الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ وَأَخْبَارٍ وَرَدَتْ فِي صِفَاتٍ زائِدَاتٍ عَلَى الذَّاتِ قَائِمَاتٍ بِهِ · حديث 26
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْمَوَّالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأَمْرِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ لَنَا: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ؛ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ وَتُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ الَّذِي تُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي مِثْلَ الْأَوَّلِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "، أَوْ قَالَ: «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» . قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ إِثْبَاتُ صِفَةِ الْعِلْمِ وَصِفَةِ الْقُدْرَةِ وَاسْتِخَارَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا، وَقَدْ ذَكَرْنَا شَوَاهِدَهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استخارہ کی تعلیم میں اہتمام فرمانا اور استخارہ کی دعا: ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید الصفار نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے قعنبی نے بیان کیا وہ عبدالرحمٰن بن ابو الموال سے وہ محمد بن منکد ر سے وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر معاملے میں ہمیں استخارے کی اس طرح تعلیم دیا کرتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ کی تعلیم دیا کرتے تھے، آپ ہم سے فرماتے : ’’جب تم میں سے کوئی کسی امر کا ارادہ کرے تو وہ دو رکعات پڑھے فرض کے علاوہ پھر وہ کہے : اے اللہ میں تیرے علم سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں ،تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو قادر ہے میں قادر نہیں ہوں، تو تمام غیوب کا جاننے والا ہے ،اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر۔ یہاں پر اس معاملے کا نام لے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہو۔ میرے دین ،معاش ،لوٹنے اور میرے انجام کار میں بہتر ہو تو اسے میرے مقدر فرما دے اور اسے میرے لیے آسان فرمادے اور اس میں مجھے برکت دے اور اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ میرے دین ،معاش ،لوٹنے اور میرے انجام کار میں میرے لیے برا ہے پہلے کی طرح یہاں بھی وہی الفاظ دہرائے۔تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور خیر میرے مقدر میں فرما جہاں بھی ہو پھر مجھے اس پر راضی رکھ !‘‘ راوی کا شک ہے کہ یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا : ’’یا میرے معاملے کی جلدی یا دیری میں‘‘۔ استاذ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حدیث صحیح میں صفت علم صفت قدرت اور ان دونوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استخارہ کرنے کا اثبات ہے اس کے شواہد ہم نے اپنی کتاب ”الاسماء والصفات‘‘ میں ہم نے ذکر کیئے ہیں۔
جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Hadith 26
