Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 278

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ , أَخْبَرَنَا إِسْرَائيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ نَزَلْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ - وَهِيَ بِئْرٌ - فَوَجَدْنَا النَّاسَ قَدْ نَزَحُوهَا، فَلَمْ يَدَعُوا فِيهَا قَطْرَةً، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِدَلْوٍ فَنَزَعَ مِنْهَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ بِفِيهُ فَمَجَّهُ فِيهَا وَدَعَا اللَّهَ فَكَثُرَ مَاؤُهَا حَتَّى صَدَرْنَا وَرَكَائِبُنَا وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً. وَرَوَاهُ أَيْضًا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَقَدْ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآبَارٍ، وَقَدْ ذَكَرْنَا صُنْعَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا فِي كِتَابِ الدَّلَائِلِ

چودہ سو آدمیوں کو پانی کافی ہو گیا: ابو الحسین بن الفضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے یعقوب بن سفیان نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہا ہمیں اسرائیل نے خبر دی وہ ابو اسحاق سے وہ حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے فرمایا: تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو کہ اس میں مکہ فتح ہوا تھا اور ہم بیت الرضوان کو فتح شمار کرتے ہیں ہم حدیبیہ میں اتر ہے یہ ایک کنواں ہے۔ تو لوگوں نے کنوئیں کا سارا پانی نکال لیا اور اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا چنانچہ اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ڈول منگوایا چنانچہ اس کنوئیں سے ڈول نکالا پھر اس سے اپنے منہ میں پانی لیا پھر اس میں کلی کر دی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی چنانچہ اس کنوئیں کا پانی کثیر ہو گیا یہاں تک کہ وہ ہمارے سینوں اور رکابوں تک پہنچ ہو گیا اور ہم اس وقت چودہ سو(1400) آدمی تھے۔ اس کو حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی روایت کیا اور انہوں نے بھی اسی کی مثل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کنوئیں کیساتھ تذکرہ بیان کیا۔ اور ہم نے ان میں سے ہر ایک واقعے کوعلیحدہ علیحدہ کتاب الدلائل میں بیان کیا ہے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 278

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 279

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ , ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّغَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أنا مَعْمَرٌ , عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ: فَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ شَدِيدٌ فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصحَابِهِ - قَالَ: أَحْسَبُهُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ أَوْ غَيْرَهُمَا - قَالَ إِنَّكمَا سَتَجِدَانِ بِمَكَانِ كَذَا وَكذَا امْرَأَةً مَعَهَا بَعِيرٌ [ص:276] عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ عَلَى الْبَعِيرِ فَائْتِيَانِي بِهَا، قَالَ: فَأَتَيَا الْمَرْأَةَ فَوَجَدَاهَا رَكِبَتْ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ عَلَى الْبَعِيرِ فَقَالَا لَهَا: أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللَّهِ؟ أَهَذَا الصَّابِئُ؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، فَجَاءَا بِهَا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ مِنْ مَزَادَتَيْهَا شَيْءٌ ثُمَّ قَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ قَالَ: مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ أَعَادَ الْمَاءَ فِي الْمَزَادَتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِغِطَاءِ الْمَزَادَتَيْنِ فَفُتِحَتْ ثُمَّ أَمَرُوا النَّاسَ فَمَلئُوا آنِيَتَهُمْ وَأَسْقِيَتَهُمْ فَلَمْ يَدَعُوا يَوْمَئِذٍ إِنَاءً وَلَا سِقَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: فَكَانَ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُمَا لَمْ يَزْدَادَا إِلَّا امْتلَاءً، قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهَا فَبُسِطَ ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَجَاءُوا مِنْ أَزْوَادِهِمْ حَتَّى مَلَأَ لَهَا ثَوْبَهَا ثُمَّ قَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَإِنَّا لَمْ نَأْخُذْ مِنْ مَائِكَ شَيْئًا وَلَكِنَّ اللَّهَ سَقَانَا، قَالَ: فَجَاءَتْ أَهْلَهَا فَأَخْبَرَتْهُمْ فَقَالَتْ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَسْحَرِ النَّاسِ أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ ذَلِكَ الْحِوَاءِ حَتَّى أَسْلَمُوا كُلُّهُمْ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ يَزِيدُ وَيُنْقِصُ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهُ فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ عَمْدًا يَدْعُونَكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ، فَأَطَاعُوهَا فَجَاءُوا جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْجُو إِسْلَامَهُمْ بِمَا أَرَى الْمَرْأَةَ مِنْهُمْ مِنْ مُعْجِزَاتِهِ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِذَلِكَ فَعَلِمُوا تَصْدِيقَهُ فَأَسْلَمُوا

غیب داں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غیبی خبر بتانا : ابو الحسین علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے ہمیں بغداد میں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن منصور الرمادی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید الصغانی نے مکہ میں ہمیں خبر دی کہا اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی کہا معمر نے ہمیں خبر دی وہ عوف بن ابو رجاء العطا ردی سے وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک سفر میں چلے کہتے ہیں پھر انہیں شدید پیاس لاحق ہو گئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی آئے حضرت عمران نے فرمایا: میرا گمان ہے کہ وہ حضرت علی و حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما یا ان کے علاوہ کوئی اور تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ایسی ایسی جگہ میں ایک عورت پاؤ گے اس کے پاس اونٹ ہو گا اونٹ پر دو مشکیزے ہوں گے تم انہیں میرے پاس لے آؤ‘‘۔ کہتے ہیں وہ دونوں اس عورت کے پاس آئے اسے پایا کہ وہ دو مشکیزوں کے درمیان اونٹ پر سوار ہے ان دونوں نے اسے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بلا رہے ہیں ان) کی بات مانو اس نے کہا کون اللہ کا رسول؟ کیا یہ صابی ؟ ان دونوں نے کہا یہ تیرا خیال ہے حالانکہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں چنانچہ دونوں اسے لے کر آ گئے ، پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے برتن سے تھوڑا سا پانی برتن میں ڈالا گیا پھر جو اللہ نے چاہا آپ نے کہا: ابن اسحاق کی روایت میں ہے جو کہنا چاہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔ پھر پانی مشکیزوں میں لوٹا دیا پھر مشکیزے ڈھانپنے کا حکم دیا پھر انہیں کھول دیا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے برتن اور پیٹ بھر لیں پھر لوگوں نے تمام برتن اور پیٹ بھر لیے حضرت عمران بن حصین نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس میں اضافہ نہ ہوا مگر بھرنا(یعنی برتن اور پیٹ بھر جانے کی وجہ سے ان میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا) کہتے ہیں : پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا بچھانے کا حکم دیا تو وہ بچھا دیا گیا پھر آپ نے اپنے اصحاب کو اپنے سامان میں سے کچھ لانے کا حکم دیا ، تو وہ اپنے سامان میں سے کچھ لے آئے حتٰی کہ وہ کپڑا بھر گیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا:’’ جا ! ہم نے تیرے پانی میں سے کچھ بھی نہیں لیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا‘‘۔ حضرت عمران کہتے ہیں اس عورت نے اپنے گھر والوں کو آ کر اس کے متعلق بتایا اس نے کہا: میں تمہارے پاس اس شخص کے پاس سے آئی ہوں جو لوگوں میں سب سے بڑا جادوگر ہے یا یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہے۔ آپ نے فرمایا: اس قبیلے کے سب لوگوں نے آ کر اسلام قبول کرلیا۔ الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن یعقوب نے ہمیں خبر دی کہا یحییٰ بن ابو طالب نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالوہاب بن عطاء نے ہم سے بیان کیا کہا عوف بن ابوجمیلہ نے ہمیں خبر دی پھر اسی سند کیساتھ اسی کے ہم معنی کچھ کمی واضافہ کیساتھ یہی واقعہ ذکر کیا اور اس کے آخر میں کہا:مشرکین کے جو ارد گرد ہوتے مسلمان ان پر حملہ کرتے اور وہ رات کے اس حصے تک نہیں پہنچتے جس میں وہ تھی چنانچہ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: یہ قوم جان بوجھ کر تمہیں دعوت دیتی ہے کیا تم میں کوئی اسلام قبول کرنے والا ہے؟ تو ان سب نے اس کی بات مانی اور سب آئے اور داخل اسلام ہو گئے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ اس لیے ہوا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس عورت کو معجزے دکھا کر ان سے اسلام لانے کی امید رکھتے تھے پھر اس عورت نے اپنی قوم کو ان معجزات کی خبر دی چنانچہ وہ اس کی تصدیق کو جان گئے پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اور وضو کے برتن کے پانی والی حدیث جسے عمران اور ابو قتادہ انصاری نے روایت کیا اسی باب سے ہے۔

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 279

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 280

وَحَدِيثُ الْمِيضَأَةِ الَّذِي رَوَاهُ عِمْرَانُ وَأَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي قَتَادَةَ: «أَمَعَكُمْ مَاءٌ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ جَرْعَةٌ، فَقَالَ: ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهَا سَيَكُونُ لَهَا شَأْنٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي سَيْرِهِمْ، فَلَمَّا اشْتَدَّتْ بِهِمُ الظَّهِيرَةُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطَشًا، قَالَ: «لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا قَتَادَةَ، ائْتِنِي بِالْمِيضَأَةِ» فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ: حُلَّ لِي غُمَرِي - يَعْنِي قَدَحَهُ - فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ وَيَسْقِي النَّاسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْسِنُوا الْمَلْءَ فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رِيٍّ» فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُهُ فَصَبَّ لِي فَقَالَ: «اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ» قُلْتُ: اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «إِنَّ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا» فَشَرِبْتُ ثُمَّ شَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثلَاثُمِائَةٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فَذَكَرَهُ وَفِي آخِرِهِ تَصْدِيقُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ فِي رِوَايَتِهِ، وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ فَقَالَ فِيهِ: فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا فِي الْمِيضَأَةِ تَكَالَبُوا عَلَيْهَا، فَقَالَ: أَحْسِنُوا الْمَلْءَ كُلُّكُمْ سَيُرْوَى

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت قتادہ سے فرمایا: ’’کیا تمہارے پاس پانی ہے؟‘‘ابو قتادہ نے کہا میں نے عرض کی ہاں وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی ہے قوم نے وضو کیا اور اس برتن میں ایک گھونٹ باقی رہ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے ذخیرہ کرلو! کیونکہ اس کی بڑی شان ہو گی‘‘۔ پھر حضرت قتادہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واصحاب کے سفر پر جانے کی حدیث ذکر کی پھر جب دو پہر کی گرمی شدت اختیار کر گئی تو صحابہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم پیاس سے ہلاک ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے لیے ہلاکت نہیں ہے‘‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابو قتادہ ! وہ وضو کے پانی والا برتن لے آ!‘‘ حضرت قتادہ نے کہا: میں وہ برتن لے آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پیالے کا منہ کھول دے! کہتے ہیں میں نے اس کا منہ کھول دیا تو میں اسے لے آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پانی انڈیلنے لگے اور لوگ سیراب ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” اچھی طرح سے بھر لو کیونکہ تم میں سے ہر ایک عنقریب پانی سے واپس پھرنے والا ہے‘‘ تو ساری قوم نے پانی پیا حتٰی کہ میرے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی باقی نہ بچا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے اس سے پانی انڈیلا اورفرمایا: ’’اے ابو قتادہ ! پی!‘‘ آپ کہتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ پہلے نوش فرمائیے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قوم کو پلانے والا آخر میں پیتا ہے‘‘۔ چنانچہ میں نے پانی پیا پھر میرے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پیا اور اس وضو کے برتن میں اتنا ہی پانی موجود تھا جتنا پہلے تھا اور اس وقت تین سو افراد تھے (جنہوں نے اس سے پانی پیا تھا)۔ علی بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر الرزاز نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن عبیداللہ بن یزید نے ہمیں خبر دی کہا یزید بن ہارون نے ہم سے بیان کیا کہا حماد بن سلمہ نے ہمیں خبر دی وہ ثابت سے وہ عبداللہ بن رباح سے وہ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں پھر یہی حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کی۔ ترجمہ: اور اسے سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے روایت کیا اور اس میں کہا: جب لوگوں نے اس وضو کے برتن میں پانی دیکھا تو وہ اس پر حریص ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اچھی طرح بھر لو! تم میں سے ہر ایک عنقریب پانی والا ہو جائے گا‘‘۔

أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ ← وَحَدِيثُ الْمِيضَأَةِ الَّذِي رَوَاهُ عِمْرَانُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 280

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 281

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عِكْرِمَةُ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ [ص:278] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَنَا جَهْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا بَعْضَ مَزَاوِدَكُمْ» فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ بِنِطْعٍ فَمُدَّ قَالَ: فَجَاءَ الْقَوْمُ بِشَيْءٍ فِي جُرُبِهِمْ فَنَبَذُوهُ، قَالَ: فَتَطَاوَلَتُ أَحْزِرُهُ حَتَّى كَمْ هُوَ، فَإِذَا هُوَ كَرَبْضَةِ الشَّاةِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا أَجْمَعِينَ، قَالَ: ثُمَّ تَطَاوَلْتُ لَهُ بَعْدَمَا شَبِعَ الْقَوْمُ أَحْزِرُهُ كَمْ هُوَ، فَإِذَا هُوَ كَرَبْضَةِ الشَّاةِ قَالَ فَحَشَوْنَا جُرُبَنَا مِنْهُ ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُطْفَةٍ فِي إِدَاوَةٍ فَصَبَّهَا فِي قَدَحٍ فَرَفَعْنَا مِنْهَا حَتَّى تَطَهَّرَنَا بِأَجْمَعِنَا ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ قَالُوا: هَلْ مِنْ وَضُوءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَرَغَ الْوَضُوءُ» . وَرَوَاهُ النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً. وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ قِصَّةَ الْأَزْوَادِ وَقَالَ: فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّى مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ وَرُوِيَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ [ص:279]، وَعَنْ أَبِي خُنَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید الصفار نے ہمیں خبر دی کہا تمتام محمد بن غالب نے ہم سے بیان کیا کہا موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہا عکرمہ نے ہم سے بیان کیا وہ ایاس بن سلمہ بن اکوع سے وہ اپنے باپ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غز وے میں گئے تو اس میں ہمیں(بھوک کے باعث) سخت مشقت پہنچی یہاں تک ہم نے ارادہ کیا کہ ہم اپنی کچھ سواریوں کو ذبح کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے توشے کو جمع کرو!‘‘ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھانے کا حکم دیا تو وہ بچھا دیا گیا حضرت سلمہ بن اکوع نے فرمایا: پس لوگ اپنے توشہ دانوں میں سے کچھ کچھ لے آئے اور اسے دستر خوان پر ڈال دیا کہتے ہیں میں اس کا اندازہ لگانے لگا کہ کتنا سامان جمع ہو گیا تو وہ ایک مکمل بکری کا سامان تھا اور ہم چودہ سو آدمی تھے تو ہم نے اس سے کھایا یہاں تک ہم سب سیر ہو گئے کہتے ہیں لوگوں کے سیر ہو کر کھانے کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ کتنا باقی بچا تو وہی ایک بکری جتنا توشہ موجود تھا حضرت سلمہ نے کہا پھر ہم نے اس سے اپنے تو شہ دان بھر لیے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھوڑا سا پانی لایا گیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالے میں اسے انڈیلا چنانچہ ہم نے اس سے پانی لیا یہاں تک کہ ہم سب نے اس سے طہارت حاصل کی پھر اس کے بعد آٹھ گروہ آئے انہوں نے کہا: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وضو کا پانی ختم ہو گیا ہے۔ اس کو نضر بن محمد نے عکرمہ بن عمار سے روایت کیا اور اس حدیث میں کہا: ہم پر بہت زیادہ پانی انڈیلا گیا تو ہم سب چودہ سو آدمیوں نے اس سے وضو کیا۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے توشہ والا قصہ روایت کیا اور کہا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دستر خوان پر سب لوگوں کو بلایا یہاں تک کہ قوم نے اپنے توشہ دان بھر لیے۔ اسی کی مثل حضرت ابو عمرہ انصاری، حضرت ابو حبیش العقاری اور حضرت ابن عباس سے بھی روایت کی گئی اور یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راویت کرتے ہیں۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← تَمْتَامٌ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 281

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 282

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ , ثنا شَيْبَانُ , عَنْ فِرَاسٍ، قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَحَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ سِتَّ بَنَاتٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا كَثِيرًا فَلَمَّا حَضَرَ جِذَاذُ النَّخْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي قَدِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا كَثِيرًا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ، قَالَ: «اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرَةٍ عَلَى حِدَةٍ» فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ فَلَمَّا رَأَى مَا يَصْنَعُونَ أَطَافَ حَوْلَ أَعَظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «ادْعُ أَصْحَابَكَ» فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَأَنَا وَاللَّهِ رَاضٍ أَنْ يُؤَدِّيَ اللَّهُ أَمَانَةَ وَالِدِي وَلَا أَرْجِعُ إِلَى إِخْوَتِي بِتَمْرَةٍ فَسَلَّمَ اللَّهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا حَتَّى إِنِّي لِأَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:280] كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ ثَمَرَةٌ وَاحِدَةٌ

کھجوروں میں برکت : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن محمد بن شاکر نے بیان کیا کہا محمد بن سابق نے ہم سے بیان کیا کہا شیبان نے ہم سے بیان کیا وہ فراس سے راوی کہاشعبی نے کہا کہ مجھ سے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد یوم احد شہید ہو گئے اور چھ بیٹیاں چھوڑی اور بہت زیادہ قرضہ چھوڑا پس جب کھجوریں توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ جانتے ہیں کہ میرے والد یوم احد کو شہید ہو گئے اور انہوں نے بہت زیادہ قرضہ چھوڑا ہے اور میری یہ خواہش ہے کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں(یعنی آپ میرے والد کا قرضہ معاف کرا دیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاف کرنے کا کہا تو انہوں نے معاف نہیں کیا جیسا کہ بخاری کی ایک روایت میں ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” ہرقسم کی کھجور کو ایک کونے میں اکٹھا کرو‘‘ تو میں نے ایسا ہی کیا پھر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا پس جب انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو اس گھڑی مجھ پر غضبناک ہو گئے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس حرکت کو دیکھا تو بڑے ڈھیر کے اردگرد تین چکر لگائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس بیٹھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اپنے ساتھیوں(قرض خواہوں) کو بلاؤ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل انہیں ماپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت کو ادا کردیا اور میں اللہ کی قسم ! اس بات پر بھی راضی تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کی امانت کو ادا کر دے اور میں اپنی بہنوں کے پاس ایک کھجور بھی لے کر نہ جاؤں پس اللہ تعالیٰ نے ان کھجوروں کے تمام ڈھیروں کو محفوظ رکھا حتٰی کہ میں اس ڈھیر کی طرف دیکھ رہا ہوں جس کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے گویا کہ اس میں سے ایک پھل کی بھی کمی نہیں ہوتی تھی۔

الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 282

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 283

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أَخْبرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ , ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ , أنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ بِهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ أَنَاسٌ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «طَعَامٌ» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ حَوْلَهُ: «قُومُوا نَنْطَلِقْ» قَالَ: فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتِ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ» فَجَاءَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:281] فَفَتَّهُ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ» حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ وَرَوَاهُ سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ: ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا، وَرَوَاهُ النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ وَقَالَ: وَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلٌ فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ: «كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ»

جو کی چندٹکیاں اور چند روٹیاں ستر اسی آدمیوں کو کافی : الحافظ محمد بن عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا الفقیہ ابو النضر نے مجھے خبر دی کہا عثمان بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہا قعنبی نے ہمیں خبر دی ان روایات میں سے جو آپ نے مالک پر پڑھیں تھی اور وہ اسحاق بن عبد اللہ بن ابو طلحہ سے راوی کہ آپ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفرماتے ہوئے سنا: حضرت ابو طلحہ نے حضرت ام سلیم سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمزور آواز سنی ہے میں نے جان لیا کہ یہ بھوک کی وجہ سے ہے تو کیا تیرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ آپ(ام سلیم) نے کہا: ہاں پھر آپ نے جو کی کچھ ٹکیاں نکالیں پھر آپ نے اپنی اوڑھنی لے کر کچھ روٹیاں اس میں لپیٹ دیں پھر اس کپڑے کا کچھ حصہ میرے(یعنی حضرت انس کے) ہاتھ میں دے دیا اور کچھ میرے او پرلوٹا دیا پھر آپ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا چنانچہ میں وہ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے تو میں ان کے پاس آ کر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تجھے ابو طلحہ نے بھیجا ہے؟‘‘ کہتے ہیں میں نے کہا: جی ہاں آپ نے فرمایا: ’’ یہ کھانا ہے؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد جو لوگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ’’اٹھو ہم چلتے ہیں‘‘ فرماتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چلا یہاں تک کہ ابو طلحہ کے پاس آکر میں نے انہیں اس کی خبر دی تو حضرت ابو طلحہ نے کہا: اے ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو لے کر آ رہے ہیں اور ہمارے پاس نہیں ہے جو ہم انہیں کھلائیں تو حضرت ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول(عزوجل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں۔حضرت انس فرماتے ہیں: حضرت ابو طلحہ چلے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور حضرت ابو طلحہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے یہاں تک دونوں گھر میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ام سلیم جو کچھ تیرے پاس ہے وہ لے آ!‘‘ تو آپ وہی روٹی لے کر آ گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھولنے کاحکم دیا تو اسے کھولا گیا اور حضرت ام سلیم نے اپنی گھی کی کپی نچوڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سالن بنا لیا پھر اس میں جو اللہ تعالیٰ نے چاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھا پھر فرمایا:’’دس آدمیوں کو اندر آنے کے لیے کہو!‘‘ تو دس آدمیوں کو اجازت دی گئی انہوں نے سیر ہو کر کھایا پھر وہ چلے گئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’دس آدمیوں کو اندر آنے کے لیے کہو‘‘ یہاں تک کہ ان تمام لوگوں نے سیر ہو کر کھا لیا اور وہ ستر یا اسی آدمی تھے۔ سعد بن سعید نے بھی اسے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اس کے آخر میں اس بات کا اضافہ کیا فرمایا: پھر انہیں جلدی بلاؤ جب وہ اس سے کھا چکے تو انہی کی مثل بلایا گیا۔ اور اس کو نضر بن انس نے بھی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور کہا: اس سے اسی سے کچھ زیادہ آدمیوں نے کھایا اوراس سے بچ گیا وہ ام سلیم کو دے کرفرمایا:’’خود کھا اور اپنے پڑوسیوں کو کھلا !‘‘۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 283

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 284

وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَعَنَاقٍ فَدَعَا اللَّهَ عَلَى الْقِدْرِ وَالتَّنُّورِ فَأَكَلُوا وَهُمْ ثلَاثُمِائَةٍ [ص:282] قَالَ: وَأَكَلْنَا وَأَهْدَيْنَا لِجِيرَانِنَا، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُبُوُّ الطَّعَامِ بِتَبْرِيكِهِ فِيهِ حَتَّى أَكَلَ مِنْهُ عَدَدٌ كَثِيرٌ، وَزِيَادَةُ الْمَاءِ بِدُعَائِهِ قَدْ رُوِّينَاهُمَا مِنْ أَوْجُهٍ أُخْرَى. وَفِي حَدِيثِ سَمُرَةَ فِي الْقَصْعَةِ الَّتِي كَانَتْ تُمَدُّ مِنَ السَّمَاءِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ فِيمَا صُنِعَ مِنَ الطَّعَامِ وَفِي الشَّاةِ الَّتِي اشْتَرَاهَا مِنَ الْأَعْرَابِيِّ [ص:283] وَفِي اللَّبَنِ الَّذِي دَعَا عَلَيْهِ أَهْلَ الصُّفَّةِ [ص:284] وَفِيمَا خَلَفَ عَلَى عَائِشَةَ مِنَ الشَّعِيرِ وَفِيمَا أَعْطَى الرَّجُلَ مِنَ الشَّعِيرِ وَفِيمَا بَقِيَ عِنْدَ الْمَرْأَةِ مِنَ السَّمْنِ فِي الْعُكَّةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي سَائِرِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ وَغَيْرِهَا مِمَّا فِي مَعْنَاهَا بِأَسَانِيدِهَا مِمَّا يَطُولُ بِهِ الْكِتَابُ، وَفِيمَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ كِفَايَةٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی جبکہ آپ کے پاس ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اس ہنڈیا اور تنور پر دعا کی تو تین سو آدمیوں نے اس سے کھایا۔ فرمایا: ہم نے کھایا اور ہم نے اپنے پڑوسیوں کو ہدیہ کیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے تو یہ ساری برکت بھی چلی گئی۔ اور حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث اس پیالے کے بارے میں ہے جس میں اضافہ آسمان سے ہوتا تھا۔ اور حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے جو آپ نے کھانا تیار کیا تھا (جس میں برکت آئی تھی)۔ اور اس کی بکری(میں برکت نازل ہونے) کی حدیث جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعرابی سے خریدا تھا۔ اور اس دودھ کے ایک پیالے میں برکت جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل صفہ کو دعوت تھی(اور تمام اہل صفہ نے اس ایک پیالے سے دودھ پیا تھا)۔ اور ان جو میں برکت جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ کے لیے چھوڑے تھے (کہ جب تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ماپانہیں انہیں میں سے کھاتی رہیں جب ماپا تو وہ ختم ہو گئے)۔ اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو جو دیئے تھے اس میں برکت نازل ہوئی(کہ وہ آدمی ، اس کے گھر والے اور اس کے مہمان ان میں سے کھاتے رہے یہاں تک کہ جب اس نے انہیں ماپا تو وہ ختم ہو گئے) ۔ اور ایک عورت کے گھی کی کپی میں برکت باقی رہی(جب تک کہ اس نے اسے نچوڑ انہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکے بعد اسے فرمایا تھا کہ اگر تو اسے ایسے ہی رہنے دیتی یعنی نچوڑتی نہ تو ہمیشہ یہ تیرے پاس قائم رہتا)۔ یہ اور ان کے علاوہ انہیں کے ہم معنی انہیں اسانید کیساتھ طوالت کیساتھ ہم نے کتاب(دلائل النبوة) میں بیان کر دی ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا یہی کافی ہے۔ وباللہ التوفیق!

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 284

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 285

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا بِهِ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بَرْهَانَ الْغَزَّالُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ، فَقَالَ: «هَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهَا الْفَحْلُ» فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى [ص:285] أَبَا بَكْرٍ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ: «اقْلِصْ» فَقَلَصَ قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَاصِمٍ فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ جَذَعَةٍ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهَا الْفَحْلُ بَعْدُ؟ فَأَتَيْتُهُمَا بِهَا فَاعْتَقَلَهَا أَبُو بَكْرٍ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّرْعَ فَدَعَا فَحَفَلَ الضَّرْعُ وَقَدْ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ، وَصَنَعَ ذَلِكَ بِشَاةِ أُمِّ مَعْبَدٍ حِينَ مَرَّ بِهَا فِي الْهِجْرَةِ حَتَّى قَالَ فِيهَا الْهَاتِفُ الْأَبْيَاتَ الْمَذْكُورَةَ فِي قِصَّتِهَا

ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی الروذباری اور ابو عبداللہ حسین بن عمر بن برہان الغزال نے دوسرے لوگوں میں ہمیں خبر دی سب نے کہا: اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن عرفہ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو بکر بن عیاش نے بیان کیا وہ عاصم بن ابو النجود سے وہ زر بن حبیش سے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں عقبہ بن ابو معیط کی بکریاں چرا رہا تھا تو میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے لڑکے ! کیا دودھ ہے؟‘‘ میں نے کہا: ہاں لیکن میں امانت دار ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسی بکری ہے جس پر سے نر نہیں اترا یعنی جو ابھی تک حاملہ نہیں ہوئی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک بکری لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو دودھ اتر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے برتن میں دوھ لیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پیا اور حضرت ابو بکر کو پلایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: دودھ سمیٹ لے چنانچہ اس نے دودھ سمیٹ لیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: میں پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! مجھے اس بات کی تعلیم دیجیئے ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے تو جاننے والا سیکھا ہوا ہے‘‘۔ اور اس کو حماد بن سلمہ وغیرہ نے عاصم سے روایت کیا اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” کیا چھوٹا بچہ ہے جس پر سے نر نہیں اترا؟‘‘ میں ایسا بچہ لے کر آ گیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن پکڑ کر دعا کی تو تھن سے دودھ اتر آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کئی مواقع پر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام معبد کی بکری کیساتھ بھی ایسا ہی کیا جب اس کے پاس سے ہجرت کے موقع پر گزرے تھے حتٰی کہ ہاتف غیبی نے کچھ اشعار بھی کہے تھے اس قصے میں جن کا ذکر موجود ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، فِي آخَرِينَ ← بِهِ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 285

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 286

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [ص:286] جَعْفَرٍ , ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ , ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ أَبُو عَمْرٍو الْغُدَانِيُّ (ح) . وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ , أنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ , ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهمًا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِلَى رَحْلِي، فَقَالَ لَهُ عَازِبٌ: لَا حَتَّى تُحَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمَا، قَالَ: أَدْلَجْنَا مِنْ مَكَّةَ لَيْلًا فَأَحْيَيْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي هَلْ أَرَى مِنْ ظِلٍّ نَأْوِي إِلَيْهِ فَإِذَا صَخْرَةٌ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهَا فَإِذَا بَقِيَّةُ ظِلٍّ لَهَا قَالَ: فَسَوَّيْتُهُ , ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةً ثُمَّ قُلْتُ اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاضْطَجَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَيْهِ أَنْفُضُ مَا حَوْلِي هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا , فَإِذَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أُرِيدُ - يَعْنِي الظِّلَّ - فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ؟ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ , فَسَمَّاهُ , فَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُهُ , فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ التُّرَابِ , ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ: هَكَذَا , فَضَرَبَ إِحْدَى كَفَّيْهِ عَلَى الْأُخْرَى , فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَقَدْ رَوَّيْتُ مَعِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ , فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَافَقْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ , ثُمَّ قُلْتُ: قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةَ بْنِ [ص:287] مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فَقُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ لَقَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا» ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قِيدَ رُمْحيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ قُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَبَكَيْتُ، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكَ» ؟ فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي وَلكِنَّنِي إِنَّمَا أَبْكِي عَلَيْكَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمُ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ» ، قَالَ فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى بَطْنِهَا فَوَثَبَ عَنْهَا , ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنْجِيَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ؛ فَوَاللَّهِ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ , وَهَذِهِ كِنَانَتِي فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا؛ فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ بِإِبِلِي وَغَنَمِي بِمَكَانِ كَذَا وَكذَا فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَاجَةَ لَنَا فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ» , وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِلَى أَصْحَابِهِ وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلًا وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ فِيهِ: وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ وَنَحْنُ فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ , فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُتِينَا، فَقَالَ: {لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} [التوبة: 40] فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَارْتَطَمَتْ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ : ابو الحسین بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا عبیداللہ بن موسیٰ اور عبداللہ بن رجاء اور ابو عمر الغدانی نے ہم سے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے اور کہا۔ الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن سلیمان بن حرث نے ہمیں خبر دی کہا عبیداللہ بن موسیٰ اور عبداللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا دونوں نے کہا: اسرائیل نے ہم سے بیان کیا وہ ابو اسحاق سے وہ حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: حضرت ابو بکر نے عاذب سے تیرا درہموں کے بدلے ایک کجاوہ خریدا تو حضرت ابو بکر نے عاذب سے کہا: حضرت براء کو کہو کہ وہ میرا کجاوہ میرے پاس اٹھا کر لے آئے تو آپ سے عاذب نے کہا نہیں جب تک تم مجھے یہ نہ بتاؤ کہ جب آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں مکے سے نکلے تھے تو آپ نے کیا کیا جب کہ مشرکین آپ دونوں کو تلاش کر رہے تھے؟ تو آپ نے فرمایا : ہم رات کے وقت مکہ سے نکلے تو ساری رات اور دن چلتے رہے یہاں تک کہ ہم نے مکہ کو پیچھے چھوڑ دیا اور دوپہر ہو گئی تھی تو میں نے نظریں اٹھائیں کہ کہیں سایہ دیکھوں جس کی ہم پناہ لیں جبھی وہاں ایک چٹان تھی میں اس کی طرف گیا اس کا کچھ سایہ تھا آپ نے فرمایا : میں نے اسے سیدھا کیا پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے ایک چمڑے کی چٹائی بچھائی اور کہا: یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ لیٹ جائے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے پھر میں اپنے اردگرد تلاش کرنے لگا کہ کوئی کھانے کی چیز دیکھوں؟ تو اچانک میں نے چرواہا دیکھا جو اپنی بکریاں ہانک کر ایک چٹان کی طرف لے جارہا تھا اس سے اس کا ارادہ وہی تھا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا یعنی سایہ حاصل کر نے کا میں نے اس سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے لڑکے تو کس کے لیے ہے؟(یعنی کس کا غلام ہے) تو اس نے قریش کے ایک آدمی کا نام لیا میں نے اسے پہچان لیا تو میں نے اسے کہا : کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے کہا: ہاں میں نے کہا: کیا تو مجھے دودھ دوہ کر دے گا ؟ اس نے کہا ہاں چنانچہ میں نے اسے حکم دیا تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری پکڑی میں نے اسے حکم دیا کہ اس کے تھنوں کو مٹی سے جھاڑے پھر اسے ہاتھ جھاڑنے کا حکم دیا تو اس نے ایسے ہی کیا چنانچہ اس نے ایک ہاتھ دوسری ہتھیلی پر مارا پس اس نے مجھے تھوڑا سا دودھ دوہ کر دیا اور میں سیراب ہوا اور میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا برتن تھا جس کے منہ پر پکڑا تھا تو میں نے اس میں دودھ ڈالا حتٰی کہ اس کا اندر ٹھنڈا ہو گیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے حوالے کر دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاگ چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ ! نوش فرمائیے ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چاہت کے مطابق پیا پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اب کوچ کا وقت آ گیا ہے۔حضرت ابو بکر فرماتے ہیں : بھر ہم نے کوچ کیا اور لوگ ہمیں تلاش کر رہے تھے ان میں سے کوئی بھی ہم تک نہ پہنچ سکا سوائے سراقہ بن مالک بن جعشم کے جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا تو میں نے کہا یا رسول اللہ! یہ تلاش کرنے والا ہم تک پہنچ گیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ توغم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ پھر جب وہ ہمارے قریب ہوا یہاں تک کہ ہمارے اور اس کے مابین دو یا تین نیزوں کا فاصلہ رہ گیا تو میں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ تلاش کرنے والا ہم سے مل گیا ہے اور میں رونے لگا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیوں روتا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم میں اپنی جانکی وجہ سے نہیں رورہا میں تو آپ کی وجہ سے رو رہا ہوں۔حضرت ابو بکر نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی اور کہا: ’’اے اللہ! تو جیسے چاہے اس سے ہمیں کافی ہو جا!‘‘حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : پس گھوڑا اسے لیکر اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا وہ سراقہ اس سے کود پڑا پھر اس نے کہا:اے محمد ! مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ یہ آپ کا عمل ہے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ میں جس مصیبت میں پھنس گیا اس سے وہ مجھے نجات دے دے اللہ کی قسم ! میرے پیچھے جو آپ کو تلاش کرنے کے لیے آ رہے ہیں میں ان سے آپ کی خبر ضرور بالضرور پوشیدہ رکھوں گا اور یہ میرا کنانہ ہے آپ وہاں سے میرا حصہ لے لیجئے آپ فلاں فلاں مقام سے میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے گزریں گے ان میں سے آپ کو جس کی حاجت ہو لے لیجئے ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” ہمیں تمہارے اونٹوں اور بکریوں کی ضرورت نہیں‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ واپس اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ رہا حتٰی کہ رات کے وقت ہم دینہ پہنچ گئے۔ سراقہ بن مالک کا گھوڑا دھنس گیا: اور اس کو زہیر بن معاویہ نے ابو اسحاق سے روایت وہ حضرت براء سے وہ حضرت ابو بکر صدیق سے اس روایت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہمارے پیچھے سراقہ بن مالک آ گیا اور ہم بہت سخت زمین میں چل رہے تھے تو میں نے عرض کی یارسول اللہ! وہ ہمارے پاس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے خلاف دعافرمائی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔

أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِلَى رَحْلِي ← اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← محمد بن سليمان بن الحارث ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ أَبُو عَمْرٍو الْغُدَّانِيُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 286

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 287

وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُرَاقَةَ , فَذَكَرَ قِصَّةَ خُرُوجِهِ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَتَّى سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ التَّلَفُّتَ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتِ الرُّكْبَتَيْنِ , فَخَرَرْتُ عَنْهَا , ثُمَّ زَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَاهَا , فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا غُبَارٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ، قَالَ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ مُنِعَ مِنِّي وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ [ص:288] وَالْأَحَادِيثُ فِي دُعَائِهِ عَلَى آحَادِ الْمُشْرِكِينَ، وَدُعَائِهِ لِآحَادِ الْمُسْلِمِينَ، وَاسْتِسْقَائِهِ، وَدُعَائِهِ بِالْحَبْسِ وَإِجَابَةِ اللَّهِ تَعَالَى إِيَّاهُ فِيمَا سَأَلَ [ص:289] كَثِيرَةٌ , وَهِيَ فِي كِتَابِ الدَّلَائِلِ بِأَسَانِيدِهَا مَذْكُورَةٌ

اور زہری نے اسے عبدالرحمٰن بن مالک المدلجی سے روایت کیا وہ اپنے باپ سے وہ سراقہ سے روایت کرتے ہیں اس میں سراقہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلاش میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نکلنے کا قصہ ذکر کیا اس نے کہا: حتٰی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت سنی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی طرف متوجہ نہ ہوتے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ ادھر ادھر متوجہ ہوتے تو میرے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے حتٰی کہ گھٹنوں تک زمین میں چلے گئے تو میں اس پر سے گر گیا پھر میں نے اسے جھڑکا اور خود اٹھا اور قریب نہ تھا کہ اس کے اگلے دونوں پاؤں زمین سے نکلیں جب میں سیدھا کھڑا ہو گیا آسمان میں دھوئیں کی طرح غبار پھیلا ہوا ہے۔ سراقہ نے کہا: میں نے جان لیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے روک دیئے گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاک ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ دعائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرداً فرداً مشرکین کے خلاف فرمائیں اور فرداً فرداً مسلمانوں کے حق میں فرمائیں اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بارش کے لیے دعا کرنا جب بارش کے رک جانے کی وجہ سے زندگی مشکل ہو گئی تھی اور اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کو قبول کرنا یہ بہت سے مقامات میں ہوا ہے یہ سب کتاب الدلائل میں اپنی سندوں کیساتھ مذکور ہیں۔

حَتَّى ← قِصَّةَ خُرُوجِهِ خَلْفَ النَّبِيِّ ← سراقةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيِّ، ← وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 287

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 288

وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ , ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ , فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بِفَلَاةٍ مِنْ أَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ وَلَا شَجَرٌ، فَقَالَ لِي: «يَا جَابِرُ , خُذِ الْإِدَاوَةَ وَانْطَلِقْ بِنَا» ، فَمَلَأْتُ الْإِدَاوَةَ مَاءً وَانْطَلَقْنَا فَمَشَيْنَا حَتَّى لَا نَكَادَ نُرَى فَإِذَا شَجَرَتَانِ بَيْنَهُمَا أَذْرُعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ، انْطَلِقْ فَقُلْ لِهَذِهِ الشَّجَرَةِ: يَقُولُ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَقِي بِصَاحِبَتِكِ حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا" , فَفَعَلْتُ , فَزَحَفَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِصَاحِبَتِهَا , فَجَلَسَ خَلْفَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ , ثُمَّ رَجَعْنَا فَرَكِبْنَا رَوَاحِلَنَا فَسِرْنَا فَكَأَنَّمَا عَلَيْنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا , فَإِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ قَدْ عَرَضَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا صَبِيٌّ تَحْمِلُهُ [ص:290]، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا يَأْخُذُهُ الشَّيْطَانُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَا يَدَعُهُ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَنَاوَلَهُ , فَجَعَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُقَدَّمَةِ الرَّحْلِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ» , فَأَعَادَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ، فَلَمَّا رَجِعْنَا , فَكُنَّا بِذَلِكَ الْمَاءِ عَرَضَتْ لَنَا الْمَرْأَةُ مَعَهَا كَبْشَانِ تَقُودُهُمَا وَالصَّبِيُّ تَحْمِلُهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ مِنِّي هَدِيَّتِي؛ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنْ عَادَ إِلَيْهِ بَعْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا أَحَدَهُمَا مِنْهَا وَرُدُّوا الْآخَرَ» ، ثُمَّ سِرْنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا , فَجَاءَ جَمَلٌ نَادٍ , فَلَمَّا كَانَ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ خَرَّ سَاجِدًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ , مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْجَمَلِ» ؟ فَقَالَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: هُوَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَمَا شَأْنُهُ» ؟ قَالَ: سَنَوْنَا عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً فَلَمَّا كَبُرَ سِنُّهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ شُحَيْمَةٌ فَأَرَدْنَا نَحْرَهُ لِنَقْسِمَهُ بَيْنَ غِلْمَتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَبِيعُونِيهِ» ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ لَكَ، قَالَ: «فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ مِنَ الْبَهَائِمِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ كَانَ النِّسَاءُ لِأَزْوَاجِهِنَّ» [ص:291]. وَقَدْ رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قِصَّةَ انْقِيَادِ الشَّجَرَتَيْنِ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْتمَاعِهِمَا حَتَّى اسْتَتَرَ بِهِمَا , ثُمَّ افْتِرَاقِهِمَا وَرَوَى يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ , وَقِيلَ: عَنْهُ دُونَ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْمُعْجِزَاتِ الثَّلَاثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا شَهِدَهُنَّ جَابِرٌ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ دُعَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِذْقَ وَنُزُولَهُ مِنَ النَّخْلَةِ وَمَشْيَهُ إِلَيْهِ وَرُجُوعَهُ إِلَى مَكَانِهِ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُعَاءَهُ الشَّجَرَةَ وَإِقْبَالَهَا إِلَيْهِ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهَدَهَا ثلَاثًا , فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ , ثُمَّ رَجَعَتْ [ص:292] إِلَى مَنْبَتِهَا. وَفِي حَدِيثِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ حِينَ كَاتَبَ قَوْمَهُ عَلَى كَذَا وَكذَا نَخْلَةً يَغْرِسُهَا لَهُمْ وَيَقُومُ عَلَيْهَا حَتَّى تُطْعَمَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَغَرَسَ النَّخْلَ كُلَّهَا إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا غَيْرُهُ , فَأَطْعَمَ نَخْلَهُ مِنْ سَنَتِهِ إِلَّا تِلْكَ النَّخْلَةِ. وَفِي حَدِيثِ جَابِرٍ وَغَيْرِهِ فِي قِصَّةِ خَيْبَرَ إِخْبَارَ الذِّرَاعِ إِيَّاهُ بِأَنَّهَا مَسْمُومَةٌ [ص:293]، وَفِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ شَهَادَةَ الذِّئْبِ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ، وَفِي حَدِيثِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ شَهَادَةَ زَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ الْأَنْصَارِيِّ بَعْدَمَا مَاتَ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ [ص:294]. وَفِي حَدِيثٍ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَغَيْرِهِ فِي شَهَادَةِ الضَّبِّ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ , وَفِي حَدِيثِ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ شَهَادَةَ أَخِيهِ بَعْدَمَا مَاتَ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ , [ص:295] وَفِي حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَشْيَاخِهِ شَهَادَةَ الصَّبِيِّ الَّذِي شَبَّ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ لِنَبِيِّنَا بِالرِّسَالَةِ , وَفِي حَدِيثِ مُعَيْقِيبٍ شَهَادَةَ الرَّضِيعِ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ، وَفِي قِصَّةِ أُحُدٍ أَنَّ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ عَسِيبًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ سَيْفُهُ , فَرَجَعَ فِي يَدِ عَبْدِ اللَّهِ سَيْفًا , وَفِي مَغَازِي مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ , ثُمَّ الْوَاقِدِيِّ فِي قِصَّةِ بَدْرٍ أَنَّ عُكَّاشَةَ بْنِ مُحْصِنٍ انْقَطَعَ سَيْفُهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودًا فَإِذَا هُوَ سَيْفٌ أَبَيْضُ طَوِيلُ الْقَامَةِ , فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى هَلَكَ , وَفِي كِتَابِ الْوَاقِدِيِّ أَنَّهُ انْكَسَرَ سَيْفُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضِيبًا كَانَ فِي يَدِهِ فَقَالَ: اضْرِبْ بِهِ؛ فَإِذَا هُوَ سَيْفٌ جَيِّدٌ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى قُتِلَ يَوْمَ جِسْرِ أَبِي عُبَيْدٍ. وَفِي قِصَّةِ بَدْرٍ - وَقِيلَ [ص:296]: أُحُدٍ - عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّهُ أُصِيبَتْ عَيْنُهُ , فَسَالَتْ حَدَقَتُهُ عَلَى وَجْنَتِهِ , فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَغَمَزَ حَدَقَتَهُ بِرَاحَتِهِ , فَكَانَ لَا يَدْرِي أَيَّ عَيْنَيْهِ أُصِيبَتْ. وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ رُمِيَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَهْمٍ فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ , فَبَصَقَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُ فَمَا آذَاهُ، وَبَصَقَ فِي عَيْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ رَمَدٍ كَانَ بِهَا وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنَّ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ , ثُمَّ لَمْ يَشْكُ عَيْنَيْهِ بَعْدُ , وَلَهُ مِنْ دَعَوَاتِهِ وَاسْتِسْقَائِهِ وَاسْتِشْفَائِهِ وَإِجَابَةِ اللَّهِ تَعَالَى إِيَّاهُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ آيَاتٌ كَثِيرَةٌ وَدلَالَاتٌ وَاضِحَةٌ، وَمُعْجِزَاتُهُ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ تُحْصَى وَأَشْهَرُ مِنْ أَنْ تَخْفَى؛ وَإِنَّمَا نُشِيرُ هَاهُنَا مِنْ كُلِّ جِنْسٍ إِلَى مِقْدَارِ مَا يَتَّضِحُ بِهِ مَا قَصَدْنَاهُ فِي هَذَا الْكِتَابِ، وَقَدْ رُوِّينَا أَنَّ جَمَاعَةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَوْا جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَدِحْيَةُ غَائِبٌ [ص:297]، وَرَأَى جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ جَمَاعَةً مِنَ الْمَلَائِكَةِ الَّذِينَ أُمِدَّ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَرَأَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِهِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بَيَاضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ أَشَدَّ الْقِتَالِ مَا رَآهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ وَإِذَا هُمَا مَلَكَانِ. وَأَمَّا إِخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَوَائِنِ أَيَّامَ حَيَاتِهِ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ وَظُهُورِ صِدْقِهِ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ فَهِيَ كَثِيرَةٌ وَهِيَ فِي كِتَابِ الدَّلَائِلِ مَنْقُولَةٌ، فَإِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ حِينَ كَانَ بِمَكَّةَ بِمَا أَفْسَدَتِ الْأَرَضَةُ مِنْ صَحِيفَةِ قُرَيْشٍ , فَأُتِيَ بِهَا فَوُجِدَتْ كَمَا قَالَ، وَحِينَ أَخْبَرَ عَنْ مَسْرَاهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ , ثُمَّ إِلَى السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَكُذِّبَ فِيهِ؛ أَخْبَرَ عَنْ عِيرِهِمُ الَّتِي رَآهَا فِي طَرِيقِهِ: عَنْ قُدُومِهَا، وَعنْ [ص:298] نَبَأِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , فَكَانَ كَمَا قَالَ، وَأَخْبَرَ أَصْحَابَهُ بِمَا وَقَعَ لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ , وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ بِمُؤْتَةَ، وَنَعَاهُمْ قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ. وَنَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخْبَرَ عَنْ كِتَابِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، وَأَخْبَرَ عَنْ أَشْيَاءَ وُجِدَ تَصْدِيقُهُ فِي جَمِيعِهَا، وَرِوَايَةُ جَمِيعِ ذَلِكَ هَاهُنَا مِمَّا يَطُولُ بِهِ الْكِتَابُ وَوَعَدَ أُمَّتَهُ الْفُتُوحَ الَّتِي وُجِدَتْ بَعْدَهُ وَحَذَّرَهُمُ الْفِتَنَ الَّتِي بَدَتْ فِي آخِرِ خِلَافَةِ عُثْمَانَ وَظَهَرَتْ عِنْدَ قَتْلِهِ وَبَعْدَهُ، وَأَخْبَرَهُمْ بِمُدَّةِ بَقَاءِ [ص:299] الْخُلَفَاءِ بَعْدَهُ، وَأَشَارَ إِلَى الْمُلُوكِ الَّذِينَ يَكُونُونَ بَعْدَهُمْ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ , ثُمَّ بَنِي الْعَبَّاسِ فَكَانُوا كَمَا قَالَ وَسَمَّى جَمَاعَةً مِنْ أَصْحَابِهِ شُهَدَاءَ , فَأَدْرَكُوا الشَّهَادَةَ بَعْدَهُ، وَأَخْبَرَ بِأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ لَا يُدْرِكُ الشَّهَادَةَ غَيْرَ أَنَّهُ يَمُوتُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَكَانَ كَمَا أَخْبَرَ، وَأَخْبَرَ عَنِ الْبَلَاءِ الَّذِي أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ [ص:300] عَفَّانَ، وَعَنْ قَتْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَقَتْلِ ابْنِ ابْنَتِهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَإِصْلَاحِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ابنِ [ص:301] ابْنَتِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَوُجِدَ تَصْدِيقُهُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ , وَنَعَى نَفْسَهُ إِلَى ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ , وَأَخْبَرَ بِأَنَّهَا أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ , فَكَانَ كَمَا قَالَ، وَبَشَّرَ أُمَّتَهُ بِكِفَايَةِ اللَّهِ شَرَّ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ وَمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَيْنِ , فَكَانَ كَمَا أَخْبَرَ، وَذَكَرَ أُوَيْسًا الْقَرْنِيَّ وَوَصَفَهُ بِمَا وُجِدَ تَصْدِيقُهُ بَعْدَهُ. وَارْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , وَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْبَلُهُ الْأَرْضُ» ، فَدُفِنَ مِرَارًا , [ص:302] فَلَمْ تَقْبَلْهُ الْأَرْضُ وَلكُلِّ جِنْسٍ مِنْ أَجْنَاسِ دَلَائِلِ صِدْقِهِ أَشْيَاءُ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ، وَمَنْ أَرَادَ مَعْرِفَتَهَا بِأَسَانِيدِهَا رَجَعَ إِلَيْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَلِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْتَبَةٌ عَظِيمَةٌ وَمَنْزِلَةٌ شَرِيفَةٌ بِمَا كَانَ لَهُ مِنْ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ , وَكَانَتْ لَهُ علَامَةً ظَاهِرَةً فِي كَتِفِهِ عَرَفَهُ بِهَا أَهْلُ الْكِتَابِ، وَبِسَائِرِ صِفَاتِهِ الَّتِي وَجَدُوهُ مَكْتُوبًا بِهَا فِي كُتُبِهِمْ , ثُمَّ بِمَا كَانَ مِنْ شَقِّ قَلْبِهِ وَاسْتِخْرَاجِ حَظِّ الشَّيْطَانِ مِنْهُ , وَغَسْلِهِ , وَكَانَ أَمْرًا ظَاهِرًا شَاهَدَهُ جَمَاعَةٌ كَانُوا مَعَهُ، وَكَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَقُولُ: كُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ. ثُمَّ بِمَا كَانَ لَهُ مِنَ الْمِعْرَاجِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى [ص:303] الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى , ثُمَّ عُرِجَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى , وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَقَظَةِ، وَكُلُّ مَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ رُؤْيَةِ مَنْ رَآهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ كَانَ رُؤْيَةَ عَيْنٍ

دو ٹہنیاں مطیع ہو گئیں: محمد بن عبدالله الحافظ اور محمد بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا: ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا احمد بن عبدالجبار نے ہم سے بیان کیا کہا یونس بن بکیر نے ہم سے بیان کیا وہ اسماعیل بن عبدالملک سے وہ ابو الزبیر سے وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ سفر میں ، میں نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پاخانے کا ارادہ فرماتے تو اتنے دور جاتے کہ کوئی بھی نہیں آپ کو دیکھ سکتا تھا، چنانچہ ہم ایک زمین کے ایک میدان میں اترے جس میں نہ کوئی نشان تھا نہ درخت تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا : ’’اے جابر اس چمڑے کے برتن کو پکڑ اور ہمارے ساتھ چل‘‘ چنانچہ میں نے اس برتن میں پانی بھرا اور ہم چل پڑے، ہم چلتے رہے اتنے دور آ گئے حتٰی کہ قریب نہ تھا کہ ہم دیکھے جاتے تو وہاں ٹہنیوں والے دو درخت تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’اے جابر! جا اس درخت سے کہہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دوسرے درخت سے مل جا تاکہ میں تم دونوں کے پیچھے بیٹھوں‘‘ حضرت جابر فرماتے ہیں : میں نے ایسا ہی کیا تو وہ اپنی جگہ سے جدا ہوا اور دوسرے درخت سے مل گیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے پیچھے بیٹھے اور اپنی حاجت پوری کی پھر ہم لوٹے تو اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے ہم چل رہے تھے گویا کہ ہم پر پرندے سایہ کر رہے ہیں پھر ہم ایک عورت کے پاس آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کی گئی اس نے ایک بچہ اٹھایا ہوا تھا اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرا یہ بیٹا ہے شیطان دن میں اسے تین مرتبہ پکڑ لیتا ہے اور چھوڑتا نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اس سے بچہ لے لیا اسے اپنے اور کجاوے کی انگلی لکڑے کے درمیان رکھا اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے دشمن دور ہو جا میں اللہ کا رسول ہوں‘‘ تین مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ فرمایا پھر اسے بچہ دے دیا واپس لوٹتے ہوئے ہم پانی کے پاس تھے تو ایک عورت ہمارے پاس آئی اس کیساتھ دومینڈھے تھے جنہیں وہ آگے چلا رہی تھی اور ایک بچہ اس نے اٹھایا ہوا تھا اس نے کہا: یارسول اللہ! میری طرف سے(دومینڈھوں کا) ہدیہ قبول فرمایئے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کیساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے اگر یہ اس کے بعد لوٹ آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” ان میں سے ایک لے لو اور دوسرا واپس کر دو!‘‘ پھر ہم چلے دراں حالیکہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تھے اچانک ایک بدکا ہوا اونٹ آ گیا جب دو صفوں کے درمیان آیا تو وہ سجدہ میں گر گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! اس اونٹ کا مالک کون ہے؟‘‘ انصار کی ایک نوجوان لڑکی نے کہا: وہ ہمارا ہے یا رسول اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” اس کا کیا معاملہ ہے؟‘‘ اس نے کہا: بیس سال سے ہم نے اسے کھلایا پلایا ہے پھر جب اسکی عمر زیادہ ہو گئی اور یہ موٹا ہے تو ہم نے اسے نحر کرنے کا ارادہ کیا تاکہ ہم اپنے بچوں کے درمیان اسے تقسیم کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بیچتی ہو؟ اس نے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ کا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے ساتھ اچھائی کرو حتٰی کہ اسے موت آ جائے“ صحابہ نے عرض کی : چوپاؤں سے زیاہ ہم حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” کسی بشر کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بشر کو سجدہ کرے اگر ایسا ہوتا تو عورتیں اپنے شوہروں کو کرتیں‘‘۔ اور عبادہ بن ولید نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ قصہ روایت کیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دو درخت مطیع وفرمانبردار ہو گئے اور وہ اکھٹے ہو گئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیساتھ پردہ کیا پھر وہ دونوں درخت ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ اور حضرت یعلی بن مرہ نے اپنے باپ سے روایت کیا کہا گیا ہے کہ حضرت یعلی سے ہی روایت ہے ان کے باپ سے نہیں کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان تینوں معجزوں کا مشاہدہ کیا جیسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا مشاہدہ کیا۔ اور ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھجور کے خوشہ کو بلانا ،کھجور کا درخت سے اترنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس کا چل کر آنا اور واپس اپنی جگہ میں جانا روایت کیا ہے۔ اور ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کو بلایا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین گواہیاں اس سے طلب کی جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس نے ویسے ہی گواہی دی پھر وہ اپنے اگنے کی جگہ میں واپس لوٹ گیا۔ ایک سال میں کھجور کا درخت تنا بنا اور کھجور بھی تیار ہو گئی : اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب آپ نے اپنی قوم سے عقد مکاتبت کیا اس شرط پر کہ آپ اتنے اتنے کھجور لگائیں گے اور ان کی حفاظت کریں گے یہاں تک کہ ان کا پھل کھایا جائے تو آپ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے علاوہ سارے کھجور کے درخت لگائے اور ایک کسی دوسرے نے لگایا تواسی سال ان کھجوروں کے درختوں کا پھل کھایا گیا سوائے اس ایک درخت کے۔ بکری بول پڑی: اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خیبر کے واقعے کی حدیث میں ہے کہ بکری کی دستی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوخبر دی کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔بھیٹریئے نے گواہی دی: اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ بھیڑیئے نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی دی۔ حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرنے کے بعد گواہی دی: حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت سعید بن مسیب رحمہما اللہ تعالیٰ کی حدیث میں ہے کہ حضرت زید بن خارجہ نے مرنے کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی۔ گوہ نے نبوت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی دی : اور حضرت عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے علاوہ دوسروں کی حدیث میں ہے وہ ہے کہ گوہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی گواہی دی۔مرنے کے بعد گواہی:اور حضرت ربعی بن خراش کی حدیث میں ہے کہ آپ کے بھائی نے مرنے کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی۔ گونگے بچے نے رسالت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی دی: اور اعمش کی حدیث میں ہے وہ شمر بن عطیہ سے وہ اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بچہ نے جس نے جوانی تک بات نہیں کی اس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی۔ دودھ پیتے بچے نے رسالت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی دی: حضرت معیقیب کی حدیث میں ہے کہ دودھ پیتے بچے نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی۔ شاخ تلوار بن گئی: جنگ احد کے واقعہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکھجور کی ایک شاخ دی جبکہ ان کی تلوارٹوٹ گئی تھی تو یہ کھجور کی شاخ حضرت عبداللہ کے ہاتھ میں تلوار بن کر لوٹی۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لکڑی تلوار بن گئی : امام محمد بن اسحاق پھر واقدی کی مغازی میں واقعہ بدر میں ہے کہ حضرت عکاشہ بن محصن کی تلوار ٹوٹ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لکڑی دی تو وہ سفید لمبی تلوار بن گئی وہ تلوار مرتے دم تک ان کے پاس رہی۔ کتاب الواقدی میں ہے کہ حضرت سلمہ بن اسلم کی تلوار ٹوٹ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ تھی وہ اسے دی اور فرمایا: ’’اس سے مار‘‘ تو وہ عمدہ تلوار بن گئی وہ ہمیشہ آپ کے پاس رہی یہاں تک کہ ابو عبیدہ کے پل کے دن آپ شہید کر دیئے گئے۔ آنکھ جوڑ دی: یوم بدر بعض نے کہا احد کے قصہ میں ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ میں تیر لگا جس کی وجہ سے آپ کی آنکھ کا ڈھیلا رخساروں پر آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو بلایا اپنی تھیلی سے ان کے ڈھیلے کو اس کی جگہ پر رکھ دیا تو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کون سی آنکھ میں تیر لگا تھا۔ حضرت رفاعہ بن رافع سے ہے کہ جنگ بدر کے دن انہیں تیر لگا جس سے ان کی آنکھ پھوٹ پڑی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن لگایا اور آپ کے لیے دعا کی تو پھر اس نے تکلیف نہ دی۔ آشوب چشم دور ہو گیا: جنگ خیبر کے دن حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ میں آشوب چشم ہو گیا تھا توحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی آنکھ میں لعاب دہن لگایا اور دعا فرمائی تو وہ ٹھیک ہو گئی یوں محسوس ہوتا تھا گویا کہ اس میں درد تھا ہی نہیں پھر اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں میں تکلیف نہیں ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعا مانگنا ، بارش طلب کرنا ،شفاعت کرنا ان تمام مقامات میں اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا وغیرہ کو قبول کرنا ان میں بہت زیادہ نشانیاں ہیں، کئی واضح دلیلیں ہیں، بے شمار معجزات ہیں جن کا تذکرہ مشہور ہے پوشیدہ نہیں۔ ہم نے یہاں پر ہر جنس کے معجزات کی ایک مقدار کی طرف اشارہ کر دیا جس سے اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے جس کا ہم نے اس کتاب میں قصد کیا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام لباس بشری میں ہم نے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت نے حضرت جبریل علیہ السلام کو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صورت میں دیکھا اور حضرت دحیہ وہاں موجود نہیں تھے۔ مشرکین کی ایک جماعت نے فرشتوں کی اس جماعت کو دیکھا جو بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کے لیے آئی تھی۔ میدان احد میں دوفرشتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت پر مامور : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے احد کے دن دو آدمیوں کو دیکھا ایک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب دوسرا بائیں جانب تھا انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بہت سخت قتال کر رہے تھے آپ نے نہ اس سے پہلے نہ بعد انہیں دیکھا وہ دو فرشتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیبی خبریں بتانا : اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی ظاہری حیات اور ظاہری وفات کے بعد کے مختلف واقعات کے متعلق خبر دینا پھر ان تمام کا سچا ظاہر ہونا بہت زیادہ ہے انہیں کتاب الدلائل میں نقل کیا گیا ہے صحیفہ قریش کے متعلق خبر : کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ شریف میں تھے زمین کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے قریش کے صحیفے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی جب اسے لایا گیا تو وہ ایسا ہی پایا گیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ بیت المقدس اور قافلے کے متعلق خبریں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی کہ مجھے بیت المقدس کی طرف پھر ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قافلے کے متعلق بتایا جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں دیکھا تھا اور اس کے آنے کے متعلق بتایا اور بیت المقدس کی خبر دی ایسا ہی ہوا جیسا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ چند صحابہ کرام کی شہادت کی خبر دینا: اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابو طالب اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی موت کی خبر دی ان کی موت کی خبر آنے سے پہلے پہلے۔ شاہ نجاشی کے وصال کی خبر : اور جس دن حضرت شاہ نجاشی کا وصال ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وفات کی خبر(مدینہ میں) دے دی۔ حضرت حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خط کی خبر : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خط کے متعلق خبر دی اور بہت سی دوسری چیزوں کے متعلق حضور سلیم نے خبر دی ان سب کی تصدیق پائی گئی۔ یہاں یہ تمام روایات ذکر کرنے سے کتاب طویل ہو جائے گی۔ ایک درجن سے زائد غیبی خبریں: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت سے فتوحات کا وعدہ فرمایا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بعد پائی گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فتنے سے ڈرایا تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آخر میں اور آپ کی شہادت کے وقت ظاہر ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد خلفاء کے بقاء کی مدت کی خبر دی اور ان بادشاہوں کی طرف اشارہ کیا جو ان خلفاء کے بعد بنی امیہ سے ہوں گے پھر بنو عباس ہوں گے پس جیسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ایسا ہی رونما ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو شہدا ءکا نام دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انہوں نے شہادت پائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی تھی کہ حضرت عبداللہ بن سلام کو شہادت کی موت نہیں ملے گی ہاں اسلام پر ان کی وفات ہو گی تو ایسے ہی ہوا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آزمائش کے متعلق بتایا تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر دی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے صاحبزادے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے مابین اپنی صاحبزادی کے صاحبزادے حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےصلح کرانے کی خبر دی ان سب کی تصدیق پائی گئی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے وصال کی خبر دی اور یہ بھی بتایا کہ اہل بیت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے سب سے پہلے سیدہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملیں گی تو ایسے ہی ہوا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسود عنسی کذاب اور مسیلمہ کذاب کے شر سے اللہ تعالیٰ کی کفایت کی خبر دی تو ایسے ہی ہوا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کیا اورحالیہ بیان فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس کی بھی تصدیق پائی گئی۔ انصار کے ایک آدمی کے مرتد ہو کر کفار کے ملنے کی خبر دی اس نے سورہ بقرہ اور آل عمران پڑھی تھی پھر مر گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’زمین اسے قبول نہیں کرے گی‘‘ تو اسے کئی مرتبہ دفن کیا گیا لیکن زمین نے اسے قبول نہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے نبی ورسول ہونے کے دلائل کی ہر ہرقسم کی بہت سی دلیلیں(معجزات) ہم نے کتاب ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں ذکر کر دی ہیں۔ جوان کی اسانید کیساتھ معرفت کا ارادہ رکھے وہ اس کی طرف رجوع کرے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتبہ ومقام بہت بلند و بالا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں شانوں کے مابین مہر نبوت تھی اور اس کی علامت ظاہر تھی اس اور دیگر تمام صفات جواہل کتاب نے اپنی کتب میں لکھی ہوئی پائی تھیں ان کی وجہ سے اہل کتاب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچان لیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل مبارک شق ہوا اور قلب مبارک سے شیطان کا حصہ نکالا گیا اور قلب اطہر کو دھویا گیا یہ امربہت ہی ظاہر تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ جو ایک جماعت تھی اس نے اس کا مشاہدہ کیا تھا اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے میں ٹانگوں کا اثر دیکھا کرتا تھا۔ پھر اس وجہ سے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج ہوئی مسجد حرام سے مسجد اقصی تک رات کے تھوڑے سے حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیر کرائی گئی پھر وہاں سے سدرۃ المنتہی تک معراج کرائی گئی اور یہ سب حالت بیداری میں ہوا اور ہر وہ چیز جس کے دیکھنے کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات فرشتوں نبیوں ، جنت ، دوزخ اور دیگر اپنے رب کی آیات کو دیکھا یہ ظاہری آنکھ سے دیکھنا تھا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الحافظ ومحمد بن موسى ← وَمِنْهَا: مَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 288

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 289

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقُطَيْعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] قَالَ: وَهِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَقَدْ ذَكَرْنَا قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ وَشَقِّ الصَّدْرِ وَصِفَةِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ، وَأَمَّا قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ} [التكوير: 23] {وَلقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13] فَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ [ص:304] السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ» ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 9] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَهُ سِتُّمِائَةٍ جَنَاحٍ» ، وَعنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ {وَلقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} [النجم: 13] قَالَ: رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ، وَعنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلُ ذَلِكَ، وَذَهَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَنَّهُ رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ وَحَمَلَ الْآيَتَيْنِ عَلَى رُؤْيَتِهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ مَضَى ذِكْرُ أَقَاوِيلَهُمْ وَأَقَاوِيلِ غَيْرِهِمْ فِي ذَلِكَ بِأَسَانِيدِهَا فِي كِتَابِ [ص:305] الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ وَكِتَابِ الرُّؤْيَةِ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری آنکھوں سے اللہ تعالیٰٰ کا دیدار کیا: الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن جعفر القطیبی نے کہا عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہا سفیان نے ہم سے بیان کیا وہ عمرو سے وہ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں :وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْٓ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ (الاسراء:60) ترجمہ: اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ نہانے فرمایا: یہ آنکھ کی رؤیت تھی جو شب اسریٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھائی گئی۔ ہم نے واقعہ معراج، شق صدر اور مہر نبوت کی صفت کتاب دلائل النبوۃ میں ذکر کر دی ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ (التکوير:23) ترجمہ: بے شک انہوں نے اسے روشن کنارہ پر دیکھا۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی (النجم:13) ترجمہ: اور انہوں نے تو وہ جلوہ دو بارد یکھا۔ تو اسکےبارے حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کرنے والی اس امت میں پہلی ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ حضرت جبریل تھے میں نے انہیں اس صورت میں جن پر وہ پیدا کئے گئے ان دو مرتبہ کے علاوہ نہیں دیکھا میں نے آپ کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا افق کو ڈھانپے ہوئے تھے آسمان سے زمین تک آپ کی بڑی خلقت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنٍ اَوْ اَدْنٰی (النجم : 9) ترجمہ: پھر خوب اتر آیا تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا جس کے چھ سو پر تھے‘‘۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان :وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبریل کو دیکھا جس کے چھ سو پر تھے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کی مثل مروی ہے۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرف گئے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ہے اور ان دونوں آیتوں کو اللہ تعالیٰ کے دیدار پر محمول کیا۔ واللہ اعلم ! ان کے اور دوسروں کے اقوال اسانید کیساتھ ہماری کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ اور ’’الرؤیۃ‘‘میں ذکر کئے جا چکے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 289

chevron_left Previous
1…222324…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace30. Season:31. Chapter on the words of dignities of guardians32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him