدَّثهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ، كَانُوا نَاسًا فُقَرَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ بِسَادِسٍ» أَوْ كَمَا قَالَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ، وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلَاثَةٍ وَهُوَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي قَالَ: وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعِشَاءَ , ثُمَّ رَجَعَ , فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ بَعْدَمَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ , فَقَالَتْ لَهُ امْرأَتُهُ: مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ، أَوْ قَالَتْ: عَنْ ضَيْفِكَ؟ قَالَ أَوَمَا عَشَّيْتِهِمْ؟ قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ وَقَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ , [ص:313] فَغَلَبُوهُمْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا وَاخْتَبَأْتُ , وَقَالَ: يَا غُنْثَرُ , وَسَبَّ , وَقَالَ: كُلُوا , وَذَكَرَ كَلِمَةً , وَقَالَ: وَاللَّهُ لَا طَعِمْتُهُ أَبَدًا قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ لُقْمَةً إِلَّا وَرَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا، قَالَ: وَشَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ , فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ، قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا؟ قَالَتْ: لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ , فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ , وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ - يَعْنِي يَمِينَهُ - ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ , فَمَضَى الْأَجَلُ , فَعَرَفْنَا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ أُنَاسٌ، اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ قَالَ: فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ. قَالَ الشَّيْخُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَقَدْ رُوِّينَا كَرَامَاتٍ ظَهَرَتْ عَلَى عِدَّةٍ مِنَ الْأَوْلِيَاءِ فِي حَيَاةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ كَرَامَاتٍ ظَهَرَتْ عَلَى بَعْضِهِمْ بَعْدَ وَفَاةِ [ص:314] النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِعَادَتُهَا فِي هَذَا الْكِتَابِ مِمَّا يَطُولُ شَرْحُهُ؛ فَاقْتَصَرْنَا مِنْهَا عَلَى بَعْضِهَا وَفِيهِ كِفَايَةٌ

کھانے میں برکت: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق بن ایوب الفقیہ نے ہمیں خبر دی کہ علی بن عبدالعزیز نے ہمیں خبر دی کہا ابو النعمان محمد بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہا معتمر بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ ابو عثمان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر نے ان سے بیان کیا کہ اصحاب صفہ فقیر لوگ تھے، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے آدمی کو۔ لے جائے جس کے پاس چار ہو وہ پانچویں کو لے جائے ، چھٹے کو لے جائے‘‘ یا جیسا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین آدمی لے کر آئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس آدمی لے کر چلے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، میں حضرت ابو بکر اور میری ماں تھی ابو عثمان راوی نے کہا: میں نہیں جانتا آپ نے کہا: اور میری بیوی اور ہمارے اور میرے باپ کے گھر کے خادم تھے اور حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات کا کھانا کھایا پھر آپ ان کے پاس ٹھہر گئے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی پھر فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کا کھانا کھایا جتنا للہ تعالیٰ نے چاہارات کا حصہ گزرا تو آپ آئے تو آپ کی بیوی نے آپ سے کہا: اپنے مہمانوں سے آپ کو کس چیز نے روک لیا تھا یا کہا اپنے مہمان سے؟ آپ نے فرمایا: تم نے انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا، آپ نے کہا: انہوں نے انکار کر دیا جب تک کہ آپ نہ آ جا ئیں گھر والوں نے انہیں کھانا پیش کیا وہ گھر والوں پر انکار میں غالب آ گئے حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر کہتے ہیں میں جا کر چھپ گیا آپ نے مجھے کہا اے نالائق! اور برا بھلا کہا اور مہمانوں سے کہا : کھاؤ اور کوئی کلمہ آپ نے ذکر کیا انہوں نے کہا اللہ کی قسم!(جب تک آپ ہمارے ساتھ نہیں کھائیں گے) ہم نہیں کھائیں گے(پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ کھانے لگے) فرمایا: اللہ کی قسم ! ہم جو بھی لقمہ اٹھاتے اس کے نیچے اور زیادہ ہو جاتا تھا۔ فرمایا: وہ سب سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے زیادہ ہو گیا تھا۔ عبدالرحمٰن نے کہا: حضرت ابو بکر نے اس کی طرف دیکھا وہ پہلے جتنا یا اس سے زیادہ تھا آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا : اے بنی فراس کی بہن یہ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اب یہ پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے تین مرتبہ یہ بات کہی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کھایا اور فرمایا: وہ چیز شیطان کی طرف سے تھی یعنی جو آپ کی دائیں جانب تھی پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اٹھا کر لے گئے۔ راوی نے کہا: اس وقت ہمارے اور ایک قوم کے درمیان معاہدہ ہوا پھر اس کی مدت ختم ہوئی تھی چنانچہ ہمارے ساتھ بارہ آدمی تھی ہر آدمی کیساتھ کئی لوگ ہوتے تھے اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ ہر آدمی کیساتھ کتنے آدمی ہوتے تھے فرمایا : ان سب نے اس کھانے سے کھایا۔ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہم نے بہت سی کرامات روایت کی جو متعدد اولیاء سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ کے زمانے میں ظاہر ہوئیں اس کے بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ وغیرہ میں ذکر کر دیا ہے۔ ہم نے فضائل صحابہ میں بہت ہی کرامات روایت کی ہیں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد جن کا ظہور ہوا اس کتاب میں ان سب کا اعادہ طوالت کا باعث ہو گالہٰذا ان میں سے بعض روایات پر ہی اکتفاء کیا جاتا ہے اور یہی کافی ہے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو بكر بن إسحاق بن أيوب الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 294

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 295

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ , ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , ثنا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ جَيْشًا , وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ قَالَ: فَبَيْنَا عُمَرُ يَخْطُبُ قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا سَارِيَةُ: الْجَبَلَ، يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ، قَالَ: فَقَدِمَ رَسُولُ الْجَيْشِ , فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَقِينَا عَدُوَّنَا فَهَزَمُونَا وَإِنَّ الصَّائِحَ لَيَصِيحُ، يَا سَارِيَةُ: الْجَبَلَ، يَا سَارِيَةُ: الْجَبَلَ، فَشَدَدْنَا ظُهُورَنَا بِالْجَبَلِ , فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، فَقِيلَ لِعُمَرَ: إِنَّكَ كُنْتَ تَصِيحُ بِذَلِكَ. قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَحَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ بِذَلِكَ. وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَا كُنَّا نُنْكِرُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ، وَعنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَكَأَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ [ص:315] مَلَكًا يُسَدِّدُهُ، وَعنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ الْقَوْلَ فَنَنْتَظِرُ مَتَى يَقَعُ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَيْفَ لَا يَكُونُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ , فَإِنْ يَكُنْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ فِي جَوَازِ كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ، وَفِي قِرَاءَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ (وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ) ، وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَلِكَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ: كَيْفَ يُحَدَّثُ؟ قَالَ: تَتَكَلَّمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى لِسَانِهِ، وَذَلِكَ يُوَافِقُ مَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ اور ان کے لشکر کی مدینہ میں رہ کر مدد کی : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا حمزہ بن عباس العقبی نے ہمیں خبر دی کہا عبد الکریم بن ہیثم الدیر عاقولی نے ہم سے بیان کیا کہا کہا احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہا ابن وہب نے ہم سے بیان کیا کہا یحییٰ بن ایوب نے مجھے خبر دی وہ محمد بن عجلان سے وہ نافع سے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک لشکر بھیجا جن کا امیر ایک ایسے آدمی کو بنایا جسے ساریہ کے نام سے بلایا جاتا تھا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا: ہمارے سامنے کی بات ہے کہ حضرت عمر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے چنانچہ آپ بلند آواز سے پکارنے لگے حالانکہ آپ منبر پر ہی تھے :اے ساریہ پہاڑ کی پناہ لو!اے ساریہ پہاڑ کی پناہ لو! حضرت ابن عمر نے فرمایا : پھر جب لشکر کا پیامبر کا آیا تو آپ(حضرت عمر) نے اس سے جنگ کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا: اے امیر المؤمنین ! ہمارا دشمنوں سے آمنا سامنا ہوا تو انہوں نے ہمیں پسپا کر دیا اور ایک پکارنے والا پکار رہا تھا: اے ساریہ پہاڑ کی پناہ لو! اے ساریہ پہاڑ کی پناہ لو! تو ہم نے اپنی پیٹھوں کو پہاڑ سے مضبوط کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دے دی پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ یہ بات تو آپ ہی پکار رہے تھے۔ ابن عجلان اور ایاس بن معاویہ بن قرہ نے یہی بات مجھ سے بیان کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے فرمان مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ : متعدد طرق سے ہم نے حضرت امیر المؤمنین علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ما مَا کُنَّا نُتْکِرُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ اَنَّ السَّکِینَۃَ تَنْطِقُ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے تھے حالانکہ ہم بہت سے لوگ ہوتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حفاظت کے لیے ایک فرشتہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے فرمایا: میں نے جب بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتے کو دیکھا جو انہیں ٹھیک راہ پر رکھتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہتے وہ پورا ہوتا : حضرت عبداللہ بن عمر ضی اللہ عنہما نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی بات کرتے تو ہم انتظار کرتے رہتے کہ یہ بات کب واقع ہو گی(کیونکہ جیسا آپ فرماتے ویساہی ہوتا تھا)۔ امت محمدیہ کا محدث : امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات کیسے نہ ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوئے ہیں اگر اس امت میں کوئی محدث ہے تو حضرت عمر بن خطاب ہیں۔ اس حدیث نے کرامات اولیاء کے جواز کی خبر دی اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت میں آیت یوں ہے : ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول بھیجا نہ نبی نہ محدث۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی ایسے ہی پڑھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پرفر شتے کلام کرتے ہیں: پھر بعض روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کیا وہ محدث کیسے ہیں؟ فرمایا: فرشتے ان کی زبان پر کلام کرتے ہیں۔ یہ بات اس کے موافق ہے جسے ہم نے حضرت علی اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں پیچھے روایت کی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِي ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 295

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 296

وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ , عَنْ سَلَامَةَ بْنِ رَوْحٍ , عَنْ عُقَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، مِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ» وَإِنَّ الْبَرَاءَ لَقِيَ زَحْفًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالُوا لَهُ: يَا [ص:316] بَرَاءُ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَقْسَمْتَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّكَ» , , فَأَقْسِمْ عَلَى رَبِّكَ، قَالَ: أُقْسِمُ عَلَيْكَ يَا رَبِّ لَمَا مَنَحْتَنَا أَكْتَافَهُمْ , فَمُنِحُوا أَكْتَافَهُمْ , ثُمَّ الْتَقَوْا عَلَى قَنْطَرَةِ السُّوسِ , فَأَوْجَعُوا فِي الْمُسْلِمِينَ , فَقَالُوا: أَقْسِمْ يَا بَرَاءُ عَلَى رَبِّكَ. قَالَ: أُقْسِمُ عَلَيْكَ يَا رَبِّ لَمَا مَنَحْتَنَا أَكْتَافَهُمْ وَرَزَقْتَنِي الشَّهَادَةَ فَمُنِحُوا أَكْتَافَهُمْ وَقُتِلَ الْبَرَاءُ شَهِيدًا

حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوقسم کھاتے ہیں اللہ تعالیٰ پورا فرماتا ہے: ابو الفضل بن حسین القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عبدالعزیز الایلی نے ہم سے بیان کیا وہ سلامہ بن روح سے وہ عقیل سے راوی کہا ابن شہاب نے مجھ سے بیان کیا وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’کتنے کمز ورلوگ ہیں جنہیں کمزور سمجھا جاتا ہے، مفلس و نادار لوگ ہیں اگر وہ اللہ پر قسم ڈال دیں تو اللہ تعالیٰ(ان کی قسم کو پورا فرما کر) انہیں بری کر دیتا ہے حضرت براء بن مالک بھی انہیں میں سے ہیں‘‘۔ حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنگ میں مشرکین سے آمنا سامنا ہوا لوگوں نے کہا: اے براء! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تو اللہ تعالیٰ پر قسم ڈال دے تو اللہ تعالیٰ تیرے قسم کو پورا کر دے گا تو تو اپنے رب پر قسم کھا! تو آپ نے کہا: اے رب! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ہمیں ان(کفار) پر غلبہ عطافرما تو انہیں کفار پر غلبہ دیا گیا پھر سوس کے پل پر مسلمانوں کا کفار کیساتھ آمنا سامنا ہوا جس کی وجہ سے مسلمان بھوک میں مبتلا ہو گئے لوگوں نے کہا: اے براء اپنے رب پر قسم کھاؤ! آپ نے کہا: اے رب! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تو ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما اور مجھے شہادت عطا فرما تو مسلمانوں نے ان پر غلبہ پا لیا اور حضرت براء شہید ہو گئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 296

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ · حديث 297

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , أنا أُسَامَةَ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ سَفِينَةَ، مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَكِبْتُ سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ فَانْكَسَرَتْ بِي , فَرَكِبْتُ لَوْحًا مِنْهَا فَأَخْرَجَنِي إِلَى أَجَمَةٍ فِيهَا أَسَدٌ إِذْ أَقْبَلَ الْأَسَدُ , فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قُلْتُ: يَا أَبَا الْحَارِثِ، أَنَا سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ نَحْوِي حَتَّى ضَرَبَنِي بِمَنْكِبِهِ , ثُمَّ مَشَى مَعِي حَتَّى أَقَامَنِي عَلَى الطَّرِيقِ , قَالَ: ثُمَّ هَمْهَمَ وَضَرَبَنِي بِذَنَبِهِ , فَرَأَيْتُ أَنَّهُ يُوَدِّعُنِي. قَالَ الشَّيْخُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَرَوَاهُ أَيْضًا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَحْشِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ

شیر غلام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطیع وفرمانبردار : ابو زکریا بن اسحاق نے ہمیں خبر دی کہا کہ ہمیں ابو عبداللہ بن یعقوب نے خبر دی کہا محمد ابن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر بن عون نے ہمیں خبر دی کہا اسامہ بن زید نے ہمیں خبر دی وہ محمد بن عمرو سے وہ محمد بن منکدر سے وہ حضرت سفینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سفینہ نے فرمایا: میں سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوا تو وہ ٹوٹ گئی تو میں اس کے ایک تختے پر سوار ہو گیا اس نے مجھے گھنے جنگل میں پہنچاد یا جہاں شیر تھا اچانک شیر آ گیا جب میں نے اسے دیکھا تو کہا: اے ابو الحارث!(یہ شیر کی کنیت ہے) میں سفینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں تو وہ میرے پاس آ گیا حتٰی کہ اس نے اپنے کندھوں سے مجھے مارا(یعنی ہلایا) پھر وہ میرے ساتھ چلا حتٰی کہ اس نے مجھے راستے پر ڈال دیا پھر اس نے ہلکی سی آواز نکالی اور اپنی دم مجھے ماری۔حضرت سفینہ فرماتے ہیں : میں نے اسے دیکھا وہ مجھے الوداع کر رہا ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سند میں محمد بن عمرو سے مراد محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن عثمان ہیں۔ اس کو سعید بن عبدالرحمٰن نے بھی محمد بن منکد ر سے روایت کیا ہے۔

سَفِينَةَ مَوْلَى النَّبِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on the words of dignities of guardians · Hadith 297

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 298

أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنِ الشَّرْقِيُّ , ثنا أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ , عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى , عَنِ أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي مُوسَى [ص:319]، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ. قَالَ: فَفَعَلْنَا , فَخَرَجَ إِلَيْنَا , فَقَالَ: «مَازِلْتُمْ هَاهُنَا» ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْنَا نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: «أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ» , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ , فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى أَهْلَ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي , فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» . وَرُوِيَ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ مَوْصُولٍ بِإِسْنَادٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ , وَفِي حَدِيثٍ مُنْقَطِعٍ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ مَثَلَ أَصْحَابِي كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ؛ مَنْ أَخَذَ بِنَجْمٍ مِنْهَا اهْتَدَى» . وَالَّذِي رُوِّينَاهُ هَاهُنَا مِنَ الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ يُؤَدِّي بَعْضَ مَعْنَاهُ، وَقَدْ أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ وَالْأَصْحَابِ الَّذِينَ يَنْصُرُونَ دِينَهُ وَيأَخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ , فَقَالَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ» . ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ بِكَوْنِهِمْ خَيْرَ أُمَّتِهِ، فَقَالَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: «خَيْرُ النَّاسِ [ص:320] قَرْنِي» ، وَفِي بَعْضِهَا: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِ» . وَقَالَ فِي رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي؛ فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي» وَأَمَرَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ بِمَحَبَّتِهِمْ وَنَهَى عَنْ سَبِّهِمْ , وَأَخْبَرَ أُمَّتَهُ بِأَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ لَا يُدْرِكُ مَحَلَّهُمْ وَلَا يَبْلُغُ دَرَجَتَهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى غَفَرَ لَهُمْ

صحابہ کرام علیہم الرضوان امت کے لیے امان ہیں: السید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو حامد بن شرقی نے بیان کیا کہا ابو صالح احمد بن منصور زاج نے ہم سے بیان کیا کہ حسین بن علی الجعفی نے ہم سے بیان کیا وہ مجمع بن یحییٰ سے وہ سعید بن ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ مغرب کی نماز پڑھی ہم نے کہا: اگر ہم انتظار کریں یہاں تک کہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ پڑھیں کہتے ہیں پھر ہم نے ایسا ہی کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف نکلے اور فرمایا: ” اس وقت سے تم یہاں ہو؟‘‘ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! ہم نے کہا کہ آپ کیساتھ عشاء کی نماز پڑھیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم درستگی کو پہنچے‘‘ یا فرمایا ’’تم نے اچھا کیا‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا:’’ ستارے آسمان کے لیے امان ہیں جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان والوں پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور میں اپنے اصحاب کے لیے امان ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور میرے اصحاب میری امت کے لیے امان ہیں جب میرے اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے‘‘۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان ستاروں کی مانند ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی ایک حدیث روایت کی گئی ایک دوسری سند سے جوان تک پہنچتی ہے لیکن وہ قوی نہیں اور ایک حدیث منقطع میں روایت کی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کی مثال آسمانی ستاروں جیسی ہے جس نے اس میں سے کسی ستارے کو پکڑا اس نے ہدایت پائی۔ یہاں پر جو حدیث صحیح ہم نے روایت کی اس کے بعض معنی تک یہ مذکورہ روایت بھی پہنچتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حواریوں اور اصحاب کی طرف اشارہ کیا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی مددکرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کرتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس بھی نبی کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کی امت میں اس کے حواری اور اصحاب ہوتے ہیں جو اسکی سنت کو لیتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں۔ سب سے بہتر زمانہ: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خیر امت ہونے کی گواہی دی چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا اور حضرت عائشہ، حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خير’’ تمام لوگوں میں سے بہتر زمانہ میرا ہے‘‘۔ بعض روایات میں ہے :’’میری امت میں بہتر زمانہ وہ ہے جس میں ، میں بھیجا گیا ہوں‘‘۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تکریم لازم ہے: اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں فرمایا: ’’میرے صحابہ کی تم عزت کرو کیونکہ وہ تم میں سے افضل ہیں‘‘۔ ایک اور روایت میں فرمایا: ’’تم میرے صحابہ کے بارے میں مجھے یاد رکھو‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف مروی روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت کرنے کا حکم دیا اور انہیں برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو بتایا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی صحابہ کے مرتبے کو نہیں پا سکتا نہ ان کے درجے تک پہنچ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی ہے۔

فَفَعَلْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: «مَازِلْتُمْ هَاهُنَا» فَقُلْنَا: نَعَمْ ← صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ الْمَغْرِبَ فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ. ← أَبِي مُوسَى [ص:355]، ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ← مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 298

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 299

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ , ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ , ثنا شُعْبَةُ , عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ، وَلَا يَبْغُضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

کسی بھی صحابی کی توہین و بے ادبی منع ہے: ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن احمد بن مجمویہ العسکری نے ہم سے بیان کیا کہا جعفر بن محمد القلانسی نے ہم سے بیان کیا کہا آدم بن ابو ایاس نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ نے ہم سے بیان کیا وہ اعمش سے راوی کہا میں نے ذکوان کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو کیونکہ تم میں سے کوئی ایک اگر احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے وہ صحابہ میں سے کسی ایک کے بھی مُد یا نصف مُد تک نہیں پہنچے گا اور جو آدمی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ انصار سے بعض نہیں رکھے گا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ محمد بن عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 299

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 300

حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أنا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْكُوفِيُّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي , فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ , وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»

صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت و بغض حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و بغض ہے: الفقیہ ابو طاہر نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہمیں خبر دی کہاعلی بن سعید السنوی نے ہم سے بیان کیا کہا یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہا عبیدہ بن ابو رائطہ الکوفی نے ہم سے بیان کیا وہ عبدالرحمٰن بن زیاد سے وہ حضرت عبداللہ بن مفضل المزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اللہ سے ڈرنا میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا، جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے اس سے بغض رکھا جس نے انہیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے پکڑ لے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عبيدة بن أبي رائطة الكوفي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 300

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقُولِ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَرَضِيَ عَنْهُمْ · حديث 301

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ , أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ , ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ , ثنا عَفَّانُ , ثنا أَبُو عَوَانَةَ , ثنا الْحُصَيْنُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ , فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ؛ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ " فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ

اہل بدرجنتی ہیں: ابو محمد بن یوسف نے ہمیں خبر دی کہا ابو سعید بن اعرابی نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن محمود الزعفرانی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عفان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا کہا ہم سے حصین نے بیان کیا وہ سعید بن عبید سے وہ ابو عبدالرحمٰن السلمی سے وہ حضرت مولا علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ’’تمہیں کیا پتہ ؟ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں پر توجہ فرمائی فرمایا : تم جو چاہو کرو تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے‘‘۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں آنسو سے بھر گئیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْحُصَيْنِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them · Hadith 301

chevron_left Previous
1…232425…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him