Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 182

حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُومُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ»

ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد العلوی نے ہم سے بیان کیا کہا ابو حامد احمد بن محمد بن حسین الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے محمد بن یحییٰ الذہلی نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا کہا ہم سے میرے باپ نے بیان کیا وہ صالح بن کیسان سے راوی کہا ہم سے نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” قیامت کے دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اپنے نصف کانوں تک پسینے میں ڈوبا ہوا ہو گا‘‘۔

نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 182

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 183

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ [ص:210] الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ» قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8] قَالَ: ذَاكَ الْعَرْضُ "

جس کے حساب میں سختی ہوئی وہ ہلاک ہو گیا : محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الصفار نے خبر دی کہا ہم سے احمد بن مہران نے بیان کیا کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عثمان بن اسود نے بیان کیا وہ ابن ابی ملیکہ سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وہ اپنے باپ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’(قیامت کے دن) جس سے حساب میں سختی کی گئی وہ ہلاک ہو گیا‘‘۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: فَاَمَّا بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا (الانشقاق: 7، 8) ترجمہ: تو وہ جواپنا نامہ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ صرف پیش کرنا ہے‘‘۔

قُلْتُ ← من نوقش الحساب هلك ← رَسُولِ اللَّهِ ← عائشة وعن أبيها-، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ [ص:210] الْأَسْوَدِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 183

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 184

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أنا يُونُسُ، وَقَالَ يَعْقُوبُ: عَنْ يُونُسَ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَعَنْ أَبِيهَا، أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ موَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَمْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ: {هَاؤُمُ اقْرءُوا كِتَابِيَهْ} حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ "

قیامت کے تین مقامات سب سے مشکل ہوں گے: ابو علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو داؤد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم اور حمید بن مسعدہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ان سے بیان کیا کہا ہمیں یونس نے خبر دی اور یعقوب نے کہا وہ یونس سے روایت کرتے ہیں یا اپنی حدیث حسن سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دوزخ کی آگ کی یاد آئی تو وہ رونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے رلا یا ہے؟ سیدہ عائشہ نے کہا: مجھ دوزخ کی آگ یاد آئی تو میں رونے لگی تو کیا تم(اے مردو!) قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد رکھو گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تین مقامات میں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا، میزان کے پاس یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری اور نامہ اعمال کے وقت جب کہا جائے گا : آؤ اپنا نامہ اعمال پڑھو! یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا نامہ اعمال کہاں ہے دائیں ہاتھ میں یا بائیں میں یا پیٹھ کے پیچھے اور پل صراط کے وقت جب وہ جہنم کے کناروں پر رکھا جائے گا‘‘۔

ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← رَسُولُ اللَّهِ مَا يُبْكِيكِ؟ ← أَبِيهَا، أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ ← عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، ← يَعْقُوبُ، ← يُونُسَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 184

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 185

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عِمَارَةُ [ص:211]، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» . قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَالْإِيمَانُ بِالْمِيزَانِ وَاجِبٌ بِمَا ذَكَرْنَا، ثُمَّ كَيْفِيَّةُ الْوَزْنِ فَقَدْ قِيلَ: تُوضَعُ صُحُفُ الْحَسَنَاتِ فِي إِحْدَى كِفَّتَيِ الْمِيزَانِ، وَصُحُفُ السَّيِّئَاتِ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى ثُمَّ تُوزَنُ وَقَدْ وَرَدَ فِي بَعْضِ الْأَخْبَارِ مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يُحْدِثَ اللَّهُ تَعَالَى أَجْسَامًا مُقَدَّرَةً بِعَدَدِ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ بِحَيْثُ يَتَمَيَّزُ إِحْدَاهُمَا مِنَ الْأُخْرَى ثُمَّ تُوزَنُ كَمَا تُوزَنُ الْأَجْسَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَمَا وَرَدَ بِهِ خَبَرُ الصَّادِقُ نُؤْمِنُ بِهِ وَنَحْمِلُهُ عَلَى وَجْهٍ يَصِحُّ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کی فضیلت : ابو عمرو محمد بن عبداللہ الادیب نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر اسماعیلی نے خبر دی کہا حسن بن سفیان نے مجھے خبر دی کہا ابو خیثمہ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے عمارہ نے بیان کیا وہ ابو زرعہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں ، رحمن کے پسندیدہ ہیں ، میزان میں بھاری ہیں(وہ یہ ہیں)سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم‘‘ ۔امام بیہقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میزان پر ایمان رکھنا واجب ہے ان دلائل کی وجہ سے جنہیں ہم نے ذکر کیا پھر وزن کی کیفیت کے متعلق کہا گیا ہے کہ نیکیوں کے صحیفے میزان کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور برائیوں کے دوسرے پلڑے میں پھر وزن کیا جائے گا بعض اخبار میں جو وارد ہوا وہ اس پر دلالت کرتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں اور برائیوں کی تعداد کے اندازے سے اجسام پیدا فرمائے اس طرح کہ ایک کی دوسرے سے تمیز ہو جائے پھر ان کا وزن کیا جائے جس طرح جسموں کا وزن کیا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ جس کے بارے میں خبر صادق وارد ہوئی ہم اس پر ایمان لاتے ہیں(کہ میزان قائم ہو گا) اور اس (کی کیفیت) کو ایسے وجہ پر محمول کرتے ہیں جو صحیح ہو۔ وباللہ التوفیق!

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عِمَارَةُ [ص:211]، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 185

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 186

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعَدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ثُمَّ قَرَأَ {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: 17]

نیک بندوں کے انعامات: حافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے حسن بن علی بن عفان نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا وہ اعمش سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجل فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ انعامات تیار کیے ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی بشر کے دل میں اس کا خیال گزرا‘‘۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی :فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قّرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآءً بِمَا کَانُوْا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (السجدة:17) ترجمہ:توکسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 186

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 187

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرْهَانَ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنِي [ص:212] الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رَأَيْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ "

جنت و دوزخ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں رہتے ہیں: ابو الحسین بن بشران اور ابو عبداللہ بن برہان اور دوسروں نے ہمیں خبر دی سب نے کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا حسن بن عرفہ نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے قاسم بن مالک المزنی نے بیان کیا وہ مختار بن فلفل سے وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے پھر آپ نے ایک حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم وہ دیکھو جو میں نے دیکھا توتم ہنستے کم اور روتے زیادہ‘‘۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ نے کیا دیکھا ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے جنت اور دوزخ کو دیکھا‘‘۔

الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ ← بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← [ص:212] الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرْهَانَ، فِي آخَرِينَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 187

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 188

أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

ابو محمد عبداللہ بن محمد بن حسن المہرجانی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو بکر محمد بن جعفر المزکی نے خبر دی کہا ابو عبداللہ البوشنجی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے مالک نے بیان کیا وہ نافع سے وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی بھی مرتا ہے اس پر صبح وشام اسکا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو وہ(ٹھکانہ) اہل جنت میں سے ہوتا ہے اور اگر وہ اہل دوزخ میں سے ہو تو وہ(ٹھکانہ)اہل دوزخ سے ہوتا ہے اسے کہا جاتا ہے :یہ تیرا ٹھکانہ ہے حتٰی کہ اللہ تعالیٰٰ قیامت کے دن اسے اٹھائے گا‘‘۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 188

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 189

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ أَتَيْتُ عَلَى نَهْرٍ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعَطَاكَ رَبُّكَ فَأَهْوَى الْمَلَكُ بِيَدِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ مِسْكًا أَذْفَرَ "

کچھ حوض کوثر کے بارے میں : الحافظ محمد بن عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا عبدالرحمٰن بن حسن القاضی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابراہیم بن حسین نے بیان کیا کہا ہم سے آدم بن ابو ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا وہ قتادہ سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب(شب معراج) مجھے آسمان کی طرف عروج کرایا گیا تو میں ایک نہر پر آیا جس کے کنارے ایسے موتیوں سے بنے تھے جو اندر سے کھوکھلے تھے تو میں نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے؟ کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کی ہے پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا اور اس سے مٹی نکالی جواذ فرکستوری تھی‘‘۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 189

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 190

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ رَحِمَهُ اللَّهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرَقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَرْزَةَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ: إِنَّ مُحَمَّدَكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أُرَى أَنْ أَعِيشَ فِي قَوْمٍ يَعُدُّونَ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَارًا، قَالُوا: إِنَّ الْأَمِيرَ، إِنَّمَا دَعَاكَ لِيَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِهِ؟ قَالَ: أَحَقٌّ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ

ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤ درحمہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہا ابو محمد عبداللہ بن محمد بن الحسن بن الشرقی نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن یحییٰ الذہلی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا وہ قرہ بن خالد سے وہ ابو حمزہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: ابو برزہ ،عبیداللہ بن زیاد کے پاس آئے تو اس نے کہا تمہارے یہ محمد (جو آئے ہیں یہ) چھوٹے قد والے موٹے آدمی ہیں تو آپ نے فرمایا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایسے لوگوں میں زندگی گزاروں جو حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو عار سمجھتے ہوں لوگوں نے کہا : امیر نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ وہ آپ سے حوض کوثر کے بارے میں سوال کرے آپ نے سختی سے فرمایا: کس کی یہ خواہش ہے؟ اس نے کہا : کیا یہ حق ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں لیکن جس نے اسے جھٹلایا اللہ تعالیٰ اسے اس حوض سے نہیں پلائے گا۔

نَعَمْ، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ ← أَحَقٌّ هُوَ؟ ← أَيِّ بَالِهِ؟ ← الْحَوْضِ». ← إِنَّ الْأَمِيرَ إِنَّمَا دَعَاكَ لِيَسْأَلَكَ ← مَا كُنْتُ أُرَى أَنْ أَعِيشَ فِي قَوْمٍ يَعُدُّونَ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ عَارًا، ← إِنَّ مُحَمَّدَكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ، ← دَخَلَ أَبُو بَرْزَةَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 190

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 191

حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ، آمَنُوا أَجْمَعُونَ وَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا»

قرب قیامت سورج مغرب سے طلوع ہو گا : ابو الحسن علوی نے ہم سے بیان کیا کہا عبیداللہ بن ابراہیم بن بالویہ المزکی نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن یوسف السلمی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا کہا ہمیں معمر نے خبر دی وہ ہمام بن منبہ سے کہا یہ وہ روایت ہے جو ہم سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو گا پھر جب وہ طلوع ہو گا تو سب لوگ اسے دیکھ کر ایمان لائیں گے اور اس وقت کسی جان کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اس سے پہلے اس نے اپنے ایمان میں کوئی خیر نہیں کھائی تھی‘‘۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 191

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 192

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ "

تین نشانیوں کے ظہور کے بعد ایمان لانا نفع نہیں دے گا: ابو عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا یعلی بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا فضیل بن غزوان نے ہم سے بیان کیا وہ ابو حازم سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تین چیزیں جب نکلیں گی تو کسی جان کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو ان سے پہلے پہلے ایمان نہ لایا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی خیر نہ کمائی(ایک) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا(دوسرا) دجال(تیسرا) دابۃ الارض‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 192

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 193

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا [ص:214] أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكذَا، فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ إِنَّمَا قُلْتُ: إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا فَكَانَ حَرِيقُ الْبَيْتِ، قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيمْكُثُ فَيهِمْ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَلْبَثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ كَانَ فِي كَبَدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ، فَيَأْمُرُهُمْ بِالْأَوْثَانِ، فَيَعْبُدُونَهَا وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا صَغَا لِيتًا يعني: وَرَفَعَ لِيتًا، وَرَفَعَ بُنْدَارٌ إِحْدَى مَ‍نْكِبَيْهِ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَهُ، فَيُصْعَقُ ثُمَّ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا صُعِقَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ، أَوِ الظُّلَلُ النُّعْمَانُ الشَّاكُّ فَيَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، {ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} [الزمر: 68] ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24] ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ [ص:215] قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ، وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: سَقَطَ مِنْ كِتَابِي «وَرَفَعَ لَيْتًا» وَاللَّيْتُ مَجْرَى الْقُرْطِ مِنَ الْعُنُقِ

دجال کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سے ہلاک کرنا: محمد بن عبداللہ الحافظ نے ہمیں خبر دی کہا ابو الفضل بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے احمد بن سلمہ نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ نعمان بن سالم سے کہا میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا آپ نے کہا میں نے ایک آدمی کو سنا اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی عنہ سے کہا قیامت اس اور اس وقت تک قائم ہو گی تو آپ نے کہا : میں نے ارادہ کیا کہ اس کے بارے میں تمہیں کچھ بھی نہ بتاؤں میں نے کہا: تم تھوڑی مدت میں ہی ایک امر عظیم دیکھو گے پس بیت اللہ جلایا گیا۔ شعبہ نے کہا یہ یا اسی کی مثل۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں دجال نکلے گا تو وہ اس میں چالیس رہے گا نہیں معلوم چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ مبعوث فرمائے گا گویا کہ وہ(شکل وصورت میں) عروہ بن مسعود ثقفی ہیں تو وہ اسے طلب کریں گے پھر اسے ہلاک کریں گے پھر لوگ اس کے بعد سات سال رہیں گے اس وقت دو بندوں کے مابین بھی عداوت نہیں ہو گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا تو جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا اس کی روح کو قبض کر لیا جائے گا حتٰی کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے جگر میں ہو گا تو وہ ہوا اسے بھی پہنچے گی‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے: ’’اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح جلد باز اور درندوں کی عقلوں والے ہوں گے نہ نیکی کو پہچانے گے اور نہ برائی کو برا جانیں گے پھر شیطان انسانی صورت میں آئے گا تو کہے گا تم میری بات کو قبول کیوں نہیں کرتے ؟ پھر شیطان انہیں بتوں کی عبادت کرنے کا حکم دے گا تو وہ بتوں کی عبادت کرنے لگیں گے وہ اچھے رزق اور(ظاہری اعتبار سے) بہترین زندگی میں ہونگے پھر صور میں پھونکا جائے گا اور جو بھی اسے سنے گا وہ ایک طرف سے گردن اٹھائے گا اور دوسری طرف سے جھکائے گا اور سب سے پہلے جو اس کی آواز سنے گا وہ اپنے (اونٹوں کے) حوض کو درست کر رہا ہو گا تو وہ بے ہوش ہو جائے گا پھر سبھی لوگ بے ہوش ہو جا ئیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا یا اتارے گا گویا کہ وہ شبنم ہو گی یا درختوں کے سائے میں رہنے والا پانی ہو گا، اس حدیث کے راوی نعمان کو اس میں شک ہے تو اس سے لوگوں کے جسم اگیں گے پھر دوسری مرتبہ صور میں پھونکا جائے گا پھر لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو! انہیں کھڑا کرو بے شک ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا :جہنم کے لیے ایک گروہ نکالو! کہا جائے گا کتنی تعداد میں؟ تو جواباً کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے‘‘۔ محمد بن جعفر نے کہا مجھ سے شعبہ نے یہ حد یث کئی مرتبہ بیان کی اور میں نے بھی ان پر اسے پڑھا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میری کتاب میں ورفع لیتا کے الفاظ ساقط ہیں اور لیت کا معنی ہے گردن کی وہ جگہ جہاں عورتوں کے کانوں کا زیور لٹکا ہوتا ہے۔

لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّكَ تَقُولُ: ← رَجُلًا ← يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 193

chevron_left Previous
1…141516…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him