اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح نے کوفہ میں ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا حنظلہ بن ابو سفیان نے ہمیں خبر دی کہا میں نے عکرمہ بن خالد سے سنا وہ طاؤس سے حدیث بیان کر رہے تھے فرمایا کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آیا اس نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن آپ جہاد نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 242
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 243
ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمد الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن سلیمان نے بغداد میں املاء کرواتے ہوئے ہمیں خبر دی کہا ہلال بن العلاء نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا کہا عبیداللہ بن عمرو الرقی نے ہم سے بیان کیا وہ زید بن ابو انیسہ سے وہ جبلہ ابن سحیم سے کہا ہم سے ابو المثنی العبدی نے بیان کیا کہا میں نے حضرت ابن الخصاصیہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس لیے آیا تاکہ اسلام پر آپ کی بیعت کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی :’’ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، تو پانچ نمازیں پڑھے ، رمضان کے روزے رکھے ،زکوٰۃ ادا کرے، بیت اللہ کا حج کرے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے‘‘۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دو کی میں طاقت نہیں رکھتا(1) زکوٰۃ ادا کرنا کیونکہ میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کی سواری اور بار برداری کے کام آتے ہیں(2) جہاد اس لیے کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ جو میدان جنگ سے پیٹھ پھیرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے تو مجھے خوف ہے جب میں جنگ میں حاضر ہوں اور میں(موت کو) ناپسند کروں اور میرا نفس ڈر جائے کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ واپس لے لیا پھر اسے حرکت دی پھر فرمایا: ’’جب نہ صدقہ ہے نہ جہادتو کس عمل کے سبب جنت میں داخل ہو گا ؟‘‘ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں آپ سے بیعت کرتا ہوں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب امور پر میری بیعت کر لی۔
ابن الخصاصية ← أبو المثنى العبدى ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد الحافظ،
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 243
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 244
جنت میں داخل کرنے والا عمل : ابو الفتح ہلال بن محمد بن جعفر الحفار نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا حسین بن یحییٰ بن عباس القطان نے ہمیں خبر دی کہا حفص بن عمرو الربالی نے ہم سے بیان کیا کہا بہت بن اسد العمی نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا ان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ کو بیان کرتے ہوئے سناوہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے ایسے عمل کی خبر دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے !لوگوں نے کہا اسے کیا ہو گیا ہے؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے چھوڑ دوا سے کیا حاجت درپیش ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کیساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر ، زکوٰۃ دے اور صلہ رحمی کر اللہ تجھے یہ عطا فرما دے گا‘‘۔ راوی نے کہا گویا کہ وہ اپنی سواری پر ہی تھا۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 244
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 245
اللہ تعالیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل: السید ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو بکر محمد بن احمد بن دلویہ نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن اسماعیل البخاری نے ہم سے بیان کیا کہا ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہا ولید بن عیزار نے مجھے خبر دی کہا میں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر والے نے خبر دی اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ آپ نے کہا میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب ہے؟ فرمایا: ”اپنے وقت میں نماز پڑھنا‘‘۔ میں نے کہا : پھر کونسا؟ فرمایا: ’’والدین کے ساتھ نیکی کرنا‘‘۔ میں نے کہا: پھر کون سا ؟ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا‘‘۔ ابو عمرو شیبانی نے کہا یہ باتیں آپ نے مجھے بتائیں اور کہا اگر میں اس سے زیادہ پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ بتائے۔
وَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي ← الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟، ← «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟، ← سَأَلْتُ النَّبِيَّ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ ← صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 245
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 246
کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں؟ انار ابو بکر محمد بن حسن بن فورک رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یونس بن حبیب نے ہم سے بیان کیا کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ عبداللہ بن ابو بکر سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا فرمایا جھوٹی بات کہنا‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 246
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 247
سات ہلاک کرنے والے گناہ : الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا الربیع بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہا عبد اللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا کہا سلیمان بن بلال نے ہمیں خبر دی وہ ثور بن یزید سے وہ ابو الغیث سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو‘‘۔ عرض کی گئی: یارسول اللہ ! وہ چیزیں کیا ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو کرنا، اللہ کی حرام کردہ جان کوقتل کرنا مگرحق کی وجہ سے، سود کھانا ، مال یتیم کھانا ،میدان جنگ سے پیٹھ دکھا کر بھاگنا اور پاک دامن بے خبر مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 247
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 248
الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر محمد بن حسین القطان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہا معمر نے ہمیں خبر دی وہ ہمام بن منبہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ کوئی چور حالت ایمان میں چوری نہیں کرتا ،کوئی زانی حالت ایمان میں زنانہیں کرتا، ہم میں سے کوئی شراب حالت ایمان میں نہیں پیتا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ واختیار میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اعلی چیز۔ جس کی طرف مؤمن نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں حالت ایمان میں نہیں لوٹتا اور تم میں سے کوئی خیانت حالت ایمان میں نہیں کرتا پس تم ان چیزوں سے بچو بچو!‘‘۔ امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ان افعال سے مراد یہ ہے کہ کامل ایمان والے مومن کے یہ افعال نہیں ہوتے۔ امام زہری رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے:اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمان ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہنچانا اور ہم پر تسلیم کرنا لازم ہے۔ زہری فرماتے ہیں : علماءرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی احادیث کو ایسے ہی رکھتے تھے جیسے وہ آئی ہیں(اس میں تاویل نہیں کرتے تھے) اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم کے پیش نظر اور وہ گناہوں کو شرک و کفر شمار نہیں کرتے تھے۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 248
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 249
ابو الفتح محمد بن احمد بن ابو الفوارس الحافظ نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف ابن خلاد نصیبی نے ہمیں خبر دی کہا حارث بن محمد نے ہم سے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا۔ ابو علی الصواف نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن یحییٰ المروزی نے ہم سے بیان کیا کہا عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہا عاصم بن محمد نے ہم سے بیان کیا وہ واقد بن محمد سے راوی کہا میں نے اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعے پر ارشاد فرمایا: ”خبردار! کس مہینے کی حرمت تم سب سے بڑی جانتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اس مہینے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” کس شہر کی حرمت تم سب سے بڑی جانتے ہو؟‘‘ عرض کی : اس شہر کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیاتم جانتے ہو کہ سب سے بڑا دن کون سا ہے؟‘‘ عرض کی : یہ دن ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں اس طرح حرام کر دیں ہیں مگر اس کے حق کیساتھ جیسے تمہارے اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس شہر میں، خبر دار کیا تم تک یہ بات پہنچ گئی‘‘ تین بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ہر ایک نے جواب دیا: جی ہاں۔
عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ← أَبِي وَهُوَ ← واقد بن محمد ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ← وأخبرنا أبو علي بن الصواف ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، يَعْنِي ابْنَ خَلَّادٍ النَّصِيبِيَّ ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 249
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 250
دین خیر خواہی کا نام ہے: الفقیہ ابو طاہر نے ہمیں خبر دی کہا حاجب بن احمد نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحیم ابن منذر نے ہم سے بیان کیا کہا جریر نے ہم سے بیان کیا کہا سہیل نے ہمیں خبر دی۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا: الحافظ ابو عبداللہ نے دوسرے لوگوں میں ہمیں خبر دی سب نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ربیع بن سلیمان نے ہمیں خبر دی کہا امام شافعی نے ہمیں خبر دی کہا ابن عیینہ نے ہمیں خبر دی وہ سہیل بن ابو صالح سے وہ عطاء بن یزید اللیثی سے وہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” دین خیر خواہی کا نام ہے ، دین خیر خواہی کا نام ہے اور دین خیر خواہی کا نام ہے اللہ تعالیٰ ، اس کی کتاب اس کے نبی، مسلمانوں کے اماموں اور عام لوگوں کے لیے‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 250
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 251
الحافظ ابو عبداللہ نے دوسرے لوگوں میں ہمیں خبر دی سب نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا عباس بن ولید بن مزید نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن شعیب نے ہمیں خبر دی کہا عتبہ بن ابو الحکم الہمدانی نے ہمیں خبر دی کہا عمرو بن جاریہ اللخمی نے مجھ سے بیان کیا وہ ابوامام الشعبانی سے راوی آپ نے کہا کہ میں حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو میں نے کہا: آپ اس آیت سے کیا مراد لیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : کون سی آیت؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ (المائدہ:105) ترجمہ: اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا، جب کہ تم راہ پر ہو۔ آپ نے فرمایا: میں نے اس آیت کے متعلق خبر رکھنے والے سے سوال کیا میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بلکہ تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کی پیروی کی جاتی ہے ، دنیا کوترجیح دی جاتی ہے ، ہر رائے والا اپنی رائے پر فخر کرنے لگے اور تو ایسے امور دیکھے جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہیں تو اس وقت تو اپنے آپ کو بچانا اور عوام کے امر کو چھوڑ دینا کیونکہ تیرے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں صبر کرنا انگارے کو مٹھی میں لینے کی طرح ہو گا اس وقت عمل کرنے والے کے لیے اسی کی مثل عمل کرنے والے پچاس آدمیوں کا اجر ہو گا‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فرائض کی فروعات میں سے بعض لوگ بعض کے نائب ہوتے ہیں اور احکام وغیرہ میں سے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہوجاتے ہیں جن کے بارے میں قرآن کی نص ہے ندان کے اکثریت کے متعلق سنت کی نص ہے اگرچہ ان میں سے بعض کے متعلق سنت آئی ہے تو یہ اخبار خاصہ ہیں ان میں سے کچھ تاویل کا احتمال اور قیاس کا استدراک رکھتی ہیں تو امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:علم کے اس درجے تک عام لوگ نہیں پہنچ سکتے جب اس کیساتھ لوگوں کے خاص لوگ کھڑے ہو جائیں جو ان کے لیے کافی ہوں تو ان میں سے دوسرے لوگ جنہوں نے اس امر کو ترک کیا تو اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ان پر کوئی جرح نہیں ہو گی اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل لی: ترجمہ: اور مسلمانوں سے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آ کر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں(التوبۃ:122) ۔ اور آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ ، نماز جناز ہ ،د فن میت ،سلام کا جواب دینا اور دیگر فرائض کفایہ کو اسی کی مثل قرار دیا۔یہ انہی باتوں میں سے ہے جن کی الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو العباس نے بیان کیا کہا ہمیں ربیع نے خبر دی وہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں پھر یہی بات ذکر کی۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب بندے نے پہچان لیا کہ کس چیز کے ساتھ وہ عبادت کرے گا تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان امور کی توفیق طلب کرے جن کیساتھ وہ عبادت کرے گا اور عبادات کے جن امور پر عمل کرے اس کے لیے نیت خالص کر لے اور ناپسندیدہ امور کو چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے امر کا مطیع وفرمانبردار ہو جائے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے : وَمَآ اُمِرُوْٓ اِلّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (البينة :5) ترجمہ: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نے اسی پر عقید ہ لاتے۔اعمال کا مدار نیت پر ہے: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی تو جس نے ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہے اور جس نے ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے کی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی‘‘۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 251
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ مَعْرِفَةِ جُمَلِ مَا كُلِّفَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ يَعْقِلُوهُ وَيَعْمَلُوهُ وَيُعْطُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَموَالِهِمْ وَأَنْ يَكُفُّوا عَنْهُ وَمَا حَرُمَ عَلَيْهِمْ مِنْهُ · حديث 252
الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا یحییٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن ابراہیم نے ہمیں اس کی خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص سے سنا یہ کہتے ہوئے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اعمال کا مدار نیت پر ہے‘‘۔پھر یہ حدیث ذکر کی۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them · Hadith 252
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 253
تورات میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت : ابو الحسین محمد بن فضل القطان نے ہمیں خبر دی کہا عبداللہ بن جعفر نے ہمیں خبر دی کہا یعقوب بن سفیان نے ہم سے بیان کیا کہا ابو صالح نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے لیث نے بیان کیا کہا خالد بن یزید نے ہم سے بیان کیا وہ سعید بن ابو ہلال سے وہ ہلال بن ابو اسامہ سے وہ عطاء بن یسار سے وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے : ہم(تورات میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت یوں پاتے ہیں: ’’(اے محبوب!) بے شک ہم نے آپ کو حاضر و ناظر ،خوشخبری دینے والا ، ڈر سنانے والا ،امیین کی پناہ گاہ بنا کر بھیجا تو میرا بندہ اور میرارسول ہے میں نے اس کا نام متوکل رکھا جو نہ سخت مزاج ہے نہ سخت کلام کرنے والا اور نہ ہی بازاروں میں شور کرنے والا ،وہ برائی کا برائی سے بدلہ دینے والا نہیں لیکن معاف و درگزر کرنے والا ہے، میں اس کی روح قبض نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ ٹیڑی ملت کو قائم کر دے اس گواہی کیساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کی وجہ سے اندھوں کی آنکھیں، بہروں کے کان اور سخت دل لوگوں کے دل کھلیں گے‘‘۔ عطاء بن یسار نے کہا مجھے لیثی نے خبر دی آپ نے حضرت کعب احبار کو کہتے ہوئے سنا اسی کی مثل جو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ یہ دونوں اہل کتاب کے عالم میں ان دونوں نے اپنی کتابوں میں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت پائی اس میں سے بعض کی گواہی دی۔ اس کے ان دونوں سے مروی اوران کے علاوہ سے مروی کئی شواہد ہیں جنہیں ہم نے اپنی کتاب دلائل میں ذکر کر دیا ہے۔ اور ہم نے اسے زید بن عمرو بن نفیل سے روایت کیا ہے کہ آپ سچے دین کی تلاش میں نکلے یہاں تک ایک جزیرے میں ایک شیخ کے پاس آئے اور اسے اپنے نکلنے کی وجہ بتلائی تو اس نے کہا: تیراتعلق کہاں سے ہے؟ جواباً کہا: بیت اللہ والوں سے(یعنی مکہ سے) تو اس نے کہا: کچھ شک نہیں کہ تیرے شہر سے ایک نبی نکلے گا اور وہ نکلنے والا ہے اس کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے تو واپس جا اس کی تصدیق کر اور اس پر ایمان لا۔ اسی کے معنی میں ہم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث روایت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت معجزات: اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دلائل میں سے وہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ومبعث کے ایام میں امورغریبہ اور افعال عجیبہ ظاہر ہوئے جو امت کفر کی سلطنتوں میں عیب لگانے والے ،اہل عرب کی تائید یافتہ ان کے کلمے کی توہین کرنے والے اور ان کے تذکرے کو روکنے والے ہیں جیسے واقعہ فیل اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لشکر کے ذریعے ان پر سزا وسختی حلال کر دی ، ان میں سے فارس کی آگ کا بجھ جاتا ، ایوان کسریٰ کے کنگروں کا گر جانا، بحیرہ ساوہ کے پانی کا خشک ہوجانا اور موبذان کا دیکھنا اور اس کے علاوہ دیگر امور اور انہیں امور میں سے بعض نے ہواتف غیبی سے(نبوت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق) سنا۔ یہ محض اتفاقی باتیں نہیں ہیں اس ذات کی قسم جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کیساتھ مبعوث فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ امور مسخر فرما دیئے ان میں سے کسی کے بارے میں عاقل شک نہیں کر سکتا یہ تو صرف امر الہی ہے ، غالب آنے والی چیز ،آسمانی اور خلاف عادت ہے جس تک رسائی سے قوت بشر عاجز ہے اس پر قدرت صرف خلق وامر کا مالک ہی رکھتا ہے۔ اللہ رب العالمین بڑا بابرکت ہے۔ اس فصل میں جو ہم نے ذکر کیا سب کو اللہ تعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ نے اس فرمان میں جمع کر دیا: ترجمہ: اور ان کے دلوں میں میلان کر دیا اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے ان کے دل نہ ملا سکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملا دیئے بے شک وہی ہے غالب حکمت والا(الانفال:63)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم معجزہ : امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمی تھے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کتاب پڑھتے نہ لکھتے امی قوم میں پیدا ہوئے انہی کے درمیان پرورش پائی جس میں متقدمین کی خبریں جاننے والا کوئی عالم نہ تھا اور نہ ہی ان میں کوئی نجومی تھا جو کائنات کا علم رکھتا ہونہ کوئی انجینئر جو حساب کا علم رکھتا ہو، نہ فلسفی جو طبیعتوں کو دیکھتا ہو نہ متکلم جو آداب جدل وجود محاجہ ومناظرہ کی ہدایت رکھتا ہو اور حاضر کو دیکھ کر غائب پر استدلال کرنے والا ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی عالم کی طرف سفر بھی نہیں کیا کہ اسکے پاس آپ ٹھہرے ہوں اور معلوم اس سے سیکھے ہوں اور یہ ساری باتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر والوں کو معلوم تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات کی معرفت وخبر رکھنے والوں کے ہاں مشہور تھیں ان کا ہر جانے والا ، جاہل ، خاص اور عام جانتا تھا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تورات و انجیل اور گذشتہ امتور کی خبریں لے کر آئے جب کہ ان کتب کے نشانات بھی ختم ہو گئے ،مٹ گئے اور اپنے مقامات سے بدل دیئے گئے تھے ، ان سے دلیل لینے والا کوئی باقی نہ رہا تھا اور نہ اس کے سقیم سے صحیح کی معرفت رکھنے والا تھا سوائے تھوڑے لوگوں کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف ہر دین کے ہرفریق نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے دلائل سے مقابلہ کیا کہ اگر ماہر متکلمین اور تعلیم یافتہ کھرے کھوٹے میں تمیز رکھنے والے بھی جمع ہو جاتے تو ان کی کسی دلیل کو توڑنے کو تیار نہ ہوتے(جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی ہر ہر دلیل کا مسکت جواب دیا اور انہیں عاجزو حیران ،مبہوت و پریشان کر دیا) لہٰذا یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: ترجمہ: اور کیا یہ نہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے بے شک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے(العنکبوت:51) ۔( اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امر کی صفت بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امی میں نہ پڑھتے ہیں نہ لکھتے ہیں نہ کتب کے درس کو پہچانا نہ خبریں طلب کیں یہ توصرف یہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر اس کتاب کو پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحت امر نبوت اور صدق دعویٰ پر یہی دلیل کافی ہے۔ قرآن پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دلائل نبوت وصداقت میں سے قرآن عظیم ہے جو آپ اللہ سحانہ وتعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں کہ اعجاز قرآنی نے مخلوق کو چیلنج کیا انہیں مقابلے اور اپنی مثل ایک سورت لانے کی دعوت دی وہ اس مقابلے سے بزدل ہو گئے اور اس میں سے کسی کی مثل لانے سے عاجز ہو گئے۔ اعجاز قرآنی کے متعلق اہل علم کا اختلاف کیا : اہل علم کا اعجاز قرآنی کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا: اس کا اعجاز بلاغت وحسن لفظ کی جہت سے ہے نہ کہ نظم۔ اور بعض نے کہا نظم میں اعجاز ہے نہ کہ لفظ میں کیونکہ عرب اپنے الفاظ سے کلام کرتے ہیں۔ بعض نے کہا: حوادثات کی خبریں اور مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات سے ڈرانا پھر ان کا اسی طرح واقع ہونا جیسی خبر دی گئی یہ اعجاز قرآنی ہے۔ بعض نے کہا: اس کا اعجاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس کی مثل لانے سے عاجز کر دیا اور ان کی ہمتیں اس کے مقابلے سے پھیر دیں۔ باوجودہ یہ کہ چیلنچ قبول کیا جاتا اس کے کئی دعوے ہوتے تاکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی نشانی بن جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعوی کی سچائی کی علامت ہو جائے۔ بعض علما ء اس بات کو ثابت کرنے کی طرف گئے ہیں کہ اعجاز قرآن ان مذکورہ تمام وجوہ سے ہے۔ اس کے قول کی کوئی حیثیت نہیں جس نے یہ گمان کیا کہ اعجاز صرف لفظ میں ہے کیونکہ الفاظ کلام عرب میں مستعمل ہیں اوران کے خطاب میں متداول ہیں کیونکہ بلاغت صرف عین اسماء اور الفاظ مفردہ میں نہیں ہوتی علاوہ ازیں ان وضعوں کا اپنے اپنے محل میں اعتبار ہوتا ہے اور ان کے مقامات کی طرف انہیں پھیرا جاتا ہے اور انہیں میں انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ شیخ ابو سلیمان رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا: اس کا بیان یہ ہے کہ اہل عرب اپنی لغت میں لفظ ’الصدع‘‘ استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے خطاب بھی کرتے ہیں پھر تو ان کے کلام میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی شکل مستعمل نہیں ہائے گا : ترجمہ: تو اعلانیہ کہہ دوجس بات کا تمہیں حکم ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو(الحجر:94) ٍ۔ اہل عرب’’الضرب ‘‘استعمال کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مثل تو ان کے کلام میں مستعمل نہیں ہائے گا۔ ترجمہ: تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا(الکہف:11)۔ ایسے ہی لفظ ’’النبذ ‘‘اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مثل تو ان کے کلام میں مستعمل نہیں ہائے گا : ترجمہ: تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو(الانفال:58) ۔ اور دیگر الفاظ جو کلام میں انتہائی مختصر، مقتضی کے حذف کیساتھ، ضمیر کو عمل میں لا کر ،اقتصار کیساتھ وحی الہیٰ میں جمع کیئے گئے ہیں جن کا مفہوم واضح ہے۔ اور جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ترجمہ: اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے ہم اس پر سے دن کھینچ لیتے ہیں(سیدنایس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :37) ۔ کیونکہ حقیقت میں نخرج منہ النھارمستعمل ہے لیکن یہاں پر مقام بلاغت میں’’السلخ ‘‘ کا استعمال ہے یہ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں چیز کا اس کے مل ابس سے نکالنا ہوتا ہے اور اس کی اس سے جدائی بہت مشکل ہوتی ہے اس کیساتھ مضبوطی سے ملے ہوئے ہونے کی وجہ سے یہ رات اور اس کی مثل کا قیاس ہے۔ اور جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ: ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے(الزمر:13) ۔ یعنی ایسادن عذاب میں مبتلا لوگوں کے لیے جس میں کل نہ ہو اور ان کے لیے کچھ بھی بھلائی کا نتیجہ نہ ہو۔ شیخ ابو سلیمان نے کہا: لوگوں نے ایجاز میں اہل عرب کے اس قول کو مستحسن قرار دیا: القتل انفی للقتل یعنی قتل قتل کو مٹاتا ہے حالانکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ترجمہ:اورخون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے(البقرة:179) ۔ میں بلاغت وایجاز کے اعتبار سے بہت فرق ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مذکورہ فرمان میں وہ تمام معانی ہیں جو اہل عرب کے قول القتل انفی للقتل میں ہیں اور کئی معانی اس سے اضافی بھی ہیں جو اس مقولہ میں نہیں ہیں کیونکہ اس میں خود قربان ہونے والا اس آیت کے مفہوم سے جدا ہے قصاص کے ذکر کی وجہ سے ایسی غرض جس میں رغبت کی جاتی ہے وہ بھی اس سے خارج ہے حیاۃ کے ذکر کی وجہ سے اور اس آیت میں تکلف سے دوری اور تکرار لفظ سے سلامتی ہے جس کی وجہ سے نفس پر مشقت آتی ہے اور سننے والے کو ناپسندیدگی۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’فِی القِصَاصِ حَیَاۃٌ‘‘ یہ بہت ہی مختصر عبارت ہے کیونکہ اس کے دس حروف ہیں اور قائل کے قول: ’’اَلْقَتْلُ اَنْفٰی لِلْقَتْلِ ‘‘ میں چودہ حروف ہیں۔ فرمایا: جب تو قرآن کے ان معانی میں غور وفکر اور تتبع سے کام لے گا تو ایسے بہت سے معانی ہائے گا ہم نے اتنی مقدار ذکر کر دی تاکہ یہ مثال اور راہنمائی کرنے والی ہو جائیں قرآن کی دیگر نظائر کی طرف۔ اصناف کلام: رہا معاملہ نظم کی جہت سے اعجاز قرآنی تو اس کی معجز سے مراد جنس کلام کی نظم ہے کہ اہل عرب جن اصناف کلام سے کلام کرتے ہیں ان تمام سے وہ جدا ہے کیونکہ اہل عرب پانچ اجناس کلام سے کلام کرتے ہیں۔ اول : نثر جواہل عرب ایک دوسرے کے محاورے میں استعمال کرتے ہیں۔ دوئم : وزن دار اشعار سوئم : خطبے چہارم : خطوط پنجم: سجع ان میں سے ہر نوع کا طریقہ دوسری نوع کے طریقے سے مختلف ہے اور نظم قرآنی ان پانچوں وجوہ سے مختلف ہے جو فصیح عربی سنتا ہے یا دوسروں کے علاوہ عربی زبان کی معرفت رکھنے والا ہے اس پر اس کا ان وجوہ سے مختلف ہونا مخفی نہیں حتٰی کہ وہ جب اس نظم قرآنی کو سنتا ہے وہ مجبوراً اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ کلام اہل عرب کے تمام انواع کلام سے مختلف ہے اور اس کی حجت قریش اور تمام اہل عرب پر قائم ہو چکی ہے وہ اس معاملے کی واقفیت رکھتے تھے اور اس کے اور تمام کلاموں کے درمیان فرق ہی مقام حجت ہے۔ اسی وجہ سے مخلوق کو عاجز کر دینے والا اوران دلیلوں کو قائم کرنے والا ہو گیا جن کیساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومبعوث فرمایا ہے اور اسی سے لوگوں پر حجت قائم کی جیسے سمندر کا پھٹنا ،مردوں کا زندہ کرنا اور آگ کا جلانے سے رک جانا اسی وجہ سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور اگر تمہیں کچھ شک ہواس میں جو ہم نے اپنے (اس خاص) بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائیتوں کو بلا لو اگر تم سچے ہو پھر اگر نہ لاسکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ لاسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار رکھی ہے کافروں کے لیے(البقرۃ: 23،24)۔ بعض علماء نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل عرب پر ایسا کلام پیش کرنا جس کی مثل لانے سے وہ عاجز رہے یہ تعجب خیز نشانی اور بہت ہی واضح دلیل ہے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے) مردوں کو زندہ کرنے ، اندھوں اور برص کے بیماروں کو ٹھیک کرنے سے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بلاغت ، ارباب فصاحت ، رؤسائے بیان ،مرجع لسان کے پاس ایسا کلام لے کر آئے جس کا معنی وہ سمجھتے تھے اسکے باوجود ان کا اس کی مثل لانے سے عاجز ہو جانا یہ زیادہ تعجب خیز ہے اس شخص سے جو عاجز آ گیا اس سے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردے زندہ کرتے دیکھا کیونکہ وہ اس میں کچھ طمع نہیں رکھتے تھے اور اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کرنے میں کہ ان کے پاس اسکا علم نہیں تھا جبکہ قریش کلام کی فصاحت ، بلاغت اور خطابت میں مہارت رکھتے تھے تو یہ اس بات کی دلیل ہے ان کا اس کی مثل لانے سے عاجز ہونا یہ صرف اس لیے تھا تاکہ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور صحت نبوت کی نشانی بن جائے اور یہ حجت قاطعہ اور برہان واضحہ ہے۔ اعتراض: اگر یہ کہا جائے کہ اس کی یہ توجیہ بیان کرنا (کیسے درست ہو سکتا ہے) کہ قرآن تمام انواع کلام سے جدا ہے جبکہ اس میں کلام کی انتہاء اور آیات کے اختتام میں سجع واقع ہوئی جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان : ترجمہ:طور کی قسم ! اور اس نوشتہ کی(الطور:2،1) ۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ترجمہ:سورج اور اس کی روشنی کی قسم ! اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے(الشمس:2-1) ۔ اور اس کے علاوہ قرآن کی سورتوں میں سجع آئی ہے اور اہل عرب کے کلام میں سجع بہت زیادہ ہے نہ تو معدوم ہے نہ انوکھی پھر تم نے کیسے اسے اعجاز کی نشانی بنا دیا ؟ جواب: اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی سجع نہیں ہے یہ تو فواصل ہیں جو دو کلاموں کے مابین فاصلہ بیان کرتے ہیں ایسے حروف کیساتھ جو اختتام کلام کے مشابہ ہیں جو افہام معنی کے حسن کو بیان کرتے ہیں اور فواصل کا ہونا یہ بلاغت ہے اور سجع کا ہونا عیب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فواصل معانی کے تابع ہوتے ہیں اور معانی سجع کے تابع ہوتے ہیں اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سجع میں تکلف ہوتا ہے اور کلام کے اواخر کی تالیف اس طریقے پر نہیں ہے اور یہ سجع الحمامۃ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے آواز کا پے در پے ایسے طریقے پر لانا جس میں کوئی اختلاف نہ ہو تو جس نے فواصل، جو معانی کلام کے تابع ہوتے ہیں اور حسن افہام کا فائدہ دیتے ہیں، کو سجع کے مشابہ قرار دیا جو خالی ہوتی ہے ایسے معنی سے جو معنی اس کے تابع ہوتا ہے اور ناپسندیدگی کے طور پر اس میں تکلف برتا گیا ہو تو وہ(مشابہ قراردینے والا) صواب سے ہٹ گیا اور مذہب قیاس میں اس نے خطا کی۔ اور جو اس بات کی طرف گیا کہ مستقبل میں ہونے والے امور کی سچی خبروں کے دینے کی وجہ سے اعجاز قرآنی ہے تو اس کی وجہ واضح اور شواہد بہت زیادہ ہیں جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ: الم رومی مغلوب ہوئے پاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ تو یہ واقعہ ایسے ہی ہوا جیسے قرآن نے بیان کیا جب اہل فارس روم پر غالب ہوئے تو اس سے مسلمان غمگین ہو گئے اور مشرکین خوش ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے وعدہ فرمایا کہ کچھ ہی سالوں میں روم اہل فارس پر غالب ہو گا تو نویں(9ویں) سال اہل روم غالب آگئے بعض نے کہا ساتویں سال اور مؤمن خوش ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مددفرمائی۔ اور اللہ تعالیٰ نے واقعہ بدر کے بیان میں فرمایا: ترجمہ: اور یادکرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں اوراللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے(الانفال:7) ۔
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 253