الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ · حديث 134
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُرْفِيُّ، قَالَ: نا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: ثنا أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَ: ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضَّبْعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَرْحبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ الْخَزَايَا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَتَصُومُوا رَمَضَانَ وَتَحُجُّوا الْبَيْتَ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ [ص:177] الْغَنَائِمِ " وَسَمَّى شُعَبَ الدِّينِ كَلَّهَا إِيمَانًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابو طاہر الدقاق نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہاعلی بن محمد الحرفی نے ہمیں خبر دی کہا ابو قلابہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو زید الھروی نے بیان کیا کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا وہ ابو جمرہ نصر بن عمران الضبعی سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وفد عبد القیس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اس وفد کو خوش آمدید بغیر کسی رسوائی کے‘‘۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کفار ہیں اور ہم آپ تک صرف حرمت والے مہینوں میں ہی پہنچ سکتے ہیں تو آپ ہمیں ایسے عمل کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے والوں کو اس کی طرف بلائیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایمان کا حکم دیتا ہوں تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو!‘‘۔ راوی نے کہا : میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم غنیمت میں سے خمس دو‘‘۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں دین کے تمام شعبوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان کا نام دیا ہے۔
قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: مَرْحبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ الْخَزَايَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضَّبْعِيِّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُرْفِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ،
Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The chapter on words in faith · Hadith 134
