الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 254
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ , ثنا أَبُو نُعَيْمٍ , ثنا إِسْرَائِيلُ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَتْلَى - يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ - قِيلَ لَهُ: عَلَيْكَ بِالْعِيرِ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ، فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ فِي وَثَاقِهِ أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ قَالَ: لِمَ، قَالَ: لِأَنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَنْجَزَ لَكَ مَا وَعَدَكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَحِينَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ بِبَدْرٍ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّتِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ» فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ: حَسْبُكَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ} [القمر: 46] فَتَلَا مَا كَانَ قَدْ نَزَلَ مِنْ إِخْبَارِ اللَّهِ تَعَالَى إِيَّاهُ بِهَزِيمَةِ الْمُشْرِكِينَ فَكَانَ كَمَا أَخْبَرَ وَقَالَ تَعَالَى {لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا} فَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ عَلَى الصِّفَةِ الَّتِي نَطَقَتْ بِهَا الْآيَةُ فِي عُمْرَةِ الْقَضِيَّةِ وَكَانَ مَا وَعَدَهُ اللَّهُ فِي هَذِهِ السُّورَةِ مِنَ الْفَتْحِ الْقَرِيبِ وَهُوَ فَتْحُ خَيْبَرَ، وَقِيلَ: الصُّلْحُ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَقَالَ: {فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا} [الفتح: 18] قِيلَ: فَتْحُ خَيْبَرَ {وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا} [الفتح: 21] قِيلَ: هُوَ مَا أَصَابُوا بَعْدَهُ، وَقَالَ تَعَالَى {لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} [التوبة: 33] وَقَدْ وَقَعَ الظُّهُورُ وَالْغَلَبَةُ بِحَمْدِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ نے وعدہ پورا فرما دیا: ابو عبداللہ الحاکم نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر احمد بن سلیمان الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن محمد بن شاکر نے بیان کیا کہا ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا وہ سماک سے وہ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے دن جنگ میں کفار کی طرف سے مرنے والوں سے فارغ ہوئے تو آپ سے عرض کی گئی :تم قافلے کا پیچھا کرو کہ اس کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں تو (حضرت) عباس جو رسیوں میں بندھے ہوئے تھے آپ نے پکار کر کہا وہ آپ کے لیے ٹھیک نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ تو حضرت عباس نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور آپ کے لیے وہ عدہ پورا ہو گیا ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین کا بدر میں آمنا سامنا ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے قبے میں تھے : ’’اے اللہ ! میں تجھے تیرے عہدو وعد کے قسم دیتا ہوں اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد عبادت نہیں ہو گی‘‘ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور عرض کیا آپ کو کافی ہے آپ کافی ہے یارسول اللہ! آپ نے دعا میں بہت طوالت اختیار کی ہے دراں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زرہ پہنے ہوئے تھے تو آپ یہ کہتے ہوئے نکلے: ترجمہ: اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت اور پیٹھیں پھیر دیں گے بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑی اور سخت کڑوی(القمر:36،35) ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں نازل شدہ آیات کی تلاوت کی تومشرکین بھاگ گئے تو معاملہ ایسا ہی ہوا جیسی خبر دی گئی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: بے شک اللہ نے سچ کر دیا اپنے رسول کا سچا خواب بے شک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہو گے اگر اللہ چاہے امن وامان سے اپنے سروں کے بال منڈاتے ترشواتے بے خوف تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نہیں تو اس سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی(الفتح:27) ۔ پس وہ عمرۃ القضاء کے موقع پر مسجد حرام میں اس حالت میں داخل ہوئے جس کا آیت میں بیان ہوا اور ایسا ہی ہو جواللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں فتح قریب کا وعدہ کیا اور اس سے مراد فتح خیبر ہے بعض نے کہا: اس سے صلح حدیبیہ مراد ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: توان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا(الفتح :18) ۔ بعض نے کہا : فتح خیبر سے پہلے۔ ترجمہ: اور ایک اور جو تمہاری طاقت کی نہ تھی(الفتح:21 )۔ بعض نے کہا: جو انہیں اس کے بعد پہنچا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ برا مانیں مشرک(التوبۃ:33)۔ بحمداللہ تعالیٰ یہ ظہور وغلبہ واقع ہو چکا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 254
