فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21
21 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْهَمْدَانِيُّ قثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَرْحَبِيُّ قثنا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «إِنَّ رِجْلَيَّ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ، أَوْ تُرَعِ الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا أَحَبَّ، يَأْكُلُ مِنْهَا مَا أَحَبَّ، وَبَيْنَ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّ الْعَبْدَ اخْتَارَ لِقَاءَ اللَّهِ» ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الْمِنْبَرِ، حَتَّى قَالَ شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: مَا يُبْكِي هَذَا؟ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَعَرَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا عَنَى نَفْسَهُ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ عَبْرَتُهُ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَنْفُسِنَا، فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْظَمَ عَلَيْنَا حَقًّا فِي صُحْبَتِهِ، وَمَالِهِ، مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ» .
سید نا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے منبر پر تشریف فرماہو کر ارشاد فرمایا: بے شک میرا پاؤں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں یا حوض کوثر کے دہانے پر ہے اور بے شک اللہ نے اپنے کسی بندے کو ( دو باتوں میں ایک بات کا ) اختیار دیا ہے ۔1۔وہ جی بھر دنیا میں رہے اور اس میں من پسند کھائے۔2۔یا اللہ سے ملاقات کے لیے کمر بستہ ہو جائے اور اُس بندے نے لقائے الہی کو پسند کر لیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ منبر رسول ﷺ کے پہلو میں تشریف فرما سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اشک بار ہوتے تو ایک بزرگ انصاری فرمانے لگے :انہیں کس چیز نے رُلا دیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے تو بنی اسرائیل میں سے یا عام لوگوں میں سے ایک آدمی کا ذکر فرمایا ہے ۔سید نا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق اس حقیقت کو بھانپ گئے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے نفس نفیس کو ہی مراد لیا ہے پس جب آپ رضی اللہ عنہ کے آنسو تھم گئے تو عرض کیا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربا ہوں بلکہ ہم اپنےآباواجداد ار جانوں کا آپ ﷺ پر فدا کر دیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا اپی صحبت و مال کے اعتبار سے ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر کوئی مجھ پر استحقاق نہیں رکھتا ۔نیز میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہی کو بناتا ، لیکن ایمانی محبت واخوت قائم ہے (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 21
