فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» · حديث 78
78 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْآيَةِ الَّتِي انْتَهَى إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے تو ارشاد فرمایا : ابو بکر کو حکم دیا جائے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ ﷺ نے اپنی بیماری مین تخفیف محسوس کی ، آپ ﷺ تشریف لائے پس جب سیدنا ابو بکر صدیق ر ضی اللہ عنہ کو (آہ ﷺ کی تشریف آوری) کا احساس ہوا تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارہ سے روک دیا ، آپ ﷺ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ےکے بائیں جانب تشریف فرما ہوئے اور آیت کی قرآت کو وہاں سے شروع کیا جہاں سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چھوڑا تھا(1)
لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الأرقم بن شرحبيل ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.” · Hadith 78
